মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৬১৯১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦١٩٢) حضرت سعید بن مسیب (رض) اور حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا تو ان کے درمیان جدائی کروادی جائے گی۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ اگر اولیاء اجازت دے دیں تو پھر جائز ہے۔
(۱۶۱۹۲) حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنِ سعید بْنِ الْمُسَیَّبِ، وَالْحَسَنِ فِی امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ بِغَیْرِ إذْنِ وَلِیِّہَا ، قَالَ : یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ : إِنْ أَجَازَہُ الأَوْلِیَائُ فَہُوَ جَائِزٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦١٩٣) حضرت مصعب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم (رض) سے سوال کیا کہ کیا عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرسکتی ہے ؟ وہ خاموش رہے۔ میں نے حضرت سالم بن ابی الجعد (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جائز نہیں۔
(۱۶۱۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُصْعَبٍ قَالَ : سَأَلْتُ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ بِغَیْرِ وَلِیٍّ فَسَکَتَ، وَسَأَلْت سَالِمَ بْنَ أَبِی الْجَعْدِ ، فَقَالَ : لاَ یَجُوزُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦١٩٤) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ جب ولی کی اجازت کے بغیر کسی عورت کا نکاح کرایا گیا، پھر ولی نے اجازت دے دی تو اس کا نکاح ہوگیا۔
(۱۶۱۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سفیان عن ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : إذَا نُکِحَتِ الْمَرْأَۃُ بِغَیْرِ وَلِیٍّ ، ثُمَّ أَجَازَ الْوَلِیُّ جَازَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦١٩٥) حضرت بکر فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے ولی کی اجازت اور گواہی کے بغیر نکاح کیا تو حضرت عمر (رض) کی طرف اس بارے میں خط لکھا گیا تو حضرت عمر (رض) نے جواب میں لکھا کہ اسے سو کوڑے مارے جائیں گے۔ پھر آپ نے سب شہروں میں خط لکھا کہ جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو وہ زانیہ کی طرح ہے۔
(۱۶۱۹۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ بَکْرٍ قَالَ : تَزَوَّجَتِ امْرَأَۃٌ بِغَیْرِ وَلِیٍّ وَلاَ بَیِّنَۃٍ فَکَتَبَ إِلی عُمَرَ فَکَتَبَ أَنْ تُجْلَدَ مِئَۃً ، وَکَتَبَ إلَی الأَمْصَارِ ، أَیُّمَا امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَتْ بِغَیْرِ وَلِیٍّ فَہِیَ بِمَنْزِلَۃِ الزَّانِیَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو کیا حکم ہے ؟
(١٦١٩٦) اہل جزیرہ کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت کی شادی کرائی جبکہ اس مرد کے علاوہ اس کا کوئی اور قریب کا ولی بھی تھا۔ حضرت عمر بن عبدا لعزیز (رض) نے اس نکاح کو مسترد کردیا اور فرمایا کہ پہلا حق ولی کا ہے پھر سلطان کا۔
(۱۶۱۹۶) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْجَزِیرَۃِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّ رَجُلاً زَوَّجَ امْرَأَۃً وَلَہَا وَلِیٌّ ہُوَ أَوْلَی مِنْہُ بِدُرُوبِ الرُّومِ ، فَرَدَّ عُمَرُ النِّکَاحَ وَقَالَ : الْوَلِیُّ وَإِلاَّ فَالسُّلْطَانُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦١٩٧) حضرت بحریہ بنت ہانیء فرماتی ہیں کہ میں نے قعقاع بن شور سے شادی کی۔ انھوں نے مجھے سونے کا زیور دیا کہ وہ میرے پاس ایک رات گذاریں۔ چنانچہ انھوں نے میرے گھر رات گذاری۔ میں نے خلوق کا ایک برتن ان کے پاس رکھا۔ صبح ان کے کپڑوں پرخلوق خوشبو لگی ہوئی تھی۔ انھوں نے مجھے کہا کہ تم نے اس خوشبو کی وجہ سے میری رسوائی کا سامان کردیا کہ اب اس شادی کا سب کو پتہ چل جائے گا۔ میں نے کہا کہ کیا مجھ جیسی سے کوئی راز رہ سکتا ہے ؟ پھر میرے دیہاتی والد آئے اور قعقاع بن شور کو حضرت علی (رض) کے پاس لے گئے۔ حضرت علی (رض) نے قعقاع سے کہا کہ کیا تم نے اپنی بیوی سے دخول کیا تھا ؟ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ اس پر حضرت علی (رض) نے نکاح کو جائز قرار دیا۔
(۱۶۱۹۷) حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أُمِّہِ ، عَنْ بَحَرِیَّۃَ بِنْتِ ہَانِیئٍ قَالَتْ : تَزَوَّجْت الْقَعْقَاعَ بْنَ شَوْرٍ فَسَأَلَنِی وَجَعَلَ لِی مُذْہَبًا مِنْ جَوْہَرٍ عَلَی أَنْ یَبِیتَ عِنْدِی لَیْلَۃً فَبَاتَ ، فَوَضَعْت لَہُ تَوْرًا فِیہِ خَلُوقٌ فَأَصْبَحَ وَہُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ ، فَقَالَ لِی : فَضَحْتِنِی ، فَقُلْتُ لَہُ : مِثْلِی یَکُونُ سِرًّا ؟ فَجَائَ أَبِی مِنَ الأَعْرَابِ ، فَاسْتَعْدَی عَلَیْہِ عَلِیًّا ، فَقَالَ عَلِیٌّ لِلْقَعْقَاعِ : أَدَخَلْتَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَأَجَازَ النِّکَاحَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦١٩٨) حضرت مصعب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت موسیٰ بن عبداللہ بن یزید سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ بغیر ولی کے عورت کی شادی کرانا جائز ہے۔
(۱۶۱۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُصْعَبٍ قَالَ : سَأَلْتُ مُوسی بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، فَقَالَ : یَجُوزُ فِی الْمَرْأَۃِ تَزْوِیجٌ بِغَیْرِ وَلِیٍّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦١٩٩) حضرت معمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے سوال کیا کہ کیا عورت بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کرسکتی ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر خاوند بیوی کا کفوء ہو تو جائز ہے۔
(۱۶۱۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَی، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: سَأَلْتُ الزُّہْرِیَّ، عَنِ امْرَأَۃٍ تُزَوَّجُ بِغَیْرِ وَلِیٍّ، فَقَالَ: إِنْ کَانَ کُفُؤًا جَازَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦٢٠٠) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کفوء ہوں تو جائز ہیں۔
(۱۶۲۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : إذَا کَانَ کُفُؤًا جَازَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦٢٠١) حضرت علی (رض) نے بغیر ولی کے نکاح کرنے کو جائز قرار دیا اور فرمایا کہ اس کی ماں اس کی اجازت سے اس کا نکاح کر اسکتی ہے۔
(۱۶۲۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ الأَوْدِیِّ ، عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ أَجَازَ نِکَاحَ امْرَأَۃٍ بِغَیْرِ وَلِیٍّ أَنْکَحَتْہَا أُمُّہَا بِرِضَاہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦٢٠٢) حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے چچا زاد بھائی نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن میرے والد نے اس رشتے کو رد کردیا اور میری شادی ایسی جگہ کرادی جہاں مجھے پسند نہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے والد کو بلایا اور اس سے اس بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے اس کا نکاح کرایا ہے اور اس کے لیے خیر کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا کہ تیرا نکاح نہیں ہوا، جاؤ اور جس سے چاہو نکاح کرلو۔
(۱۶۲۰۲) حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ وَجَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّ عَمَّ وَلَدِی خَطَبَنِی فَرَدَّہُ أَبِی وَزَوَّجَنِی وَأَنَا کَارِہَۃٌ، قَالَ : فَدَعَا أَبَاہَا ، فَسَأَلَہُ ، عَنْ ذَلِکَ ، فَقَالَ : إنِّی أَنْکَحْتُہَا وَلَمْ آلُوہَا خَیْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ نِکَاحَ لَکِ ، اذْہَبِی فَانْکِحِی مَنْ شِئْتِ۔ (عبدالرزاق ۱۰۳۰۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦٢٠٣) حضرت عبدالرحمن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری فرماتے ہیں کہ خذام نامی ایک آدمی نے اپنی بیٹی کی شادی کرائی۔ اس لڑکی نے اپنے والد کے کرائے ہوئے نکاح کو ناپسند کیا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئی اور ساری بات کا ذکر کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے والد کے نکاح کو مسترد کردیا۔ پھر اس کے نکاح کے پیغام آئے اور انھوں نے ابو لبابہ بن عبدالمنذر سے نکاح کرلیا۔ راوی یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ وہ ثیبہ تھیں۔
(۱۶۲۰۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ یَزِیدَ وَمُجَمِّع بْنَ یَزِیدَ الأَنْصَارِیَّیْنِ أَخْبَرَاہُ أَنَّ رَجُلاً مِنْہُمْ یُدْعَی خِذَامًا أَنْکَحَ ابْنَۃً لَہُ ، فَکَرِہَتْ نِکَاحَ أَبِیہَا فَأَتَتْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَرَدَّ عَنْہَا نِکَاحَ أَبِیہَا ، فَخُطِبَتْ فَنَکَحَتْ أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، وَذَکَرَ یَحْیَی أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّہَا کَانَتْ ثَیِّبًا۔ (بخاری ۵۱۳۹۔ ابوداؤد ۲۰۹۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦٢٠٤) حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر کی شادی منذر بن زبیر سے کرادی۔ اس وقت ان کے والد عبدالرحمن غائب تھے۔ جب حضرت عبد الرحمن واپس آئے تو بہت غصے ہوئے اور فرمایا کہ اے اللہ کے بندو ! کیا میرے جیسے شخص اس قابل ہیں کہ ان کی بیٹیوں کے بارے میں اس کی مرضی کے بغیر فیصلہ کیا جائے ؟ اس پر حضرت عائشہ (رض) غصہ میں آئیں اور فرمایا کہ کیا منذر جیسے لوگوں سے اعراض کیا جاسکتا ہے ؟
(۱۶۲۰۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَۃَ أَنْکَحَتْ حَفْصَۃَ ابْنَۃَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَیْرِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ غَضِبَ وَقَالَ : أَی عِبَادَ اللہِ ، أَمِثْلِی یُفْتَاتُ عَلَیْہِ فِی بَنَاتِہِ ؟ فَغَضِبَتْ عَائِشَۃُ وَقَالَتْ : أَیُرْغَبُ ، عَنِ الْمُنْذِرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦٢٠٥) حضرت ہزیل فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک ایسی عورت کا مقدمہ آیا جس کے ماموں اور اس کی ماں نے اس کی شادی کرادی تھی۔ حضرت علی (رض) نے اس کے نکاح کو جائزقرار دیا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں کیونکہ یہ ولی نہیں ہیں۔ حضرت علی بن صالح فرماتے ہیں کہ جائز ہے کیونکہ جب حضرت علی (رض) نے اس نکاح کو جائز قرار دیا تو وہ ولی کے درجہ میں تھے۔
(۱۶۲۰۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ ، عَنْ ہُزَیْلٍ قَالَ : رُفِعَتْ إلَی عَلِیٍّ امْرَأَۃٌ زَوَّجَہَا خَالُہَا وأمہا ، قَالَ : فَأَجَازَ عَلِیٌّ النِّکَاحَ ، قَالَ : وَقَالَ سُفْیَانُ : لاَ یَجُوزُ لأَنَّہُ غَیْرُ وَلِیٍّ ، وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ : ہُوَ جَائِزٌ لأَنَّ عَلِیًّا حِینَ أَجَازَہُ کَانَ بِمَنْزِلَۃِ الْوَلِیِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیں کرائی جائے گی
(١٦٢٠٦) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک ایسے شخص کا مقدمہ آیا جس نے ولی کی اجازت کے بغیر کسی سے شادی کی اور اس سے دخول بھی کیا۔ حضرت علی (رض) نے اس نکاح کو جائز قرار دیا۔
(۱۶۲۰۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ إذَا رُفِعَ إلَیْہِ رَجُلٌ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً بِغَیْرِ وَلِیٍّ فَدَخَلَ بِہَا أَمْضَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کسی عورت کی شادی نہیں کراسکتی بلکہ نکاح کروانے کا اختیار مردوں کو ہے
(١٦٢٠٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نکاح کرانے کا اختیار عورت کو نہیں بلکہ یہ اختیار مرد کو ہے۔
(۱۶۲۰۷) حدَّثَنَا محمد بْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ مُغِیرَۃَ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ: لَیْسَ الْعَقْدُ بِیَدِ النِّسَائِ، إِنَّمَا الْعَقْدُ بِیَدِ الرِّجَالِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کسی عورت کی شادی نہیں کراسکتی بلکہ نکاح کروانے کا اختیار مردوں کو ہے
(١٦٢٠٨) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) جب دیکھتیں کہ ان کے بھائی کے بچوں میں سے کوئی نوجوان کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو ان کے درمیان پردہ کردیتیں اور بات کرتیں۔ اور جب نکاح کے علاوہ کوئی صورت نہ بچتی تو فرماتیں اے فلاں ! ان کا نکاح کرادو کیونکہ عورتیں نکاح نہیں کراسکتیں۔
(۱۶۲۰۸) حَدَّثَنَا ابن إدْرِیس ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ : لاَ أَعْلَمُہُ إلاَّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ الْفَتَی مِنْ بَنِی أَخِیہَا إذَا ہَوَی الْفَتَاۃَ مِنْ بنات أَخِیہَا ضَرَبَتْ بَیْنَہُمَا سِتْرًا وَتَکَلَّمَتْ ، فَإِذَا لَمْ یَبْقَ إلاَّ النِّکَاحَ قَالَتْ : یَا فُلاَنُ ، أَنْکِحْ ، فَإِنَّ النِّسَائَ لاَ یَنْکِحْنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کسی عورت کی شادی نہیں کراسکتی بلکہ نکاح کروانے کا اختیار مردوں کو ہے
(١٦٢٠٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ عورت عورت کی شادی نہیں کراسکتی۔
(۱۶۲۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لاَ تُزَوِّجُ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کسی عورت کی شادی نہیں کراسکتی بلکہ نکاح کروانے کا اختیار مردوں کو ہے
(١٦٢١٠) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ عورت عورت کی شادی نہیں کراسکتی۔
(۱۶۲۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ : لاَ تُنْکِحُ الْمَرْأَۃُ الْمَرْأَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২১০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کسی عورت کی شادی نہیں کراسکتی بلکہ نکاح کروانے کا اختیار مردوں کو ہے
(١٦٢١١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ عورت اپنی باندی کی شادی کر اسکتی ہے، جب وہ اسے آزاد کردے تو اس کی شادی نہیں کراسکتی۔
(۱۶۲۱۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : تُزَوِّجُ الْمَرْأَۃُ أَمَتَہَا ، فَإِذَا أَعْتَقَتْہَا لَمْ تُزَوِّجْہَا۔
তাহকীক: