সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
حج کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০ টি
হাদীস নং: ২৭৩৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2739 ۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2739 - قُرِئَ عَلَى أَبِى مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِىُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلَ حَدِيثِ عَمْرٍو إِيَّاىَ عَنْهُ. قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبُرْسَانِىُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2740 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص حالت احرام میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے آرہا تھا ، وہ اپنے اونٹ سے گرگیا، اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی ، اس کا انتقال ہوگیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اس کو اس کے یہی دوکپڑے (کفن کے طور پر) پہنادو، اس کا سرڈھانپنا نہیں یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے آئے گا۔
2740 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ يَتْبَعُ رَسُولَ الله -صلى الله عليه وسلم- فَخَرَّ عَنْ بَعِيرِهِ فَوَقَصَهُ وَقْصًا فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْنِ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يَأْتِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2741 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2741 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلَ حَدِيثِ عَمْرٍو إِيَّاىَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2742 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو بھی حاجی یاعمرہ کرنے والے شخص اس حالت میں (یعنی حالت احرام) میں فوت ہوجائے گا تو اس کی پیشی نہیں ہوگی اور اس سے حساب نہیں لیا جائے گا، اور اس سے کہا جائے گا تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔
2742 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَرُّوذِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِىُّ حَدَّثَنَا عَائِذٌ الْمُكْتِبُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ مَاتَ فِى هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَاجٍّ أَوْ مُعْتَمِرٍ لَمْ يُعْرَضْ وَلَمْ يُحَاسَبْ وَقِيلَ لَهُ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2743 ۔ حضرت کعب بن عجرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دیکھا کہ ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گررہی تھیں، یہ حدیبیہ کے مقام کی بات ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت کیا ، کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کررہی ہیں انھوں نے عرض کی جی ہاں ! تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ حکم دیا کہ وہ سرمنڈوالیں حالانکہ وہ اس وقت حدیبیہ کے مقام پر موجود تھے اور نبی نے ابھی لوگوں کے سامنے یہ بات بیان نہیں کی تھی کہ وہ یہیں احرام کھول لیں گے چونکہ لوگ تو یہ چاہتے تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں تو اللہ نے فدیہ کا حکم نازل کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ ایک ، فرق، چھ غریبوں کے درمیان تقسیم کردیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یاتین دن روزے رکھ لیں۔
2743 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ قَالَ قَالَ مُجَاهِدٌ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ « أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ». قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أن يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْفِدْيَةَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوْ يُهْدِىَ شَاةً أَوْ يَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2744 ۔ حضرت کعب بن عجرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس سے گزرے وہ اس وقت اپن ہنڈیا کے نیچے آگ سلگا رہے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کررہی ہیں پھر نبی نے انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ سرمنڈوالیں اور تین دن روزے رکھیں یا ایک، فرق، چھ مسکینوں کو کھانے کے لیے دیں یا قربانی کرلیں۔
سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں (اس واقعہ کے بارے میں ) یہ آیت نازل ہوئی۔ '' تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو وہ ہدیہ دے ۔ ''
سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں (اس واقعہ کے بارے میں ) یہ آیت نازل ہوئی۔ '' تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو وہ ہدیہ دے ۔ ''
2744 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِىُّ عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ مَرَّ بِهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ فَقَالَ « أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ». فَأَمَرَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَحْلِقَ وَيَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوْ يَنْسُكَ . قَالَ سُفْيَانُ فَنَزَلَتِ الآيَةُ (فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ ) الآيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2745 ۔ حضرت کعب بن عجرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دیکھا کہ ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گررہی تھیں، یہ حدیبیہ کے مقام کی بات ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت کیا ، کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کررہی ہیں انھوں نے عرض کی جی ہاں ! تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ حکم دیا کہ وہ سرمنڈوالیں حالانکہ وہ اس وقت حدیبیہ کے مقام پر موجود تھے اور نبی نے ابھی لوگوں کے سامنے یہ بات بیان نہیں کی تھی کہ وہ یہیں احرام کھول لیں گے چونکہ لوگ تو یہ چاہتے تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں تو اللہ نے فدیہ کا حکم نازل کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ ایک ، فرق، چھ غریبوں کے درمیان تقسیم کردیں یا ایک جانور کی قربانی کریں یاتین دن روزے رکھ لیں۔
2745 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِىُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْفَارِسِىُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأُبُلِّىُّ قَالُوا حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ كَامِلٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِى عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِىُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَآهُ وَقَمْلُهُ يَتَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ « أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ». قَالَ نَعَمْ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْفِدْيَةَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوْ يُهْدِىَ شَاةً أَوْ يَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2746 ۔ حضرت کعب بن عجرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس سے گزرے وہ اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ سلگا رہے تھے ، یہ حدیبیہ کی بات ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت کیا کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کررہی ہیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنا سرمنڈوادو۔
(راوی بیان کرتے ہیں) تو یہ آیت نازل ہوئی۔ '' تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یاصدقہ کرلے یا قربانی کرے۔
روزہ رکھنے کا حکم تین دن روزے رکھنا ہے صدقے سے مراد یہ ہے چھ مسکینوں کو ایک، فرق، دیا جائے اور قربانی سے مراد یہ ہے بکری کی قربانی دی جائے۔
(راوی بیان کرتے ہیں) تو یہ آیت نازل ہوئی۔ '' تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یاصدقہ کرلے یا قربانی کرے۔
روزہ رکھنے کا حکم تین دن روزے رکھنا ہے صدقے سے مراد یہ ہے چھ مسکینوں کو ایک، فرق، دیا جائے اور قربانی سے مراد یہ ہے بکری کی قربانی دی جائے۔
2746 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُهْتَدِى بِاللَّهِ حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِىُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِىِّ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ وَأَيُّوبَ وَسَيْفٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ مَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ». قَالَ نَعَمْ. قَالَ « احْلِقْ ». فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) قَالَ فَالصِّيَامُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَالصَّدَقَةُ فَرَقٌ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ وَالنُّسُكُ شَاةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2747 ۔ حضرت کعب بن عجرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس سے گزرے ان کے بال بڑے تھے ان کے بالوں کی جڑوں میں اور ان کے اوپروالے حصے میں جوئیں تھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تم اس تکلیف میں ہو، کیا تمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے ؟ انھوں نے عرض کیا نہیں ! نبی نے فرمایا پھر اگر تم چاہو تو تین دن روزے رکھ لو یاتین صاع کھجوریں (غریبوں کو) کھلادو ہر ایک مسکین کو ایک صاع دو۔
2747 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِى هِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَرَّ بِهِ وَلَهُ وَفْرَةٌ وَبِأَصْلِ كُلِّ شَعَرَةٍ وَبِأَعْلاَهَا قَمْلَةٌ أَوْ صُؤَابٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ هَذَا لأَذًى أَمَعَكَ نُسُكٌ ». قَالَ لاَ. قَالَ « فَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلاَثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2748 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ایسے حالت احرام والے شخص کے بارے میں جو اپنے ناخن تراش لیتا ہے یہ فرماتے ہیں وہ ہر ایک ہتھیلی کی طرف سے اناج کا ایک صاع کھلائے گا۔
2748 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُزَنِىُّ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ الأَشْعَثِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِى الْمُحْرِمِ يُقَلِّمُ أَظْفَارَهُ قَالَ يُطْعِمُ عَنْ كُلِّ كَفٍّ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2749 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں لوگ منی سے ہی جس طرف بھی ان کا رخ ہوتا تھا واپس چلے جایا کرتے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ سب سے آخر میں بیت اللہ کا طواف کیا کریں (وہاں سے گھرجایاکریں) البتہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیض والی عورتوں کو یہ اجازت دی (کیونکہ وہ طواف کے لیے بیت اللہ میں داخل نہیں ہوسکتیں) ۔
2749 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْفِرُونَ مِنْ مِنًى إِلَى وَجْهِهِمْ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ وَرَخَّصَ لِلْحَائِضِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2750 ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں جو شخص مکہ کے گھروں کا کرایہ کھاتا ہے وہ آگ کھاتا ہے۔
2750 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخُتَّلِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى السَّرِىِّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى زِيَادٍ عَنْ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَفَعَ الْحَدِيثَ - قَالَ « مَنْ أَكَلَ كِرَاءَ بُيُوتِ مَكَّةَ أَكَلَ نَارًا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2751 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کنکریاں مارنے کا طریقہ یہ ہے اس کے ساتھ تکبیر بھی کہی جائے ، راوی کہتے ہیں اس سے مراد جمرات کو کنکریاں مارنا ہے۔
2751 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّمَا جُعِلَ الْحَصَى لِيُحْصَى بِهِ التَّكْبِيرُ. يَعْنِى حَصَى الْجِمَارِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2752 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں ہم نے عرض کی یارسول اللہ یہ جو جمرات کو ہر سال اتنی کنکریاں ماری جاتی ہیں ہم تو یہ سمجھتے ہیں یہ ختم ہوجائیں گی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ، ان میں سے جو قبول ہوجاتی ہیں انھیں اٹھالیاجاتا ہے اگر ایسانہ ہو تو تمہیں یہاں پہاڑوں کی طرح (کنکریوں کے ڈھیر) نظر آئیں۔
2752 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنِ ابْنٍ لأَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ الْجِمَارُ الَّتِى يُرْمَى بِهَا كُلَّ عَامٍ فَنَحْتَسِبُ أَنَّهَا تَنْقُصُ فَقَالَ « إِنَّهُ مَا يُقْبَلُ مِنْهَا رُفِعَ وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَرَأَيْتَهَا أَمْثَالَ الْجِبَالِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2753 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب کوئی شخص اپنا حج مکمل کرلے تو اسے جلدی اپنے گھر واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ اس کا اجرزیادہ ہے۔
2753 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ اللَّيْثِىُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ حَجَّهُ فَلْيُعَجِّلِ الرِّحْلَةَ إِلَى أَهْلِهِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لأَجْرِهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2754 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جب کوئی شخص سفر سے واپس آئے اپنی بیوی کے لیے کوئی تحفہ لے کر آئے اور اسے تحفہ دے خواہ وہ پتھر ہی ہو۔
2754 - حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمَرْوَزِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُهْدِ إِلَى أَهْلِهِ وَلْيُطْرِفْهُمْ وَلَوْ كَانَتْ حِجَارَةً ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2755 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے اللہ عرفہ کے دن بہت لوگوں کو آزاد کرتا ہے اور کسی دن میں اس سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا اللہ کی رحمت اس دن زیادہ قریب ہوجاتی ہے پھر اللہ فرشتوں کے سامنے ان لوگوں پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔
2755 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَوَفَاءُ بْنُ سُهَيْلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِى مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ عَدَدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يُبَاهِى بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ يَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2756 ۔ عمر بن عثمان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا چار لوگ ایسے ہیں جنہیں میں، حل، اور حرم، کسی بھی جگہ پر امان نہیں دوں گا، حویرث بن نقید، مقیس، ہلال بن خطل اور عبداللہ بن ابوسرح۔
(راوی بیان کرتے ہیں) حویرث کو حضرت علی (رض) نے قتل کردیا ، مقیس کو اس کے چچازاد ، لحا، نے قتل کردیا، ہلال بن خطل کو حضرت زبیر (رض) نے قتل کردیا جہاں تک عبداللہ بن سرح کا تعلق ہے تو حضرت عثمان (رض) نے اس کے لیے امان مانگ لی وہ ان کا رضاعی بھائی تھا اس طرح مقیس کی دوکنیزیں تھیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو میں کی جانے والی شاعری گایا کرتی تھیں ان دونوں میں سے ایک قتل ہوگئی اور دوسری بچ گئی اس نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تھا۔
(راوی بیان کرتے ہیں) حویرث کو حضرت علی (رض) نے قتل کردیا ، مقیس کو اس کے چچازاد ، لحا، نے قتل کردیا، ہلال بن خطل کو حضرت زبیر (رض) نے قتل کردیا جہاں تک عبداللہ بن سرح کا تعلق ہے تو حضرت عثمان (رض) نے اس کے لیے امان مانگ لی وہ ان کا رضاعی بھائی تھا اس طرح مقیس کی دوکنیزیں تھیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو میں کی جانے والی شاعری گایا کرتی تھیں ان دونوں میں سے ایک قتل ہوگئی اور دوسری بچ گئی اس نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تھا۔
2756 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِىُّ قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ « أَرْبَعَةٌ لاَ أُؤَمِّنُهُمْ فِى حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُقَيْدٍ وَمِقْيَسٌ وَهِلاَلُ بْنُ خَطَلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى سَرْحٍ ». فَأَمَّا الْحُوَيْرِثُ فَقَتَلَهُ عَلِىٌّ وَأَمَّا مِقْيَسٌ فَقَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحَا وَأَمَّا هِلاَلُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قُتِلَتْ إِحَدَاهُمَا وَأَفْلَتَتِ الأُخْرَى فَأَسْلَمَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2757 ۔ عمر بن عثمان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تم سعید ہو، ہم (دونوں) میں سے کون بڑا ہے میں یا تم ؟ تو انھوں نے عرض کیا، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے (پیدا ہوا تھا) ویسے آپ مجھ سے بڑے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے بہتر ہیں۔
2757 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِى جَدِّى عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ وَكَانَ يُسَمَّى الصُّرْمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَنْتَ سَعِيدٌ فَأَيُّنَا أَكْبَرُ أَنَا أَوْ أَنْتَ ». قَالَ أَنَا أَقْدَمُ مِنْكَ وَأَنْتَ أَكْبَرُ وَخَيْرٌ مِنِّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2758 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے تم حج کرلو اس سے پہلے کہ تم حج نہ کرسکو عرض کی گئی ، اس وقت حج کاکیامعاملہ ہوگا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا دیہاتی لوگ اپنے اپنے علاقوں کے کناروں پر بیٹھ جائیں گے اور کوئی شخص حج کرنے کے لیے (مکہ) نہیں پہنچ سکے گا۔
2758 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى بْنِ بَحِيرٍ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « حُجُّوا قَبْلَ أَنْ لاَ تَحُجُّوا ». قِيلَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ قَالَ « تَقْعُدُ أَعْرَابُهَا عَلَى أَذْنَابِ أَوْدِيَتِهَا فَلاَ يَصِلُ إِلَى الْحَجِّ أَحَدٌ ».
তাহকীক: