মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
کھانوں کے ابواب - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫ টি
হাদীস নং: ২৫০১৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات گوشت کی مداومت کو ناپسند کرتے تھے
(٢٥٠١٨) حضرت حزام بن ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے اپنے بیٹوں سے کہا، تم گوشت کھانے میں مداومت نہ کرو اور تم میٹھا پانی پینے میں کثرت نہ کرو اور تم دواماً قمیص نہ پہنو۔
(۲۵۰۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِبَنِیہِ : لاَ تُدِیمُوا أَکْلَ اللَّحْمِ ، وَلاَ تُلَظُوا بِالْمَائِ الْعَذْبِ ، وَلاَ تُدِیمُوا لبْسَ الْقَمِیصِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০১৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات گوشت کی مداومت کو ناپسند کرتے تھے
(٢٥٠١٩) حضرت قعقاع بن حکیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا۔ اے بنو تمیم ! تم گوشت کھانے کی مداومت نہ کرو، کیونکہ گوشت کی بھی درندگی ہوتی ہے جیسا کہ شراب کی درندگی ہوتی ہے۔
(۲۵۰۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا بَنِی تَمِیمٍ ، لاَ تُدِیمُوا أَکْلَ اللَّحْمِ ، فَإِنَّ لَہُ ضَرَاوَۃً کَضَرَاوَۃِ الْخَمْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০১৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات گوشت کی مداومت کو ناپسند کرتے تھے
(٢٥٠٢٠) حضرت ہشام بن عروہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یقیناً (کسی) آدمی کو اس بات پر معیوب کہا جاتا تھا کہ وہ گوشت سے صبر نہیں کرسکتا تھا۔
(۲۵۰۲۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: إِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیُعَابُ بِأَنْ لاَ یَصْبِرَ عَن اللَّحْمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
(٢٥٠٢١) حضرت ابن بریدۃ سے روایت ہے کہ حضرت سلمان، بذات خود اپنی کمائی سے کھانا تیار کرتے پھر جذام والوں کو بلاتے اور ان کے ہمراہ کھانا کھاتے۔
(۲۵۰۲۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ؛ أَنَّ سَلْمَانَ کَانَ یَصْنَعُ الطَّعَامَ مِنْ کَسْبِہِ، فَیَدْعُو الْمَجْذُومِینَ فَیَأْکُلُ مَعَہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
(٢٥٠٢٢) ایک آدمی سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابن عمر کو جُذام والے آدمی کے ساتھ کھانا کھاتے دیکھا کہ حضرت ابن عمر ، جذام والے کے ہاتھ کی جگہ اپنا ہاتھ رکھ رہے تھے۔
(۲۵۰۲۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ؛ أَنَّہُ رَأَی ابْنَ عُمَرَ یَأْکُلُ مَعَ مَجْذُومٍ ، فَجَعَلَ یَضَعُ یَدَہُ مَوْضِعَ یَدِ الْمَجْذُومِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
(٢٥٠٢٣) حضرت عبد الرحمن بن قاسم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک وفد آیا، چنانچہ کھانا لایا گیا تو سب لوگ قریب ہوگئے اور ایک آدمی جس کو یہ جذام والی بیماری تھی ایک طرف ہوگیا۔ حضرت ابوبکر نے اس سے کہا قریب ہو جاؤ ، چنانچہ وہ قریب ہوگیا۔ پھر حضرت ابوبکر نے کہا کھاؤ۔ پس اس نے کھایا اور حضرت ابوبکر نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کی جگہ رکھنا شروع کیا۔
(۲۵۰۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قدِمَ عَلَی أَبِی بَکْرٍ وَفْدٌ مِنْ ثَقِیفٍ ، فَأُتِیَ بِطَعَامٍ ، فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحَّی رَجُلٌ بِہِ ہَذَا الدَّائُ ، یَعْنِی : الْجُذَامَ ، فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ : اُدْنُہُ ، فَدَنَا ، فَقَالَ : کُلْ ، فَأَکَلَ وَجَعَلَ أَبُو بَکْرٍ یَضَعُ یَدَہُ مَوْضِعَ یَدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
(٢٥٠٢٤) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جذام والے آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنے ساتھ پیالہ میں شامل کیا اور فرمایا : ” کھاؤ، بسم اللہ، اللہ پر اعتماد اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے۔ “
(۲۵۰۲۴) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِیَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَہَا مَعَہُ فِی قَصْعَۃٍ ، فَقَالَ : کُلْ ، بِسْمِ اللہِ ثِقَۃً بِاللَّہِ ، وَتَوَکُّلاً عَلَی اللہِ۔ (ابوداؤد ۳۹۲۱۔ ابن ماجہ ۳۵۴۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
(٢٥٠٢٥) حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک سیاہ رنگ، چیچک زدہ آدمی آیا، جس کے چھلکے اتر رہے تھے۔ وہ جس کے پہلو میں بیٹھتا وہی اس کو اٹھا دیتا تھا، لیکن جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔
(۲۵۰۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ أَسْوَدُ بِہِ جُدَرِیٌّ قَدْ تَقَشَّرَ ، لاَ یَجْلِسُ إِلَی جَنْبِ أَحَدٍ إِلاَّ أَقَامَہُ ، فَأَخَذَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَہُ إِلَی جَنْبِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
(٢٥٠٢٦) حضرت عکرمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کو ایک مجذوم چمٹ گیا تو میں نے آپ سے کہا آپ مجذوم کے ساتھ چمٹے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : چھوڑو، ہوسکتا ہے کہ وہ تم سے اور مجھ سے بہتر ہو۔
(۲۵۰۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی بُکَیْر ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : لَزِقَ بِابْنِ عَبَّاسٍ مَجْذُومٌ ، فَقُلْت لَہُ : تَلْزَقُ بِمَجْذُومٍ ؟ قَالَ : فَامْضِی ، فَلَعَلَّہُ خَیْرٌ مِنِّی وَمِنْک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
(٢٥٠٢٧) حضرت مقسم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ اندھے، لنگڑے اور مریض کے ہمراہ کھانا کھانے سے پرہیز کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ (ترجمہ) نابینا، اپاہج اور مریض پر کچھ حرج نہیں۔
(۲۵۰۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، قَالَ : کَانُوا یَتَّقُونَ أَنْ یَأْکُلُوا مَعَ الأَعْمَی وَالأَعْرَجِ وَالْمَرِیضِ ، حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {لَیْسَ عَلَی الأَعْمَی حَرَجٌ وَلاَ عَلَی الأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلاَ عَلَی الْمَرِیضِ حَرَجٌ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
(٢٥٠٢٨) حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم میرے لیے کھجور اور گھی کا حلوہ تیار کرو۔ راوی کہتے ہیں۔ گھر والوں نے یہ تیار کردیا۔ پھر انھوں نے ایک ایسے آدمی کو بلایا جس کو دیوانگی تھی۔ تو حضرت ربیع نے اس کو لقمہ بنا کر کھلانا شروع کیا حالانکہ اس کا تھوک بہہ رہا تھا۔ چنانچہ جب اس نے کھانا کھالیا اور چلا گیا تو حضرت ربیع سے ان کی گھر والی نے کہا۔ ہم نے اس حلوہ کو بنانے میں اس قدر تکلف کیا اور آپ نے اس کو کھلا دیا ؟ اس کو کیا معلوم کہ اس نے کیا کھایا ہے ؟ حضرت ربیع نے جواب دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے۔
(۲۵۰۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ؛ أَنَّہُ قَالَ لأَہْلِہِ : اصْنَعُوا لِی خَبِیصًا ، قَالَ : فَصَنَعُوا ، قَالَ : فَدَعَا رَجُلاً کَانَ بِہِ خَبَلٌ ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّبِیعُ یُلْقِمُہُ وَلُعَابُہُ یَسِیلُ ، فَلَمَّا أَکَلَ وَخَرَجَ، قَالَتْ لَہُ أَہْلُہُ : تَکَلَّفْنَا وَصَنَعْنَا فِیہِ ، أَطْعَمْتَہُ ؟ مَا یَدْرِی ہَذَا مَا أَکَلَ ، قَالَ الرَّبِیعُ : لَکِنَ اللَّہُ یَدْرِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جذام والے آدمی کے ساتھ کھانا
(٢٥٠٢٩) حضرت عائشہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا ایک مجذوم آزاد کردہ غلام تھا۔ اور وہ میرے بستر پر سو جاتا تھا۔ اور میرے پیالہ میں کھا لیتا تھا۔ اگر وہ (اب) زندہ ہوتا تو اسی طرح (معاملہ) باقی ہوتا۔
(۲۵۰۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ لِی مَوْلًی مَجْذُومٌ، فَکَانَ یَنَامُ عَلَی فِرَاشِی ، وَیَأْکُلُ فِی صِحَافِی ، وَلَوْ کَانَ عَاشَ کَانَ بَقِی عَلَی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০২৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجذوم سے پرہیز کرتے تھے
(٢٥٠٣٠) حضرت عمرو بن شرید، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ثقیف کے وفد میں ایک جذام زدہ شخص تھا۔ تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ ” ہم نے تمہیں بیعت کرلیا ہے، پس تم واپس چلے جاؤ۔ “
(۲۵۰۳۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، وَشَرِیکٌ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ فِی وَفْدِ ثَقِیفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّا قَدْ بَایَعْنَاک فَارْجِعْ۔ (مسلم ۱۲۶۔ احمد ۴/۳۸۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৩০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجذوم سے پرہیز کرتے تھے
(٢٥٠٣١) ایک شیخ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو کہتے سُنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تم جذام زدہ شخص سے یوں بھاگو جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۔ “
(۲۵۰۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ النَّہَّاسِ بْنِ قَہْمٍ ، عَنْ شَیْخٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ ، فِرَارَک مِنَ الأَسَدِ۔ (بخاری ۴۱۷۔ احمد ۲/۴۴۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৩১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجذوم سے پرہیز کرتے تھے
(٢٥٠٣٢) حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جذام زدہ لوگوں کی طرف مسلسل نہ دیکھا کرو۔ “
(۲۵۰۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُمِّہِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ حُسَیْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لاَ تُدِیمُوا النَّظَرَ إِلَی الْمَجْذُومِینَ۔
(بخاری ۴۱۷۔ احمد ۱/۲۳۳)
(بخاری ۴۱۷۔ احمد ۱/۲۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৩২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات مجذوم سے پرہیز کرتے تھے
(٢٥٠٣٣) حضرت خالد، حضرت ابو قلابہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انھیں مجذوم سے پرہیز کرنا پسند تھا۔
(۲۵۰۳۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَائٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُتَّقَی الْمَجْذُومُ۔
(عبدالرزاق ۲۰۳۳۱)
(عبدالرزاق ۲۰۳۳۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৩৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ کہتے ہیں کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے
(٢٥٠٣٤) حضرت ابن عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ “
(۲۵۰۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْمُؤْمِنُ یَأْکُلُ فِی مِعًی وَاحِدٍ ، وَالْکَافِرُ یَأْکُلُ فِی سَبْعَۃِ أَمْعَائٍ۔ (بخاری ۵۳۹۴۔ مسلم ۱۶۳۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৩৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ کہتے ہیں کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے
(٢٥٠٣٥) حضرت جابر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ “
(۲۵۰۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ یَأْکُلُ فِی مِعًی وَاحِدٍ ، وَالْکَافِرُ یَأْکُلُ فِی سَبْعَۃِ أَمْعَائٍ۔ (مسلم ۱۶۳۱۔ احمد ۳/۳۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৩৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ کہتے ہیں کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے
(٢٥٠٣٦) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ “
(۲۵۰۳۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْمُؤْمِنُ یَأْکُلُ فِی مِعًی وَاحِدٍ ، وَالْکَافِرُ یَأْکُلُ فِی سَبْعَۃِ أَمْعَائٍ۔
(ترمذی ۱۸۱۹۔ احمد ۲/۴۳۵)
(ترمذی ۱۸۱۹۔ احمد ۲/۴۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০৩৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ کہتے ہیں کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے
(٢٥٠٣٧) حضرت میمونہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔ “
(۲۵۰۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : أَظُنُّ أَبَا خَالِدٍ الْوَالِبِیَّ ذَکَرَہُ عَنْ مَیْمُونَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْکَافِرُ یَأْکُلُ فِی سَبْعَۃِ أَمْعَائٍ ، وَالْمُؤْمِنُ یَأْکُلُ فِی مِعًی وَاحِدٍ۔
(احمد ۶/۳۳۵۔ طبرانی ۱۳)
(احمد ۶/۳۳۵۔ طبرانی ۱۳)
তাহকীক: