সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

حج کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০ টি

হাদীস নং: ২৬৫৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2659 ۔ امام جعفر صادق (رض) اپنے والد (امام محمد باقر (رض)) کے حوالے سے حضرت جابر بن عبداللہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین حج کیے تھے دوحج ہجرت کرنے سے پہلے کیے تھے اور ایک وہ حج تھا جس کے ساتھ آپ نے عمرہ بھی کیا تھا (یعنی حجۃ الوداع) ۔
2659 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ وَالْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عُبَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرٍ اللَّبَّانُ وَغَيْرُهُمْ قَالُوا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِىُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَجَّ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- ثَلاَثَ حِجَجٍ حَجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ وَحَجَّةً قَرَنَ مَعَهَا عُمْرَةً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2660 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں اقرع بن حابس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا ہر سال حج کرنا واجب ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں بلکہ ایک ہی مرتبہ حج کرنا فرض ہے ، جو شخص اس کے بعد بھی حج کرے گا تو یہ اس کے لیے نفل ہوگا، اگر میں یہ کہہ دیتا ، جی ہاں، تو یہ واجب ہوجاتا اور اگر یہ واجب ہوجاتاتم اس حکم پر عمل پیرا نہ کرسکتے۔
2660 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِشْكَابَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى حَفْصَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ قَالَ « لاَ بَلْ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2661 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو ! تم پر حج کرنا فرض کیا تواقرع بن حابس (رض) نے عرض کی یارسول اللہ کیا ہر (سال حج کرنا فرض ہے ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا نہیں ، بلکہ ایک ہی مرتبہ حج کرنا فرض ہے اس کے بعد جو حج کرے گا تو اس کے لیے نفل ہوگا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ تم پر لازم ہوجاتا اور اس صورت میں تم اس حکم پر عمل پیرانہ ہوسکتے۔
2661 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِى اللَّيْثُ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سِنَانٍ الدُّؤَلِىِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَا قَوْمِ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ ». فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ « لاَ بَلْ هِىَ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ ثُمَّ مَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ لَكُمْ وَإِذًا لاَ تَسْمَعُونَ وَلاَ تُطِيعُونَ » .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2662 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں اقرع بن حابس (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہر سال حج کے بارے میں دریافت کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، حج کرنا ایک مرتبہ فرض ہے جو اس کے بعد بھی کرے گا تو یہ نفل ہوگا ۔
2662 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْحَجُّ مَرَّةً فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2663 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2663 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2664 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2664 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ الْقَاضِى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ قَالَ حَدَّثَنِى خَالِى مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِى عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصُبِىُّ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2665 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کرنے کا حکم دیا تواقرع بن حابس (رض) نے عرض کی کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ یارسول اللہ ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ لازم ہوجاتا یہ ایک مرتبہ کرنا فرض ہے ، البتہ جو شخص نفلی عبادت کرنا چاہے تو اللہ اسے قبول کرنے والا اور اس کا علم رکھنے والا ہے۔
2665 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ هَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدِّينَوَرِىُّ الْمُكْتِبُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ صَدَقَةَ بْنِ صُبَيْحٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ عَنْ أَبِى يُوسُفَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَذَّنَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالْحَجِّ قَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ إِنَّمَا هِىَ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ». قَوْلُهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهَمٌ وَالصَّوَابُ عَنْ أَبِى سِنَانٍ. وَيَحْيَى بْنُ أَبِى أُنَيْسَةَ مَتْرُوكٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2666 ۔ حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی

'' اور لوگوں پر واجب ہے وہ اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کریں، جو شخص وہاں تک پہنچنے کی سبیل رکھتا ہے ''۔

لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاموشی اختیار کی لوگوں نے کہا کیا ہر سال فرض ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا نہیں اگر میں ہاں کردیتا تو یہ لازم ہوجاتا۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی ۔

'' اے ایمان والو ! تم ایسی چیزیں دریافت نہ کرو جو اگر تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں برا لگے ''

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں لوگوں نے عرض کیا کیا ہر سال ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے پھر لوگوں نے عرض کی کیا ہر سال ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
2666 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ح وَحَدَّثَنَا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالُوا حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الثَّعْلَبِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى الْبَخْتَرِىِّ عَنْ عَلِىٍّ رضى الله عنه قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِى كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِى كُلِّ عَامٍ قَالَ « لاَ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ ». فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ وَقَالَ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ إِمَامُ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَقَالَ الزَّعْفَرَانِىُّ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالُوا أَفِى كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالُوا أَفِى كُلِّ عَامٍ فَقَالَ « لاَ ». وَالْبَاقِى مِثْلُهُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2667 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نے بلند آواز میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے پھر آپ نے فرمایا نہیں ! بلکہ مسلمان پر ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے اگر میں ہر سال کہہ دیتا تو یہ ہر سال فرض ہوجاتا تو ایک اور شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کرسکتا ہوں کیونکہ وہ بزرگ آدمی ہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔
2667 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا بِالْكُوفَةِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِى ثَوْرٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ فَسَكَتَ عَنْهُ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ « لاَ بَلْ حَجَّةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ لَكَانَتْ كُلَّ عَامٍ ». فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ أَحُجُّ مَكَانَ أَبِى فَإِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ فَقَالَ « حُجَّ مَكَانَ أَبِيكَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2668 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض قرار دیا ہے تو ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی یارسول اللہ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کوئی جواب نہیں دیا پھر ارشاد فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ لازم ہوجاتا اور اگر یہ لازم ہوجاتا تو تم ادا نہ کرسکتے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا ، جو چیز میں تمہارے سامنے بیان نہ کروں اسے ویسے ہی رہنے دو، تم سے پہلے لوگ سوال کرنے کی وجہ سے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوگئے ۔ جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہوسکے اسے بجالاؤ اور جب کسی چیز سے منع کردوں تو اس سے رک جاؤ۔
2668 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ أَسْلَمَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ فَقَالَ « يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ ». فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَجَعَلَ يُعْرِضُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ « لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا - ثُمَّ قَالَ - دَعُونِى مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَىْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2669 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کرنا فرض قرار دیا ہے۔
2669 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمًا فَخَطَبَ فَقَالَ « يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ ». ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2670 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، لوگو تم پر حج کرنا فرض قرار دیا گیا ہے تو ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی یارسول اللہ ہر سال ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، اس نے سوال دہرایا، اس نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہر سال ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ کہنے والا کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا فلاں شخص ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ لازم ہوجاتا اگر یہ لازم ہوجاتا تو تم اسے ادا نہ کرپاتے اور جب تم اسے کر نہ پاتے تو تم کفر کے مرتکب ہوتے۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی

'' اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کی جائیں تو تمہیں برالگے۔ ''
2670 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْهَجَرِىُّ عَنْ أَبِى عِيَاضٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ ». فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ فِى كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ عَادَ فَقَالَ فِى كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « مَنِ الْقَائِلُ ». قَالُوا فُلاَنٌ. قَالَ « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ مَا أَطَقْتُمُوهَا وَلَوْ لَمْ تُطِيقُوهَا لَكَفَرْتُمْ ». فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2671 ۔ یحییٰ بن یعمر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا اے ابوعبدالرحمن کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے دریافت کیا کیا ان میں سے کوئی شخص ہمارے پاس بھی موجود ہے ، میں نے جواب دیا جی نہیں ! تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو تومیرایہ پیغام پہنچا دینا کہ عبداللہ بن عمر اللہ کی بارگاہ میں تم سے لاتعلق ہونے کی گزارش کرتا ہے اور تمہارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

(پھر حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے ) یہ حدیث بیان کی میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگوں کی موجودگی میں بیٹھے ہوئے تھے اس دوران ایک شخص وہاں آیا اس پر سفر کی کوئی علامت نہیں تھی اور وہ شہر کا رہنے والابھی نہ تھا، وہ لوگوں کے بیچ سے گزرتا ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آکر بیٹھ گیا بالکل اسی طرح جس طرح ہم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران بیٹھتا ہے۔ پھر اس نے اپنا ہاتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زانوؤں پر رکھا اور عرض کی اے حضرت محمد اسلام کیا ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور تم حج کرو اور تم عمرہ کرو اور تم غسل جنابت کرو اور تم وضو مکمل کرو اور تم رمضان کے روزے رکھو اس نے دریافت کیا اگر میں ایسا کروں تو کیا میں مسلمان ہوجاؤں گا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جی ہاں وہ بولا آپ نے ٹھیک فرمایا ہے ۔

اس کے بعد انھوں نے باقی حدیث بیان کی اس حدیث کے آخر میں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس شخص کو میرے پاس بلاکرلاؤ (راوی کہتے ہیں) ہم اس کی تلاش میں نکلے لیکن ہم اسے نہیں پاسکے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تم جانتے ہو یہ کون شخص تھا، یہ جبرائیل تھے جو تمہارے پاس آئے تھے تاکہ تمہیں تمہاری دین کی تعلیم دیں تو تم اسے حاصل کرلو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ جب سے میرے پاس آرہے ہیں آج پہلی مرتبہ مجھے انھیں پہچاننے میں دقت ہوئی اور میں نے انھیں اس وقت پہچانا جب یہ چلے گئے۔

اس حدیث کی سند ثابت ہے اور صحیح ہے ، امام مسلم نے اسے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
2671 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَلِىٍّ الصَّفَّارُ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ أَبِى حَامِدٍ صَاحِبُ بَيْتِ الْمَالِ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِى حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ أَقْوَامًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدَرٌ. قَالَ هَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ قُلْنَا لاَ. قَالَ فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّى إِذَا لَقِيتَهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِئَ إِلَى اللَّهِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنْهُ بَرَاءٌ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى أُنَاسٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ عَلَيْهِ سَحْنَاءُ سَفَرٍ وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ يَتَخَطَّى حَتَّى وَرِكَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَمَا يَجْلِسُ أَحَدُنَا فِى الصَّلاَةِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَىْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الإِسْلاَمُ قَالَ « الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِىَ الزَّكَاةَ وَتَحُجَّ وَتَعْتَمِرَ وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وَتُتِمَّ الْوُضُوءَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ » قَالَ فَإِنْ فَعَلْتُ هَذَا فَأَنَا مُسْلِمٌ قَالَ « نَعَمْ ». قَالَ صَدَقْتَ. وَذَكَرَ بَاقِى الْحَدِيثِ وَقَالَ فِى آخِرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « عَلَىَّ بِالرَّجُلِ ». فَطَلَبْنَاهُ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا هَذَا جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ فَخُذُوا عَنْهُ فَوَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ مَا شُبِّهَ عَلَىَّ مُنْذُ أَتَانِى قَبْلَ مَرَّتِى هَذِهِ وَمَا عَرَفْتُهُ حَتَّى وَلَّى ». إِسْنَادٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2672 ۔ حضرت سراقہ بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ کیا عمرے کا حکم ہمارے اس سال کے لیے مخصوص ہے یاہمشہ کے لیے ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں ہمیشہ کے لیے ہے ، عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہوگیا ہے (یعنی ان دونوں کو ایک ساتھ کیا جاسکتا ہے ) ۔

اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
2672 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ الأَنْمَاطِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ فَقَالَ « لاَ بَلْ لِلأَبَدِ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِى الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ». كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2673 ۔ حضرت ابورزین (رض) بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا انھوں نے عرض کی میرے والد بوڑھے ہوچکے ہیں وہ مسلمان ہوگئے ہیں لیکن اب وہ ج عمرہ اور سفر نہیں کرسکتے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اپنے والد کی جانب سے حج بھی کرلو اور عمرہ بھی کرلو۔
2673 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ. قَالَ وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِى رَزِينٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ إِنَّ أَبِى شَيْخٌ كَبِيرٌ أَدْرَكَ الإِسْلاَمَ لاَ يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَلاَ الظَّعْنَ. قَالَ « حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ ». كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2674 ۔ سیدہ ام سلمہ بیان کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص مسجد اقصی سے مسجد حرام تک جانے کے لیے حج اور عمرے کا احرام باندھے گا اس شخص کے گزشتہ اور آئندہ تمام گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اور اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔
2674 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى سُفْيَانَ الأَخْنَسِىِّ عَنْ جَدَّتِهِ حُكَيْمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2675 ۔ سیدہ ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص بیت المقدس سے حج یاعمرے کا احرام باندھے گا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح ہوجائے گا جس طرح وہ اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔
2675 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى سُفْيَانَ الأَخْنَسِىِّ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2676 ۔ سیدہ ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص بیت المقدس سے حج یاعمرے کا احرام باندھے گا اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔
2676 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أُمَيَّةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2677 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص حج کرے یاعمرہ کرے اور اس دوران کوئی رفث اور فسق نہ کرے تو جب وہ واپس آئے گا تو اس طرح ہوگا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔
2677 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكِيمِ أَبُو سُفْيَانَ الْخُزَاعِىُّ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ »
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ باب مواقیت کا بیان
2678 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا خواتین پر جہاد کرنا لازم ہے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہاں (وہ جہاد) حج اور عمرہ (کی شکل میں ہے) ۔
2678 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُكْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ قَالَ « نَعَمِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ ».
tahqiq

তাহকীক: