সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৮ টি

হাদীস নং: ২৩৪১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2341 سیدہ اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں ہم نے رمضان کے مہینے میں ایک دن جب بادل چھائے ہوئے تھے ‘ افطاری کرلی لیکن بعد میں سورج نکل آیا (توپتہ چلا کہ افطاری کا وقت نہیں ہوا تھا) ۔ ہشام نامی راوی سے دریافت کیا گیا کیا ان لوگوں کو اس کی قضاء کرنے کا حکم دیا گیا تھا ؟ تو انھوں نے جواب دیا ایسا کرنا ضروری تھا۔

اس کی سند صحیح ہے اور ثابت ہے۔
2341 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ قَالَتْ أَفْطَرْنَا فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى رَمَضَانَ فِى يَوْمِ غَيْمٍ وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقِيلَ لِهِشَامٍ أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ قَالَ وَبُدٌّ مِنْ ذَلِكَ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ثَابِتٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2342 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2342 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2343 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات کی ہے ” اور وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے ‘ ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ اس سے مراد ایک مسکین ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ” توجوشخص بھلائی نفلی طورپرکرے۔

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں یعنی جو ایک اور مسکین کو بھی کھانا کھلادے تو یہ زیادہ بہت رہے۔ وہ یہ فرماتے ہیں یہ حکم منسوخ نہیں ہے ‘ البتہ یہ رخصت اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور کھانا کھلانے یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو یہ جانتا ہے ‘ اب (وہ کبھی بھی) روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ اس کی سند صحیح ہے اور ثابت ہے۔
2343 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ) وَاحِدٍ (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا) قَالَ زَادَ مِسْكِينًا آخَرَ فَهَوَ خَيْرٌ لَهُ قَالَ وَلَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ إِلاَّ أَنَّهُ رُخِّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ الَّذِى لاَ يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ وَأُمِرَ أَنْ يُطْعِمَ الَّذِى يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يُطِيقُهُ. إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ثَابِتٌ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2344 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) یہ ارشاد فرماتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے ) جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے وہ اس بات کے پابند ہیں وہ ایک مسکین کو کھلاناکھلائیں اور جو شخص نفلی طورپر بھلائی کرنا چاہے تو وہ مزید ایک مسکین کو کھانا کھلادے۔ یہ حکم منسوخ ہے ‘ بلکہ یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے اور اگر تم روزہ رکھ لو تو یہ زیادہ بہتر ہے تو اس معاملے میں رخصت صرف بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس مریض کو دی گئی ہے جو یہ جانتا ہے وہ اب کبھی بھی شفاء یاب نہیں ہوگا۔ اس کی سند صحیح ہے۔
2344 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِى قَوْلِهِ (وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ) قَالَ يُطِيقُونَهُ يُكَلَّفُونَهُ (فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ) وَاحِدٍ (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا) فَزَادَ مِسْكِينًا آخَرَ لَيْسَتْ مَنْسُوخَةً (فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ) لاَ يُرَخَّصُ فِى هَذَا إِلاَّ لِلْكَبِيرِ الَّذِى لاَ يُطِيقُ الصِّيَامَ أَوْ مَرِيضٍ لاَ يُشْفَى. وَهَذَا صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2345 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے ) جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ (ارشادباری تعالیٰ ہے)” جو شخص نفلی طور پر بھلائی کرنا چاہیے “ اس کا مطلب ہے وہ مزید ایک مسکین کو کھانا کھلادے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے)” تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہوگا۔

اور اگر تم لوگ روزہ رکھ لوویہ تمہارے لیے زیادہ بہت رہے۔

(حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں) یہ رخصت صرف اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت ہی نہ رکھے یاس بیمار کو دی گئی ہے جو یہ جانتا ہے ‘ اب وہ کسی شفایاب نہیں ہوگا۔ اس کی سند صحیح ہے۔
2345 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَكِيلُ أَبِى صَخْرَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شِبْلٌ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ) وَاحِدٍ (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا) زَادَ طَعَامَ مِسْكِينٍ آخَرَ (فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ) وَلاَ يُرَخَّصُ إِلاَّ لِلْكَبِيرِ الَّذِى لاَ يُطِيقُ الصَّوْمَ أَوْ مَرِيضٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ يُشْفَى. وَهَذَا صَحِيحُ الإِسْنَادِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2346 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں یہ رخصت اس بوڑھے آدمی کے لیے ہے وہ روزہ رکھناچھوڑدے اور ایک دن کے عوض میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور اس پر قضاء لازم نہیں ہوگی۔

اس کی سند صحیح ہے۔
2346 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِىُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رُخِّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ أَنْ يُفْطِرَ وَيُطْعِمَ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2347 عطاء بیان کرتے ہیں انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کو یہ تلاوت کرتے ہوئے سنا ” اور وہ لوگ جو اس کی طاقت نہیں رکھتے تو ان کا فدیہ مسکین کو کھانا کھلانا ہے “۔

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں یہ حکم منسوخ نہیں ہے ‘ اس سے مراد وہ بوڑھا آدمی یا وہ عورت ہے جواب کبھی روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھیں گے ‘ تو وہ ہر ایک دن کے عوض میں ایک مسکین کو کھانا کھلادیں۔ یہ روایت صحیح ہے۔
2347 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكِيلُ أَبِى صَخْرَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا (وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَيْسَتْ مَنْسُوخَةً هُوَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْمَرْأَةُ الْكَبِيرَةُ لاَ يَسْتَطِيعَانِ أَنْ يَصُومَا فَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا . وَهَذَا صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2348 سعید بن جبیربیان کرتے ہیں حضرت عبدللہ بن عباس (رض) نے اپنی ام ولد سے ‘ جو حاملہ تھی اور بچے کو دودھ پلاتی تھی ‘(یہ کہا تھا ) تم ان لوگوں میں شامل ہوجوروزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ‘ تم پر جزاء لازم ہے ‘ قضاء لازم نہیں ہوگی۔ اس کی سند صحیح ہے۔
2348 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لأُمِّ وَلَدٍ لَهُ حُبْلَى أَوْ مُرْضِعٍ أَنْتِ مِنَ الَّذِينَ لاَ يُطِيقُونَ الصِّيَامَ عَلَيْكِ الْجَزَاءُ وَلَيْسَ عَلَيْكِ الْقَضَاءُ. إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2349 سعیدبن جبیر ‘ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں انھوں نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے سل کا ایسا مریض جو اس بات سے مایوس ہوچکاہو ‘ کہ وہ ٹھیک ہوگا اور وہ کبھی روزہ نہ رکھ سکتا ہو ‘ ایساشخص روزہ نہیں رکھے گا اور ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلادے گا۔ اس روایت کا راوی حجاج ضعیف ہے۔
2349 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ أَبِى زَائِدَةَ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَاحِبُ السُّلِّ الَّذِى قَدْ يَئِسَ أَنْ يَبْرَأَ فَلاَ يَسْتَطِيعُ الصَّوْمَ يُفْطِرُ وَيُطْعِمُ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا. حَجَّاجٌ ضَعِيفٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2350 سعید بن جبیرنے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ان کی ایک کنیز تھی جو بچے کو دودھ پلاتی تھی ‘ وہ بیمار ہوگئی ‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اس کو یہ ہدایت کی کہ تم روزے نہ رکھو ‘ اور (فدیہ کے طور پر) کھانا کھلادو اور قضانہ رکھنا۔ یہ روایت مستند ہے۔
2350 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِىُّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ تُرْضِعُ فَأُجْهِدَتْ فَأَمَرَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْ تُفْطِرَ وَتُطْعِمَ وَلاَ تَقْضِىَ . هَذَا صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2351 سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) یاشاید حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے یہ بات بیان کی ہے حاملہ یادودھ پلانے والی عورت روزہ نہیں رکھے گی ‘ وہ بعد میں اس کی قضاء بھی نہیں کرے گی (بلکہ مسکین کو کھانا کھلادے گی) ۔

یہ روایت اور اس کے بعدوالی روایت مستند ہے۔
2351 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ الْحَامِلُ وَالْمُرْضِعُ تُفْطِرُ وَلاَ تَقْضِى. وَهَذَا صَحِيحٌ وَمَا بَعْدَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2352 مجاہدبیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہ آیت تلاوت کی ” جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ان پر اس کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانافدیے کے طور پر واجب ہے “۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں اس سے مراد وہ بوڑھا آدمی ہے جواب روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھے گا ‘ وہ روزہ چھوڑدے گا اور ہر دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلائے گا ‘ جو گندم کا نصف صاع ہوگا۔
2352 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الضَّيْفِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِىُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَرَأَ (وَعَلَى الَّذِينَ يَطُوقُونَهُ) ثُمَّ يَقُولُ هُوَ الشَّيْخُ الْكَبِيرُ الَّذِى لاَ يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ فَيُفْطِرُ وَيُطْعِمُ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا نِصْفَ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2353 عکرمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے ” اور جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ان پر لازم ہے “۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے یہ آیت منسوخ ہوئی۔
2353 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ (وَعَلَى الَّذِينَ يَطُوقُونَهُ) وَيَقُولُ لَمْ يُنْسَخْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2354 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے بارے میں یہ منقول ہے ‘ ان کی اہلیہ نے ان سے سوال کیا ‘ وہ خاتون حاملہ تھیں ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا تم روزے رکھنے چھوڑدو اور ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلادیاکرو ‘ بعد میں اس کی قضاء بھی نہیں کرنا۔
2354 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهُ وَهِىَ حُبْلَى فَقَالَ أَفْطِرِى وَأَطْعِمِى عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَلاَ تَقْضِى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2355 نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی ایک صاحبزادی ‘ وہ ایک قریشی کی بیوی تھیں ‘ وہ خاتوحاملہ ہوئیں تو انھیں شدیدپیاس محسوس ہوئی ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ روزہ رکھنا چھوڑدیں اور ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلادیں۔
2355 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَتْ بِنْتٌ لاِبْنِ عُمَرَ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَكَانَتْ حَامِلاً فَأَصَابَهَا عَطَشٌ فِى رَمَضَانَ فَأَمَرَهَا ابْنُ عُمَرَ أَنْ تُفْطِرَ وَتُطْعِمَ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2356 ایوب بیان کرتے ہیں ایک سال حضرت انس بن مالک (رض) کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتے انھوں نے ثرید کی ہنڈیا تیار کروائی اور تیس مسکینوں کو بلا کر انھیں سیر ہو کر کھانا کھلادیا۔
2356 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكِيلُ أَبِى صَخْرَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ضَعُفَ عَنِ الصَّوْمِ عَامًا فَصَنَعَ جَفْنَةً مِنْ ثَرِيدٍ وَدَعَا ثَلاَثِينَ مِسْكِينًا فَأَشْبَعَهُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2357 ۔ قتادہ بیان کرتے ہیں حضرت انس (رض) انتقال سے قبل کمزور ہوگئے تھے تو انھوں نے روزے نہیں رکھے انھوں نے اپنی اہلیہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ ہر ایک دن کے عوض میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ ہشام نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ انھوں نے تیس مسکینوں کو کھانا کھلایا۔
2357 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا ضَعُفَ عَامًا قَبْلَ مَوْتِهِ فَأَفْطَرَ وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُطْعِمُوا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا. قَالَ هِشَامٌ فِى حَدِيثِهِ فَأَطْعَمَ ثَلاَثِينَ مِسْكِينًا .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2358 ۔ مجاہد بیان کرتے ہیں میں نے قیس بن سائب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا رمضان کے مہینے کا فدیہ آدمی یہ دے گا کہ اپنی طرف سے ہر ایک دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے اس لیے تم میری طرف سے دو مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔
2358 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ السَّائِبِ يَقُولُ إِنَّ شَهْرَ رَمَضَانَ يَفْتَدِيهِ الإِنْسَانُ أَنْ يُطْعِمَ عَنْهُ لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ فَأَطْعِمُوا عَنِّى مِسْكِينَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৫৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2359 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) ارشاد فرماتے ہیں ، جو شخص بوڑھا ہوجائے اور روزہ رکھنے کی استطاعت نہ رکھے تو اس پر لازم ہے وہ ہر ایک دن کے عوض میں گندم کا ایک مد ادا کرے۔
2359 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ أَنَّ أَبَا حَمْزَةَ حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ مَنْ أَدْرَكَهُ الْكِبَرُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَصُومَ رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ لِكُلِّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ قَمْحٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৬০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب افطاری کرلینے کے بعد سورج نکل آنا

(یعنی بادل وغیرہ کی وجہ سے وقت سے پہلے افطاری کرلینے کا حکم)
2360 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” جس شخص کے ذمے قرض ہو ‘ اس کی طرف سے ادا کردیا جائے تو یہ اس کی طرف سے ادائیگی ہوجاتی ہے “۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج اور روزے کے متعلق اسی کی مانندبات ارشاد فرمائی ہے۔ اس روایت کا راوی دہشم ضعیف ہے ‘ جبکہ دوسراراوی عمروبن عثمان مجہول ہے۔
2360 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ بَكْرٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِىُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنَا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقُضِىَ عَنْهُ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْهُ ». وَقَالَ فِى الْحَجِّ وَالصِّيَامِ مِثْلَ ذَلِكَ. دَهْثَمٌ ضَعِيفٌ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ مَجْهُولٌ.
tahqiq

তাহকীক: