সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

فضائل قرآن کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৯৬ টি

হাদীস নং: ৩১৯২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
حضرت انس روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے بعض اللہ والے بھی ہوتے ہیں عرض کی گئی یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا قرآن پڑھنے والے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنْ النَّاسِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ قَالَ أَهْلُ الْقُرْآنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৯৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
کعب بیان کرتے ہیں قرآن پڑھو کیونکہ یہ عقل کی فہم ہے حکمت کا نور ہے اور علم کا سرچشمہ ہے اور اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی سب سے آخری کتاب ہے اللہ نے توراۃ میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے اے محمد میں تم پر جدید توراۃ نازل کروں گا جو نابینا آنکھوں، بہرے کانوں اور غفلت میں پڑے ہوئے دلوں کو کھول دے گی۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ مُغِيثٍ عَنْ كَعْبٍ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَإِنَّهُ فَهْمُ الْعَقْلِ وَنُورُ الْحِكْمَةِ وَيَنَابِيعُ الْعِلْمِ وَأَحْدَثُ الْكُتُبِ بِالرَّحْمَنِ عَهْدًا وَقَالَ فِي التَّوْرَاةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي مُنَزِّلٌ عَلَيْكَ تَوْرَاةً حَدِيثَةً تَفْتَحُ فِيهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৯৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
حضرت ابوموسی (رض) بیان کرتے ہیں یہ قرآن تمہارے لیے اجر ہوگا اور یہ تمہارے لیے نصیحت ہوگا اور یہ تمہارے خلاف بوجھ بھی ہوسکتا ہے تم قرآن کی پیروی کرو قرآن تمہارے پیچھے نہ آئے کیونکہ جو قرآن کی پیروی کرتا ہے قرآن اسے جنت کے باغوں میں لے جائے گا اور قرآن جس کے پیچھے آئے گا وہ اسے گدی سے کھینچ کر جہنم میں ڈال دے گا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت میں استعمال ہونے والالفظ یزح کا مطلب پرے کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ عَنْ أَبِي كِنَانَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ قَالَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ كَائِنٌ لَكُمْ أَجْرًا وَكَائِنٌ لَكُمْ ذِكْرًا وَكَائِنٌ بِكُمْ نُورًا وَكَائِنٌ عَلَيْكُمْ وِزْرًا اتَّبِعُوا الْقُرْآنَ وَلَا يَتَّبِعْكُمْ الْقُرْآنُ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ الْقُرْآنَ يَهْبِطْ بِهِ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمَنْ اتَّبَعَهُ الْقُرْآنُ يَزُخُّ فِي قَفَاهُ فَيَقْذِفُهُ فِي جَهَنَّمَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَزُخُّ يَدْفَعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৯৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
ایاس بن عامر بیان کرتے ہیں حضرت علی بن ابوطالب نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اگر زندہ رہے تو عنقریب دیکھو گے کہ قرآن تین وجہ سے پڑھا جائے گا ایک صورت اللہ کے لیے ہوگی ایک بحث کے لیے ہوگی اور ایک دنیا کے لیے ہوگی جس مقصد کے لیے پڑھے گا وہ اسے پالے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ أَخَذَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ إِنَّكَ إِنْ بَقِيتَ سَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ فَصِنْفٌ لِلَّهِ وَصِنْفٌ لِلْجِدَالِ وَصِنْفٌ لِلدُّنْيَا وَمَنْ طَلَبَ بِهِ أَدْرَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৯৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
ابوقلابہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے ابودرداء سے کہا کوفہ سے تعلق رکھنے والے آپ کے اہل علم بھائیوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے حضرت ابودرداء نے جواب دیا ان پر بھی سلام ہو تم انھیں یہ ہدایت کردو کہ وہ قرآن کی مکمل پیروی کریں کیونکہ قرآن انھیں میانہ روی اور آسانی کی طرف لے جائے گا اور زیادتی اور ظلم سے الگ کردے گا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ مِنْ أَهْلِ الذِّكْرِ يُقْرِئُونَكَ السَّلَامَ فَقَالَ وَعَلَيْهِمْ السَّلَامُ وَمُرْهُمْ فَلْيُعْطُوا الْقُرْآنَ بِخَزَائِمِهِمْ فَإِنَّهُ يَحْمِلُهُمْ عَلَى الْقَصْدِ وَالسُّهُولَةِ وَيُجَنِّبُهُمْ الْجَوْرَ وَالْحُزُونَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৯৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
حارث بیان کرتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور احادیث پر بحث کررہے تھے میں حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور ان سے کہا آپ نے غور کیا لوگ مسجد میں احادیث پر بحث کررہے ہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا کیا وہ ایسا کر رہے ہیں میں نے جواب دیا جی ہاں حضرت علی (رض) نے فرمایا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب فتنے پیداہوں گے میں نے عرض کی اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی کتاب اللہ کی کتاب اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں ہیں اور بعد میں آنے والے لوگوں کی خبریں ہیں اور یہ تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے اور یہ الگ کرنے والی چیز ہے اس میں مذاق نہیں ہے جو ظالم شخص اسے ترک کردے گا اللہ اسے خراب کردے گا اور جو شخص اس کی بجائے کسی اور جگہ سے علم حاصل کرنا چاہے گا اللہ اسے گمراہی کا شکار کردے گا۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ حکمت کی نصیحت کرنے والا ہے اور یہ سیدھا راستہ دکھانے والا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے خواہشات گمراہی کا شکار نہیں ہوتی اور زبان غلطی سے محفوظ رہتی ہے علماء اس کی وجہ سے سیر نہیں ہوتے اور بکثرت استعمال سے یہ پرانا نہیں ہوتا اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے یہ وہ ہے کہ اسے جنات نے سنا تو یہ کہنے سے باز نہ رہ سکے بیشک ہم نے قرآن کو سنا ہے اور یہ بڑی حیرت انگیز چیز ہے یہ وہ ہے جو اس کے ہمراہ بات کرے گا وہ سچ بولے گا جو اس کے مطابق فیصلہ کرے گا وہ عدل سے کام لے گا جو اس پر عمل کرے گا اسے اجرملے گا اور جو اس کی طرف دعوت دے گا اس کی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر حضرت علی (رض) نے مجھ سے کہا اے اعور اس بات کو یاد رکھنا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْجُعْفِيُّ عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ عَنْ ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ عَنْ الْحَارِثِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أُنَاسٌ يَخُوضُونَ فِي أَحَادِيثَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ فَقُلْتُ أَلَا تَرَى أَنَّ أُنَاسًا يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ قَدْ فَعَلُوهَا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتَكُونُ فِتَنٌ قُلْتُ وَمَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا قَالَ كِتَابُ اللَّهِ كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ هُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ هُوَ الَّذِي مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ وَمَنْ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ فَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ وَهُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ وَهُوَ الَّذِي لَمْ يَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ أَنْ قَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا هُوَ الَّذِي مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৯৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
حارث بیان کرتے ہیں حضرت علی (رض) فرماتے ہیں عرض کی گئی یا رسول اللہ آپ کے بعد آپ کی امت آزمائش کا شکار ہوجائے گی تو انھوں نے اللہ کے رسول سے سوال کیا یا نبی رسول اللہ اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ معزز کتاب ہے جس کے آگے اور پیچھے سے باطل نہیں آسکتا اور جو حکمت والی ہے اور لائق حمد کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ جو شخص اس کے علاوہ کسی اور سے ہدایت تلاش کرنے کی کوشش کرے گا اللہ اسے گمراہی کا شکار کردے گا اور جو ظالم حکمران بننے کے بعد اس کی بجائے دوسرے فیصلے کرے گا اللہ اسے برباد کردے گا یہ حکمت آمیز نصیحت ہے اور واضح رہے کہ سیدھا راستہ یہی ہے۔ اس میں تم سے پہلے لوگوں کی اطلاعات ہیں اور بعد میں آنے والوں کی خبریں ہیں یہ تمہارے درمیان فیصلہ والی چیز ہے فرق کرنے والی چیز ہے یہ مذاق نہیں ہے یہ وہ ہے کہ جب جنات نے اسے سنا تو یہ کہنے سے باز نہ رہ سکے کہ ہم نے قرآن کو سنا ہے اور یہ بہت حیرت والی چیز ہے یہ بکثرت استعمال ہونے والی چیز ہے اور یہ پرانی نہیں ہوسکتی اور اس کی مدت ختم نہیں ہوسکتی اور اس کے عجائب فنا نہیں ہوں گے۔ پھر حضرت علی (رض) نے حارث سے کہا اے اعور اس بات کو یاد رکھنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّتَكَ سَتُفْتَتَنُ مِنْ بَعْدِكَ قَالَ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُئِلَ مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا قَالَ الْكِتَابُ الْعَزِيزُ الَّذِي لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ مَنْ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ وَمَنْ وَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ مِنْ جَبَّارٍ فَحَكَمَ بِغَيْرِهِ قَصَمَهُ اللَّهُ هُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَالنُّورُ الْمُبِينُ وَالصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ فِيهِ خَبَرُ مَنْ قَبْلَكُمْ وَنَبَأُ مَا بَعْدَكُمْ وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ وَهُوَ الَّذِي سَمِعَتْهُ الْجِنُّ فَلَمْ تَتَنَاهَى أَنْ قَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ وَلَا يَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلَا تَنْقَضِي عِبَرُهُ وَلَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ لِلْحَارِثِ خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৯৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے اور جس شخص کو حکمت دی گئی اسے بہت زیادہ بھلائی دی گئی۔ ابراہیم فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن کا فہم ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا قَالَ الْفَهْمَ بِالْقُرْآنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ کی کتاب ہے اللہ جسے چاہتا ہے اس کا علم عطا کرتا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ قَالَ الْكِتَابَ يُؤْتِي إِصَابَتَهُ مَنْ يَشَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
اعمش بیان کرتے ہیں خیثمہ نے اپنی بیوی سے کہا تم اس گھر میں داخل ہونے سے بچنا جس میں شراب پی جاتی ہو جہاں پہلے ہر تین دنوں میں قرآن پڑھا جاتا تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ قَالَ لِامْرَأَتِهِ إِيَّاكِ أَنْ تُدْخِلِي بَيْتِي مَنْ يَشْرَبُ الْخَمْرَ بَعْدَ أَنْ كَانَ يُقْرَأُ فِيهِ الْقُرْآنُ كُلَّ ثَلَاثٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০২
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب کوئی شخص بازار یا کام سے واپس آ کر بستر پر لیٹتا ہے تو اس بات میں کیا رکاوٹ ہے کہ وہ قرآن کی تین آیاپڑھ لیا کرے یعنی اسے ایسا کرنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ إِذَا رَجَعَ مِنْ سُوقِهِ أَوْ مِنْ حَاجَتِهِ فَاتَّكَأَ عَلَى فِرَاشِهِ أَنْ يَقْرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ الْقُرْآنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০৩
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کی تعلیم حاصل کرے اور اس کا علم دے۔
حضرت علی (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے تم میں سے سب سے زیادہ بہتر شخص وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اس کی تعلیم دے۔
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০৪
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کی تعلیم حاصل کرے اور اس کا علم دے۔
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں حضرت عثمان (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں تم میں سے سب سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کی تعلیم دے اور اس کا علم حاصل کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں ابوعبدالرحمن نے حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت سے لے کر حجاج کے زمانہ حکومت تک قرآن کی تعلیم دی وہ فرماتے ہیں اسی حدیث نے مجھے اس کام کو جاری رکھنے پر مجبور کیا۔
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عُثْمَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ عَلَّمَ الْقُرْآنَ أَوْ تَعَلَّمَهُ قَالَ أَقْرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ حَتَّى كَانَ الْحَجَّاجُ قَالَ ذَاكَ أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০৫
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کی تعلیم حاصل کرے اور اس کا علم دے۔
مصعب بن سعد اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن کا علم حاصل کرتے ہیں اور قرآن کی تعلیم دیتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اس جگہ بٹھادیا جہاں میں قران کی تعلیم دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَ الْقُرْآنَ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي هَذَا الْمَقْعَدَ أُقْرِئُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০৬
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کی تعلیم حاصل کرے اور اس کا علم دے۔
حضرت سعد بن عبادہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص قرآن کا علم حاصل کرنے کے بعد اسے بھول جائے قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو اس کا جسم سلامت نہیں ہوگا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت کے راوی عیسیٰ فائد کے صاحبزادے ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِيسَى عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد عِيسَى هُوَ ابْنُ فَائِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০৭
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
حضرت عبداللہ روایت کرتے ہیں قرآن کی کثرت سے تلاوت کیا کرو اس سے پہلے کہ اسے اٹھالیا جائے لوگوں نے دریافت کیا ان مصاحف کو اٹھا لیا جائے گا لیکن جو انسانوں کے سینوں میں ہے اس کا کیا ہوگا ؟ تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ایک رات ایسی آئی گی کہ لوگوں کو قرآن کا علم ہوگا لیکن اگلے دن انھیں اس کا علم نہیں ہوگا۔ وہ لاالہ اللہ پڑھنا بھی بھول چکے ہوں گے اور زمانہ جاہلیت کی باتوں اور اشعار میں مبتلا ہوجائیں گے یہ وہ وقت ہوگا جب قیامت آجائے گی۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَكْثِرُوا تِلَاوَةَ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ قَالُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفُ تُرْفَعُ فَكَيْفَ بِمَا فِي صُدُورِ الرِّجَالِ قَالَ يُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلًا فَيُصْبِحُونَ مِنْهُ فُقَرَاءَ وَيَنْسَوْنَ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَقَعُونَ فِي قَوْلِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَشْعَارِهِمْ وَذَلِكَ حِينَ يَقَعُ عَلَيْهِمْ الْقَوْلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০৮
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
قتادہ بیان کرتے ہیں اس کے ذریعے اپنے دلوں کو آباد کرو اور اس کے ذریعے اپنے گھروں کو آباد کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں میرا خیال ہے کہ ان کی مراد قرآن تھی۔
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مُطِيعٍ قَالَ كَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ اعْمُرُوا بِهِ قُلُوبَكُمْ وَاعْمُرُوا بِهِ بُيُوتَكُمْ قَالَ أُرَاهُ يَعْنِي الْقُرْآنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২০৯
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں ایک رات ایسی آئے گی کہ لوگوں کو قرآن کا علم ہوگا اور پھر کسی مصحف میں اور کسی بھی دل میں کوئی آیت نہیں رہنے دی جائے گی ہر ایک آیت کو اٹھا لیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ لَيُسْرَيَنَّ عَلَى الْقُرْآنِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَا يُتْرَكُ آيَةٌ فِي مُصْحَفٍ وَلَا فِي قَلْبِ أَحَدٍ إِلَّا رُفِعَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১০
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
قتادہ بیان کرتے ہیں جو شخص قرآن کے سہارے بیٹھا رہے جب وہ اس کے پاس سے اٹھتا ہے تو اس میں اضافہ ہوجاتا ہے یا کمی آجاتی ہے پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی۔ اور ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے جو اہل ایمان کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کے لیے خسارے میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ مَا جَالَسَ الْقُرْآنَ أَحَدٌ فَقَامَ عَنْهُ إِلَّا بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ ثُمَّ قَرَأَ وَنُنَزِّلُ مِنْ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২১১
فضائل قرآن کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو یاد رکھنا۔
ثابت بن عجلان بیان کرتے ہیں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ اہل زمین پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کرتا ہے پھر جب وہ بچوں کو حکمت کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے سنتا ہے تو دنیا والوں سے درگزر کرتا ہے۔ مروان نامی راوی بیان کرتے ہیں یہاں حکمت سے مراد قرآن مجید ہے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رِفْدَةُ الْغَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ كَانَ يُقَالُ إِنَّ اللَّهَ لَيُرِيدُ الْعَذَابَ بِأَهْلِ الْأَرْضِ فَإِذَا سَمِعَ تَعْلِيمَ الصِّبْيَانِ الْحِكْمَةَ صَرَفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ قَالَ مَرْوَانُ يَعْنِي بِالْحِكْمَةِ الْقُرْآنَ
tahqiq

তাহকীক: