মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৮ টি
হাদীস নং: ১২৭৩১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص سے قسم اٹھوائی جائے اور وہ اس میں کسی چیز کی نیت کر لے
(١٢٧٣٢) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم میں قسم اٹھوانے والی کی نیت کا اعتبار ہے۔
(۱۲۷۳۲) حدَّثَنَا یَزِیدُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْیَمِینُ عَلَی نِیَّۃِ الْمُسْتَحْلِفِ۔ (مسلم ۲۲۔ ابوداؤد ۳۲۵۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص سے قسم اٹھوائی جائے اور وہ اس میں کسی چیز کی نیت کر لے
(١٢٧٣٣) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ تیری قسم اس پر محمول ہے جس پر تیرے ساتھی نے تجھے سچا ٹھہرایا ہے۔
(۱۲۷۳۳) حدَّثَنَا یَزِیدُ ، قَالَ حدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ فَغْوَائِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ ، یَمِینُک عَلَی مَا صَدَّقک صَاحِبُک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص سے قسم اٹھوائی جائے اور وہ اس میں کسی چیز کی نیت کر لے
(١٣١٣٤) حضرت ابراہیمء فرماتے ہیں ک اگر تو مظلوم ہے تو توریہ کرلے (اس کی نیت کے علاوہ کوئی اور نیت کرلے) اور اگر تو ظالم ہے تو تیرے لیے توریہ کرنا جائز نہیں۔
(۱۲۷۳۴) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا کَانَ مَظْلُومًا فَلَہُ أَنْ یُوَرِّکَ بِیَمِینٍ ، فَإِنْ کَانَ ظَالِمًا فَلَیْسَ لَہُ أَنْ یُوَرِّکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص کہے میں قسم نہیں کھاؤں گا
(١٢٧٣٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کہے میں قسم نہیں کھاؤں گا تو قسم ہے اس کا کفارہ ادا کرے۔
(۱۲۷۳۵) حدَّثَنَا حفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ: إذَا قَالَ: لَمْ أَحْلِفْ ، قَالَ: یَمِینٌ یُکَفِّرُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کہے کہ میں یہ کام نہیں کروں گا پھر اس کو مجبور کیا جائے
(١٢٧٣٦) حضرت اسماعیل بن خالد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابراہیم سے دریافت کیا ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ اگر وہ اپنے بیٹے کے پاس گیا اس پر چل کر کعبہ جانا ہے، پھر اس کو اس کے دوستوں نے اٹھا کر بیٹے کے پاس داخل کردیا، حضرت ابراہیم اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس کو اٹھا کر اس کو داخل کردیا ؟ اس کو چاہیے کہ کعبہ کی طرف پیدل چل کر جائے۔
(۱۲۷۳۶) حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : کَانَ إبْرَاہِیمُ فِی أَصْحَابِ الْمَلاَء ، فَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ عَلَیْہِ الْمَشْیَ إلَی الْکَعْبَۃِ إِنْ دَخَلَ عَلَی ابنہ فاحْتَمَلَہُ أَصْحَابُہُ فَأَدْخَلُوہُ ، فَقَالَ إبْرَاہِیمُ بِیَدِہِ احْتَمَلُوہُ فَأَدْخَلُوہُ ، لْیَمْشِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس پر نذر ہو
(١٢٧٣٧) حضرت سعد بن عبادہ نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ ان کی والدہ پر نذر تھی جو وہ پوری کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کی طرف سے پورا کرلے۔
(۱۲۷۳۷) حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ اسْتَفْتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی نَذْرٍ کَانَ عَلَی أُمِّہِ تُوُفِّیَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِیَہُ ، فَقَالَ : اقْضِہِ عَنْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس پر نذر ہو
(١٢٧٣٨) حضرت ابن عباس سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص فوت ہوگیا اور اس پر نذر تھی ؟ آپ نے فرمایا : اس کی طرف سے نذر کا روزہ رکھا جائے گا۔
(۱۲۷۳۸) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَکَمِ الْبُنَانِیِّ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللَّہُ عَنْہُما سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَیْہِ نَذْرٌ ، فَقَالَ : یُصَامُ عَنْہُ النَّذْرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس پر نذر ہو
(١٢٧٣٩) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس پر نذر ہو تو اس کا ولی اس کو پورا کرے گا۔
(۱۲۷۳۹) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ مَرَّۃً ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : إذَا مَاتَ وَعَلَیْہِ نَذْرٌ قَضَی عَنْہُ وَلِیُّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس پر نذر ہو
(١٢٧٤٠) حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ ایک شخص فوت ہوگیا اور اس پر روزے کی نذر تھی، فرماتے ہیں اس کی طرف سے کھانا کھلایا جائے گا۔
(۱۲۷۴۰) حدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَیْہِ نَذْرُ صَوْمٍ، قَالَ: یُطْعَمُ عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس پر نذر ہو
(١٢٧٤١) حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص نے روزے کی نذر مانی اور روزہ رکھنے سے پہلے ہی مرگیا تو فرماتے ہیں پسندیدہ یہ ہے کہ اس کی طرف سے روزہ کی قضاء روزے سے کرے۔
(۱۲۷۴۱) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ یَصُومَ ، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ یَصُومَ ، قَالَ : کَانَ یُعْجِبُہُ أَنْ یُقْضَی عَنْہُ الصَّوْمُ صَوْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس پر نذر ہو
(١٢٧٤٢) حضرت طاؤس میت پر نذر کے متعلق فرماتے ہیں ان کے ورثاء کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور اگر کسی شخص کے ذمہ سال کے روزے ہوں تو اگر ورثاء چاہیں تو روزے رکھ لیں، ورثاء میں سے ہر کوئی تین مہینے رکھے گا۔
(۱۲۷۴۲) حدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ طَاوُوس فِی النَّذْرِ عَلَی الْمَیِّتِ ، قَالَ : یَقْضِیہِ وَرَثَتُہُ بَیْنَہُمْ ، إِنْ کَانَ عَلَی رَجُلٍ صَوْمُ سَنَۃٍ ، إِنْ شَائَ صَامَ کُلُّ إنْسَانٍ منہم ثَلاَثَۃَ أَشْہُرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس پر نذر ہو
(١٢٧٤٣) حضرت سنان بن عبداللہ الجھنی اپنی چچی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٖ ! میری والدہ فوت ہوگئیں ہیں ان کے ذمہ کعبہ پیدل جانے کی نذر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : کیا تم طاقت رکھتی ہو کہ ان کی جگہ چل کر جاؤ ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر اپنی والدہ کی طرف سے چل کر جاؤ، میں نے عرض کیا کیا یہ ان کی طرف سے کفایت کر جائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا کیا خیال ہے کہ اگر ان پر قرض ہوتا جو تو ادا کرتی تو کیا وہ قرضہ تجھ سے قبول (وصول) کیا جاتا ؟ میں نے کہا جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔
(۱۲۷۴۳) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کُرَیْبٍ ، عَنْ کُرَیْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللَّہُ عَنْہُما ، عَنْ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْجُہَنِیِّ ، أَنَّہُ حَدَّثَتْہُ عَمَّتُہُ ، أَنَّہَا أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، تُوُفِّیَتْ أُمِّی وَعَلَیْہَا مَشْیٌ إلَی الْکَعْبَۃِ نَذْرٌ ، فَقَالَ : ہَلْ تَسْتَطِیعِینَ أَنْ تَمْشِیَ عَنْہَا ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، فَقَالَ : فَامْشِ عَنْ أُمِّکَ ، فَقَالَتْ : أَیُجْزِئُ ذَلِکَ عَنْہَا ؟ فَقَالَ : نعم ، أَرَأَیْت لَوْ کَانَ عَلَیْہَا دَیْنٌ فَقَضَیْتہ ، ہَلْ کَانَ یُقْبَلُ مِنْک؟ قَالَتْ: نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللَّہُ أَحَقُّ بِذَلِکَ۔ (بخاری ۲۳۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس پر نذر ہو
(١٢٧٤٤) حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک عورت آئی اور عرض کیا : میری والدہ پر دو مہینے کے روزے تھے، کیا یہ کافی ہوجائے گا کہ میں اس کی طرف سے روزے رکھ لوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
(۱۲۷۴۴) حدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بن عَطَاء ، عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذْ جَائَتْہُ امْرَأَۃٌ ، فَقَالَتْ : إنہ کَانَ عَلَی أُمِّی صَوْمُ شَہْرَیْنِ ، أَفَیُجْزِی عَنْہَا أَنْ نَصُومَ عنہَا؟ قَالَ : نَعَمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی شخص کے مال پر قسم اٹھائے
(١٢٧٤٥) حضرت ابو مالک فرماتے ہیں وہ قسم جس پر کفارہ نہیں ہے، کوئی شخص قسم اٹھائے کسی شخص کے لیے کسی مسلمان شخص کے مال پر، پس اس سے ظلم کرتے ہوئے الگ کرلیا جائے حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو۔
(۱۲۷۴۵) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ ، قَالَ : الْیَمِینُ الَّتِی لاَ تُکَفَّرُ : الرَّجُلُ یَحْلِفُ لِلرَّجُلِ عَلَی مَالِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فَیَقْتَطِعُہُ ظَالِمًا وَہُوَ فِیہِ کَاذِبٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی شخص کے مال پر قسم اٹھائے
(١٢٧٤٦) حضرت ابراہیم، حضرت محمد اور حضرت حسن ارشاد فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد { اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی کا مال قسم کھا کر اس سے الگ کر دے۔
(۱۲۷۴۶) حدَّثَنَا أبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، وَمُحَمَّدٍ ، وَالْحَسَنِ فِی قَوْلِہِ : {إنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً} ، قَالُوا : ہُوَ الرَّجُلُ یَقْتَطِعُ مَالَ الرَّجُلِ بِیَمِینِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی شخص کے مال پر قسم اٹھائے
(١٢٧٤٧) حضرت سعید بن المسیب، حضرت معشر اور حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی عورت سے ظہار کرے اور اس میں ابھی داخل نہ ہو اگر میں تیرے پاس آیا اس میں کوئی حد اور وقت نہیں جب کفارہ ادا کر دے تو اس کے پاس آجائے۔
(۱۲۷۴۷) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَعَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالُوا : إذا ظَاہَرَ مِنْہَا ظِہَارًا ، وَلَمْ یَدْخُلْ فِیہ ؛ إِنْ غَشِیتُکِ ، فَلاَ حَدَّ فِی ذَلِکَ وَلاَ وَقْتَ ، إذَا کَفَّرَ غَشِیَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کی محلوف علیہ پر قسم کا اعتبار نہیں کیا جائے گا
(١٢٧٤٨) حضرت نافع بن جبیر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تین لوگوں پر یمین نہیں ہے، اولاد کی قسم باپ پر، بیوی کی قسم شوہر پر اور غلام کی قسم آقا کے حق پر۔
(۱۲۷۴۸) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کُرَیْبٍ ، عَنْ کُرَیْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ وَعِنْدَہُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْہَادِ ، وَنَافِعُ بْنُ جُبَیْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ثَلاَثَۃٌ لاَ یَمِینَ فِیہِنَّ : لاَ یَمِینَ لِلْوَلَدِ عَلَی وَالِدِہِ ، وَلا لِلْمَرْأَۃِ عَلَی زَوْجِہَا ، وَلاَ لِلْعَبْدِ عَلَی سَیِّدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو شخص باندی سے ظہار کرے تو کیا اس کو آزاد کر سکتا ہے ؟
(١٢٧٤٩) حضرت خالد بن ابی عمران فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم اور حضرت سالم سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے اپنی باندی سے ظہار کیا اور اس کے پاس کوئی غلام وغیرہ نہیں ہے جس کو وہ آزاد کرے تو کیا وہ اسی باندی کو آزاد کرسکتا ہے ؟ فرمایا : ہاں۔
(۱۲۷۴۹) حدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابِ ، عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی عِمْرَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ وَسَالِمًا ، عَنْ رَجُلٍ ظَاہَرَ مِنْ أَمَتِہِ فَلَمْ یَجِدْ مَا یُعْتِقُ ، أَیُعْتِقُہَا ؟ قَالاَ : نَعَمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو شخص باندی سے ظہار کرے تو کیا اس کو آزاد کر سکتا ہے ؟
(١٢٧٥٠) حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ کوئی شخص باندی سے ظہار کرے اور آزاد کرنے کے لیے کوئی غلام وغیرہ نہ پائے اور روزہ رکھنے کی طاقت بھی نہ رکھے اور اسی سے باندی سے نکاح کرنے کا ارادہ کرے تو اس کی آزادی کو اس کا مہر بنا لے اور اس کو کفارہ ظہار میں آزاد کر دے وہ اس کی بیوی ہوگئی۔
(۱۲۷۵۰) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ فِی الظِّہَارِ مِنَ الأَمَۃِ إذَا لَمْ یَجِدْ مَا یُعْتِقُ ، وَلَمْ یَسْتَطِعَ الصَّوْمَ فَأَرَادَ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا جَعَلَ عِتْقَہَا مَہْرَہَا ، فَکَانَ عِتْقُہَا کَفَّارَۃَ الظِّہَارِ ، وَکَانَتِ امْرَأَتَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৫০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو شخص باندی سے ظہار کرے تو کیا اس کو آزاد کر سکتا ہے ؟
(١٢٧٥١) حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ جو شخص اپنی باندی سے ظہار کرلے اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ اسی باندی کو آزاد کر دے۔
(۱۲۷۵۱) حدَّثَنَا أبُو خَالِدٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ؛ فِی الرَّجُلِ یُظَاہِرُ مِنْ أَمَتِہِ ، قَالَ : یُجْزِیئہ أَنْ یُعْتِقَہَا۔
তাহকীক: