সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
فضائل قرآن کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৯৬ টি
হাদীস নং: ৩২৫২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص آیت الکرسی اور سورت مومن کے آغاز کی آیات پڑھے گا وہ شام تک کوئی ناگوار صورت حال نہیں دیکھے گا اور جو شخص شام کے وقت پڑھے گا وہ صبح تک کوئی ناگوار صورت حال نہیں دیکھے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ وَفَاتِحَةَ حم الْمُؤْمِنِ إِلَى قَوْلِهِ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ لَمْ يَرَ شَيْئًا يَكْرَهُهُ حَتَّى يُمْسِيَ وَمَنْ قَرَأَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ يَرَ شَيْئًا يَكْرَهُهُ حَتَّى يُصْبِحَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
حضرت نعمان بن بشیر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں بیشک اللہ نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب تحریر کی تھی اور ان میں سے دو آیتیں نازل کی ہیں جن پر سورت بقرہ ختم ہوتی ہے یہ دو آیات جس گھر میں تین راتوں تک پڑھی جائیں تو شیطان اس کے قریب نہیں جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيُّ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ فَأَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ خَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَا تُقْرَأَانِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبُهَا شَيْطَانٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
حضرت ابن مسعود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص سورت بقرہ کی یہ دو آیات رات کے وقت پڑھے گا یہ دونوں اس کے لیے کافی ہوں گی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ الْآخِرَتَيْنِ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
اسماء بنت یزید بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے اللہ لاالہ الاھوالحی۔ اور والھکم الہ واحد۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
جبیر بن نفیر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ نے سورت بقرہ کو دو ایسی آیات کے ذریعے ختم کیا ہے جو اس کے عرش کے نیچے موجود خزانے میں سے مجھے دی گئی ہیں تم ان کا علم حاصل کرو اور اپنی خواتین کو ان کی تعلیم دو کیونکہ یہ دونوں نماز اور قرآن اور دعا کا حصہ ہیں۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ هُوَ ابْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ خَتَمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ بِآيَتَيْنِ أُعْطِيتُهُمَا مِنْ كَنْزِهِ الَّذِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَعَلَّمُوهُنَّ وَعَلِّمُوهُنَّ نِسَاءَكُمْ فَإِنَّهُمَا صَلَاةٌ وَقُرْآنٌ وَدُعَاءٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ اور سورت آل عمران کی فضیلت۔
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا سورت بقرہ کا علم حاصل کرو کیونکہ اس کو پڑھنا برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے اور جادو گر اس کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر آپ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے اور پھر ارشاد فرمایا سورت بقرہ اور آل عمران کا علم حاصل کرو یہ دونوں روشن چیزیں ہیں یہ دونوں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں پر یوں سایہ کریں گی جیسے یہ دونوں بادل ہیں یا یہ دونوں سائبان ہیں یا یہ دونوں لائن میں چلنے والے پرندے ہیں اور قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے سے اس وقت ملاقات کرے گا جب اس کی قبر شق ہوگی وہ ایک خوف زدہ شخص کی مانند ہوگا قرآن اس سے کہے گا کیا تم مجھے پہچانتے ہو وہ شخص جواب دے گا میں تمہیں نہیں پہچانتا قرآن یہ کہے گا کہ میں تمہارا ساتھی قرآن ہوں۔ جسے تم پیاس کی حالت میں دوپہر کے وقت پڑھتے تھے اور رات کے وقت جاگ کر پڑھتے تھے ہر تجارت کرنے والے کی تجارت پیچھے رہ گئی آج تم ہر تجارت سے دور ہو پھر بادشاہی کی زندگی اس کے دائیں ہاتھ اور ہمیشہ کی زندگی اس کے بائیں ہاتھ پر دی جائے گی اور اس شخص کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا اس کے والدین کو ایسے جوڑے پہنائے جائیں گے جن کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔ وہ دونوں کہیں گے ہمیں یہ لباس کیوں پہنایا گیا ان سے کہا جائے گا کیونکہ تمہارے بچے نے قرآن کا علم حاصل کیا تھا پھر اس شخص سے کہا جائے گا تم قرآن پڑھنا شروع کردو اور جنت کے درجات اور بالاخانہ پر چڑھنا شروع کردو جب تک وہ شخص قرآن پڑھتا رہے گا لگاتار چڑھتا رہے گا خواہ تیزی سے پڑھے یا ہلکی رفتار سے پڑھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا بَشِيرٌ هُوَ ابْنُ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ وَإِنَّهُمَا تُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَعْرِفُنِي فَيَقُولُ مَا أَعْرِفُكَ فَيَقُولُ أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا الدُّنْيَا فَيَقُولَانِ بِمَ كُسِينَا هَذَا وَيُقَالُ لَهُمَا بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِي دَرَجِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ هَذًّا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ اور سورت آل عمران کی فضیلت۔
حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں تمہارے ایک بھائی کو خواب میں دکھایا گیا کہ لوگ ایک اونچے پہاڑ میں موجود ایک درے پر چل رہے ہیں پہاڑ کے سرے کے اوپر دو سرسبز و شاداب درخت موجود ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کیا تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو سورت بقرہ پڑھتا ہو کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو سورت آل عمران پڑھتا ہو جب کوئی شخص ہاں کہتا ہے تو وہ دونوں اپنی ٹہنیاں جھکا دیتے ہیں یہاں تک کہ اس شخص کو اٹھا کر پہاڑ پر لے جاتے ہیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت میں استعمال ہونے والا لفظ اعذاق کا مطلب ٹہنیاں ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ عَنْ أَبِي يَحْيَى سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ إِنَّ أَخًا لَكُمْ أُرِيَ فِي الْمَنَامِ أَنَّ النَّاسَ يَسْلُكُونَ فِي صَدْعِ جَبَلٍ وَعْرٍ طَوِيلٍ وَعَلَى رَأْسِ الْجَبَلِ شَجَرَتَانِ خَضْرَاوَانِ تَهْتِفَانِ هَلْ فِيكُمْ مَنْ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ هَلْ فِيكُمْ مَنْ يَقْرَأُ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ نَعَمْ دَنَتَا بِأَعْذَاقِهِمَا حَتَّى يَتَعَلَّقَ بِهِمَا فَتَخْطِرَانِ بِهِ الْجَبَلَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْأَعْذَاقُ الْأَغْصَانُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ اور سورت آل عمران کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ کے بارے میں منقول ہے کہ جو شخص حضرت عبداللہ کے پاس سورت بقرہ اور سورت آل عمران پڑھتا تھا تو وہ یہ فرماتے تھے تم نے ایسی دو سورتیں پڑھی ہیں جن میں اللہ کا اسم اعظم موجود ہے وہ اسم اعظم جس کے ذریعے دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے اور مانگا جائے تو مل جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَقَالَ قَرَأْتَ سُورَتَيْنِ فِيهِمَا اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ اور سورت آل عمران کی فضیلت۔
کعب فرماتے ہیں جو شخص سورت بقرہ اور سورت آل عمران پڑھتا ہے یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن آئیں گی اور یہ کہیں گی اے ہمارے رب اس شخص پر کوئی گرفت کی گنجائش نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عَطَّافٍ عَنْ كَعْبٍ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ جَاءَتَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَقُولَانِ رَبَّنَا لَا سَبِيلَ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں جو شخص سورت آل عمران پڑھتا ہے وہ خوش حال آدمی ہے اور جو خواتین پڑھتی ہیں وہ زینت والی خواتین ہیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں محبرہ کا مطلب آراستہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ الْبَكْرِيِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مَنْ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ فَهُوَ غَنِيٌّ وَالنِّسَاءُ مُحَبِّرَةٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد مُحَبِّرَةٌ مُزَيِّنَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کی فضیلت۔
حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت سورت آل عمران کا آخری حصہ پڑھتا ہے اس کے لے رات بھر نوافل کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ مَنْ قَرَأَ آخِرَ آلِ عِمْرَانَ فِي لَيْلَةٍ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کی فضیلت۔
مکحول فرماتے ہیں جو شخص جمعہ کے دن سورت آل عمران پڑھتا ہے فرشتے رات تک اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ مَنْ قَرَأَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ إِلَى اللَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں غریب آدمی کے لیے سب سے بہترین خزانہ سورت آل عمران ہے جسے وہ رات کے آخری حصے میں پڑھتا ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ حَدَّثَنِي جَابِرٌ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيمَا وَقَعَ فِيهِ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ نِعْمَ كَنْزُ الصُّعْلُوكِ سُورَةُ آلِ عِمْرَانَ يَقُومُ بِهَا فِي آخِرِ اللَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت آل عمران کی فضیلت۔
ابوسلیل فرماتے ہیں ایک رات ایک شخص نے قتل کردیا وہ جنات کی وادی میں بچنے کے لیے چلا گیا یہ وہ وادی تھی جس میں جو شخص بھی جاتا جن اسے چمٹ جاتے تھے اس وادی کے کنارے پر دو نیک لوگ رہتے تھے جب شام کا وقت ہوا تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا اللہ کی قسم یہ شخص ہلاکت کا شکار ہوجائے گا راوی بیان کرتے ہیں اس شخص نے سورت آل عمران پڑھنا شروع کردی تو وہ دونوں نیک لوگ بولے اس شخص نے پاکیزہ سورت پڑھی ہے اب یہ نجات پاجائے گا راوی بیان کرتے ہیں اگلے دن وہ صبح ٹھیک حالت میں تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں ابوسلیل کا نام ضریب بن نقیر ہے اور بعض لوگوں نے ان کا نام ابن نفیر بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ أَصَابَ رَجُلٌ دَمًا قَالَ فَأَوَى إِلَى وَادِي مَجَنَّةٍ وَادٍ لَا يُمْسِي فِيهِ أَحَدٌ إِلَّا أَصَابَتْهُ حَيَّةٌ وَعَلَى شَفِيرِ الْوَادِي رَاهِبَانِ فَلَمَّا أَمْسَى قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ هَلَكَ وَاللَّهِ الرَّجُلُ قَالَ فَافْتَتَحَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ قَالَا فَقَرَأَ سُورَةً طَيِّبَةً لَعَلَّهُ سَيَنْجُو قَالَ فَأَصْبَحَ سَلِيمًا قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَبُو السَّلِيلِ ضُرَيْبُ بْنُ نُقَيْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت انعام اور دیگر سورتوں کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں سات طویل سورتیں توراۃ کی مانند ہیں اور دو سو آیتوں والی سورتیں انجیل کی مانند ہیں اور دو مرتبہ پڑھی جانے والی سورتیں زبور کی مانند ہیں اور پورے قرآن کی فضیلت اس کے علاوہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ السَّبْعُ الطُّوَلُ مِثْلُ التَّوْرَاةِ وَالْمِئِينَ مِثْلُ الْإِنْجِيلِ وَالْمَثَانِي مِثْلُ الزَّبُورِ وَسَائِرُ الْقُرْآنِ بَعْدُ فَضْلٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت انعام اور دیگر سورتوں کی فضیلت۔
حضرت عمر فرماتے ہیں سورت انعام قرآن کی اہم سورتوں میں سے ایک ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ عُمَرَ قَالَ الْأَنْعَامُ مِنْ نَوَاجِبِ الْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت انعام اور دیگر سورتوں کی فضیلت۔
کعب فرماتے ہیں توراۃ کا آغاز سورت انعام سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام سورت ہود پر ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ كَعْبٍ قَالَ فَاتِحَةُ التَّوْرَاةِ الْأَنْعَامُ وَخَاتِمَتُهَا هُودٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت انعام اور دیگر سورتوں کی فضیلت۔
حضرت کعب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جمعہ کے دن سورت ہود کی تلاوت کیا کرو۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اقْرَءُوا سُورَةَ هُودٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت انعام اور دیگرسورتوں کی فضیلت۔
حضرت کعب روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جمعہ کے دن سورت ہود کی تلاوت کیا کرو۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا سُورَةَ هُودٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت کہف کی فضیلت۔
حضرت خالد بن معدان فرماتے ہیں جو شخص سورت کہف کی دس آیات کی تلاوت کرے وہ دجال سے خوف زدہ نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَتْنَا عَبْدَةُ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ الْكَهْفِ لَمْ يَخَفْ الدَّجَّالَ
তাহকীক: