মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮৬৯ টি

হাদীস নং: ১৬২৩১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یتیم لڑکی سے نکاح کی اجازت طلب کی جائے گی، اگر وہ قبول کرلے تو یہ اس کی اجازت ہے اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر کوئی زبردستی نہیں۔
(۱۶۲۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْیَتِیمَۃُ تُسْتَأْمَرُ فِی نَفْسِہَا ، فَإِنْ قَبِلَتْ فَہُوَ إذْنُہَا ، وَإِنْ أَبَتْ فَلاَ جَوَازَ عَلَیْہَا۔

(ابوداؤد ۲۰۸۶۔ احمد ۲/۲۵۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৩২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٣٣) حضرت ابوبردہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی یتیم لڑکی کو نکاح کا پیغام بھجوایا گیا تو اس کا نکاح اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اس سے اجازت نہ طلب کی جائے۔ اگر وہ ہاں کردے تو اس کا نکاح کرادیا جائے اور اس کا سکوت اس کا اقرار ہے۔ اگر وہ انکار کردے تو اس کا نکاح نہیں کرایا جائے گا۔
(۱۶۲۳۳) حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّمَا یَتِیمَۃٍ خُطِبَتْ فَلاَ تُنْکَحُ حَتَّی تُسْتَأْمَرَ ، فَإِنْ ہِیَ أَقَرَّتْ فَلْتَنْکِحْ وَإِقْرَارُہَا سُکُوتُہَا ، وَإِنْ أَنْکَرَتْ فَلاَ تُنْکَحُ۔ (احمد ۴/۴۰۸۔ دارقطنی ۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৩৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٣٤) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے اس کی رضا طلب کی جائے گی اور اس کی رضا اس کی خاموشی ہے۔
(۱۶۲۳۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیمَۃُ فِی نَفْسِہَا، فَرِضَاہَا أَنْ تَسْکُتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৩৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٣٥) حضرت عمر (رض) سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۶۲۳۵) حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ عُمَرَ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৩৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٣٦) حضرت علی (رض) ، حضرت عمر (رض) اور حضرت شریح (رض) فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے اس کے دل کی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی رضا اس کی خاموشی ہے۔
(۱۶۲۳۶) حدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ وَعُمَرَ وَشُرَیْحٍ قَالُوا : تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیمَۃُ فِی نَفْسِہَا ، وَرِضَاہَا أَنْ تَسْکُتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৩৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٣٧) حضرت علی (رض) فرمایا کرتے تھے کہ جب یتیم لڑکی کی شادی کرائی جائے، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضا ہے اور اگر اس نے ناپسند کیا تو اس کی شادی نہیں کرائی جائے گی۔
(۱۶۲۳۷) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ إذَا زُوّجَت الْیَتِیمَۃُ فَإِنْ سَکَتَتْ فَہُوَ رِضَاہَا ، وَإِنْ کَرِہَتْ لَمْ تُزَوَّجْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৩৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٣٨) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر وہ خاموش رہے اور راضی رہے تو گویا اس نے مان لیا اور اگر وہ ناپسند کرے اور اظہارِ ناگواری کرے تو اس کا نکاح نہیں کرایا جائے گا۔
(۱۶۲۳۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عن شریح قَالَ : إِنْ سَکَتَتْ وَرَضِیَتْ فَقَدْ سَلَّمَتْ ، وَإِنْ کَرِہَتْ ومعضت لَمْ تُنْکَحْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৩৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٣٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر یتیم لڑکی کی شادی کرائی گئی ، اگر وہ خاموش رہی یا رو پڑی تو یہ اس کی رضا ہے، اگر اس نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو اس کی شادی نہ کرائی جائے گی۔
(۱۶۲۳۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ وَجَرِیرٌ کِلاَہُمَا ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی الْیَتِیمَۃِ إذَا زُوِّجَتْ قَالَ : فَإِنْ سَکَتَتْ ، أَوْ بَکَتْ فَہُوَ رِضَاہَا ، وَإِنْ کَرِہَتْ لَمْ تَزَوَّجْ ، وَلَمْ یَذْکُرْ جَرِیرٌ کَرِہَتْ۔ (احمد ۴/۳۹۴۔ ابن حبان ۴۰۸۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৩৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٤٠) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی کی اگر شادی کرائی جائے اور وہ ہنس پڑے یا رو پڑے یا خاموش رہے تو یہ اس کی رضا مندی ہے۔
(۱۶۲۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ فِی الْیَتِیمَۃِ : إذَا زُوِّجَتْ فَضَحِکَتْ ، أَوْ بَکَتْ ، أَوْ سَکَتَتْ فَہُوَ رِضَاہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ یتیم لڑکی سے نکاح کرانے کے لیے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کا اقرار اس کی خاموشی ہے
(١٦٢٤١) حضرت ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ یتیم لڑکی سے اس کے دل کی اجازت طلب کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی اجازت ہے اور اگر وہ انکار کردے تو اس کا نکاح نہیں کرایا جائے گا۔
(۱۶۲۴۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بُرْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَی : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیمَۃُ فِی نَفْسِہَا ، فَإِنْ سَکَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ ، وَإِنْ أَنْکَرَتْ لَمْ تُنْکَحْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٤٢) حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب دو ولی نکاح کرائیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے۔
(۱۶۲۴۲) حَدَّثَنَا حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا أَنْکَحَ الْوَلِیَّانِ فَہِیَ لِلأَوَّلِ۔ (مسلم ۷۔ ابن ماجہ ۲۱۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٤٣) حضرت سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب دو ولی نکاح کرائیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے۔
(۱۶۲۴۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَۃَ : ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إذَا أَنْکَحَ الْوَلِیَّانِ فَہِیَ لِلأَوَّلِ۔ (ابوداؤد ۲۰۸۱۔ ابن ماجہ ۲۱۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٤٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت کا نکاح کوفہ میں موجود ایک ولی ” عبید اللہ “ نے کیا، جبکہ شام میں موجود ایک شخص نے عبید اللہ سے پہلے اس سے نکاح کرلیا تو کس کا نکاح معتبر ہوگا ؟ جب شام میں موجود آدمی کوفہ آیا تو وہ یہ مقدمہ لے کر حضرت علی (رض) کی عدالت میں حاضر ہوا۔ حضرت علی (رض) نے پہلے کے حق میں فیصلہ کردیا حالانکہ دوسرے سے اس کا بچہ پیدا ہوچکا تھا۔
(۱۶۲۴۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ أَنَّ امْرَأَۃً زَوَّجَہَا وَلِیٌّ لَہَا بِالْکُوفَۃِ عُبَیْدُ اللہِ ، وَتَزَوَّجَہَا بِالشَّامِ رَجُلٌ آخَرُ قَبْلَ عُبَیْدِ اللہِ ، قَالَ : فَقَدِمَ الرَّجُلُ ، فَخَاصَمَ عُبَیْدَ اللہِ إلَی عَلِیٍّ فَقَضَی بِہَا علی لِلأَوَّلِ بَعْدَ مَا ولدت للآخَرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٤٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ گزشتہ روایت میں پہلے سے مراد ” عبید اللہ “ ہے۔
(۱۶۲۴۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : اِلأَوَّلِ عُبَیْدِ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٤٦) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب دو ولی نکاح کرائیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے۔
(۱۶۲۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ وَأَشْعَثَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ شُرَیْحٍ قَالَ : إذَا أَنْکَحَ الْوَلِیَّانِ فَالنِّکَاحُ لِلأَوَّلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٤٧) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر دو ولیوں نے کسی عورت کی شادی کرادی تو عورت کو اختیار دیا جائے گا۔
(۱۶۲۴۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ شُرَیْحٍ فِی الْوَلِیَّیْنِ یُزَوِّجَانِ ، قَالَ: تُخَیَّرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٤٨) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ جب دو ولی نکاح کرائیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے۔
(۱۶۲۴۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ : إذَا أَنْکَحَ مُجِیزَانِ فَہِیَ لِلأَوَّلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٤٩) حضرت ثابت بن قیس غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے نام خط لکھا کہ جہینہ قبیلے کی ایک لڑکی کا نکاح اس کے ولی نے قبیلہ قیس کے ایک آدمی سے کرادیا، جبکہ اس کے بھائی نے اس کا نکاح جہینہ قبیلے کے ایک آدمی سے کرایا ہے، اب وہ کس کی بیوی ہوگی ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ اس کے سامنے عادل گواہ لاؤ پھر اسے اختیار دو ، وہ جس کو اختیار کرے وہی اس کا شوہر ہے۔
(۱۶۲۴۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ : کَتَبْت إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی جَارِیَۃٍ مِنْ جُہَیْنَۃَ زَوَّجَہَا وَلِیُّہَا رَجُلاً مِنْ قَیْسٍ ، وَزَوَّجَہَا أخوہا رَجُلاً مِنْ جُہَیْنَۃَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدَ الْعَزِیزِ أَنْ أَدْخِلْ عَلَیْہَا شُہُودًا عُدُولاً ثم خَیِّرْہَا ، فَأَیَّہُمَا اخْتَارَتْ فَہُوَ زَوْجُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৪৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٥٠) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر دو بھائیوں نے مختلف جگہ اپنی ایک بہن کی شادی کرادی تو اس کو دونوں کے بارے میں اختیار ہوگا۔
(۱۶۲۵۰) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عن سفیان ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ فِی أَخَوَیْنِ زَوَّجَا أُخْتًا لَہُمَا قَالَ تُخَیَّرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৫০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر دو ولی نکاح کرائیں تو کس کا نکاح معتبر ہے ؟
(١٦٢٥١) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر دو ولیوں نے کسی عورت کی شادی کرادی تو جس سے وہ راضی ہو وہی اس کا خاوند ہے۔
(۱۶۲۵۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ فِی الْوَلِیَّیْنِ إِذَا زَوَّجَا قَالَ أَیّہُمَا رَضِیَتْ فَہُوَ زَوْجُہَا۔
tahqiq

তাহকীক: