মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
کھانوں کے ابواب - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫ টি
হাদীস নং: ২৪৯৯৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩٨) حضرت ابراہیم تیمی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے (ترجمہ) تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
(۲۴۹۹۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৯৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩٩) حضرت ابراہیم تیمی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے (ترجمہ) تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو ہمیں مشقت سے کفایت کرتا ہے اور ہمیں اچھا رزق دیتا ہے۔
(۲۴۹۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَفَانَا الْمُؤْونَۃَ ، وَأَحْسَنَ لَنَا الرِّزْقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৯৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٥٠٠٠) حضرت ہشام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کے پاس کوئی کھانا یا مشروب نہیں لایا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ دوائی کا ایک گھونٹ بھی لایا جاتا۔ جس کو وہ کھاتے یا پیتے تو یہ کہتے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں کھلایا۔ ہمں ہ پلایا اور ہمیں نعمتوں سے نوازا۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ ! تیری نعمتوں نے ہمیں ہر شر کے باوجود ہمیں پا لیا اور ہم نے صبح و شام، مکمل خیر کے ساتھ کی۔ ہم آپ سے مکمل نعمتوں اور ان کے شکریہ کا سوال کرتے ہیں۔ آپ کی (عطا کردہ) خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں ہے۔ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اے صالحین کے معبود ! اے جہانوں کے پرور دگار۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جہانوں کا پروردگار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نیں ے ہے۔ (وہی ہوتا ہے) جو اللہ چاہتا ہے۔ طاقت اللہ کی طرف سے ہے۔ اے اللہ ! آپ نے ہمیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں برکت دیجئے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لیجئے۔
(۲۵۰۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، قَالَ : کَانَ أَبِی لاَ یُؤْتَی بِطَعَامٍ وَلاَ شَرَابٍ ، حَتَّی الشَّرْبَۃَ مِنَ الدَّوَائِ ، فَیَطْعَمُہُ ، أَوْ یَشْرَبُہُ حَتَّی یَقُولَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ہَدَانَا ، وَأَطْعَمَنَا ، وَسَقَانَا وَنَعَّمَنَا ، اللَّہُ أَکْبَرُ ، اللَّہُمَّ أَلْفَتْنَا نِعْمَتُکَ بِکُلِّ شَرٍّ ، وَأَصْبَحْنَا وَأَمْسَیْنَا مِنْہَا بِکُلِّ خَیْرٍ ، نَسْأَلُک تَمَامَہَا وَشُکْرَہَا ، لاَ خَیْرَ إِلاَّ خَیْرُک ، وَلاَ إِلَہَ غَیْرُک ، إِلَہَ الصَّالِحِینَ ، وَرَبَّ الْعَالَمِینَ ، الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، مَا شَائَ اللَّہُ ، لاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ ، اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیمَا رَزَقْتنَا ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٥٠٠١) حضرت عطاء بن السائب ، حضرت سعید بن جبیر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ جب اپنے کھانے سے فارغ ہوجاتے تو کہتے۔ (ترجمہ) اے اللہ ! آپ نے (ہمیں) سپرد کردیا ہے اور آپ نے (ہمیں) سیراب کردیا ہے پس آپ (اس کو) ہمارے لیے خوشگوار بنا دیجئے اور آپ نے ہمیں رزق دیا اور بہت دیا اور خوب دیا پس ہمیں اور عطاء فرمائیے۔
(۲۵۰۰۱) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِہِ ، قَالَ : اللَّہُمَّ أَشْبَعْتَ وَأَرْوَیْتَ فَہَنِّئْنَا ، وَرَزَقْتَنَا فَأَکْثَرْتَ وَأَطْیَبْتَ فَزِدْنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٥٠٠٢) حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا : کہ جب کھانا رکھ دیا جائے تو تم (ایک مرتبہ) بسم اللہ پڑھ دو تو پھر جو کچھ لایا جائے تم اس کو کھالو اور تمہارے لیے وہی پہلی بسم اللہ کفایت کر جائے گی۔
(۲۵۰۰۲) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ؛ أَنَّہُ قَالَ : إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَسَمَّیْتَ فَکُلْ مَا جِیئَ بِہِ ، فَإِنَّہُ یُجْزِئُک التَّسْمِیَۃُ الأُولَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
(٢٥٠٠٣) حضرت یزید بن ابی زیاد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے (خود) حضرت ابن عباس کو تکیہ لگا کر کھاتے دیکھا تھا۔
(۲۵۰۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی مَنْ رَأَی ابْنَ عَبَّاسٍ یَأْکُلُ مُتَّکِئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
(٢٥٠٠٤) حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف ایک مرتبہ تکیہ لگا کر کھانا کھایا تھا اور فرمایا تھا : ” اے اللہ ! یقیناً میں تیرا بندہ ہوں اور تیرا رسول ہوں۔ “
(۲۵۰۰۴) حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : مَا أَکَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَّکِئًا قَط إِلاَّ مَرَّۃً ، قَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی عَبْدُک وَرَسُولُک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
(٢٥٠٠٥) حضرت حصین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید ، یہاں پر تشریف لائے تو آپ کا گزر اہل فارس کی ایک چوکی پر ہوا جہاں ان پر ایک مرد نگران تھا جس کو ” ہزار مرد “ کہا جاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس لوگوں نے اس کی جسامت کا حجم اور اس کی شجاعت کا ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں، حضرت خالد بن ولید نے اس کو قتل کردیا پھر آپ نے ناشتہ منگوایا اور آپ نے اس کے مردار جسم پر تکیہ لگائے ہوئے ناشتہ کیا۔
(۲۵۰۰۵) حَدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، قَالَ : لَمَّا قدِمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ہَاہُنَا ، إِذَا ہُوَ بِمَسْلَحَۃٍ لآلِ فَارِسٍ ، عَلَیْہِمْ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ : ہزارمرد ، قَالَ : فَذَکَرُوا مِنْ عِظَمِ خَلْقِہِ وَشَجَاعَتِہِ ، قَالَ : فَقَتَلَہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ، ثُمَّ دَعَا بِغَدَائِہِ فَتَغَدَّی وَہُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی جِیفَتِہِ ، یَعْنِی جَسَدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
(٢٥٠٠٦) حضرت عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کھایا کرتے تھے درآنحالیکہ ہم تکیہ لگائے ہوتے تھے۔
(۲۵۰۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إِنْ کُنَّا نَأْکُلُ وَنَحْنُ مُتَّکِئُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
(٢٥٠٠٧) حضرت ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگ تکیہ لگا کر کھانے کو اس خوف سے ناپسند کرتے تھے کہ کہیں ان کے پیٹ نہ بڑھ جائیں۔
(۲۵۰۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یَأْکُلُوا تُکَاۃً ، مَخَافَۃَ أَنْ تَعْظُمَ بُطُونُہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
(٢٥٠٠٨) حضرت ابو ہلال سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین کو تکیہ لگائے کھاتے دیکھا ہے۔
(۲۵۰۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ سِیرِینَ یَأْکُلُ مُتَّکِئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
(٢٥٠٠٩) حضرت ابو ححیفہ سے روایت ہے اور وہ اس کو مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ بہرحال میں تو تکیہ لگا کر نہیں کھاتا۔
(۲۵۰۰۹) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، یَرْفَعُہُ ، قَالَ : أَمَّا أَنَا فَلاَ آکُلُ مُتَّکِئًا۔ (بخاری ۵۳۹۸۔ ترمذی ۱۸۳۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০০৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ تکیہ لگا کر کھاتے تھے
(٢٥٠١٠) حضرت ابن سیرین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبیدہ کے ہاں حاضر ہوا اور ان سے میں نے تکیہ لگا کر کھانے والے شخص کے متعلق سوال کیا ؟ تو انھوں نے مجھے تکیہ لگا کر کھا کر دکھایا۔
(۲۵۰۱۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حُسَامُ بْنُ مِصَکٍّ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَبِیدَۃَ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الرَّجُلِ یَأْکُلُ مُتَّکِئًا ؟ فَأَکَلَ مُتَّکِئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০১০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے اہل خانہ کے لیے گوشت خریدتا ہے
(٢٥٠١١) حضرت ابو عمرو الشیبانی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ایک آدمی کے پاس کچھ دراہم دیکھے تو آپ نے پوچھا تم ان دراہم سے کیا کرو گے ؟ اس آدمی نے کہا اے ابو عبد الرحمن ! یہ تیس دراہم ہیں، میرا ارادہ یہ ہے کہ میں ان سے ماہ رمضان کے لیے گھی خرید لوں۔ حضرت ابن مسعود نے پوچھا، تم اس گھی کو چھوٹی رکابی میں ڈالو گے اور پھر اس کو کھاؤ گے ؟ اس آدمی نے کہا۔ جی ہاں۔ آپ نے فرمایا : جاؤ اور یہ دراہم تم اپنی بیوی کو دے دو اور اس سے کہو کہ وہ ہر روز ایک درہم کا گوشت خریدے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔
(۲۵۰۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ ، قَالَ : رَأَی عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ مَعَ رَجُلٍ دَرَاہِمَ ، فَقَالَ : أَیُّ شَیْئٍ تَصْنَعُ بِہَذِہِ الدَّرَاہِمِ ؟ فَقَالَ : ہَذِہِ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثَلاَثُونَ دِرْہَمًا ، أُرِیدُ أَنْ أَشْتَرِیَ بِہَا سَمْنًا لِرَمَضَانَ ، فَقَالَ : تَجْعَلُہُ فِی السُّکُرُّجَۃِ وَتَأْکُلُہُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْہَبْ فَادْفَعْہَا إِلَی امْرَأَتِکَ ، وَمُرْہَا أَنْ تَشْتَرِیَ کُلَّ یَوْمٍ بِدِرْہَمٍ لَحْمًا ، فَہُوَ خَیْرٌ لَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০১১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے اہل خانہ کے لیے گوشت خریدتا ہے
(٢٥٠١٢) حضرت اعمش، اپنے بیان کرنے والے سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر ، حضرت عمر کے پاس سے گزرے اور ان کے پاس گوشت تھا جو انھوں نے ایک درہم میں خریدا تھا۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر نے ان سے کہا یہ کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا میں نے اس کو ایک درہم میں خریدا ہے۔ حضرت عمر نے کہا۔ کیا جب بھی تمہیں کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے تم اس کو خرید لیتے ہو ؟ تم اس آیت کے مصداق لوگوں میں سے نہ بنو۔ (ترجمہ) تم نے اپنی لذتوں کو دنیا کی زندگی میں استعمال کرچکے۔
(۲۵۰۱۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَمَّنْ حَدَّثَہُ ، قَالَ : مَرَّ جَابِرٌ عَلَی عُمَرَ بِلَحْمٍ قَدِ اشْتَرَاہُ بِدِرْہَمٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : مَا ہَذَا ؟ قَالَ : اشْتَرَیْتُہُ بِدِرْہَمٍ ، قَالَ : أَکُلَّمَا اشْتَہَیْتَ شَیْئًا اشْتَرَیْتَہُ ؟ لاَ تَکُنْ مِنْ أَہْلِ ہَذِہِ الآیَۃِ : {أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمَ الدُّنْیَا}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০১২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے اہل خانہ کے لیے گوشت خریدتا ہے
(٢٥٠١٣) حضرت حمزہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت حسن کے ہاں ہر روز نصف درہم کا گوشت آتا تھا۔
(۲۵۰۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیۃ ، عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ الْحَسَنَ کَانَ لَہُ کُلَّ یَوْمٍ نِصْفُ دِرْہَمٍ لَحْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০১৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے اہل خانہ کے لیے گوشت خریدتا ہے
(٢٥٠١٤) حضرت جابر بن ابی سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کھانا بنایا کرتے تھے۔ (ان کے لئے) جو ان کے پاس حاضر ہوتے، لیکن حضرت عمر نے اس سے نہیں کھایا تو لوگوں نے بھی نہیں کھایا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے پوچھا، تمہیں کیا ہوا ہے کہ یہ لوگ کھاتے نہیں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ نے نہیں کھایا تو انھوں نے بھی نہیں کھایا ۔ چنانچہ آپ نے اپنے خاص مال سے روزانہ کی بنیاد پر ایک درہم کا حکم دیا جس کو پکانے میں خرچ کیا جاتا تھا پھر آپ نے بھی کھانا کھایا اور دیگر لوگوں نے بھی کھایا۔
(۲۵۰۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیۃ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَصنَعُ طَعَامًا یَحْضُرُہُ ، فَلاَ یَأْکُلُ مِنْہُ فَلاَ یَأْکُلُونَ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُہُمْ لاَ یَأْکُلُونَ ؟ فَقَالُوا : إِنَّک لاَ تَأْکُلُ فَلاَ یَأْکُلُونَ ، فَأَمَرَ بِدِرْہَمٍ کُلَّ یَوْمٍ مِنْ صُلْبِ مَالِہِ فَأَنْفَقَہَا فِی الطَّبْخِ ، فَأَکَلَ وَأَکَلُوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০১৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے اہل خانہ کے لیے گوشت خریدتا ہے
(٢٥٠١٥) حضرت ابو اسحق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت شعبی ہر جمعہ کو ایک درہم کا گوشت خریدتے تھے۔
(۲۵۰۱۵) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ، وَالْفَضْلُ، عَنْ زُہَیْرٍ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، قَالَ: کَانَ الشَّعْبِیُّ یَشْتَرِی کُلَّ جُمُعَۃٍ بِدِرْہَمٍ لَحْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০১৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے اہل خانہ کے لیے گوشت خریدتا ہے
(٢٥٠١٦) حضرت ابو اسحق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا : ایک گھر والوں کو مہینہ میں تین دراہم کا گوشت کفایت کرتا ہے۔
(۲۵۰۱۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : یَکْفِی أَہْلَ الْبَیْتِ فِی الشَّہْرِ بِثَلاَثَۃِ دَرَاہِمَ لَحْمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫০১৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے اہل خانہ کے لیے گوشت خریدتا ہے
(٢٥٠١٧) حضرت علی بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کی دو بیویاں تھیں، چنانچہ آپ ہر روز آدھے درہم کا گوشت ایک کے لیے اور آدھے درہم کا گوشت دوسرے کے لیے خریدا کرتے تھے۔
(۲۵۰۱۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیعَۃَ ، قَالَ : کَانَ لِعَلِیٍّ امْرَأَتَانِ ، کَانَ یَشْتَرِی کُلَّ یَوْمٍ لِہَذِہِ بِنِصْفِ دِرْہَمٍ لَحْمًا ، وَلِہَذِہِ بِنِصْفِ دِرْہَمٍ لَحمًا۔
তাহকীক: