সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

حج کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪ টি

হাদীস নং: ১৮১৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ چٹکی میں آنے والی کنکری کے ذریعے رمی کی جائے گی
حضرت ابوعبدالرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم چٹکی میں آنے والی کنکری کے ذریعے رمی کریں۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُرَّةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ چٹکی میں آنے والی کنکری کے ذریعے رمی کی جائے گی
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایت کے تحت لوگوں نے چٹکی میں آنے والی کنکری کے ذریعے رمی کی تھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی محسر سے تیزی سے گزر رہے تھے (بقیہ سفر کے دوران آپ نے لوگوں کو) ہدایت کی تھی آرام سے چلو۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَوْا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَقَالَ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ چٹکی میں آنے والی کنکری کے ذریعے رمی کی جائے گی
عبدالرحمن بن معاذ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ہدایت کی ہم چٹکی میں آنے والی کنکری کے ذریعے رمی جمار کریں۔ امام ابومحمد دارمی سے یہ سوال کیا گیا حضرت عبدالرحمن بن معاذ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَرْمِيَ الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ سواری پر سے " رمی جمار " کرنا
حضرت قدامہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے آپ اپنی سرخ اونٹنی پر سوار تھے اور رمی جمار کر رہے تھے وہاں کوئی مار پیٹ اور دھکم پیل نہیں تھی اور ہٹو بچو کی آوازیں نہیں تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَالْمُؤَمَّلُ وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ لَيْسَ ثَمَّ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ سواری پر سے " رمی جمار " کرنا
حضرت ابن عباس (رض) حضرت فضل بن عباس کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سواری پر سوار تھا رمی جمرہ کرنے کے تک آپ تلبیہ پڑھتے رہے۔
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ هُوَ الْجَزَرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ بطن وادی سے رمی کرنا اور ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہنا
زہری بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جمرہ کی رمی کی جو مسجد میناء کے ساتھ ہے تو آپ نے سات سات کنکریاں لیں اور ہر کنکری کو پھینکتے ہوئے تکبیر کہی پھر آپ آگے بڑھے اور قبلہ کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر ٹھہر گئے وہاں آپ خاصی دیر کھڑے رہے پھر آپ دوسرے جمرہ کے پاس آئے آپ نے اسے بھی سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہی پھر آپ واپس آئے اور وادی کے بائیں طرف ہوگئے اور دونوں ہاتھ بلند کرکے دعا کرنے لگے پھر آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو عقبہ کے پاس آئے آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پھینکتے وقت تکبیر کہی پھر آپ تشریف لے آئے اور ان کے پاس نہیں ٹھہرے زہری بیان کرتے ہیں یہ حدیث میں نے سالم بن عبداللہ سے سنی ہے۔ انھوں نے یہ حدیث اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے حوالے سے روایت کی ہے۔ سالم کہتے ہیں حضرت ابن عمر (رض) بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ مِنًى يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْحَدِرُ مِنْ ذَاتِ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِي رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا قَالَ الزُّهْرِيُّ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ اونٹ کی جگہ گائے کی قربانی بھی ہوسکتی ہے
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ہم لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ روانہ ہوئے ہمارا ارادہ حج کرنے کا تھا جب ہم سرف کے مقام تک پہنچے تو جب قربانی کا دن آیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھیجا میں نے طواف افاضہ کیا میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے دریافت کیا یہ کہاں سے لایا گیا ہے لوگوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے قربان کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا جِئْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهُرْتُ فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْتُ فَأُتِيَ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خواتین سر نہیں منڈوا سکتی۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا خواتین کے لیے سر منڈوانا درست نہیں ہے۔ وہ صرف بال کٹوا سکتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ بال کٹوانے سے سر منڈوانا افضل ہے۔
حضرت ابن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دعا نقل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم کرے جن لوگوں نے بال منڈوا لیے ہیں عرض کی گئی بال کٹوانے والوں کے لیے دعائے خیر فرمائیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم کرے جن لوگوں نے سرمنڈوالیے ہیں راوی کہتے ہیں پھر آپ نے چوتھی مرتبہ فرمایا بال کٹوانے والوں پر اللہ رحم کرے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قِيلَ وَالْمُقَصِّرِينَ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ وَالْمُقَصِّرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص حج کے کسی ایک رکن کو دوسرے سے پہلے سر انجام دے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جمرہ کے قریب دیکھا آپ سے سوال کئے جا رہے تھے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی قربانی کرلی ہے آپ نے فرمایا تم رمی کرلواب کوئی حرج نہیں ہے ایک اور شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا آپ نے فرمایا تم اب قربانی کرلو اب کوئی حرج نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں اس دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس بھی چیز کے پہلے یا بعد میں ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا آپ نے یہی فرمایا اب کرلو کوئی حرج نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ وَهُوَ يُسْأَلُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ آخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ انْحَرْ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو شخص حج کے کسی ایک رکن کو دوسرے سے پہلے سر انجام دے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے پاس ٹھہر گئے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے ایک شخص نے عرض کی مجھے پتہ نہیں تھا میں نے رمی سے پہلے ہی قربانی کرلی ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے (راوی کہتے ہیں) اس دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس بھی چیز کے پہلے یا بعد میں ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کوئی حرج نہیں ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں میں اس حدیث کے مطابق فتوی دیتا ہوں اہل کوفہ اس بارے میں تشدد سے کام لیتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ لِلنَّاسِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ لَمْ أَشْعُرْ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ فَلَمْ يُسْأَلْ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ أَوْ أُخِّرَ إِلَّا قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ عَبْد اللَّهِ أَنَا أَقُولُ بِهَذَا وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يُشَدِّدُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جب قربانی کا جانور تھک جائے تو کیا کیا جائے۔
حضرت ناجیہ اسلمی جو حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قربانی کے جانور لا رہے تھے میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اگر قربانی کا کوئی جانور تھک کر (مرنے کے قریب ہوجائے) تو میں کیا کروں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قربانی کا جو بھی جانور تھک کر مرنے کے قریب ہوجائے تو تم اسے قربان کردو اور پھر اس کی ٹانگ خون میں ڈبو کر اسے وہیں چھوڑ دو ۔ اسے لوگوں کے لیے رہنے دو وہ خود ہی اسے کھا لیں گے۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَاجِيَةَ الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْهَدْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ فَانْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ فَلْيَأْكُلُوهَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَاجِيَةَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس بات کے قائل ہیں قربانی کے جانور میں بکری بھی بھیجی جا سکتی ہے۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کے جانور کے طور پر بکری بھجوائی تھی۔
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً غَنَمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے جانور کو کس طرح نشان لگایا جائے۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے اپنی قربانی کا جانور منگوایا اور اس کو کوہان کے دائیں طرف داغ لگایا پھر اس کا کچھ خون بہایا اور اس کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈال دیا۔ پھر آپ کی سواری لائی گئی آپ اس پر تشریف فرما ہوئے جب وہ کھڑی ہوئی تو آپ نے حج کا تلبیہ پڑھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَةٍ فَأَشْعَرَهَا مِنْ صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے جانور پر سوار ہونا۔
حضرت انس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا جانور لے کر چل رہا تھا آپ نے فرمایا تم اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کی یہ قربانی کا جانور آپ نے فرمایا تم اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کی یہ قربانی کا جانور ہے آپ نے فرمایا تمہارا ستیا ناس ہو تم اس پر سوار ہوجاؤ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَتَهُ قَالَ ارْكَبْهَا فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ قربانی کا جانور (اونٹ) کو کھڑا کر کے قربان کرنا۔
حضرت ابن عمر (رض) نے ایک شخص کو دیکھا جس نے قربانی کا جانور (اونٹ) کو قربان کرنے کے لیے لٹا لیا تھا تو فرمایا تم اسے کھڑا کر کے باندھ کے ذبح کرو یہ حضرت محمد کی سنت ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا قَدْ أَنَاخَ بَدَنَةً فَقَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج کا خطبہ۔
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد واپس تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت ابوبکر (رض) کو امیر حج بنا کر بھیجا ہم لوگ ان کے ہمراہ مکہ روانہ ہوگئے ہم جب عرج کے مقام پر پہنچے اور فجر کی نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو حضرت ابوبکر (رض) تکبیر کہنے کے لیے کھڑے ہوگئے تو انھوں نے پیچھے سے اونٹنی کی آواز سنی تو حضرت ابوبکر (رض) تکبیر کہنے سے رک گئے اور بولے یہ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی جدعا ہے ہوسکتا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کا ارادہ کرلیا ہو اگر وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہوئے تو ہم آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرلیں گے راوی کہتے ہیں اس اونٹنی پر حضرت علی (رض) سوار تھے حضرت ابوبکر (رض) نے دریافت کیا کہ آپ امیر کی حثییت سے آئے ہیں یا پیغام رساں کی حیثیت سے ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں پیغام رساں کی حیثیت سے۔ مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورت توبہ کے ہمراہ بھیجا ہے اور یہ ہدایت کی ہے کہ حج کے مختلف مقامات پر لوگوں کے سامنے اس کی تلاوت کروں۔ (حضرت جابر بیان کرتے ہیں) ہم لوگ مکہ آگئے ترویہ سے ایک دن پہلے ابوبکر (رض) نے خطبہ دینا شروع کردیا۔ اور لوگوں کو حج کے مختلف ارکان سے آگاہ کیا جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے تو حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور انھوں نے لوگوں کے سامنے پوری سورت کی تلاوت کی۔

جب قربانی کا دن آیا تو ہم نے طواف افاضہ کرنا تھا تو حضرت ابوبکر (رض) واپس آئے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انھیں طواف افاضہ کے بارے میں اور قربانی کے بارے میں اور اس کے دیگر ارکان کے بارے میں بتایا جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور انھوں نے لوگوں کے سامنے سورت توبہ پڑھی اور مکمل سورت پڑھی اور جب روانگی کا وقت آیا تو حضرت ابوبکر (رض) نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انھیں روانگی کا طریقہ سکھایا اور رمی کرنے کا طریقہ سکھایا اور انھیں حج کے مناسک کی تعلیم دی اور جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور انھوں نے لوگوں کے سامنے سورت توبہ کی تلاوت کی اور مکمل سورت پڑھی۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قُرَّةَ هُوَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَجَعَ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى الْحَجِّ فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثُوِّبَ بِالصُّبْحِ فَلَمَّا اسْتَوَى لِيُكَبِّرَ سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَوَقَفَ عَنْ التَّكْبِيرِ فَقَالَ هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ لَقَدْ بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ فَإِذَا عَلِيٌّ عَلَيْهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمِيرٌ أَمْ رَسُولٌ قَالَ لَا بَلْ رَسُولٌ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةٌ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ مَنَاسِكِهِمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِفَاضَتِهِمْ وَعَنْ نَحْرِهِمْ وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةٌ حَتَّى خَتَمَهَا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلُ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ وَكَيْفَ يَرْمُونَ فَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بَرَاءَةٌ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے دن خطبہ دینا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں اس دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اونٹ پر سوار تھے مجھے نہیں پتا چلا کہ وہ اونٹ تھا یا اونٹنی، ایک صاحب نے اس کی لگام پکڑی ہوئی تھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا آج کون سا دن ہے۔ راوی کہتے ہیں ہم خاموش رہے ہم نے یہ خیال کیا کہ آپ شاید اس کے نام کی بجائے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے آپ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن ہے ہم نے عرض کی جی ہاں آپ نے دریافت کیا یہ کون سا مہینہ ہے ہم خاموش رہے ہم یہ سمجھے شاید آپ اس مہینے کے نام کے علاوہ کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے آپ نے دریافت کیا یہ ذوالحج کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کی جی ہاں۔ پھر آپ نے دریافت کی یہ کون سا شہر ہے ہم خاموش رہے ہم یہ سمجھے کہ آپ اس کے اصل نام کے بجائے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے آپ نے دریافت کیا یہ البلدہ مکہ مکرمہ نہیں ہے ہم نے عرض کی جی ہاں آپ نے فرمایا تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزت آپس میں اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح یہ دن قابل احترام ہے یہ مہینہ قابل احترام ہے اور یہ شہر قابل احترام ہے ہر موجود شخص غیر موجود شخص کو یہ پیغام پہنچا دے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ موجود شخص اس شخص کو یہ پیغام پہنچائے جو موجود شخص سے زیادہ طریقے سے اس حکم کو محفوظ رکھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ لَا أَدْرِي جَمَلٌ أَوْ نَاقَةٌ وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ قَالَ بِزِمَامِهِ فَقَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالَ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا قَالَ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا قَالَ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جس خاتون کو طواف زیارت کے بعد حیض آجائے۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں حضرت صفیہ کو حیض آگیا جب روانگی کا وقت آیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا وہ نالائق یعنی عقری یہ ان کی لغت تھی پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تم نے قربانی کے دن طواف نہیں کرلیا تھا انھوں نے عرض کی جی ہاں آپ نے فرمایا پھر سوار ہوجاؤ۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی حضرت عائشہ (رض) سے منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ حَاضَتْ صَفِيَّةُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ النَّفْرِ قَالَتْ أَيْ حَلْقَى أَيْ عَقْرَى بِلُغَةٍ لَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَسْتِ قَدْ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَارْكَبِي حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتا۔
حضرت زید بیان کرتے ہیں ہم نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا آپ کو کس پیغام کے ہمراہ بھیجا گیا تھا انھوں نے جواب دیا مجھے چار احکام کے ہمراہ بھیجا گیا تھا یہ کہ میں اعلان کردوں جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے اور کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکے گا اس سال کے بعد آئندہ سال مسلمان اور کافر ایک ساتھ حج نہیں کرسکیں گے اور جس شخص کا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے وہ معاہدہ طے شدہ مدت کے لیے کافی ہوگا اور جس شخص کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے اس کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے یہ بات انھوں نے قربانی کے دن بیان کی تھی اور ان لوگوں کی مہلت بیس ذوالحج تھی چار دن کے بعد تم انھیں قتل کردینا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ قَالَ بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَلَا يَجْتَمِعُ مُسْلِمٌ وَكَافِرٌ فِي الْحَجِّ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَهِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ يَقُولُ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ أَجَلُهُمْ عِشْرِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَاقْتُلُوهُمْ بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ
tahqiq

তাহকীক: