সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৮ টি
হাদীস নং: ২১৮১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2181 امام مالک بیان کرتے ہیں جو شخص اکیلا رمضان کا چاند دیکھ لے ‘ تو اسے روزہ رکھنا چاہیے کیونکہ اب اس کے لیے روزنہ رکھناٹھیک نہیں ‘ کیونکہ وہ یہ بات جانتا ہے ‘ یہ دن رمضان کا حصہ ہے ‘ جو شخص اکیلاشوال کا چاند دیکھ لے وہ روزہ نہ چھوڑے کیونکہ لوگ اس بارے میں اس پر الزام لگائیں گے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا ‘ کیونکہ اس میں سے بعض لوگ وہ بھی ہوتے ہیں جو مامون نہیں ہوتے۔
پھر وہ یہ بات اس وقت بیان کرے جب چاند لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائے اور وہ یہ کہیں ہم نے چاند دیکھ لیا ہے۔
پھر وہ یہ بات اس وقت بیان کرے جب چاند لوگوں کے سامنے ظاہر ہوجائے اور وہ یہ کہیں ہم نے چاند دیکھ لیا ہے۔
2181 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ قَالَ مَالِكٌ فِى الَّذِى يَرَى هِلاَلَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ أَنَّهُ يَصُومُ لأَنَّهُ لاَ يَنْبَغِى لَهُ أَنْ يُفْطِرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَمَنْ رَأَى هِلاَلَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَلاَ يُفْطِرْ لأَنَّ النَّاسَ يَتَّهِمُونَ عَلَى أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُمْ مَنْ لَيْسَ مَأْمُونًا مِنْهُمْ ثُمَّ يَقُولُ أُولَئِكَ إِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ قَدْ رَأَيْنَا الْهِلاَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2182 ابوبختری بیان کرتے ہیں ہم نے ذوالحج کا چاند دیکھا تو وہ ہمیں بڑا لگا ‘ جس شخص نے اس کو کم قراردیا تھا تو نے دوسری رات کا چاند کہا اور جو زیادہ بیان کررہا تھا ‘ اس نے اسے تیسری رات کا چاند کہا ‘ جب ہم مکہ آئے اور ہماری ملاقاحضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ہوئی ‘ تو ہم نے جب ان سے یہ بیان کیا ‘ تو انھوں نے ہمارے سامنے جو گنتی اس حساب تھی (جس میں ہم نے چاند دیکھا تھا) میں نے ان سے کہا ہم نے تو چاند کو بڑا دیکھا تھا ‘ تو انھوں نے فرمایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند کے دیکھے جانے کے ساتھ (مہینے کے آغاز کو) مشروط کیا ہے۔
یہ روایت اور اس کے بعد والی روایت مستند ہیں۔
یہ روایت اور اس کے بعد والی روایت مستند ہیں۔
2182 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْكِنْدِىُّ الصَّيْرَفِىُّ بِالْكُوفَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ - وَهُوَ الدَّالاَنِىُّ - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى الْبَخْتَرِىِّ قَالَ أَهْلَلْنَا هِلاَلَ ذِى الْحِجَّةِ قَمَرًا ضَخْمًا الْمُقَلِّلُ يَقُولُ لِلَيْلَتَيْنِ وَالْمُكْثِرُ يَقُولُ لِثَلاَثٍ - قَالَ - فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ فَعَدَّ لِى مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّا أَهْلَلْنَا قَمَرًا ضَخْمًا. فَقَالَ إِنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَمَدَّهُ إِلَى رُؤْيَتِهِ. هَذَا صَحِيحٌ وَمَا بَعْدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2183 ابوبحتری بیان کرتے ہیں ہم لوگ عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے ‘ جب ہم نے بطن نخلہ میں پڑاؤ کیا تو ہم چاند دیکھ لیا ‘ بعض نے کہا یہ دوسری کا چاند ہے اور بعض نے کہا یہ تیسری کا چاند ہے۔ پھر ہماری ملاقات حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ہوئی ‘ ہم نے انھیں بتایا ہم نے چاند دیکھا تھا ‘ بعض نے کہا دوسری رات کا چاند ہے اور بعض نے کہا تیسری رات کا چاند ہے ‘ انھوں نے کہا تم نے کس رات میں اسے دیکھا تھا ‘ تو ہم نے کہا فلاں رات کو ‘ تو انھوں نے فرمایا یہ اسی رات کا جس رات میں تم نے دیکھا تھا کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے حکم کو دیکھنے کے ساتھ مشروط قراردیا ہے۔ یہ روایت مستند ہے۔
2183 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ أَبُو هِشَامٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى الْبَخْتَرِىِّ قَالَ خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بَطْنَ نَخْلَةَ رَأَيْنَا الْهِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ لِثَلاَثٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لِلَيْلَتَيْنِ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلاَلَ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ لِلَيْلَتَيْنِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لِثَلاَثٍ. فَقَالَ أَىُّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ قُلْنَا لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ هُوَ لِلَّيْلَةِ الَّتِى رَأَيْتُمُوهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَدَّهُ إِلَى الرُّؤْيَةِ. وَهَذَا صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2184 ابوبختری بیان کرتے ہیں ہم نے رمضان کا چاند دیکھا ‘ ہم ذات عرق میں موجود تھے ‘ ہم نے ایک شخص کو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس دریافت کرنے کے لیے بھیجا ‘ تو انھوں نے فرمایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے بیشک اللہ تعالیٰ اسے دیکھنے کے لیے تمہارے سامنے پھیلا دیتا ہے ‘ اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تم mmm ٣٩٨ تعدادپوری کرلو۔ یہ روایت مستند ہے۔
2184 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِىِّ قَالَ أَهْلَلْنَا هِلاَلَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّهُ لَكُمْ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِىَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ». وَهَذَا صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2185 کریب بیان کرتے ہیں سیدہ ام الفضل بنت حارث (رض) نے انھیں حضرت معاویہ (رض) کی خدمت میں بھیجا وہ فرماتے ہیں میں شام آیا ‘ سیدہ ام فضل کا کام پورا کیا ‘ اسی دوران رمضان کا چاند نظر آگیا میں شام میں ہی موجود تھا ‘ میں نے جمعے کی رات میں چاند دیکھا ‘ پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ آیا ‘ حضرت عبداللہ بن عباس نے مجھ سے چیت کی ‘ پھر جب میں نے پہلی کے چاند کا تذکرہ کیا ‘ تو انھوں نے پوچھا تم نے پہلی کا چاندکب دیکھا تھا ؟ تو میں نے جواب میں نے اسے جمعہ کی رات میں دیکھا تھا ‘ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے پوچھا کیا تم نے خودا سے دیکھا تھا ؟ میں نے کہا ہاں ! اور لوگوں نے بھی اسے دیکھا تھا ‘ میں نے روزہ بھی رکھا تھا ‘ حضرت معاویہ (رض) نے بھی روزہ رکھا تھا ‘ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا ہم نے تو اسے ہفتے کی رات دیکھا تھا اور ہم مسلسل روزے رکھیں گے ‘ یہاں تک کہ تیس کی تعدادپوری کرلیں یاشوال کا چاند دیکھ لیں تو میں نے ان سے کہا کیا آپ کے لیے حضرت معاویہ (رض) کا چاند کو دیکھنا اور روزہ رکھنا کا نہیں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہی ہدایت کی ہے۔ یہ روایت مستند ہے۔
2185 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى حَرْمَلَةَ أَخْبَرَنِى كُرَيْبٌ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ - قَالَ - فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهَلَّ عَلَىَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِى آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاَثِينَ أَوْ نَرَاهُ فَقُلْتُ أَوَلاَ تَكْتَفِى بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ قَالَ لاَ هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2186 حضرت ابومسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں (رمضان کے مہینے میں) تیسویں دن کی صبح کی بات دودیہاتی آئے اور انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس بات کی گواہی دی کہ انھوں نے گزشتہ رات چاند تھا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا (وہ روزہ ختم کریں اور عیدالفطر منائیں) ۔
باب رات کے وقت ہی (روزے کی) نیت کرلینا
باب رات کے وقت ہی (روزے کی) نیت کرلینا
2186 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىِّ قَالَ أَصْبَحْنَا صَبِيحَةَ ثَلاَثِينَ فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ رَجُلاَنِ يَشْهَدَانِ عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُمَا أَهَلاَّهُ بِالأَمْسِ فَأَمَرَ النَّاسَ فَأَفْطَرُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2187 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں
” جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے روزہ رکھنے کی نیت نہیں کرتا ‘ اس کا روزہ نہیں ہوتا۔ مفضل سے اس روایت کو نقل کرنے میں عبداللہ بن عبادنامی راوی منفرد ہیں ‘ تاہم اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
” جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے روزہ رکھنے کی نیت نہیں کرتا ‘ اس کا روزہ نہیں ہوتا۔ مفضل سے اس روایت کو نقل کرنے میں عبداللہ بن عبادنامی راوی منفرد ہیں ‘ تاہم اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
2187 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ أَبِى حَامِدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الزِّنْبَاعِ الْمِصْرِىُّ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّادٍ أَبُو عَبَّادٍ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ لَمْ يُبَيِّتِ الصِّيَامَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَلاَ صِيَامَ لَهُ ». تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّادٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2188 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ‘ سیدہ حفصہ (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” اس شخص کا روزہ نہیں ہوتا جو صبح صادق ہونے سے پہلے اسے لازم نہیں کرتا “۔ ایک اور سند کے ہمراہ یہ بات منقول ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ” جو شخص رات میں ہی اسے لازم نہیں کرلیتا “۔ یہی روایت دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2188 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُؤَرِّضْهُ قَبْلَ الْفَجْرِ ».وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنَ اللَّيْلِ ». وَقَالَ أَيْضًا قَالَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ. خَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَابْنُ لَهِيعَةَ رَوَيَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2189 سیدہ حفصہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں ” جو شخص صبح صادق سے پہلے اسے لازم نہیں کرتا اس شخص کا روزہ نہیں ہوتا۔ اس روایت کو بعض راویوں نے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ بعض نے اسے حضرت حفصہ (رض) کے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔ بعض نے اسے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔
جبکہ بعض راویوں نے اسے سالم کے حوالے سے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حفصہ (رض) کے قول کے طورپر نقل کیا ہے۔
زہری سے نقل کرنے کے بارے میں اس روایت کے راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
جبکہ بعض راویوں نے اسے سالم کے حوالے سے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حفصہ (رض) کے قول کے طورپر نقل کیا ہے۔
زہری سے نقل کرنے کے بارے میں اس روایت کے راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
2189 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَ صِيَامَ لَهُ ». رَفَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ الرُّفَعَاءِ. وَاخْتُلِفَ عَنِ الزُّهْرِىِّ فِى إِسْنَادِهِ فَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصَةَ مِنْ قَوْلِهَا وَتَابَعَهُ الزُّبَيْدِىُّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِىِّ . وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصَةَ وَكَذَلِكَ قَالَ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ وَكَذَا قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ . وَغَيْرُ ابْنِ الْمُبَارَكِ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حَمْزَةَ عَنْ حَفْصَةَ وَاخْتُلِفَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ فِى إِسْنَادِهِ وَكَذَلِكَ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِىِّ. وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَيْضًا عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَتَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ. وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ وَحَفْصَةَ قَالاَ ذَلِكَ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنِ الزُّهْرِىِّ وَاخْتُلِفَ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2190 سیدہ حفصہ (رض) بیان کرتی ہیں جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں کرتا ‘ اس کا روزہ نہیں ہوتا۔
2190 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ لاَ صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2191 سیدہ میمونہ بنت سعد (رض) بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جو شخص رات کو ہی روزہ رکھنے کا ارادہ کرلے ‘ تو وہ روزہ رکھے اور جس شخص کو صبح ہوجائے اور اس شخص نے ارادہ نہ کیا ہو ‘ تو وہ روزہ نہ رکھے ‘۔
2191 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلاَلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ سَعْدٍ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ أَجْمَعَ الصَّوْمَ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَصُمْ وَمَنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يُجْمِعْهُ فَلاَ يَصُمْ » .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2192 حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ایک مرتبہ تیسویں تاریخ کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزے کی حالت میں صبح کی ‘ آپ نے دن میں ہی شوال کا چاند دیکھ لیا ‘ تو آپ نے شام میں افطار ی نہیں کی۔
حضرت سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر (رض)) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ انھوں نے دن کے وقت شوال کا چاند دیکھ لیا ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا تمہارے لیے اس وقت تک افطاری کرنا حلال نہیں ہے جب تک تم پہلی کا چاند اس وقت تک نہیں دیکھ لیتے جب اسے دیکھاجاتا ہے (یعنی رات کے وقت) ۔
معاذبن محمد بیان کرتے ہیں میں نے زہری سے شوال کے چاند کے بارے میں دریافت کیا ‘ جب اسے صبح کے وقت دیکھا لیا جائے ‘ تو انھوں نے فرمایا میں نے سعید بن مسیب کو فرماتے ہوئے سنا ہے اگر شوال کا چاند صبح صادق ہوجانے کے بعد عصرتک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں مغرب تک) طلوع ہوجائے تو اس رات کا چاند شمار ہوگا جو آگے آئے گی۔
امام ابوعبداللہ فرماتے ہیں اس بات پر سب کا اتفاق ہے۔
حضرت سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر (رض)) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ انھوں نے دن کے وقت شوال کا چاند دیکھ لیا ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا تمہارے لیے اس وقت تک افطاری کرنا حلال نہیں ہے جب تک تم پہلی کا چاند اس وقت تک نہیں دیکھ لیتے جب اسے دیکھاجاتا ہے (یعنی رات کے وقت) ۔
معاذبن محمد بیان کرتے ہیں میں نے زہری سے شوال کے چاند کے بارے میں دریافت کیا ‘ جب اسے صبح کے وقت دیکھا لیا جائے ‘ تو انھوں نے فرمایا میں نے سعید بن مسیب کو فرماتے ہوئے سنا ہے اگر شوال کا چاند صبح صادق ہوجانے کے بعد عصرتک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں مغرب تک) طلوع ہوجائے تو اس رات کا چاند شمار ہوگا جو آگے آئے گی۔
امام ابوعبداللہ فرماتے ہیں اس بات پر سب کا اتفاق ہے۔
2192 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ اللَّخْمِىِّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- تَقُولُ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَائِمًا صُبْحَ ثَلاَثِينَ يَوْمًا فَرَأَى هِلاَلَ شَوَّالٍ نَهَارًا فَلَمْ يُفْطِرْ حَتَّى أَمْسَى. قَالَ وَحَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رُئِىَ هِلاَلُ شَوَّالٍ نَهَارًا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ مِنْ حَيْثُ يُرَى. قَالَ وَحَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِىُّ قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِىَّ عَنْ هِلاَلِ شَوَّالٍ إِذَا رُئِىَ بَاكِرًا قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ إِنْ رُئِىَ هِلاَلُ شَوَّالٍ بَعْدَ أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى الْعَصْرِ أَوْ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَهُوَ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِى تَجِىءُ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَهَذَا مُجْمَعٌ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2193 سیدہ ام ہانی (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ہاں تشریف لائے ‘ آپ کے لیے ایک برتن بڑھایا گیا ‘ تو آپ نے اس میں سے پیا ‘ پھر وہ برتن میری طرف بڑھادیا ‘ میں نے عرض کی میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے (راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں ) اپنی ذات کا امین ہوتا ہے ‘ اگر تم چاہوتوروزہ رکھ لو ‘ اگر چاہوتو یہ کھاپی لو۔
2193 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَعْدَةَ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَهِىَ جَدَّتُهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ عَلَيْهَا فَأُتِىَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَنِى فَقُلْتُ إِنِّى صَائِمَةٌ .
فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرُ - أَوْ أَمِينُ - نَفْسِهِ فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِى وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِى ».
فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرُ - أَوْ أَمِينُ - نَفْسِهِ فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِى وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِى ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2194 سیدہ ام ہانی رضی الہ عنہا کے صاحبزاے بیان کرتے ہیں انھوں نے سیدہ ام ہانی (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے مشروب لایا گیا ‘ آپ نے اسے پیا ‘ پھر میری طرف بڑھادیا ‘ پھر میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی ! میں نے روزہ رکھا ہوا تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے کوئی قضاء روزہ رکھا تھا ؟ انھوں نے عرض کی نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔
سماک نامی راوی سے نقل کرنے میں اس روایت کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے۔
سماک نامی راوی سے نقل کرنے میں اس روایت کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے۔
2194 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ إِمْلاَءً حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُتِىَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِى فَشَرِبْتُ فَقُلْتُ يَا نَبِىَّ اللَّهِ إِنِّى كُنْتُ صَائِمَةً . فَقَالَ لَهَا « أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا » قَالَتْ لاَ. قَالَ « فَلاَ يَضُرُّكِ ». اخْتُلِفَ عَنْ سِمَاكٍ فِيهِ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ جَعْدَةَ وَهُوَ الَّذِى رَوَى عَنْهُ سِمَاكٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2195 سیدہ ام ہانی (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے مشروب لایا گیا ‘ آپ نے اسے نوش فرمایا اور مجھے پینے کے لیے دیا تو میں نے بھی پی لیا ‘ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں نے توروزہ رکھا ہوا تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی مرضی کے بارے میں (امین) ہوتا ہے (راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ کہے ) امیر ہوتا ہے (یعنی اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے) یعنی اگر چاہے تو روزہ برقرار رکھے اور اگر چاہے تو توڑے۔
شعبہ بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا آپ نے یہ روایت سیدہ ام ہانی سے سنی ہے ؟ تو انھوں نے کہا نہیں ! یہ روایت ہمارے گھروالوں نے اور ابوصالح نے بیان کی ہے۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے سماک سے سنا ‘ وہ فرماتے ہیں میں نے جعدہ کے صاحبزادوں میں سے زیادہ فضیلت والے شخص سے ملاقات کی تو انھوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔
شعبہ بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا آپ نے یہ روایت سیدہ ام ہانی سے سنی ہے ؟ تو انھوں نے کہا نہیں ! یہ روایت ہمارے گھروالوں نے اور ابوصالح نے بیان کی ہے۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے سماک سے سنا ‘ وہ فرماتے ہیں میں نے جعدہ کے صاحبزادوں میں سے زیادہ فضیلت والے شخص سے ملاقات کی تو انھوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔
2195 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَعْدَةَ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أُتِىَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ سَقَانِى فَشَرِبْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا إِنِّى كُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ فَإِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ ». قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ سَمِعْتَهُ مِنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَ لاَ حَدَّثَنَاهُ أَهْلُنَا وَأَبُو صَالِحٍ. قَالَ شُعْبَةُ وَكُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكًا يَقُولُ حَدَّثَنِى ابْنَا جَعْدَةَ فَلَقِيتُ أَفْضَلَهُمَا وَحَدَّثَنِى بِهَذَا الْحَدِيثِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2196 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ ام ہانی (رض) سے منقول ہے۔ شعبہ بیان کرتے ہیں سماک یہ فرمایا کرتے تھے کہ سیدہ ام ہانی (رض) کے دوصاحبزادوں نے یہ حدیث سنائی ہے ‘ اور میں نے اس حدیث کو ان دونوں میں سے زیادہ فضیلت والے صاحب سے نقل کیا ہے۔ امام ابوداؤد نے اس روایت کو شعبہ کے حوالے سے موصول روایت کے طورپرنقل کیا ہے۔
2196 - حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا وَقَالَ فِيهِ حَدَّثَنَا أَهْلُنَا وَأَبُو صَالِحٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَ شُعْبَةُ وَكَانَ سِمَاكٌ يَقُولُ حَدَّثَنِى ابْنَا أُمِّ هَانِئٍ فَرَوَيْتُهُ أَنَا عَنْ أَفْضَلِهِمَا وَصَلَ إِسْنَادَهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2197 سیدہ ام ہانی (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشروب پیا اور اپنا بچا ہوامشروب سیدہ ام ہانی (رض) کو عطاء کیا ‘ تو سیدہ ام ہانی نے بھی اسے پی لیا ‘ پھر انھوں نے عرض کی میرے لیے دعائے مغفرت کریں ‘ کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔
ابوعوانہ نامی راوی کی نقل کردہ روایت میں ایسے الفاظ ہیں
” راوی کا یہ کہنا کہ یہ روایت یحییٰ بن جعد ہ سے منقول ہے ‘ یہ ولید نامی راوی کا وہم ہے اور یہ راوی ضعیف ہے “۔
ابوعوانہ نامی راوی کی نقل کردہ روایت میں ایسے الفاظ ہیں
” راوی کا یہ کہنا کہ یہ روایت یحییٰ بن جعد ہ سے منقول ہے ‘ یہ ولید نامی راوی کا وہم ہے اور یہ راوی ضعیف ہے “۔
2197 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِى ثَوْرٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَرِبَ شَرَابًا فَأَعْطَاهَا فَضْلَهُ فَشَرِبَتْهُ قَالَتِ اسْتَغْفِرْ لِى إِنِّى كُنْتُ صَائِمَةً. مِثْلَ قَوْلِ أَبِى عَوَانَةَ. قَوْلُهُ يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ وَهَمٌ مِنَ الْوَلِيدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2198 ہارون اپنی دادی (سیدہ ام ہانی (رض)) سے یہ بات نقل کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ‘ میں نے روزہ رکھا ہوا تھا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مشروب کا بچا ہوامیری طرف بڑھایاتو میں نے اسے پی لیا ‘ پھر میں نے عرض کی میں نیروزہ رکھا ہوا تھا اور مجھے یہ بات بھی پسند نہیں تھی کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بچے ہوئے کو واپس کروں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تو یہ رمضان کی قضاء کا روزہ تھا تو تم اس کی جگہ ایک دن روزہ رکھ لینا اور اگر نفلی روزہ تھا تو اگر تم چاہتو اس کی قضاء کرلینا ‘ اگر چاہوتو قضاء نہ کرنا۔
اس روایت کو حاتم بن ابوصغیرہ نے سماک کے حوالے سے ‘ ابوصالح کے حوالے سے ‘ سیدہ ام ہانی (رض) سے نقل کیا ہے۔
اس روایت کو حاتم بن ابوصغیرہ نے سماک کے حوالے سے ‘ ابوصالح کے حوالے سے ‘ سیدہ ام ہانی (رض) سے نقل کیا ہے۔
2198 - حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ هَارُونَ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّهَا قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا صَائِمَةٌ فَنَاوَلَنِى فَضْلَ شَرَابِهِ فَشَرِبْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى كُنْتُ صَائِمَةً وَإِنِّى كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ. قَالَ « إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِى يَوْمًا مَكَانَهُ وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ وَإِنْ شِئْتِ فَلاَ تَقْضِيهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2199 سیدہ ام ہانی (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے نفلی روزہ رکھنے والے کو اختیار ہوتا ہے ‘ وہ چاہے توروزہ برقراررکھے ‘ اگر چاہے توتوڑدے۔
2199 - وَرَوَاهُ حَاتِمُ بْنُ أَبِى صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ. حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى الْحَجَّاجِ الْخَاقَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ - يَعْنِى حَاتِمَ بْنَ أَبِى صَغِيرَةَ - حَدَّثَنِى سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْمُتَطَوِّعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2200 سیدہ ام ہانی (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے نفلی روزہ رکھنے والاشخص اپنی ذات کے بارے میں امین (راوی کو شک ہے) امیر (یعنی وہ اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے) چاہے توروزہ رکھ لے ‘ اگر چاہے توتوڑدے۔ اس بارے میں سماک سے نقل کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔
سماک نے اس حدیث کو سیدہ ام ہانی (رض) کے صاحبزادے سے سنا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
سماک نے اس حدیث کو سیدہ ام ہانی (رض) کے صاحبزادے سے سنا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
2200 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِىُّ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ « الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ - أَوْ أَمِيرُ - نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ ». اخْتُلِفَ عَلَى سِمَاكٍ فِيهِ وَإِنَّمَا سَمِعَهُ سِمَاكٌ مِنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক: