মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
کھانوں کے ابواب - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫ টি
হাদীস নং: ২৪৯৫৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٥٨) حضرت نعیم بن سلامہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے ہاں گیا تو میں نے ان کو نمک اور زیتون کے تیل کے ساتھ ملا ہوا صاف کیا ہو اتھوم کھاتے پایا۔
(۲۴۹۵۸) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَاجِبِ سُلَیْمَانَ ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ سَلاَمۃ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَوَجَدْتہ یَأْکُلُ ثُومًا مَسْلُوقًا بِمِلْحٍ وَزَیْتٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٥٩) حضرت عمران بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عکرمہ سے اس کے بارے میں سوال ہوا ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہم اس کو ہفتہ ، دو ہفتہ بعدکھاتے ہیں۔ لیکن (پھر) ہم مدینہ سے باہر نکل جاتے ہیں۔
(۲۴۹۵۹) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، قَالَ : سُئِلَ عِکْرِمَۃُ عَنْہُ ؟ فَقَالَ : إِنَّا لَنَأْکُلُہُ الأسْبُوعَ وَالأسْبُوعَیْنِ ، وَلَکِنَّا نَخْرُجُ مِنَ الْمَدِینَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٦٠) حضرت منصور، حضرت ابن سیرین کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ کچے تھوم اور پیاز میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔
(۲۴۹۶۰) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بِالثُّومِ وَالْبَصَلِ نِیْئًا بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٦١) حضرت ابو جعفر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یقیناً ہم لوگ تھوم، پیاز اور کر اث (ایک تیز بُو والی سبزی) کھایا کرتے تھے۔
(۲۴۹۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : إِنَّا لَنَأْکُلُ الثُّومَ ،وَالْبَصَلَ ، وَالْکُرَّاثَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٦٢) حضرت ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پختہ سالن میں تھوم ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
(۲۴۹۶۲) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالثُّومِ فِی الطَّبِیخِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٦٣) حضرت محمد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کا ارشاد ہے۔ جو شخص ان دو درختوں سے کھائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان کی بُو کو پکا کر ختم کرلے یعنی پیاز اور کر اث (ایک سبزی)
(۲۴۹۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ شَیْئًا ، فَلْیُذْہِبْ رِیحَہُمَا نضجًا ، یَعْنِی الْبَصَلَ ، وَالْکُرَّاثَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٦٤) حضرت محمد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں تھوم کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتا اِلَّا یہ کہ آدمی اس کی بُو کو ناپسند کرتا ہو۔
(۲۴۹۶۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی، عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ بِأَکْلِ الثُّومِ بَأْسًا ، إِلاَّ أَنْ یَکْرَہَ رَجُلٌ رِیحَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٦٥) حضرت نافع ، حضرت ابن عمر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ تھوم کو ہانڈیوں میں پکاتے اور پھر کھاتے تھے۔
(۲۴۹۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُنْضِجُہُ فِی الْقُدُورِ وَیَأْکُلُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٦٦) حضرت عبید اللہ بن یزید، اپنے والد کے واسطہ سے ام ایوب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے پس ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بعض ترکاری میں سے کھانا بنایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا : ” میں تم جیسا نہیں ہوں، میں اپنے ساتھی کو اذیت دینے سے خوف کھاتا ہوں۔ “
(۲۴۹۶۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أُمِّ أَیُّوبَ ، قَالَتْ : نَزَلَ عَلَیْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَنَعْنَا لَہُ طَعَامًا فِیہِ مِنْ بَعْضِ الْبُقُولِ ، فَکَرِہَہُ ، وَقَالَ : إِنِّی لَسْتُ مِثْلَکُمْ ، إِنِّی أَخَافُ أَنْ أُوذِیَ صَاحِبِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٦٧) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد ر فرمایا : ” جو شخص اس ترکاری (یعنی تھوم) میں سے کھائے تو وہ اس وقت تک مسجد کے قریب نہ آئے جب تک اس کی بُو ختم نہ ہوجائے۔ “
(۲۴۹۶۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الْبَقْلَۃِ ، فَلاَ یَقْرَبَ الْمَسْجِدَ حَتَّی یَذْہَبَ رِیحُہَا ، یَعْنِی الثُّومَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٦٨) حضرت حذیفہ کے باورچی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ مجھے حکم کرتے تھے کہ میں ا ن کے کھانے میں کُراث (خاص تیز بُو والی سبزی) نہ ڈالا کروں۔
(۲۴۹۶۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ طَبَّاخِ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : کَانَ حُذَیْفَۃُ یَأْمُرُنِی أَنْ لاَ أَجْعَلَ فِی طَعَامِہِ کُرَّاثًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٦٩) حضرت حذیفہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص تھوم کھائے تو وہ ہمارے پاس تین (دن) نہ آئے۔
(۲۴۹۶۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَدِیٍّ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : مَنْ أَکَلَ الثُّومَ ، فَلاَ یَقْرَبْنَا ثَلاَثًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧٠) حضرت ابی بردہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت مغیرہ سے تھوم کی بُو محسوس کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا ؟ “ تو انھوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو قسم ہے کہ آپ اپنے ہاتھ کو (جُبہ یا قمیص میں) ضرور داخل کریں گے۔ اور ان پر (اس وقت) جُبہ یا قمیص تھی ۔۔۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ داخل کیا تو ان پر پٹی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارے لیئے عذر ہے۔ “
(۲۴۹۷۰) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنَ الْمُغِیرَۃِ رِیحَ ثُومٍ، فَقَالَ: أَلَمْ أَنْہَکُمْ عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ؟ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ، أَقْسَمْتُ عَلَیْک لَتُدْخِلَنَّ یَدَک ، قَالَ : وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ ، أَوْ قَمِیصٌ ، فَأَدْخَلَ یَدَہُ فَإِذَا عَلَی صَدْرِہِ عِصَابٌ ، قَالَ : أَرَی لَکَ عُذْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧١) حضرت ابو الرباب، حضرت معقل بن یسار کے بارے میں روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے انھیں یہ کہتے سُنا۔ کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ایک سفر میں تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس درخت میں سے کھائے تو وہ ہماری نماز گاہ کے قریب نہ آئے۔ “
(۲۴۹۷۱) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَطِیَّۃَ، عَنْ أَبِی الرَّبَاب، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُولُ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَسِیرَۃٍ فَقَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ ، فَلاَ یَقْرَبَنَّ مُصَلاَّنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧٢) حضرت معتمر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ حضرت حسن نے اپنی والدہ کے پاس کراث کو دیکھا تو کہا۔ اے اماں جان ! اس گندے درخت کو پھینک دیں۔
(۲۴۹۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : رَأَی الْحَسَنُ مَعَ أُمِّہِ کُرَّاثًا ، فَقَالَ : یَا أُمَّتَاہُ ، أَلْقِ ہَذِہِ الشَّجَرَۃَ الْخَبِیثَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧٣) حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس ترکاری میں سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے “ یا فرمایا : ” وہ مسجد کے قریب نہ آئے۔ “
(۲۴۹۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الْبَقْلَۃِ ، فَلاَ یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، أَوْ قَالَ : الْمَسْجِدَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧٤) حضرت مغیر ہ بن شعبہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے تھوم کھایا پھر میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جائے نماز کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حالت میں پایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے پہلے ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔ چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھ لی تو میں کھڑا ہوا اور اپنی رہ جانے والی رکعت پڑھنے لگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بُو محسوس کی تو فرمایا : ” جو شخص اس ترکاری میں سے کھائے تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۔ جب تک اس کہ اس کی بُو نہ چلی جائے۔ “ حضرت مغیرہ کہتے ہیں : پس جب میں نے نماز پوری کرلی تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کوئی عُذر ہے۔ آپ مجھے اپنا ہاتھ عنایت فرمائیں۔ حضرت مغیرہ کہتے ہیں۔ بخدا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت نرم پایا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنا ہاتھ تھما دیا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ کو اپنے سینہ کی طرف لے گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں پٹی باندھی ہوئی محسوس کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” یقیناً تمہارے لیئے یہ عذر ہے۔ “
(۲۴۹۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، قَالَ : أَکَلْتُ ثُومًا ثُمَّ أَتَیْتُ مُصَلَّی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتہ قَدْ سَبَقَنِی بِرَکْعَۃٍ ، فَلَمَّا صَلَّی قُمْتُ أَقْضِی ، فَوَجَد الرِّیحَ ، فَقَالَ : مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الْبَقْلَۃَ ، فَلاَ یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّی یَذْہَبَ رِیحُہَا ، قَالَ الْمُغِیرَۃُ : فَلَمَّا قَضَیْتُ الصَّلاَۃَ أَتَیْتہُ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ لِی عُذْرًا ، نَاوِلْنِی یَدَک ، قَالَ : فَوَجَدْتُہُ وَاللَّہِ سَہْلاً ، فَنَاوَلَنِی یَدَہُ ، فَأَدْخَلْتُہَا إِلَی صَدْرِی فَوَجَدَہُ مَعْصُوبًا ، فَقَالَ : إِنَّ لَکَ عُذْرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧٥) حضرت شریک بن حنبل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس گندی ترکاری کو کھائے (یعنی تھوم کو کھائے) تو پھر وہ ہماری جائے نماز کے قریب نہ آئے۔ “
(۲۴۹۷۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، عَنْ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ قُمَیْمٍ ، عَنْ شَرِیکِ بْنِ حَنْبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَکَلَ مِنْ ہَذِہِ الْبَقْلَۃِ الْخَبِیثَۃِ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، یَعْنِی الثُّومَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧٦) حضرت معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا۔ تم لوگ دو درخت ایسے کھاتے ہو جن کو میں گندا سمجھتا ہوں۔ یہ تھوم اور پیاز ہے۔ میں تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں اس آدمی کو دیکھتا کہ جس سے اس کی بُو آتی ہوتی تھی کہ اس کو ہاتھ سے پکڑا جاتا اور اس کو بقیع کی طرف باہر نکال دیا جاتا۔ پھر بھی تم میں سے جو اس کو ناگزیر طور پر کھائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان (کی بو) کو پکا کر مار ڈالے۔
(۲۴۹۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : إِنَّکُمْ لَتَأْکُلُونَ شَجَرَتَیْنِ لاَ أَرَاہُمَا إِلاَّ خَبِیثَتَیْنِ ، ہَذَا الثُّومُ ، وَہَذَا الْبَصَلُ ، کُنْت أَرَی الرَّجُلَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوجَدُ رِیحُہُ مِنْہُ ، فَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ حَتَّی یُخْرَجَ بِہِ إِلَی الْبَقِیعِ ، فَمَنْ کَانَ آکِلَہُمَا لاَ بُدَّ فَلْیُمِتْہُمَا طَبْخًا۔ (مسلم ۳۹۷۔ احمد ۱/۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تھوم کھانے کو ناپسند کرتے ہیں
(٢٤٩٧٧) حضرت ابو رہم سماعی سے روایت ہے کہ حضرت ابو ایوب نے انھیں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالہ سے بیان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اس میں (کھانے میں) پیاز ہے لیکن تم اس کو کھالو ۔ اور میں اس کے کھانے کو اس (فرشتہ) کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں۔ البتہ تم کھا سکتے ہو۔ “
(۲۴۹۷۷) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ، عَنْ أَبِی الْخَیْرِ، عَنْ أَبِی رُہْمٍ السَّمَاعِیِّ؛ أَنَّ أَبَا أَیُّوبَ حَدَّثَہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ فِیہِ بَصَلاً فَکُلُوہُ ، وَکَرِہْت أَکْلَہُ مِنْ أَجْلِہِ ، یَعْنِی الْمَلَکَ ، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَکُلُوہُ۔ (مسلم ۱۷۰۔ احمد ۵/۴۱۳)
তাহকীক: