মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
کھانوں کے ابواب - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫ টি
হাদীস নং: ২৫০৫৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھانے کے بارے میں
(٢٥٠٥٨) حضرت ابن عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ آپ نے فرمایا : مجھے بھنی ہوئی ٹڈی کھانے کو دل کررہا ہے۔
(۲۵۰۵۸) حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ یَتَحَلَّبُ فُوہُ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : أَشْتَہِی جَرَادًا مَقْلِیًّا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৫৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھانے کے بارے میں
(٢٥٠٥٩) حضرت مثنی بن سعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید کو کہتے سُنا : مجھے ثرید کے (بھرے) پیالہ سے زیادہ ٹڈی سے (بھرا) پیالہ محبوب ہے۔
(۲۵۰۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُثَنَّی بْنِ سَعِیدٍ أَبِی غِفَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ یَقُولُ : لَقَصْعَۃٌ مِنْ جَرَادٍ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ قَصْعَۃٍ مِنْ ثَرِیدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৫৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھانے کے بارے میں
(٢٥٠٦٠) حضرت جعفر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو ٹڈی کھاتے ہوئے دیکھتا تھا۔
(۲۵۰۶۰) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبِی یَأْکُلُ الْجَرَادَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھانے کے بارے میں
(٢٥٠٦١) حضرت اخضر بن عجلان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جُبیر سے ٹڈی کے بارے میں سوال کیا ؟ انھوں نے فرمایا : تم اس کو زیتون میں بھون کر کھاؤ۔
(۲۵۰۶۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّیِّ ، عَنِ الأَخْضَرِ بْنِ الْعَجْلاَنِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ عَنِ الْجَرَادِ ؟ فَقَالَ : کُلْہُ مَقْلِیًّا بِزَیْتٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھانے کے بارے میں
(٢٥٠٦٢) حضرت عبد الملک بن حارث، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی سے ٹڈی کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : یہ سمندر کے شکار کی طرح بالکل پاکیزہ ہے۔
(۲۵۰۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ عَنِ الْجَرَادِ ؟ فَقَالَ : ہُوَ طَیِّبٌ کَصَیْدِ الْبَحْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھانے کے بارے میں
(٢٥٠٦٣) حضرت ہشام، حضرت حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت حسن ٹڈی کھانے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔
(۲۵۰۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ لاَ یَرَی بِأَکْلِ الْجَرَادِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ٹڈی نہیں کھاتے
(٢٥٠٦٤) حضرت ابو سعید کی بیوی، حضرت زینب سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ حضرت ابو سعید ہمیں دیکھتے تھے جبکہ ہم ٹڈی کھا رہے ہوتے تھے، پس آپ ہمیں منع کرتے تھے اور نہ خود اس کو کھاتے تھے ۔ لیکن مجھے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ آپ کا یہ عمل اس سے گھن کھانے کی وجہ سے تھا یا آپ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
(۲۵۰۶۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ زَیْنَبَ امْرَأَۃِ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَتْ : کَانَ أَبُو سَعِیدٍ یَرَانَا وَنَحْنُ نَأْکُلُ الْجَرَادَ فَلاَ یَنْہَانَا ، وَلاَ یَأْکُلُہُ ، فَلاَ أَدْرِی تَقَذُّرًا مِنْہُ ، أَوْ یَکْرَہُہُ ؟۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ٹڈی نہیں کھاتے
(٢٥٠٦٥) حضرت سعید بن مرجانہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ، ٹڈی نہیں کھایا کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے پوچھا، آپ کو اس کے کھانے سے کیا چیز مانع ہے ؟ انھوں نے فرمایا : مجھے اس سے گھن آتی ہے۔
(۲۵۰۶۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَرْجَانَۃَ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ یَأْکُلُ الْجَرَادَ ، قُلْتُ : مَا یَمْنَعُک مِنْ أَکْلِہِ ؟ قَالَ : أَسْتَقْذِرہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ٹڈی نہیں کھاتے
(٢٥٠٦٦) حضرت ابراہیم، حضرت علقمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ ٹڈی نہیں کھایا کرتے تھے۔
(۲۵۰۶۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَأْکُلُ الْجَرَادَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ٹڈی نہیں کھاتے
(٢٥٠٦٧) حضرت نافع، حضرت ابن عمر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ ٹڈی کو بوجہ گھن محسوس کرنے کے نہیں کھاتے تھے۔
(۲۵۰۶۷) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَأْکُلُ الْجَرَادَ یَتَقَذَّرُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ٹڈی نہیں کھاتے
(٢٥٠٦٨) حضرت ابو عثمان سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ٹڈی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ کے لشکروں میں سے سب سے کثرت والی ہے، میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں۔ “
(۲۵۰۶۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْجَرَادِ ؟ فَقَالَ : أَکْثَرُ جُنُودِ اللہِ ، لاَ آکُلُہُ ، وَلاَ أَنْہَی عَنْہُ۔ (ابوداؤد ۳۸۰۷۔ ابن ماجہ ۳۲۱۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ٹڈی نہیں کھاتے
(٢٥٠٦٩) حضرت کعب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ٹڈی، مچھلی کی چھینک (کی پیداوار) ہے۔
(۲۵۰۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : الْجَرَادُ نَثْرَۃُ حُوتٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৬৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ٹڈی نہیں کھاتے
(٢٥٠٧٠) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ یہ مچھلی کی چھینک ہے۔
(۲۵۰۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : ہُوَ نَثْرَۃُ حُوتٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৭০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ ہانڈی میں پرندہ گر کر مر جائے تو کیا حکم ہے
(٢٥٠٧١) حضرت اشعث، حضرت حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے اس پرندے کے بارے میں جو ہانڈی میں گر کر مرگیا ہو یہ حکم دیا، فرمایا : اس کا شوربہ گرا دیا جائے گا اور گوشت کھالیا جائے گا۔
(۲۵۰۷۱) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ قَالَ فِی طَیْرٍ وَقَعَ فِی قِدْرٍ فَمَاتَ فِیہَا ، قَالَ: یُصَبُّ الْمَرَقُ، وَیُؤْکَلُ اللَّحْمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৭১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ ہانڈی میں پرندہ گر کر مر جائے تو کیا حکم ہے
(٢٥٠٧٢) حضرت ایوب، حضرت عکرمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ سے اس پرندے کے بارے میں جو ابلتی ہوئی ہانڈی میں گر کر مرگیا ہو، سوال کیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : شوربہ گرا دیا جائے اور گوشت کھالیا جائے گا۔
(۲۵۰۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُہُ عَنْ طَیْرٍ وَقَعَ فِی قِدْرٍ وَہِیَ تَغْلِی ، فَمَاتَ ؟ فَقَالَ : یُہْرَاقُ الْمَرَقُ ، وَیُؤْکَلُ اللَّحْمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৭২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ بام مچھلی کے بارے میں
(٢٥٠٧٣) حضرت عمرہ بنت طبیخ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میری والدہ نے مجھے بھیجا تو میں نے بام مچھلی خریدی اور اس کو ٹوکری میں ڈالا، پس اس کا سرا ایک جانب سے اور اس کی دُم ایک (دوسری) جانب سے باہر نکل پڑی۔ اسی دوران امیر المؤمنین حضرت علی میرے پاس سے گزرے اور اس کو دیکھا تو فرمایا : یہ بہت پاکیزہ چیز ہے اہل و عیال کو سیراب کردیتی ہے۔
(۲۵۰۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ الطَّبِیخِ ، قَالَتْ : أَرْسَلَتْنِی أُمِّی فَاشْتَرَیْتُ جَرِّیًّا فَجَعَلْتہ فِی زِنْبِیلٍ ، فَخَرَجَ رَأْسُہُ مِنْ جَانِبٍ وَذَنَبُہُ مِنْ جَانِبٍ ، فَمَرَّ بِی عَلِیٌّ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ فَرَآہُ ، فَقَالَ : ہَذَا کَثِیرٌ طَیِّبٌ یُشْبِعُ الْعِیَالَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৭৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ بام مچھلی کے بارے میں
(٢٥٠٧٤) حضرت کہیل ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت علی ، ہمارے پاس سے گزرتے تھے جبکہ ہمارے دسترخوان پر بام مچھلی پڑی ہوتی تھی اور ہم اس کو کھا رہے ہوتے تو آپ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔
(۲۵۰۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُجَاشِعٍ أَبِی الرَّبِیعِ ، عَنْ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ یَمُرُّ عَلَیْنَا ، وَالْجَرِّیُّ عَلَی سَفَرِنَا وَنَحْنُ نَأْکُلُہُ ، لاَ یَرَی بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৭৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ بام مچھلی کے بارے میں
(٢٥٠٧٥) حضرت عکرمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے بام مچھلی کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کے علاوہ کوئی بات نہیں کہ یہود نے اس کو حرام قرار دے رکھا تھا اور ہم اس کو کھاتے ہیں۔
(۲۵۰۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْجَرِّیِّ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ ، إِنَّمَا تُحَرِّمُہُ الْیَہُودُ وَنَحْنُ نَأْکُلُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৭৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ بام مچھلی کے بارے میں
(٢٥٠٧٦) حضرت ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بام مچھلی میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت علی کے صحیفہ میں اس کا ذکر تھا۔
(۲۵۰۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ فُضَیْلٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالْجَرِّیِّ ، إِنَّمَا ہَذَا شَیْئٌ یَرْوُونَہُ عَنْ عَلِیٍّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الصُّحُفِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৭৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ بام مچھلی کے بارے میں
(٢٥٠٧٧) حضرت عبد الاعلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے بام مچھلی کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : یہ مچھلی کی جنس میں سے ہے۔ اگر یہ تمہیں پسند ہے تو تم اس کو کھاؤ۔
(۲۵۰۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ عَنِ الْجَرِّیِّ ؟ فَقَالَ : ہُوَ مِنَ السَّمَکِ ، إِنْ أَعْجَبَک فَکُلْہُ۔
তাহকীক: