সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
فضائل قرآن کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৯৬ টি
হাদীস নং: ৩২৩২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غور سے قرآن سننے کی فضیلت۔
خالد بن معدان فرماتے ہیں جو شخص قرآن پڑھتا ہے اسے ایک اجر ملتا ہے اور جو شخص غور سے سنتا ہے اسے دوگنا اجر ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَهُ أَجْرٌ وَإِنَّ الَّذِي يَسْتَمِعُ لَهُ أَجْرَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غور سے قرآن سننے کی فضیلت۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جو شخص غور سے اللہ کی کتاب کی ایک آیت سنتا ہے یہ اس کے لیے نور بن جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا رَزِينُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے والے اور اس میں مشکل برداشت کرنے والے کی فضیلت
حضرت عائشہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں جو شخص قرآن کا علم حاصل کرے اور اس میں مہارت حاصل کرے تو وہ معزز بزرگ سفیروں کے ہمراہ ہوگا اور جو شخص اس کا علم حاصل کرے اور اسے اس میں مشکل پیش آئے اسے دوگنا اجر ملے گا۔
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَهَمَّامٌ قَالَا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ فَهُوَ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَلَهُ أَجْرَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے والے اور اس میں مشکل برداشت کرنے والے کی فضیلت
وہب ذماری بیان کرتے ہیں جس شخص کو اللہ قرآن عطا کرے اور وہ دن میں رات میں اس کی تلاوت کرتا رہے اور اس میں موجود احکام پر عمل کرتا رہے اور اس اطاعت کی حالت میں مرجائے قیامت کے دن اللہ اسے سفرہ اور احکام کے ہمراہ مبعوث کرے گا۔ سعد بیان کرتے ہیں سفرہ سے مراد فرشتے اور احکام سے مراد انبیاء ہیں۔ وہب یہ بھی فرماتے ہیں جو شخص اسے پڑھنے کا شوق رکھتا ہو اور اس کی طرف متوجہ رہے اور اسے نہ چھوڑے اسے دوگنا اجر ملے گا اور جو شخص اسے پڑھنے کا شوق رکھتا ہوں اور وہ اس کی طرف متوجہ رہے اور اللہ کی اطاعت میں فوت ہو وہ ان معزز لوگوں میں سے ہوگا اسے لوگوں پر فضیلت عطاکی جائے گی اس طرح جیسے نسور کو تمام پرندوں پر فضیلت حاصل ہے اور جیسے سرسبز و شاداب حصے کو اس کے آس پاس کی زمین پر فضیلت حاصل ہوتی ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو یہ کہا جائے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جو میری کتاب کی تلاوت کرتے تھے جانوروں کے پیچھے جانے نے انھیں غافل نہیں کیا پھر ان لوگوں کو دائمی زندگی اور جنت نصیب ہوگی۔ اگر اس شخص کے والدین حالت اسلام میں مرے تھے تو ان کے سروں پر تاج پہنایا جائے گا وہ یہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اعمال تو اس لائق نہیں ہیں تو اللہ فرمائے گا ہاں لیکن تمہارا بیٹا میری کتاب کی تلاوت کرتا تھا۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ وَهْبٍ الذِّمَارِيِّ قَالَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَقَامَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ وَمَاتَ عَلَى الطَّاعَةِ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ السَّفَرَةِ وَالْأَحْكَامِ قَالَ سَعِيدٌ السَّفَرَةُ الْمَلَائِكَةُ وَالْأَحْكَامُ الْأَنْبِيَاءُ قَالَ وَمَنْ كَانَ حَرِيصًا وَهُوَ يَتَفَلَّتُ مِنْهُ وَهُوَ لَا يَدَعُهُ أُوتِيَ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ وَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ حَرِيصًا وَهُوَ يَتَفَلَّتُ مِنْهُ وَمَاتَ عَلَى الطَّاعَةِ فَهُوَ مِنْ أَشْرَافِهِمْ وَفُضِّلُوا عَلَى النَّاسِ كَمَا فُضِّلَتْ النُّسُورُ عَلَى سَائِرِ الطَّيْرِ وَكَمَا فُضِّلَتْ مَرْجَةٌ خَضْرَاءُ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنْ الْبِقَاعِ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قِيلَ أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا يَتْلُونَ كِتَابِي لَمْ يُلْهِهِمْ اتِّبَاعُ الْأَنْعَامِ فَيُعْطَى الْخُلْدَ وَالنَّعِيمَ فَإِنْ كَانَ أَبَوَاهُ مَاتَا عَلَى الطَّاعَةِ جُعِلَ عَلَى رُءُوسِهِمَا تَاجُ الْمُلْكِ فَيَقُولَانِ رَبَّنَا مَا بَلَغَتْ هَذَا أَعْمَالُنَا فَيَقُولُ بَلَى إِنَّ ابْنَكُمَا كَانَ يَتْلُو كِتَابِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کی فضیلت۔
عبدالملک بن عمیر روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے فاتحہ الکتاب میں ہر بیماری کی شفا موجود ہے۔
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کی فضیلت۔
حضرت ابوسعید انصاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے اور فرمایا کیا اللہ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں بلائیں تو انھیں جواب دو کیونکہ اس نے تمہیں زندگی عطا کی ہے اور یہ بات جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے ذہن کے درمیان ہوتا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جائے گا۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تمہیں مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت کے بارے میں بتادوں ؟ راوی بیان کرتے ہیں پھر جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا الحمدللہ رب العالمین یہ وہ سات آیات ہیں جنہیں دو مرتبہ پڑھا جاتا ہے اور یہ عظمت والا قرآن ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى الْأَنْصَارِيِّ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کی فضیلت۔
حضرت ابی بن کعب روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فاتحہ الکتاب وہ سات آیتیں ہیں جنہیں دو مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کی فضیلت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں توراۃ ، انجیل اور زبور قرآن میں ان کی مانند کوئی چیز نازل نہیں ہوئی ہے یعنی ام القرآن ( سورت فاتحہ) وہ سات آیات ہیں جنہیں دو مرتبہ پڑھا جاتا ہے اور یہ وہ عظمت والا قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ مِثْلُهَا يَعْنِي أُمَّ الْقُرْآنِ وَإِنَّهَا لَسَبْعٌ مِنْ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت فاتحہ کی فضیلت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا الحمدللہ قرآن کی اصل ہے اور کتاب کی اصل ہے یہ ہی وہ سات آیات ہیں جنہیں دو مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَمْدُ لِلَّهِ أُمُّ الْقُرْآنِ وَأُمُّ الْكِتَابِ وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں جس گھر میں سورت بقرہ پڑھی جاتی ہے شیطان اس میں سے ہوا خارج کرتے ہوئے گھر سے نکل جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا مِنْ بَيْتٍ يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ إِلَّا خَرَجَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضَرِيطٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی فضیلت۔
خالد بن معدان بیان کرتے ہیں سورت بقرہ کا علم حاصل کرنا برکت ہے اور اسے چھوڑ دیناحسرت ہے جادو گر اسے پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور یہ قرآن کا خیمہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ تَعْلِيمُهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكُهَا حَسْرَةٌ وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ وَهِيَ فُسْطَاطُ الْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ہر چیز کی بلندی ہوتی ہے اور قرآن کی بلندی سورت بقرہ ہے اور ہر چیز کا مغز ہوتا ہے اور قرآن کا مغز مفصل سورتیں ہیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں لباب کا مطلب خالص چیز ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا وَإِنَّ لُبَابَ الْقُرْآنِ الْمُفَصَّلُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد اللُّبَابُ الْخَالِصُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی فضیلت۔
عبدالرحمن بن اسود فرماتے ہیں جو شخص سورت بقرہ پڑھتا ہے جنت میں اسے تاج پہنایا جائے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُوِّجَ بِهَا تَاجًا فِي الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی فضیلت۔
ابواحوص بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں شیطان جب کسی گھر میں سورت بقرہ کی تلاوت ہوتے ہوئے سنتا ہے تو اس میں سے نکل جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِي بَيْتٍ خَرَجَ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
ایفع عبدالکلاعی بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ قرآن کی کون سی سورت زیادہ عظمت والی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا قل ہو اللہ اس شخص نے عرض کی قرآن کی کون سی آیت عظمت والی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا آیت الکرسی اللہ لاالہ الاھوالحی القیوم اس شخص نے دریافت کیا اے اللہ کے نبی وہ کون سی آیت ہے جس کے بارے میں آپ یہ پسند کریں گے کہ آپ کی امت اسے پڑھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا سورت بقرہ کی آخری آیتیں کیونکہ یہ اللہ کی رحمت کے خزانوں میں سے ہیں جو اس کے عرش کے نیچے ہیں اللہ نے یہ اس امت کو عطاکی ہیں دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی ایسی نہیں ہے جس پر مشتمل نہ ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي أَيْفَعُ بْنُ عَبْدٍ الْكَلَاعِيُّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ سُورَةِ الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ فَأَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ قَالَ فَأَيُّ آيَةٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُحِبُّ أَنْ تُصِيبَكَ وَأُمَّتَكَ قَالَ خَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنَّهَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ اللَّهِ مِنْ تَحْتِ عَرْشِهِ أَعْطَاهَا هَذِهِ الْأُمَّةَ لَمْ تَتْرُكْ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک صحابی کا ایک جن سے سامنا ہوگیا ان دونوں کے درمیان کشتی ہوئی تو انسان نے اسے پچھاڑ دیا۔ انسان نے اسے کہا میں دیکھ رہاں کہ تم کمزور اور دبلے پتلے ہو تمہاری پسلیاں یوں ہیں جیسے کتے کی پسلیاں ہوں تم جنات ایسے ہوتے ہو یا ان کے درمیان تمہاری حالت یہ ہے اس نے جواب دیا اللہ کی قسم میں ان میں بہت موٹا تازہ تھا تم میرے ساتھ دوبارہ مقابلہ کرو اگر تم نے مجھے پچھاڑ دیا تو میں تمہیں ایک ایسی چیز کی تعلیم دوں گا جو تمہیں فائدہ دے گی اس انسان نے اس کے ساتھ دوبارہ مقابلہ کر کے اسے پچھاڑ دیا تو وہ جن بولا آؤ میں تمہیں تعلیم دوں اس شخص نے جواب دیا ٹھیک ہے وہ جن بولا اللہ لاالہ الاھو الحی القیوم پڑھا کرو اس آدمی نے جواب دیا ٹھیک ہے جن بولا تم جس گھر میں اسے پڑھو گے اس میں سے شیطان نکل جائے گا اور اس طرح گدھے کی مانند اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوگی اور پھر وہ کبھی اس گھر میں داخل نہیں جائے گا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ ضئیل سے مراد کمزور ہونا ہے اور شخیث سے مراد کمزور جسم کا مالک ہونا ہے اور ضلیع سے مراد تازہ ہونا ہے اور خیج کا مطلب ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لَقِيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ رَجُلًا مِنْ الْجِنِّ فَصَارَعَهُ فَصَرَعَهُ الْإِنْسِيُّ فَقَالَ لَهُ الْإِنْسِيُّ إِنِّي لَأَرَاكَ ضَئِيلًا شَخِيتًا كَأَنَّ ذُرَيِّعَتَيْكَ ذُرَيِّعَتَا كَلْبٍ فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْجِنِّ أَمْ أَنْتَ مِنْ بَيْنِهِمْ كَذَلِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ إِنِّي مِنْهُمْ لَضَلِيعٌ وَلَكِنْ عَاوِدْنِي الثَّانِيَةَ فَإِنْ صَرَعْتَنِي عَلَّمْتُكَ شَيْئًا يَنْفَعُكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَقْرَأُ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّكَ لَا تَقْرَؤُهَا فِي بَيْتٍ إِلَّا خَرَجَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ لَهُ خَبَجٌ كَخَبَجِ الْحِمَارِ ثُمَّ لَا يَدْخُلُهُ حَتَّى يُصْبِحَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الضَّئِيلُ الدَّقِيقُ وَالشَّخِيتُ الْمَهْزُولُ وَالضَّلِيعُ جَيِّدُ الْأَضْلَاعِ وَالْخَبَجُ الرِّيحُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں جو شخص رات کے وقت سورت بقرہ کی دس آیات پڑھ لے گا اس گھر میں شیطان صبح تک داخل نہیں ہوگا ان دس آیتوں میں چار سورت بقرہ کی ابتدائی آیات ہیں ایک آیت الکرسی ہے دو اس کے بعد والی آیات ہیں اور تین سورت بقرہ کی آخری جن کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے للہ مافی السموات۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يَدْخُلْ ذَلِكَ الْبَيْتَ شَيْطَانٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى يُصْبِحَ أَرْبَعًا مِنْ أَوَّلِهَا وَآيَةُ الْكُرْسِيِّ وَآيَتَانِ بَعْدَهَا وَثَلَاثٌ خَوَاتِيمُهَا أَوَّلُهَا لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں جو شخص سورت بقرہ کی چار ابتدائی آیات آیت الکرسی اور اس کے بعد والی دو آیتیں اور سورت بقرہ کی آخری تین آیتیں پڑھے گا اس شخص کے اہل خانہ کے قریب شیطان اس دن نہیں جائے گا اور اس شخص کو کوئی مصیبت لاحق نہیں ہوگی اور ان آیتوں کو اگر کسی مجنون پر پڑھاجائے تو وہ بھی ٹھیک ہوجائے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مَنْ قَرَأَ أَرْبَعَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ وَآيَتَانِ بَعْدَ آيَةِ الْكُرْسِيِّ وَثَلَاثًا مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ يَقْرَبْهُ وَلَا أَهْلَهُ يَوْمَئِذٍ شَيْطَانٌ وَلَا شَيْءٌ يَكْرَهُهُ وَلَا يُقْرَأْنَ عَلَى مَجْنُونٍ إِلَّا أَفَاقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
ابواسحاق اس شخص کے حوالے سے روایت کرتے ہیں جس نے حضرت علی (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے میں یہ سمجھتا ہوں جو شخص عقل رکھتا ہو وہ سوتے وقت سورت بقرہ کی آخری آیت ضرور پڑھے گا کیونکہ عرش کے نیچے موجود خزانے کا حصہ ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَمَّنْ سَمِعَ عَلِيًّا يَقُولُ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَعْقِلُ يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَإِنَّهُنَّ لَمِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی ابتدائی آیات اور آیت الکرسی کی فضیلت۔
مغیرہ بن سبیع جو حضرت عبداللہ کے شاگردوں میں سے ایک ہیں فرماتے ہیں جو شخص سوتے وقت سورت بقرہ کی دس آیات پڑھ لے گا وہ قرآن نہیں بھولے گا ان میں سے چار آیات آغاز کی ہیں ایک آیت الکرسی ہے دو آیات اس کے بعد والی ہیں اور تین آیات سورت بقرہ کی آخری آیات ہیں۔ اسحاق بیان کرتے ہیں جو شخص انھیں یاد کرلے گا وہ بھولے گا نہیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں بعض محدثین نے اس راوی کا نام مغیرہ بن سمیع بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ الْبَقَرَةِ عِنْدَ مَنَامِهِ لَمْ يَنْسَ الْقُرْآنَ أَرْبَعُ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِهَا وَآيَةُ الْكُرْسِيِّ وَآيَتَانِ بَعْدَهَا وَثَلَاثٌ مِنْ آخِرِهَا قَالَ إِسْحَقُ لَمْ يَنْسَ مَا قَدْ حَفِظَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ الْمُغِيرَةُ بْنُ سُمَيْعٍ
তাহকীক: