সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৮ টি
হাদীস নং: ২৩৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2361 محمد بن حسن اپنے والد (حسن ) کے حوالے سے ‘ ان کے والد (امام زین العابدین (رض)) کے حوالے ان کے دادا (امام حسین (رض)) کے حوالے سے ‘ حضرت علی بن ابوطالب (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہوگیا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کس چیز نے تمہیں ہلاکت کا شکار کیا ہے ؟ اس نے عرض کی میں نے رمضان میں (روزے کے وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کرلی ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تمہارے پاس کوئی غلام یاکنیز ہے ؟ اس عرض کی نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مسلسل دو ماہ روزے رکھو ‘ اس نے عرض کی میں روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ‘ ہر ایک مسکین کو ایک مددو ‘ اس نے عرض کی میں اس کی گنجائش نہیں رکھتا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے یہ ہدایت کی کہ اسے پندرہ صاع دیئے جائیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلادو ‘ اس نے عرض کی اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! پورے شہر میں ہمارے گھروالوں سے زیادہ محتاج اور کوئی نہیں ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم جاؤا سے تم بھی کھاؤ اور تمہارے گھروالے بھی کھائیں ‘ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے کفارہ ادا کردیا ہے۔
2361 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ وَعُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ . قَالَ « وَمَا أَهْلَكَكَ ». قَالَ أَتَيْتُ أَهْلِى فِى شَهْرِ رَمَضَانَ. قَالَ « هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً ». قَالَ لاَ. قَالَ « فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ». قَالَ لاَ أُطِيقُ الصِّيَامَ. قَالَ « فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدًّا ».قَالَ مَا أَجِدُهُ. فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا. قَالَ « أَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ». قَالَ وَالَّذِى بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجَ مِنَّا . قَالَ « انْطَلِقْ فَكُلْهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ فَقَدْ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْكَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2362 عامربن سعد اپنے والد (سعد بن ابی وقاص (رض)) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی میں نے رمضان کے مہینے میں ایک دن جان بوجھ کر روزہ نہیں رکھا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ایک غلام آزاد کرویادو ماہ کے روزے رکھو یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔
2362 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى أُوَيْسٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ وَعَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ أَفْطَرْتُ يَوْمًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَعْتِقْ رَقَبَةً أَوْ صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2363 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ، ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں روزہ توڑ لیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ کفارے کے طور پر ایک غلام آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یاساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ راوی بیان کرتے ہیں ، اس شخص نے عرض کی، میرے پاس اس کی گنجائش نہیں ہے ، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کی خدمت میں کھجوروں کی ایک بوری لائی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا اسے لو، اور اسے صدقہ کرو، اس نے عرض کی یارسول اللہ مجھے اپنے زیادہ ان کا کوئی اور ضرورت مند نہیں معلوم ہے ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت بھی ظاہر ہوئے پھر آپ نے فرمایا اسے تم کھالو۔
بعض راویوں نے اس روایت میں یہ بات نقل کی ہے اس شخص نے رمضان (کا روزہ ) توڑ دیا تھا اور کفارہ دینے کے بارے میں اسے اختیار دیا گیا تھا (کہ وہ مذکورہ بالا تین صورتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرلے) ۔ لیکن اکثر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے اس شخص نے صحبت کر کے روزہ توڑا تھا، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے اسے غلام آزاد کرنے کے ذریعہ کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا ، جب اس کے پاس اس کی گنجائش نہیں تھی، تو اسے دو ماہ روزے رکھنے کی ہدایت کی جب اس میں اس کی بھی استطاعت نہیں تھی تو اسے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔
بعض راویوں نے اس روایت میں یہ بات نقل کی ہے اس شخص نے رمضان (کا روزہ ) توڑ دیا تھا اور کفارہ دینے کے بارے میں اسے اختیار دیا گیا تھا (کہ وہ مذکورہ بالا تین صورتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرلے) ۔ لیکن اکثر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے اس شخص نے صحبت کر کے روزہ توڑا تھا، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے اسے غلام آزاد کرنے کے ذریعہ کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا ، جب اس کے پاس اس کی گنجائش نہیں تھی، تو اسے دو ماہ روزے رکھنے کی ہدایت کی جب اس میں اس کی بھی استطاعت نہیں تھی تو اسے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔
2363 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ فِى رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ فَقَالَ لاَ أَجِدُ فَأُتِىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ « خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ». فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى لاَ أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ إِلَيْهِ مِنِّى فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ « كُلْهُ ». تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِىُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ وَأَبُو أُوَيْسٍ وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَخْزُومِىُّ وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ وَشِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ مِنْ رِوَايَةِ أَشْهَبَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْهُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ مِنْ رِوَايَةِ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ عَنْهُ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ مِنْ رِوَايَةِ عَمَّارِ بْنِ مَطَرٍ عَنْهُ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى زِيَادٍ إِلاَّ أَنَّهُ أَرْسَلَهُ عَنِ الزُّهْرِىِّ كُلُّ هَؤُلاَءِ رَوَوْهُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ فِى رَمَضَانَ وَجَعَلُوا كَفَّارَتَهُ عَلَى التَّخْيِيرِ. وَخَالَفَهُمْ أَكْثَرُ مِنْهُمْ عَدَدًا فَرَوَوْهُ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ إِفْطَارَ ذَلِكَ الرَّجُلِ كَانَ بِجِمَاعٍ وَأَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا مِنْهُمْ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَتِيقٍ وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ وَمَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَعُقَيْلٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ وَالأَوْزَاعِىُّ وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِى حَمْزَةَ وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَصَالِحُ بْنُ أَبِى الأَخْضَرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْعَوْصِىُّ وَهَبَّارُ بْنُ عُقَيْلٍ وَثَابِتُ بْنُ ثَوْبَانَ وَقُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَبَحْرٌ السَّقَّاءُ وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَشُعَيْبُ بْنُ خَالِدٍ وَنُوحُ بْنُ أَبِى مَرْيَمَ وَغَيْرُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2364 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا میں ہلاک ہوگیا (شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے (خود کو) ہلاکت کا شکار کردیا۔ نبی کریم نے دریافت کیا تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا، (شاید یہ الفاظ ہیں) وہ بولا میں نے رمضان میں روزے کے دوران اپنی بیوی سے صحبت کرلی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کرسکو۔ اس نے عرض کی نہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔ اس نے عرض کی یہ میں نہیں کرسکتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، اس نے عرض کی میں اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کجھوروں کی ایک بوری لائی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا اسے صدقہ کردو۔ اس نے عرض کی میں اپنے زیادہ ضرورت مند لوگوں کو (یعنی مجھے سب سے زیادہ ان کی ضرورت ہے) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اسے اپنے گھروالوں کو کھلادو۔
2364 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَخْبَرَهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَتَى رَجُلٌ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ. قَالَ « مَا أَهْلَكَكَ » قَالَ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِى فِى رَمَضَانَ. قَالَ « تَجِدُ رَقَبَةً تَعْتِقُهَا ». قَالَ لاَ . قَالَ « صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ». قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ. قَالَ « فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ». قَالَ لاَ أَقْدِرُ عَلَيْهِ. فَأُتِىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ « تَصَدَّقْ بِهَذَا ». قَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا قَالَ « فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ ». تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو ثَوْرٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ بِقَوْلِهِ وَأَهْلَكْتُ. وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2365 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : رمضانمیں روزہ توڑنے والے شخص کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ہدایت کی تھی (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے) تاہم اسمیں یہ الفاظ زائد ہیں، تم اسے کھالو اور ایک دن روزہ رکھ لینا۔
2365 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى أُوَيْسٍ حَدَّثَنِى أَبِى أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَ رَجُلاً أَفْطَرَ فِى رَمَضَانَ. الْحَدِيثَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ « كُلْهُ وَصُمْ يَوْمًا ». تَابَعَهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2366 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی، میں نے رمضان (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرلی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ایک غلام آزاد کردو ، اس نے عرض کی، وہ میرے پاس نہیں ہے ، آپ نے فرمایا دو ماہ مسلسل روزے رکھو، اس نے عرض کی، میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، اس نے عرض کی میں یہ بھی نہیں کرسکتا۔
راوی بیان کرتے ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پندرہ صاع کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ نے فرمایا اسے لو اور اپنی طرف سے کھلا دو، اس نے عرض کی ، یارسول اللہ پورے شہر میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہمیں ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔
یہ الفاظ بکار نامی راوی کے ہیں اور محمد بن ابوحفصہ نامی راوی نے اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پندرہ صاع کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ نے فرمایا اسے لو اور اپنی طرف سے کھلا دو، اس نے عرض کی ، یارسول اللہ پورے شہر میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہمیں ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔
یہ الفاظ بکار نامی راوی کے ہیں اور محمد بن ابوحفصہ نامی راوی نے اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے۔
2366 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ وَحَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَعْتُ بِامْرَأَتِى فِى رَمَضَانَ. قَالَ « أَعْتِقْ رَقَبَةً ». قَالَ لاَ أَجِدُ. قَالَ « فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ». قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ. قَالَ « أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ».قَالَ لاَ أَجِدُ. قَالَ فَأُتِىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ. قَالَ « خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا . قَالَ « فَخُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ». لَفْظُ بَكَّارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2367 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں ایک زبیل لائی گئی اور پیمانہ تھا جس میں پندرہ صاع تھے ‘ یہ بھی ہے ‘ کھجوروں کے پندرہ صاع تھے۔ اسی طرح دیگرراویوں نے بھی نقل کیا ہے اور دیگر راویوں نے اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے۔
2367 - تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو أُمَيَّةَ قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ وَقَالَ فِيهِ بِزَبِيلٍ وَهُوَ الْمِكْتَلُ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَحْسَبُهُ تَمْرًا. وَكَذَلِكَ قَالَ هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ عَنِ الزُّهْرِىِّ. وَتَابَعَهُمْ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2368 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے آپ کو بتایا گیا کہ اس نے رمضان میں (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرلی ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ایک غلام آزاد کرو ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! میرے پاس وہ نہیں ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مسلسل دو ماہ روزے رکھو ‘ اس نے کہا میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ‘ اس نے عرض کی میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے لو اور اسے صدقہ کردو ‘ اس نے عرض کی کیا اپنے اور گھروالوں سے زیادہ ضرورت مندکوکروں ‘ مجھے اپنے اور اپنے گھروالوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں آپ نے فرمایا اسے تم کھالو اور تمہارے گھروالے کھالیں اور تم ایک دن روزہ رکھ لو اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔
2368 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِى الرَّبِيعِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِىُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِأَهْلِهِ فِى رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُ « أَعْتِقْ رَقَبَةً ». قَالَ لاَ أَجِدُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ». قَالَ مَا أَسْتَطِيعُ. قَالَ « فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ». قَالَ مَا أَجِدُ ذَلِكَ . قَالَ فَأُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِكْتَلٍ فِيهِ تَمْرٌ قَدْرَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا. فَقَالَ « خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ». فَقَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنِّى وَأَهْلِ بَيْتِى فَمَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّى وَأَهْلِ بَيْتِى. قَالَ « كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ وَصُمْ يَوْمًا وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2369 حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ” جو شخص عذر کے رمضان کا ایک روزہ نہ رکھے ‘ اس پر ایک ماہ کے روزے رکھنا لازم ہوگا۔ اس کی سند ثابت نہیں ہے ‘ اس کا راوی مندل ضعیف ہے ‘ اور جس نے حضرت انس (رض) کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ وہ بھی ضعیف ہے۔
2369 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ سَالِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ عَنْ أَبِى هَاشِمٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَعَلَيْهِ صَوْمُ شَهْرٍ ». هَذَا إِسْنَادٌ غَيْرُ ثَابِتٍ. مَنْدَلٌ ضَعِيفٌ وَمَنْ دُونَ أَنَسٍ ضَعِيفٌ أَيْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2370 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص کسی بیماری اور رخصت کے بغیر رمضان کا ایک دن کا روزہ نہ رکھے تو ہمیشہ روزے رکھنا بھی اس کا بدلہ نہیں ہوسکتا “۔
2370 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ أَبِى الْمُطَوِّسِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ مَرَضٍ وَلاَ رُخْصَةٍ لَمْ يُجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2371 ربیعہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں جو شخص رمضان کے ایک دن کا روزہ نہ رکھے تو وہ بارہ دن روزے رکھے گا ‘ اس کی یہ ہے اللہ تعالیٰ نے بارہ مہینوں کے مقابلے میں ایک مہینہ روزہ رکھنے کو پسند کیا ہے۔
2371 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ الْيَقْطِينِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَوْهِبُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ عَنْ رَجَاءِ بْنِ جَمِيلٍ قَالَ كَانَ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ صَامَ اثْنَىْ عَشَرَ يَوْمًا لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَضِىَ مِنْ عِبَادِهِ شَهْرًا مِنَ اثْنَىْ عَشَرَ شَهْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2372 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ جو شخص رخصت یا بیماری کے بغیر رمضان کے روزے نہ رکھے تو ہمیشہ روزے رکھنا بھی اس کی قضاء نہیں ہوسکتا۔
2372 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرُّهَاوِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ مَرَضٍ وَلاَ رُخْصَةٍ لَمْ يَقْضِهِ عَنْهُ صِيَامٌ وَإِنْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2373 ۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی (رض) بیان کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منی کے دنوں میں مجھے اپنی اونٹنی پر بھیجا تاکہ میں اعلان کروں، اے لوگو یہ کھانے پینے کے اور صحبت کے دن ہیں۔
اس روایت کا راوی واقدی ضعیف ہے۔
اس روایت کا راوی واقدی ضعیف ہے۔
2373 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ الزُّرَقِىَّ يَقُولُ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ السَّهْمِىُّ قَالَ بَعَثَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى رَاحِلَتِهِ أَيَّامَ مِنًى أُنَادِى « أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ ». الْوَاقِدِىُّ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2374 ۔ حضرت حمزہ اسلمی بیان کرتے ہیں : انھوں نے ایک شخص کو دیکھا جو منی میں ایام تشریق میں لوگوں کی رہائش گاہوں کے پاس جارہا تھا ، وہ اونٹ پر سوار تھا اور یہ کہہ رہا تھا : خبردار ان دنوں میں روزہ نہ رکھو کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے درمیان موجود ہیں۔ قتادہ نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے یہ اعلان کرنے والے شخص حضرت بلال (رض) تھے۔ قتادہ نامی راوی نے سلیمان بن یسار سے احادیث کا سماع نہیں کیا ہے۔
2374 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ حَمْزَةَ الأَسْلَمِىِّ أَنَّهُ رَأَى رَجُلاً يَتَتَبَّعُ رِحَالَ النَّاسِ بِمِنًى أَيَّامَ التَّشْرِيقِ عَلَى جَمَلٍ لَهُ وَهُوَ يَقُولُ أَلاَ لاَ تَصُومُوا هَذِهِ الأَيَّامَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ. وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ. قَالَ قَتَادَةُ بَلَغَنَا أَنَّ الْمُنَادِىَ كَانَ بِلاَلاً. قَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2375 ۔ قتادہ، انس (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سال کے پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے ، عید الفطر کے دن ، عید الاضحی کے دن اور ایام تشریق کے تین دن۔
عثمان نامی راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے محمد بن خالد کے حوالے سے یہی روایت نقل کی ہے۔
عثمان نامی راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے محمد بن خالد کے حوالے سے یہی روایت نقل کی ہے۔
2375 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الطَّحَّانُ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ صَوْمِ خَمْسَةِ أَيَّامٍ فِى السَّنَةِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ وَثَلاَثَةِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ. قَالَ عُثْمَانُ مَا كَتَبْنَاهُ إِلاَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2376 نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمروبن حزم (رض) کو صدقہ فطر کے بارے میں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ گندم کا نصف صاع ہوگا یاکھجورکا ایک صاع ہوگا۔
2376 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى حَدَّثَنَا مَكِّىُّ بْنُ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الصَّنْعَانِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ فِى زَكَاةِ الْفِطْرِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2377 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) یہ فرماتے ہیں جب دودھ تھن میں موجود ہو ‘ اس کا سودانہ کرو اور جب اون (جانور کی پشت پر) موجودنہ ہو ‘ اس وقت اس کا سودانہ کرو۔
2377 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لاَ تَشْتَرُوا اللَّبَنَ فِى ضُرُوعِهَا وَلاَ الصُّوفَ عَلَى ظُهُورِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2378 مسعود بن حکم زرقی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض) نے ایام تشریق میں یہ اعلان کیا تھا خبردار ! یہ عید کے دن ہیں ‘ یہ کھانے پینے اور ذکر کر نے کے دن ہیں تو ان دنوں میں روزہ صرف وہ شخص رکھے جو محصرہویاحج کرنے والا ایسا فردہو ‘ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو ‘ یا جس نے حج کے دنوں میں مسلسل روزے نہ رکھے ہوں ‘ وہ ان دنوں میں روزے رکھ لے۔
2378 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِى دَاوُدَ الْحَرَّانِىُّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِىُّ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الزُّرَقِىِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ فَنَادَى فِى أَيَّامِ التَّشْرِيقِ « أَلاَ إِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ عِيدٌ وَأَكْلٌ وَشُرْبٌ وَذِكْرٌ فَلاَ تَصُومُوهُنَّ إِلاَّ مُحْصَرٌ أَوْ مُتَمَتِّعٌ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَلَمْ يَصُمْ فِى أَيَّامِ الْحَجِّ الْمُتَتَابِعَةِ فَلْيَصُمْهُنَّ ».
তাহকীক: