সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
فضائل قرآن کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৯৬ টি
হাদীস নং: ৩২১২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں لوگوں کے دلوں میں یہ قرآن اس طرح پرانا ہوجائے گا جس طرح کپڑا پرانا ہوجاتا ہے اور سے پھینک دیا جاتا ہے لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کو اس میں کوئی لذت اور دلچسپی محسوس نہیں ہوگی یہ لوگ بھیڑیوں کی کھال پہنیں گے اور ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہوں گے لالچ ان کا عمل ہوگا انھیں کوئی خوف نہ ہوگا اور اگر وہ کسی نیک کام میں کوئی کمی کریں گے تو ساتھ یہ کہیں گے کہ ہم اسے پورا کرلیں گے اور اگر کسی غلطی کا ارتکاب کریں گے تو یہ کہیں گے ہمیں مغفرت نصیب ہوجائے کیونکہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا شَيْخٌ يُكَنَّى أَبَا عَمْرٍو عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ سَيَبْلَى الْقُرْآنُ فِي صُدُورِ أَقْوَامٍ كَمَا يَبْلَى الثَّوْبُ فَيَتَهَافَتُ يَقْرَءُونَهُ لَا يَجِدُونَ لَهُ شَهْوَةً وَلَا لَذَّةً يَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ عَلَى قُلُوبِ الذِّئَابِ أَعْمَالُهُمْ طَمَعٌ لَا يُخَالِطُهُ خَوْفٌ إِنْ قَصَّرُوا قَالُوا سَنَبْلُغُ وَإِنْ أَسَاءُوا قَالُوا سَيُغْفَرُ لَنَا إِنَّا لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
حضرت عبداللہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کسی شخص کا یہ کہنا بہت غلط ہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ یہ کہنا چاہیے وہ آیت اسے بھلادی گئی ہے تم قرآن کو یاد کرو کیونکہ یہ آدمی کے دل سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے جتنی تیزی سے کوئی جانور رسی سے نکلتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
حضرت عقبہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرو اور اسے پڑھتے رہو اور اسے اچھی طرح سے پڑھو اور اس کا خیال رکھو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے راوی کو شک ہے آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے یہ اس سے زیادہ تیزی سے نکلنے والا ہے جتنی تیزی سے کوئی اونٹنی رسی سے نکلتی ہے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عُلَيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ وَتَعَاهَدُوهُ وَتَغَنَّوْا بِهِ وَاقْتَنُوهُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
حضرت عقبہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرو اور اسے پڑھتے رہو اور اس کا خیال رکھو اس کا دھیان رکھو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اس سے زیادہ تیزی سے نکلنے والا ہے جتنی تیزی سے اونٹنی رسی سے نکلتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَتَعَاهَدُوهُ وَاقْتَنُوهُ وَتَغَنَّوْا بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں حضرت عکرمہ بن ابوجہل قرآن کو اپنے چہرے پر رکھ کر یہ کہا کرتے تھے یہ میرے پروردگار کی کتاب ہے یہ میرے رب کی کتاب ہے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ كَانَ يَضَعُ الْمُصْحَفَ عَلَى وَجْهِهِ وَيَقُولُ كِتَابُ رَبِّي كِتَابُ رَبِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
ثابت بیان کرتے ہیں عبدالرحمن بن ابولیلی صبح کی نماز پڑھنے کے بعد قرآن مجید پڑھنا شروع کردیتے تھے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا تھا۔ ثابت بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ قَرَأَ الْمُصْحَفَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ وَكَانَ ثَابِتٌ يَفْعَلُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
قتادہ بیان کرتے ہیں اللہ نے ارشاد فرمایا۔ بیشک اللہ اس بات سے حیاء نہیں کرتا کہ وہ مچھر کی مثال بیان کرے یا اس سے کم تر کوئی مثال دے پس جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے رب کی طرف سے ہے اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور اس پر ثابت قدم ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے مثال کے ذریعے کیا بات مراد لی ہے اللہ بہت سے لوگوں کو اس قرآن کے ذریعے گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب کرتا ہے اور وہ صرف فاسق لوگوں کو اس کی وجہ سے گمراہ کرتا ہے قتادہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ قَالَ أَيْ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ كَلَامُ الرَّحْمَنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
عطیہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے نزدیک اس کے کلام کے علاوہ کوئی کلام عظمت کا مالک نہیں ہے اور بندے اللہ کی بارگاہ میں جو کلام پیش کرتے ہیں ان میں سے اللہ کے کلام کے علاوہ اللہ کو اور کوئی کلام محبوب نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَطِيَّةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ كَلَامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ كَلَامِهِ وَمَا رَدَّ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ كَلَامًا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ كَلَامِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر سال حج کے موقع پر میدان عرفات میں لوگوں سے ملتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ کیا کوئی شخص مجھے اپنے قبیلے کے پاس لے کر جائے گا قریش مجھے اس بات سے روکتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے کلام کی تبلیغ کروں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ فِي الْمَوْسِمِ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْقِفِ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
ابوزعراء بیان کرتے ہیں حضرت عمر فرماتے ہیں یہ قرآن اللہ کا کلام ہے میں تمہیں ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ تم اس کے بارے میں اپنی خواہش نفس کی پیروی کر رہے ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ كَلَامُ اللَّهِ فَلَا أَعْرِفَنَّكُمْ فِيمَا عَطَفْتُمُوهُ عَلَى أَهْوَائِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام کلاموں پر اللہ کے کلام کی فضیلت۔
ابوسعید (رض) خدری (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص قرآن کی تلاوت کی وجہ سے مجھ سے کچھ نہ مانگ سکے اور میرا ذکر نہ کرسکے میں اسے مانگنے والوں کے ثواب میں سے سب سے افضل ثواب عطا کرتا ہوں اور اللہ کے کلام کو باقی تمام کلاموں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جو اللہ کو مخلوق پر حاصل ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَغَلَهُ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ عَنْ مَسْأَلَتِي وَذِكْرِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ ثَوَابِ السَّائِلِينَ وَفَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام کلاموں پر اللہ کے کلام کی فضیلت۔
شہربن حوشب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے کلام کو مخلوق کے کلام پر ایسی فضیلت ہے جو اللہ کو اپنی مخلوق پر حاصل ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَشْعَثَ الْحُدَّانِيِّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى كَلَامِ خَلْقِهِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام کلاموں پر اللہ کے کلام کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قرآن اللہ کے نزدیک تمام آسمانوں اور زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ شُيُوخِ مِصْرَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْقُرْآنُ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تم قرآن پڑھتے ہوئے تھک جاؤ تو اٹھ جاؤ۔
حضرت جندب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قرآن پڑھو جب تک تمہاری توجہ اس کی طرف رہے جب توجہ ہٹ جائے تو تم بھی اٹھ جاؤ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَعْوَرُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفْتُمْ عَلَيْهِ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تم قرآن پڑھتے ہوئے تھک جاؤ تو اٹھ جاؤ۔
حضرت جندب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قرآن پڑھو جب تک تمہاری توجہ اس کی طرف مبذول رہے جب توجہ منتشر ہوجائے تو تم بھی اٹھ جاؤ۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تم قرآن پڑھتے ہوئے تھک جاؤ تو اٹھ جاؤ۔
حضرت جندب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں قرآن پڑھو جب تک تمہاری توجہ اس کی طرف مبذول رہے جب توجہ منتشر ہوجائے تو تم بھی اٹھ جاؤ۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال۔
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں بعض لوگ وہ ہیں جنہیں ایمان دیا گیا ہے لیکن قرآن نہیں دیا گیا اور بعض لوگ وہ ہیں جنہیں قرآن دیا گیا ہے لیکن ایمان نہیں دیا گیا اور بعض لوگ وہ ہیں جنہیں قرآن اور ایمان دونوں دیئے گئے ہیں اور بعض لوگ وہ ہیں جنہیں نہ قرآن دیا گیا ہے اور نہ ایمان دیا گیا ہے۔ پھر حضرت علی (رض) نے ان لوگوں کی ایک مثال بیان کی اور فرمایا جس شخص کو ایمان دیا گیا ہو اور قرآن نہ دیا گیا ہو اس کی مثال کھجور کی مانند ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی جس شخص کو قرآن دیا گیا اور ایمان نہ دیا گیا ہو اس کی مثال آساء نامی پھل کی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جس شخص کو قرآن بھی دیا گیا ہو اور ایمان بھی دیا گیا ہو اس کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور جس شخص کو نہ قرآن نہ ایمان دیا گیا اس کی مثال حنظلہ کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ النَّاسِ مَنْ يُؤْتَى الْإِيمَانَ وَلَا يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَلَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَلَا الْإِيمَانَ ثُمَّ ضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا قَالَ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ الْإِيمَانَ وَلَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ فَمَثَلُهُ مَثَلُ التَّمْرَةِ حُلْوَةُ الطَّعْمِ لَا رِيحَ لَهَا وَأَمَّا مَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَلَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ فَمَثَلُ الْآسَةِ طَيِّبَةُ الرِّيحِ مُرَّةُ الطَّعْمِ وَأَمَّا الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ فَمَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَيِّبَةُ الرِّيحِ حُلْوَةُ الطَّعْمِ وَأَمَّا الَّذِي لَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ وَلَا الْإِيمَانَ فَمَثَلُهُ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ مُرَّةُ الطَّعْمِ لَا رِيحَ لَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال۔
حضرت ابوموسی (رض) نبی کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو مومن قرآن پڑھتا ہو اس کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی اور جو منافق قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحانہ کی سی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن اس کا ذائقہ اکڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال حنظلہ کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی نہیں ہے اور اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا حُلْوٌ وَلَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں جس شخص کو ایمان دیا گیا ہو اور قرآن نہ دیا گیا ہو اس کی مثال کھجور کی مانند ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی جس شخص کو قرآن دیا گیا اور ایمان نہ دیا گیا ہو اس کی مثال آساء نامی پھل کی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جس شخص کو قرآن بھی دیا گیا ہو اور ایمان بھی دیا گیا ہو اس کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور جس شخص کو نہ قرآن نہ ایمان دیا گیا ہو اس کی مثال حنظلہ کی سی ہے جس کی بو بھی بری ہوتی ہے اور ذائقہ بھی برا ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ مَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْإِيمَانَ وَلَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَلَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ الْآسَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الَّذِي لَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ وَلَا الْقُرْآنَ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ رِيحُهَا خَبِيثٌ وَطَعْمُهَا خَبِيثٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیشک اللہ اس قرآن کی وجہ سے کچھ لوگوں کو سربلندی عطا کرتا ہے اور کچھ کم حثییت کردیتا ہے۔
عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں نافع بن عبدالحارث عسفان کے مقام پر حضرت عمر سے ملے حضرت عمر نے انھیں مکہ کا گورنر مقرر کیا تھا انھوں نے حضرت عمر کو سلام کیا تو حضرت عمر نے ان سے دریافت کیا کیا تم نے مکہ میں اپنے نائب کے طور پر کسی شخص کو چھوڑا ہے نافع نے جواب دیا میں نے ابن ابزی کو ان پر اپنا نائب مقرر کیا ہے حضرت عمر نے دریافت کیا ابن ابزی کون ہے انھوں نے جواب دیا ہمارا ایک آزاد کردہ غلام ہے۔ حضرت عمر نے دریافت کیا تم نے ان لوگوں پر ایک غلام کو اپنا نائب مقرر کیا ہے انھوں نے عرض کی اے امیرالمومنین وہ اللہ کی کتاب کا عالم ہے اور علم وراثت کا بھی عالم ہے حضرت عمر نے فرمایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ اس کی وجہ سے کچھ لوگوں کو سربلندی عطا کرے گا اور کچھ کی حثییت کو کم کردے گا۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ مَنْ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي فَقَالَ نَافِعٌ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ عُمَرُ وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى فَقَالَ مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا فَقَالَ عُمَرُ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ فَقَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ
তাহকীক: