সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৮ টি
হাদীস নং: ২২০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2201 حضرت جابر (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ نفلی روزہ توڑنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
2201 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَى بِإِفْطَارِ التَّطَوُّعِ بَأْسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2202 سیدہ ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض اوقات صبح کے وقت روزہ رکھنے کا ارادہ کرتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے دریافت کرتے کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز موجود ہے ‘ کوئی (کھانے کی چیز) تمہارے پاس آئی ؟ سیدہ ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں ہم لوگ عرض کرتے کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح روزے کی نیت نہیں کی تھی ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہاں ! لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ میں روزہ توڑدوں جبکہ وہ نذر کانہ ہو رمضان کانہ ہو۔
محمد بن عبیداللہ نامی راوی عرزمی ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔
محمد بن عبیداللہ نامی راوی عرزمی ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔
2202 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصْبِحُ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ فَيَقُولُ « أَعِنْدَكُمْ شَىْءٌ أَتَاكُمْ شَىْءٌ ». قَالَتْ فَنَقُولُ أَوَلَمْ تُصْبِحْ صَائِمًا فَيَقُولُ « بَلَى وَلَكِنْ لاَ بَأْسَ أَنْ أُفْطِرَ مَا لَمْ يَكُنْ نَذْرًا أَوْ قَضَاءَ رَمَضَانَ ». مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ الْعَرْزَمِىُّ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2203 ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کھانے کو پسند کرتے تھے ‘ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو دریافت کیا آپ کے پاس وہ والاکھانا ہے ؟ میں نے عرض کی نہیں ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔
2203 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو أُمَيَّةَ قَالاَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ كَانَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُحِبُّ طَعَامًا فَجَاءَ يَوْمًا فَقَالَ « هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ » قُلْتُ لاَ. قَالَ « إِنِّى صَائِمٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2204 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے ‘ دریافت کیا گیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے ؟ میں نے عرض کی نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں ‘ پھر ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہاں تشریف لائے تو آپ نے دریافت کیا کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ میں نے عرض کی جی ہاں ! تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پھر میں کھالیتاہوں ‘ اگرچہ میں نے روزے کی نیت کی تھی۔ اس روایت کی سند حسن صحیح ہے۔
2204 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَطْحَاءَ وَآخَرُونَ قَالُوا أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّىُّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « عِنْدَكِ شَىْءٌ » قُلْتُ لاَ. قَالَ « إِذًا أَصُومَ ». وَدَخَلَ عَلَىَّ يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ « عِنْدَكِ شَىْءٌ ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « إِذًا أَطْعَمَ وَإِنْ كُنْتُ قَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ ». هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2205 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں جب کسی شخص نے نفلی روزہ رکھاہو ‘ تو وہ جب چاہے اسے توڑسکتا ہے
2205 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَبَّادٌ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِى ثَوْرٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا صَامَ الرَّجُلُ تَطَوُّعًا فَلْيُفْطِرْ مَتَى شَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2206 عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلیمان فارسی اور حضرت ابودرداء (رض) کو ایک دوسرے کا (منہ بولابھائی) بنادیا۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت سلیمان حضرت ابودرداء سے ملنے کے لیے آئے توسیدہ ام درداء کو خراب حالت میں دیکھا تو دریافت کیا آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انھوں جواب دیا آپ کے بھائی رات بھرنفل پڑھتے رہتے ہیں ‘ دن کے وقت روزہ رکھتے ہیں ‘ انھیں دنیا کی اور بیوی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ‘ پھر حضرت ابودرداء (رض) تشریف لے آئے ‘ انھوں نے حضرت سلیمان رضی الہ عنہ کو خوش آمدید کہا اور ان آگے کھانارکھاتو حضرت سلیمان (رض) نے ان سے کہا آپ بھی کھایئے ‘ انھوں نے جواب دیا میں نے روزہ رکھا ہو حضرت سلمان (رض) نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ روزہ توڑدیں ‘ حضرت سلمان (رض) نے یہ بھی کہا میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک آپ نہیں کھائیں گے ‘ تو حضرت ابودرداء (رض) نے ان کے ساتھ کھانا کھالیاحضرت سلمان (رض) رات کے وقت ان کے ہاں گئے۔ جب رات کا وقت ہوا تو حضرت ابودرداء (رض) نے ارا ٤١٠ کہ وہ نوافل ادا کرنے شروع کریں ‘ تو حضرت سلمان نے انھیں روک دیا اور ان سے کہا کہ آپ کے جسم کا بھی آپ پر حق ہے آپ کے پروردگار کا بھی آپ پر حق ہے ‘ آپ کی بیوی کا بھی آپ پر حق ہے ‘ آپ نفلی روزہ رکھیں بھی اور کسی دن چھوڑ بھی دیں ‘(نفلی نماز) ادا بھی کریں اور سو بھی جایا کریں ‘ اپنی اہلیہ کے پاس بھی جایاکریں ‘ ہر حقدار کو اس کا حق دیا کریں۔ جب صبح کا وقت قریب آیاتوحضرت سلمان (رض) نے کہا اب آپ اٹھیں ‘ اگر آپ (نوافل اداکرناچا ہیں) یہ دونوں حضرات اٹھے ‘ انھوں نے نوافل اداکیے ‘ پھر (فجر کی نماز) ادا کرنے کے لیے چلے گئے۔ حضرت ابودرداء (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس چیز کے بارے میں بتائیں جو حضرت سلمان (رض) نے ان سے کہا تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا اے ابودرداء ! تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے ‘ آپ نے وہی بات ارشاد فرمائی جو حضرت سلمان نے ارشاد فرمائی تھی۔ روایت کے یہ الفاظ ابوطالب نامی راوی کے ہیں۔
2206 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِىُّ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِى جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِى الدَّرْدَاءِ - قَالَ - فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةٌ قَالَ مَا شَأْنُكِ قَالَتْ إِنَّ أَخَاكَ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ وَلَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِى نِسَاءِ الدُّنْيَا فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ سَلْمَانُ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ اطْعَمْ. فَقَالَ إِنِّى صَائِمٌ. فَقَالَ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهْ . قَالَ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ وَقَالَ لَهُ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا صُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ وَائْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِى حَقٍّ حَقَّهُ. فَلَمَّا كَانَ فِى وَجْهِ الصُّبْحِ قَالَ قُمِ الآنَ إِنْ شِئْتَ فَقَامَا فَتَوَضَّآ ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلاَةِ فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالَّذِى أَمَرَهُ سَلْمَانُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ». مِثْلَ مَا قَالَ سَلْمَانُ. لَفْظُ أَبِى طَالِبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2207 ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں بعض اوقات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لاتے اور دریافت کرتے کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ اگر ہم جواب دیتے جی ہاں ! تو آپ وہ کھالیتے اور اگر ہم عرض کرتے جی نہیں ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں میں روزہ رکھ لیتاہوں۔ ایک مرتبہ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمیں تحفہ کے طورپر (حیس) بھیجا گیا تھا ‘ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! ہمیں تحفے کے طورپرحیس دیا گیا ہے ‘ جو میں نے آپ کے لیے سنبھال کے رکھا ہے ‘ تو آپ نے فرمایا میں نے تو صبح روزے کی نیت کی تھی ‘ لیکن پھر آپ نے اسے کھا بھی لیا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
2207 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَأْتِينَا فَيَقُولُ « هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ غَدَاءٍ ». فَإِنْ قُلْنَا نَعَمْ تَغَدَّى وَإِنْ قُلْنَا لاَ قَالَ « إِنِّى صَائِمٌ ». وَإِنَّهُ أَتَانَا ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ أُهْدِىَ لَنَا حَيْسٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ أُهْدِىَ لَنَا حَيْسٌ وَإِنَّا قَدْ خَبَأْنَاهُ لَكَ. قَالَ « أَمَا إِنِّى أَصْبَحْتُ صَائِمًا ». فَأَكَلَ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2208 ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے اور کہا میں نے روزہ رکھنے کا ارادہ کیا ہے ‘ پھر آپ کی خدمت میں حیس لایا گیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا میں اس میں سے کھالیتا ہوں اور اس روزے کی جگہ پھر کسی دن روزہ رکھ لوں گا۔
ان الفاظ میں اس روایت کو صرف باہلی نے نقل کیا ہے ‘ کسی اور نے نقل نہیں کیا ہے اور کسی نے اس کی متابعت نہیں کی ہے ‘ یعنی ان الفاظ کی ” اس کی جگہ پھر روزہ رکھ لوں گا۔
شاید یہ بات ان کے لیے مشتبہ ہوگئی ہو ‘ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ‘ کیونکہ دیگر راویوں نے ابن عیینہ سے ان الفاظ کو نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے۔
ان الفاظ میں اس روایت کو صرف باہلی نے نقل کیا ہے ‘ کسی اور نے نقل نہیں کیا ہے اور کسی نے اس کی متابعت نہیں کی ہے ‘ یعنی ان الفاظ کی ” اس کی جگہ پھر روزہ رکھ لوں گا۔
شاید یہ بات ان کے لیے مشتبہ ہوگئی ہو ‘ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ‘ کیونکہ دیگر راویوں نے ابن عیینہ سے ان الفاظ کو نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے۔
2208 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنِيهِ طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « إِنِّى أُرِيدُ الصَّوْمَ » . وَأُهْدِىَ لَهُ حَيْسٌ. فَقَالَ « إِنِّى آكِلٌ وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ ». لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرُ الْبَاهِلِىِّ وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَى قَوْلِهِ « وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ »
وَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَيْهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ لِكَثْرَةِ مَنْ خَالَفَهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
وَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَيْهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ لِكَثْرَةِ مَنْ خَالَفَهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2209 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں بعض اوقات آپ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانے کے لیے کوئی چیز منگواتے اور آپ کو اس دن کوئی چیزنہ ملتی تو آپ اس دن روزہ رکھ لیتے۔
اس روایت کے راوی عبداللہ معروف نہیں ہیں۔
اس روایت کے راوی عبداللہ معروف نہیں ہیں۔
2209 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رُبَّمَا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِغَدَائِهِ فَلاَ يَجِدُهُ فَيَفْرِضُ عَلَيْهِ صَوْمَ ذَلِكَ الْيَوْمِ. عَبْدُ اللَّهِ هَذَا لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2210 ابراہیم بن عبید بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری (رض) نے کھانا تیار کیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعض اصحاب کی دعوت کی تو حاضر ین میں سے ایک صاحب نے کہا میں نے روزہ رکا ہوا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے بھائی نے تمہارے لیے کھانا تیار کیا ہے ‘ تمہارے بھائی نے تمہارے لیے اہتمام کیا ہے ‘ تم روزہ توڑدو اور پھر کسی دن روزہ رکھ لینا۔ یہ روایت مرسل ہے۔
2210 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَادَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى حُمَيْدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ صَنَعَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِىُّ طَعَامًا فَدَعَا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابَهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنِّى صَائِمٌ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صَنَعَ لَكَ أَخُوكَ وَتَكَلَّفَ لَكَ أَخُوكَ أَفْطِرْ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ ». هَذَا مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2211 حضرت ابوسعیدخدری (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” جو شخص رمضان کے مہینے میں بھول کر کچھ کھالے ‘ تو اس پر قضاء لازم نہیں ہوگی ‘ اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا ہوگا اور پلایا ہوگا۔ اس روایت کے راوی فزاری محمد بن عبیداللہ عرزمی ہیں۔
2211 - حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْفَزَارِىِّ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَكَلَ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ ». الْفَزَارِىُّ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِىُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2212 حضرت جابربن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے کھاناتیار کیا ‘ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کی دعوت کی ‘ کھانالایا گیا ‘ تو ان لوگوں میں سے ایک صاحب پیچھے ہٹ گئے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت کیا تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے عرض کی میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تمہارے بھائی نے تمہارے لیے اہتمام کیا ہے اور اسے تیار کیا ہے اور اب تم کہہ رہے ہو میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ‘ تم اسے کھالو اور اس روزے کی جگہ پھر کسی دن روزہ رکھ لینا۔
2212 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَلَفِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مِرْسَالٍ الْخَثْعَمِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عَمِّى إِسْمَاعِيلُ بْنُ مِرْسَالٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَنَعَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- طَعَامًا فَدَعَا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَصْحَابَهُ فَلَمَّا أُتِىَ بِالطَّعَامِ تَنَحَّى أَحَدُهُمْ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « مَا لَكَ ». قَالَ إِنِّى صَائِمٌ. فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « تَكَلَّفَ لَكَ أَخُوكَ وَصَنَعَ ثُمَّ تَقُولُ إِنِّى صَائِمٌ كُلْ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2213 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب روزہ دار بھول کر کچھ کھالے یاپی ‘ تو یہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطاء کیا ہے ‘ اس شخص پر قضاء لازم نہیں ہوگی۔
اس کی سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
اس کی سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
2213 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِى بِاللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْكِنْدِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا أَكَلَ الصَّائِمُ نَاسِيًا أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ » . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2214 حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی رمضان کے مہینے میں (روزے کے دوران) بھول کر کچھ کھالے ‘ تو اس پر قضاء لازم نہیں ہوگی اور اس پر کفار بھی لازم نہیں ہوگا۔
اس روایت کو نقل کرنے میں محمد بن مرزوق نامی راوی منفرد ہیں اور یہ ثقہ ہیں۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے محمد بن عبداللہ انصاری سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔
اس روایت کو نقل کرنے میں محمد بن مرزوق نامی راوی منفرد ہیں اور یہ ثقہ ہیں۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے محمد بن عبداللہ انصاری سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔
2214 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ أَبُو بَكْرٍ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَفْطَرَ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلاَ كَفَّارَةَ ». تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عَنِ الأَنْصَارِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2215 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے تم میں سے جب کوئی (رمضان کے مہینے میں) بھول کر کچھ کھالے یا بھول کر کچھ پی لے ‘ تو اس پر قضاء لازم نہیں ہوگی ‘ وہ اپنے روزے کو مکمل کرلے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا ہے اور پلایا ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے۔ اس روایت کے راوی عمار ضعیف ہیں۔
2215 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرُّهَاوِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى الرُّهَاوِىُّ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَكَلَ فِى رَمَضَانَ نَاسِيًا أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ ». قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى رَافِعٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ. عَمَّارٌ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2216 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” جو شخص (روزے کے دروان) بھول کر کچھ کھالے یاپی لے ‘ تو وہ اپنے روزے کو برقراررکھے ‘ اس پر قضاء لازم نہیں ہوگی۔
اس روایت کے راوی نضربن طریف ابوجزی ضعیف ہیں۔
اس روایت کے راوی نضربن طریف ابوجزی ضعیف ہیں۔
2216 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدَيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدَيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِى هَوْذَةَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ طَرِيفٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى رَافِعٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَلْيَمْضِ فِى صَوْمِهِ وَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ ». نَصْرُ بْنُ طَرِيفٍ أَبُو جُزَىٍّ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2217 حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص رمضان میں (روزے کے دوران) بھول کر کچھ کھالے یاپی لے ‘ تو وہ اپنے روزے کو مکمل کرے ‘ اس پر قضاء لازم نہیں ہوگی۔ اس راوی نے یا اس کے علاوہ دیگرراوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ” بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے اور پلایا ہے “۔
یسین نامی راوی ضعیف ہیں اور عبداللہ بن سعید نامی راوی بھی اسی کی مانند (ضعیف) ہیں۔
یسین نامی راوی ضعیف ہیں اور عبداللہ بن سعید نامی راوی بھی اسی کی مانند (ضعیف) ہیں۔
2217 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ النُّعْمَانِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِى حَكِيمٍ الْعَدَنِىُّ حَدَّثَنَا يَاسِينُ بْنُ مُعَاذٍ الْكُوفِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فِى رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ » وَذَكَرَ هُوَ أَوْ غَيْرُهُ قَالَ « إِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَكَ وَسَقَاكَ ». يَاسِينُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ مِثْلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2218 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص (روزے کے دوران) بھول کر کچھ کھالے یاپی لے ‘ تو یہ وہ روزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطاء کیا ہے ‘ اس شخص اپنا روزہ مکمل کرنا چاہیے اور اس پر قضاء لازم نہیں ہوگی۔
اس روایت کے راوی مندل اور عبداللہ بن سعید دونوں ضعیف ہیں۔
اس روایت کے راوی مندل اور عبداللہ بن سعید دونوں ضعیف ہیں۔
2218 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ وَكِيلُ أَبِى صَخْرَةَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دَلُّوَيْهِ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مَنْدَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ فَلْيُتِمَّ عَلَى صَوْمِهِ وَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ ». مَنْدَلٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ضَعِيفَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2219 ولید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ انھوں نے رمضان کے پہلے دن روزے میں بھول کر کچھ کھالیا ‘ وہ بیان کرتے ہیں میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اپنے روزے کو مکمل کرو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے اور پلایا ہے اور تم پر قضاء لازم نہیں ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی حضرت ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے۔ اس روایت کے راوی حکم بن عبداللہ ‘ یہ ابن سعد ایلی کے پوتے ہیں اور ضعیف ہیں۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی حضرت ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے۔ اس روایت کے راوی حکم بن عبداللہ ‘ یہ ابن سعد ایلی کے پوتے ہیں اور ضعیف ہیں۔
2219 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عِيسَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ وَأَنَا أَبْرَأُ مِنْ عُهْدَتِهِ - عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ أَنَّهُ نَسِىَ صِيَامَ أَوَّلِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ أَصَابَ طَعَامًا قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَتِمَّ صِيَامَكَ فَإِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَكَ وَسَقَاكَ وَلاَ قَضَاءَ عَلَيْكَ ».قَالَ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَالْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ مِثْلَ ذَلِكَ. وَالْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ الأَيْلِىُّ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2220 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص بھول کر کچھ کھالے یاپی لے ‘ تو وہ روزہ ختم نہ کرے کیونکہ یہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطاء کیا ہے۔
2220 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى رَجُلٍ نَسِىَ فَأَكَلَ وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَتِمَّ صَوْمَكَ فَإِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَكَ وَسَقَاكَ ».
তাহকীক: