মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
کھانوں کے ابواب - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫ টি
হাদীস নং: ২৪৯৭৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧٨) حضرت ہشام، حضرت حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ تھوم ، پیاز اور کراث کے کھانے کے ناپسند کرتے تھے۔
(۲۴۹۷۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ أَکْلَ الثُّومِ ، وَالْبَصَلِ ،وَالْکُرَّاثِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧٩) حضرت حسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ میں اس کو (یعنی تھوم کو) کھاؤں اور نہ یہ بات کہ مجھے اس کے ہموزن سونا ملے۔
(۲۴۹۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ أَبِی أُمَیَّۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : مَا یَسُرُّنِی أَنِّی أَکَلْتُہُ ، یَعْنِی الثُّومَ ، وَلاَ أَنَّ لِی زِنَتَہُ ذَہَبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ دو دو کھجوریں ملانے کے بارے میں
(٢٤٩٨٠) حضرت ابن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دو کھجوروں کے) ملانے سے منع کیا ہے مگر یہ کہ تم اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لو۔
(۲۴۹۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَانِ ، إِلاَّ أَنْ تَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَکَ۔ (بخاری ۵۴۴۶۔ ترمذی ۱۸۱۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ دو دو کھجوریں ملانے کے بارے میں
(٢٤٩٨١) حضرت موسیٰ بن دہقان سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو ہتھیلیوں میں کھجوریں بھر کر کھاتے دیکھا ہے۔
(۲۴۹۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ دِہْقَانَ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ یَأْکُلُ التَّمْرَ کَفًّا کَفًّا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ دو دو کھجوریں ملانے کے بارے میں
(٢٤٩٨٢) حضرت ابو حجش، حضرت ابوہریرہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھجوریں کھائیں تو فرمایا : میں ملا رہا ہوں ، تم بھی ملا کر کھاؤ۔
(۲۴۹۸۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی جَحْشٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّہُ أَکَلَ مَعَ أَصْحَابِہِ تَمْرًا ، فَقَالَ : إِنِّی قَدْ قَارَنْتُ فَقَارِنُوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ دو دو کھجوریں ملانے کے بارے میں
(٢٤٩٨٣) حضرت حبیبہ بنت عباد، اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے دو کھجوروں کے ملانے کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انھوں نے جواب دیا۔ اگر یہ کام حلال ہو تب بھی یہ کمینگی ہے۔
(۲۴۹۸۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَبِیبَۃَ بِنْتِ عَبَّادٍ ، عَنْ أُمِّہَا ، قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنِ الْقِرَانِ بَیْنَ التَّمْرَتَیْنِ ؟ فَقَالَتْ : لَوْ کَانَ حَلاَلاً کَانَ دَنَائَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ، اپنے گھر میں کھجور رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں
(٢٤٩٨٤) حضرت عائشہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ’ ’ اے عائشہ ! وہ گھر والے بھوکے ہوتے ہیں جن کے گھر میں کھجور نہ ہو۔ “
(۲۴۹۸۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلاَئَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرِّجَالِ ، عَنْ أُمِّہِ عَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عَائِشَۃُ ، بَیْتٌ لَیْسَ فِیہِ تَمْرٌ جِیَاعٌ أَہْلُہُ۔ (مسلم ۱۵۳۔ ابوداؤد ۳۸۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ، اپنے گھر میں کھجور رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں
(٢٤٩٨٥) حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ پہلے لوگ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ ان کے گھروں سے کھجور ختم نہ ہو۔ حضرت ابراہیم کہتے ہیں۔ میں اس کی تفسیر بیان کرتا ہوں جب ان لوگوں کے ہاں کوئی داخل ہوتا اور وہ اس کی عزت و اکرام کرنا چاہتے تو اس کو روک لے تھے اور اس کو کھانا پیش کرتے۔ پس اگر وہ اس کو کھا لیتا تو اس کا اکرام کرتے اور اگر وہ اس کو نہ کھاتا تو یہی ان کے لیے کفایت کرجاتا۔ حضرت ابراہیم کہتے ہیں۔ ایک دوسری تشریح کے مطابق، کوئی سائل آتا اور گھر والوں کے پاس روٹی نہ ہوتی اور وہ گھر والے، خود کو اس بات پر آمادہ پاتے کہ اس سائل کو گندم یا آٹے میں سے دیں تو وہ اس کو ایک ، دو کھجوریں وغیرہ دے دیتے۔ پس یہ گھر والوں کو بھی کفایت کر جاتی اور سائل کا کام بھی چل جاتا۔
(۲۴۹۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَسْتَحِبُّونَ أَنْ لاَ یُفَارِقَ بُیُوتَہُمُ التَّمْرُ ، قَالَ إِبْرَاہِیمُ : وَسَأُفَسِّرُہُ : کَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَیْہِمُ الدَّاخِلُ فَأَرَادُوا کَرَامَتَہُ ، فَحَبَسُوہُ وَقَرَّبُوہُ مِنْ قَرِیبٍ ، فَإِنْ أَکَلَ مِنْہُ أَکْرَمُوہُ ، وَإِنْ لَمْ یَأْکُلْ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْہُمْ۔ قَالَ إِبْرَاہِیمُ : وَأُخْرَی ؛ یَجِیئُ السَّائِلُ وَلَیْسَ عِنْدَ أَہْلِ الْبَیْتِ خُبْزٌ ، وَلاَ یُوَاتِی أَنْفُسَہُمْ أَنْ یَحْثُوا لَہُ مِنَ الدَّقِیقِ وَالْحِنْطَۃِ ، فَیُعْطُونَہُ التَّمْرَۃَ وَالتَّمْرَتَیْنِ وَنَحْوَ ذَلِکَ ، فَیُغْنِی عَنْ أَہْلِ الْبَیْتِ ، وَیَسْتَقِیمُ بِہِ السَّائِلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ، اپنے گھر میں کھجور رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں
(٢٤٩٨٦) حضرت انس سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حالت میں کھجوریں کھاتے دیکھا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی پنڈلی اور ران کو ملا کر کھڑا کیا ہوا تھا اور کو لہوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔
(۲۴۹۸۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ مُصْعَبٍ بْنِ سُلَیْمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْکُلُ مُفْعیًا تَمْرًا۔ (مسلم ۱۶۱۶۔ ابوداؤد ۳۷۶۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٨٧) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” یقیناً اللہ تعالیٰ بندے سے راضی ہوتے ہیں اس بات پر کہ وہ کوئی لقمہ کھائے تو اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی کا گھونٹ پیئے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے۔
(۲۴۹۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّہَ لَیَرْضَی عَنِ الْعَبْدِ أَنْ یَأْکُلَ الأَکْلَۃَ فَیَحْمَدَہُ عَلَیْہَا ، أَوْ یَشْرَبَ الشَّرْبَۃَ فَیَحْمَدَہُ عَلَیْہَا۔ (مسلم ۸۹۔ ترمذی ۱۸۱۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٨٨) حضرت عتریس بن عرقوب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا : جو شخص کھانا رکھے جاتے وقت یہ کہے۔ (ترجمہ) شروع اللہ کے نام سے جو بہترین نام ہے۔ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ اللہ کے لیے ہے۔ اس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دیتی۔ اے اللہ ! اس کھانے میں برکت، عافیت اور شفاء پیدا فرما۔ تو یہ کھانا جیسا بھی ہو نقصان نہیں دیتا۔
(۲۴۹۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ: حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ بْنُ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ زِیَادٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ، عَنْ عِتْرِیسِ بْنِ عُرْقُوبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: مَنْ قَالَ حِینَ یُوضَعُ طَعَامُہُ: بِسْمِ اللہِ خَیْرُ الأَسْمَائِ، لِلَّہِ مِا فِی الأَرْضِ وَفِی السَّمَائِ، لاَ یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ دَائٌ، اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِیہِ بَرَکَۃً وَعَافِیَۃً وَشِفَائً ، فَلاَ یَضُرُّہُ ذَلِکَ الطَّعَامُ مَا کَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٨٩) حضرت علی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب تم کھانا کھاؤ اور بسم اللہ پڑھنا بھول جاؤ تو یہ کہو۔ بِسْمِ اللہِ فِی أَوَّلِہِ وَآخِرِہِ ۔
(۲۴۹۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَص ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إِذَا طَعِمْتَ فَنَسِیتَ أَنْ تُسَمِّیَ ، فَقُلْ : بِسْمِ اللہِ فِی أَوَّلِہِ وَآخِرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩٠) حضرت تمیم بن سلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ جب آدمی اپنے کھانے پر اللہ کا نام لے اور آخر میں اللہ کی تعریف کرے تو اس آدمی سے اس کھانے کی نعمتوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔
(۲۴۹۹۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَن تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ ، قَالَ : حُدِّثْتُ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا ذَکَرَ اسْمَ اللَّہَ عَلَی طَعَامِہِ وَحَمِدَہُ عَلَی آخِرِہِ ، لَمْ یُسْأَلْ عَنْ نَعِیمِ ذَلِکَ الطَّعَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৯০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩١) حضرت حارث بن سوید سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان جب کھانا کھالیتے تو کہتے۔ (ترجمہ) تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو ہمارے لیئے مشقتوں سے کفایت کر گیا اور ہمیں خوب وسیع رزق دیا۔
(۲۴۹۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْد ، قَالَ : کَانَ سَلْمَانُ إِذَا طَعِمَ یَقُول : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَفَانَا الْمُؤْونَۃَ ، وَأَوْسَعَ لَنَا الرِّزْقَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৯১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩٢) حضرت ابو سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھانا تناول فرماتے تو یہ کہتے ۔ (ترجمہ) تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
(۲۴۹۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ رِیَاحِ بْنِ عَبِیدَۃَ، عَنْ مَوْلًی لأَبِی سَعِیدٍ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَکَلَ طَعَامًا، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا ، وَجَعَلَنَا مُسْلِمِینَ۔ (ترمذی ۳۴۵۷۔ ابوداؤد ۳۸۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৯২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩٣) حضرت ہلال ، حضرت عروہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جب کھانا رکھ دیا جاتا تو آپ کہتے۔ تو پاک ہے۔ کس قدر خوبصورت ہے۔ تو پاک ہے۔ کسی قدر خوبصورت اشیاء تو نے ہمیں عطا کیں ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! اے ہمارے بچوں کے پروردگار اور اے ہمارے پہلے آباؤ اجداد کے پروردگار، راوی کہتے ہیں۔ پھر وہ اللہ جل شانہ کا نام لیتے اور اپنا ہاتھ (کھانے پر) رکھتے۔
(۲۴۹۹۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ ہِلاَلٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ ، قَالَ : سُبْحَانَکَ مَا أَحْسَنَ مَا تُبْلِینَا ، سُبْحَانَکَ مَا أَحْسَنَ مَا تُعْطِینَا ، رَبَّنَا وَرَبَّ أَبْنَائِنَا ، وَرَبَّ آبَائِنَا الأَوَّلِینَ ، قَالَ: ثُمَّ یُسَمِّی اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ ، وَیَضَعُ یَدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৯৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩٤) حضرت ذکوان ابی صالح، حضرت عائشہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ کو کھانا پیش کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : اس کے ساتھ سالن بھی بنا لو۔ لوگوں نے پوچھا۔ اس کا سالن کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب تم فارغ ہو چکو تو اللہ تعالیٰ کی اس پر تعریف کرو۔
(۲۴۹۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنْ ذَکْوَانَ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ أَنَّہُ قَدَّمَ إِلَیْہَا طَعَامٌ ، فَقَالَتْ : ائْتدِمُوہُ ، فَقَالُوا : وَمَا إِدَامُہُ ؟ قَالَتْ : تَحْمَدُونَ اللَّہَ عَلَیْہِ إِذَا فَرَغْتُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৯৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩٥) حضرت اسماعیل بن ابی سعید سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو سعید خدری کے پاس کھانا رکھا جاتا تو آپ کہتے (ترجمہ) تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
(۲۴۹۹۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : کَانَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا ، وَجَعَلَنَا مُسْلِمِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৯৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩٦) حضرت اسماعیل بن ابی سعید، اپنے والد سے ایسی ہی روایت بیان کرتے ہیں۔
(۲۴۹۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ بِمِثْلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৯৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنا
(٢٤٩٩٧) حضرت ابن اعبد ۔۔۔ یا ابن معبد ۔۔۔ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : تمہیں پتہ ہے کہ کھانے کا حق کیا ہے ؟ میں نے پوچھا : اس کا کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم کہو۔ بسم اللہ ! اے اللہ ! جو کچھ آپ ہمیں رزق دیں اس میں برکت (بھی) دیں۔ حضرت علی نے کہا۔ جانتے ہو کہ کھانے کا شکر کیا ہے ؟ میں نے پوچھا۔ اس کا شکر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم کہو۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا اور ہمیں پلایا اور جس نے ہمیں مسلمان بنایا۔
(۲۴۹۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی الْوَرْدِ ، عَنِ ابْنِ أَعْبَدَ ، أَوِ ابْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : تَدْرِی مَا حَقُّ الطَّعَامِ ؟ قُلْتُ : وَمَا حَقُّہُ ؟ قَالَ : تَقُولُ بِسْمِ اللہِ ، اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیمَا رَزَقْتَنَا ، قَالَ : تَدْرِی مَا شُکْرُہُ ؟ قُلْتُ : وَمَا شُکْرُہُ ؟ قَالَ : تَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا۔
তাহকীক: