মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
کھانوں کے ابواب - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৫৫ টি
হাদীস নং: ২৪৯৩৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں چاٹنے کے بارے میں
(٢٤٩٣٨) حضرت عطاء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کا ارشاد ہے۔ کسی مسلمان کے لیے یہ بات بہتر نہیں ہے کہ جب وہ کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ کو صاف کرلے یہاں تک کہ اس کو چاٹ لے یا چٹوا لے۔
(۲۴۹۳۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لاَ یَصْلُحُ لِمُسْلِمٍ إِذَا أَکَلَ طَعَامًا أَنْ یَمْسَحَ یَدَہُ حَتَّی یَلْعَقَہَا ، أَوْ یُلْعِقَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৩৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں چاٹنے کے بارے میں
(٢٤٩٣٩) حضرت مجاہد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو کھانا کھانے کے بعد کبھی وضو کرتے نہیں دیکھا۔ حضرت ابن عمر کھانے کے بعد اپنی انگلیاں چاٹتے تھے پھر اپنے ہاتھ کو مٹی سے صاف کرلیتے تھے۔
(۲۴۹۳۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : مَا رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یَتَوَضَّأُ مِنْ طَعَامٍ قَطُّ ، وَکَانَ یَلْعَقُ أَصَابِعَہُ الثَّلاَثَ ، ثُمَّ یَمْسَحُ یَدَہُ بِالتُّرَابِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৩৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں چاٹنے کے بارے میں
(٢٤٩٤٠) حضرت عطاء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کے پاس جب کھانا لایا جاتا تو وہ اپنے ہاتھوں کو تب تک صاف نہیں کرتے تھے جب تک وہ انگلیاں چاٹ نہیں لیتے تھے۔
(۲۴۹۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا قُرِّبَ الطَّعَامُ لاَ یَمْسَحُونَ أَیْدِیَہُمْ ، حَتَّی یُنَقُّوہَا بِاللَّعْقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں چاٹنے کے بارے میں
(٢٤٩٤١) حضرت ابن عیینہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبید اللہ بن ابی یزید سے کہا : تم حضرت ابن عباس کے کھانے میں حاضر ہوتے تھے ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ میں نے پوچھا۔ تم نے انھیں کیا عمل کرتے دیکھا ؟ حضرت عبید اللہ نے کہا۔ میں نے انھیں اپنی تین انگلیاں چاٹتے ہوئے دیکھا کرتا تھا۔
(۲۴۹۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ : کُنْتَ تَشْہَدُ طَعَامَ ابْنِ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : فَأَیْش کُنْتَ تَرَاہُ یَصْنَعُ ؟ قَالَ : کُنْتُ أَرَاہُ یَلْعَقُ أَصَابِعَہُ الثَّلاَثَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں چاٹنے کے بارے میں
(٢٤٩٤٢) حضرت جابر سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم فرمایا : اور ارشاد فرمایا : ” تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔ “
(۲۴۹۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الأَصَابِعِ وَالصَّحْفَۃِ ، وَقَالَ : إِنَّکُمْ لاَ تَدْرُونَ فِی أَیِّہِ الْبَرَکَۃُ۔ (مسلم ۱۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں چاٹنے کے بارے میں
(٢٤٩٤٣) حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک کھانے سے فارغ ہوجائے تو اسے اپنی انگلیاں چاٹنی چاہیئے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت ہے۔ “
(۲۴۹۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، وَأَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا فَرَغَ أَحَدُکُمْ مِنْ طَعَامِہِ ، فَلْیَلْعَقْ أَصَابِعَہُ ، فَإِنَّہُ لاَ یَدْرِی فِی أَیِّ طَعَامِہِ یُبَارَکُ لَہُ۔
(مسلم ۱۳۶)
(مسلم ۱۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں چاٹنے کے بارے میں
(٢٤٩٤٤) حضرت مجاہد، حضرت ابن عمر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جب وہ کھانا کھا چکتے تو اپنی تین انگلیاں چاٹتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے۔ ” آدمی کو معلوم نہیں ہے کہ کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔ “
(۲۴۹۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَلْعَقُ أَصَابِعَہُ الثَّلاَثَ إِذَا أَکَلَ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہُ لاَ یَدْرِی فِی أَیِّ طَعَامِہِ الْبَرَکَۃُ۔ (احمد ۲/۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گر جانے والے لقمہ کے بارے میں جو لوگ کہتے ہیں کہ کھالیا جائے اور چھوڑا نہ جائے
(٢٤٩٤٥) حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گرجائے تو اسے چاہیے کہ لقمہ پر جو نقصان دہ چیز لگی ہو اس کو صاف کر دے اور لقمہ کو کھالے۔
(۲۴۹۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا وَقَعَتِ اللُّقْمَۃُ مِنْ یَدِ أَحَدِکُمْ ، فَلْیَمْسَحْ مَا عَلَیْہَا مِنَ الأَذَی وَلْیَأْکُلْہَا۔
(مسلم ۱۶۰۷۔ ابن ماجہ ۳۲۷۹)
(مسلم ۱۶۰۷۔ ابن ماجہ ۳۲۷۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ گر جانے والے لقمہ کے بارے میں جو لوگ کہتے ہیں کہ کھالیا جائے اور چھوڑا نہ جائے
(٢٤٩٤٦) حضرت حمید، حضرت انس کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ان کے ہاتھ سے ایک لقمہ گرگیا تو انھوں نے اس کو تلاش کیا یہاں تک کہ اس کو پالیا پھر فرمایا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ” جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو اس کو چاہیے کہ اس پر جو کچھ لگا ہے اس کو دور کر دے پھر اس کو کھالے اور اس کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ “
(۲۴۹۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ لُقْمَۃً سَقَطَتْ مِنْ یَدِہِ فَطَلَبَہَا حَتَّی وَجَدَہَا ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَۃُ أَحَدِکُمْ ، فَلْیُمِطْ مَا عَلَیْہَا ، ثُمَّ لِیَأْکُلْہَا ، وَلاَ یَدَعْہَا لِلشَّیْطَانِ۔ (احمد ۱۰۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ پیالہ کے درمیان سے کھانے کے بارے میں
(٢٤٩٤٧) حضرت ابن عباس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جب کھانا رکھا جائے تو تم کھانے کے کناروں سے کھاؤ ۔ اور اس کے درمیان کو چھوڑ دو ۔ کیونکہ برکت کھانے کے درمیان میں اترتی ہے۔ “
(۲۴۹۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَکُلُوا مِنْ حَافَّتِہِ وَدَعُوا وَسَطَہُ ، فَإِنَّ البَرَکَۃَ تَنْزِلُ فِی وَسَطِہِ۔ (ابوداؤد ۳۷۶۶۔ ترمذی ۱۸۰۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪৭
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ پیالہ کے درمیان سے کھانے کے بارے میں
(٢٤٩٤٨) حضرت ابن عباس سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب پیالہ (برتن) رکھا جائے تو تم اس کے کناروں سے کھاؤ۔ اور اس کے درمیان کو چھوڑ دو اس لیے کہ پیالہ کے درمیان میں برکت ہے۔
(۲۴۹۴۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِید ، عَن مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِذَا وُضِعَتِ القَصْعَۃُ ، فَکُلُوا مِنْ حَوَالِیْہَا ، وَذَرُوا ذِرْوَتَہَا ، فَإِنَّ فِی ذِرْوَتِہَا الْبَرَکَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪৮
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ آدمی بیت الخلاء سے نکلے اور وضو کرنے سے قبل کھانا کھائے
(٢٤٩٤٩) حضرت سعید بن حویرث سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس کو کہتے سُنا کہ ہم جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں حاضر تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضاء حاجت سے واپس تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھانا لایا گیا ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا۔ آپ نے وضو کیوں نہیں کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں نے نماز تو نہیں پڑھنی کہ میں وضو کروں۔ “
(۲۴۹۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ حُوَیْرِثٍ ، سَمِعْت ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَائَ مِنَ الْغَائِطِ وَأُتِیَ بِطَعَامٍ ، فَقِیلَ لَہُ : أَلاَ تَتَوَضَّأُ ؟ قَالَ : لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ۔
(مسلم ۱۱۹۔ احمد ۱/۲۲۱)
(مسلم ۱۱۹۔ احمد ۱/۲۲۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪৯
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ آدمی بیت الخلاء سے نکلے اور وضو کرنے سے قبل کھانا کھائے
(٢٤٩٥٠) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب، بیت الخلاء سے نکلے اور ان کے پاس کھانا لایا گیا تو لوگوں نے کہا : ہم وضو کے لیے پانی منگواتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں صرف اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا ہوں اور اپنے بائیں ہاتھ سے استنجا کرتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے کھانا کھایا درآنحالیکہ آپ نے پانی کو مس بھی نہیں کیا۔
(۲۴۹۵۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنَ الْخَلاَئِ وَأُتِیَ بِطَعَامٍ ، فَقَالُوا : نَدْعُو بِوَضُوئٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا آکُلُ بِیَمِینِی ، وَأَسْتَطِیبُ بِشِمَالِی ، فَأَکَلَ وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫০
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ آدمی بیت الخلاء سے نکلے اور وضو کرنے سے قبل کھانا کھائے
(٢٤٩٥١) حضرت سالم بن ابی الجعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے ایک آدمی کو اپنے پاس کھانے کے لیے بلایا تو اس نے کہا۔ میں نے تو پیشاب کیا ہے۔ آپ نے فرمایا۔ تم نے اپنے ہاتھ میں تو پیشاب نہیں کیا۔
(۲۴۹۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ دَعَا رَجُلاً إِلَی طَعَامِہِ ، فَقَالَ : إِنِّی قَدْ بُلْتُ ، قَالَ : إِنَّک لَمْ تَبُلْ فِی یَدِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫১
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ آدمی بیت الخلاء سے نکلے اور وضو کرنے سے قبل کھانا کھائے
(٢٤٩٥٢) حضرت سالم بن ابی الجعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے ایک شخص کو اپنے کھانے کی طرف بلایا تو اس نے جواب دیا۔ میں پیشاب کر کے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تیرا پیشاب تیرے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
(۲۴۹۵۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : دَعَا عَبْدُ اللہِ رَجُلاً إِلَی طَعَامِہِ ، فَقَالَ : إِنِّی قَدْ بُلْتُ ، قَالَ : بَوْلُک لَیْسَ فِی یَدِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫২
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کتنی انگلیوں سے کھانا ہے ؟
(٢٤٩٥٣) حضرت زہری کے بھتیجے، حضرت محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میری ہمشیرہ نے مجھے بتایا کہ اس نے حضرت زہری کو پانچ انگلیوں سے کھاتے دیکھا۔ تو انھوں نے زہری سے اس کے بارے میں سوال کیا ؟ حضرت زہری نے فرمایا : جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی پانچ انگلیوں سے کھاتے تھے۔
(۲۴۹۵۳) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَخِی الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِی أُخْتِی ؛ أَنَّہَا رَأَتِ الزُّہْرِیَّ یَأْکُلُ بِخَمْسٍ ، فَسَأَلَتْہُ عَنْ ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْکُلُ بِالْخَمْسِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫৩
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کتنی انگلیوں سے کھانا ہے ؟
(٢٤٩٥٤) حضرت خالد بن ابی بکر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم اور حضرت سالم کو تین انگلیوں سے کھاتے دیکھا ہے۔
(۲۴۹۵۴) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ الْقَاسِمَ ، وَسَالِمًا یَأْکُلاَنِ بِثَلاَثِ أَصَابِعَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫৪
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ کتنی انگلیوں سے کھانا ہے ؟
(٢٤٩٥٥) حضرت کعب سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین انگلیوں سے کھایا کرتے تھے اور ان کو چاٹ بھی لیتے تھے۔
(۲۴۹۵۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنِ ابْنٍ لِکَعْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْکُلُ بِأَصَابِعِہِ الثَّلاَثِ ، وَیَلْعَقُہُنَّ۔ (مسلم ۱۶۰۵۔ ابوداؤد ۳۸۴۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫৫
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٥٦) حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ان کے سینہ میں جب شکایت ہوتی تو ان کے لیے تھوم کا سوپ تیار کرلیا جاتا تھا وہ اس کو تھوڑا تھوڑا پیتے تھے۔
(۲۴۹۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عِیسَی بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُ کَانَ إِذَا اشْتَکَی صَدْرَہُ ، صُنِعَ لَہُ الْحَسْوُ فِیہِ الثُّومُ فَیَحْسُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫৬
کھانوں کے ابواب
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات کہتے ہیں کہ تھوم کھایا جائے گا
(٢٤٩٥٧) حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر کے سینہ میں جب شکایت ہوتی تو ان کے لیے تھوم کا سوپ بنایا جاتا تھا جس کو وہ آہستہ آہستہ پیتے تھے۔
(۲۴۹۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ نَافِعٍ ؛ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا اشْتَکَی صَدْرَہُ ، صُنِعَ لَہُ الْحَسَائُ فِیہِ الثُّومُ ، فَیَحْسُوہُ۔
তাহকীক: