সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

حج کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪ টি

হাদীস নং: ১৭৯৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ منی میں قصر نماز ادا کرنا۔
حضرت عبداللہ نے حضرت عثمان غنی کی اقتداء میں منیٰ میں چار رکعت ادا کرنے کے بعد فرمایا میں نے اس جگہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں دو رکعت ادا کی ہیں اور حضرت ابوبکر (رض) کی اقتداء میں دو رکعت ادا کی ہیں اور حضرت عمر کی اقتداء میں دو رکعت ادا کی ہیں، پھر تمہارے راستے مختلف ہوگئے کاش مجھے ان چار رکعات کی بجائے دو مقبول رکعات مل جاتی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَصَلَّى مَعَ عُثْمَانَ بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمْ الطُّرُقُ فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ منی میں قصر نماز ادا کرنا۔
سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منیٰ میں دو رکعت ادا کی ہیں حضرت ابوبکر (رض) نے دو رکعت ادا کی ہیں اور حضرت عمر نے دو رکعت ادا کی ہیں، حضرت عثمان اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں دو رکعت ادا کرتے رہے لیکن بعد میں پوری چار پڑھنے لگے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَأَبَا بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَعُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَعُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ منی سے عرفات جاتے ہوئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ہی منیٰ سے روانہ ہوئے ہم میں سے بعض لوگ تکبیر کہہ رہے تھے اور بعض لوگ تلبیہ پڑھ رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى فَمِنَّا مَنْ يُكَبِّرُ وَمِنَّا مَنْ يُلَبِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ منی سے عرفات جاتے ہوئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
محمد بن ابوبکر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سوال کیا ہم لوگ اس وقت منیٰ سے عرفات جا رہے تھے میرا سوال تلبیہ کے بارے میں تھا آپ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہمراہی میں کیا کرتے تھے حضرت انس (رض) نے جواب دیا کچھ لوگ تلبیہ پڑھتے تھے اور ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا اور کچھ لوگ تکبیر پڑھتے تھے ان پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ عَنْ التَّلْبِيَةِ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عرفہ میں وقوف اختیار کرنا۔
محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں حضرت جبیر بیان کرتے ہیں میرا اونٹ گم ہوگیا میں اسے تلاش کرنے کے لیے نکلا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کے ہمراہ عرفہ میں کھڑے ہوئے پایا میں نے سوچا اللہ کی قسم ان کا تعلق حمس (قریش) سے ہے یہ اس وقت یہاں کیا کررہے ہیں (کیونکہ قریش وہاں قیام نہیں کرتے تھے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ جُبَيْرٌ أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنْ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَا هُنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ پورا عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمی کی پھر آپ لوگوں کے سامنے بیٹھ گئے ایک صاحب آئے عرض کی یا رسول اللہ میں نے قربانی سے پہلے ہی سر منڈوا لیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے ایک اور صاحب آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی طواف کرلیا ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے پھر راوی کہتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا آپ نے یہی جواب دیا کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا عرفہ سارے کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے اور مزدلفہ سارے کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے اور منیٰ میں ہر جگہ قربانی ہوسکتی ہے اور مکہ کی ہر گلی گزرگاہ اور راستہ قربانی کی جگہ ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ لَا حَرَجَ ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ لَا حَرَجَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے روانگی کے وقت کیسے چلا جائے
حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سواری پر سوار تھے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے روانہ ہوئے تو آپ آہستہ چل رہے تھے جب آپ کسی ٹیلہ کے پاس تشریف لاتے تو سواری کو تیز کرلیتے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ وَكَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا أَتَى عَلَى فَجْوَةٍ نَصَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا۔
کریب بیان کرتے ہیں انھوں نے حضرت اسامہ بن زید سے سوال کیا کہ جب آپ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سواری پر سوار تھے تو اس شام آپ نے کیا کیا۔ مجھے اس بارے میں بتائیں حضرت اسامہ نے جواب دیا جب ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ رات کے وقت اونٹ بٹھاتے تھے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں اونٹنی کو بٹھایا پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیشاب کیا (راوی کہتے ہیں انھوں نے) یہ نہیں کہا کہ پانی دو پھر آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا لیکن اس میں اسباغ نہیں کیا پھر میں نے عرض کی یا رسول اللہ نماز۔ آپ نے فرمایا نماز آگے چل کر پڑھیں گے حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں پھر آپ سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آگئے۔ آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا لوگ اپنے اپنے پڑاؤ کی جگہ پر تھے لوگوں نے اس وقت تک احرام نہ کھولا جب تک عشاء کی نماز ادانہ کرلی۔ اور جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھا دی تو پھر لوگوں نے اپنا اپنا احرام کھول دیا۔ کریب بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی مجھے یہ بتائیں اگلے دن آپ نے صبح کیا کیا تو حضرت اسامہ نے جواب دیا اس وقت حضرت فضل بن عباس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سوار تھے میں قریش کے چند لوگوں کے ساتھ پیدل آگے چلا گیا تھا۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ أَخْبِرْنِي عَشِيَّةَ رَدِفْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ قَالَ جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ وَمَا قَالَ أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالسَّابِغِ جِدًّا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ قَالَ فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ وَالنَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ قَالَ رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ أُسَامَةَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا۔
حضرت ابوایوب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کی تھی۔ راوی کہتے ہیں یعنی مزدلفہ میں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ يَعْنِي بِجَمْعٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا۔
سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کی ان میں کسی ایک کے لیے بھی اذان نہیں دی گئی صرف اقامت کہی گئی آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی تسبیح یا نوافل ادا نہیں کئے اور ان دونوں میں سے کسی ایک نماز کے بعد بھی کوئی تسبیح یا نوافل ادا نہیں کئے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلَّا بِالْإِقَامَةِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ سے رات کے وقت ہی روانہ ہوجانے کی رخصت۔
سیدہ ام حبیبہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یہ ہدایت کی وہ مزدلفہ سے رات کے وقت ہی روانہ ہوجائیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ شَوَّالٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ سے رات کے وقت ہی روانہ ہوجانے کی رخصت۔
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں سیدہ سودہ بنت زمعہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ اجازت مانگی کہ آپ اپنے روانہ ہونے سے پہلے ہی انھیں روانگی کی اجازت دیں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اجازت دے دی۔ قاسم بیان کرتے ہیں وہ ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں وہ روانہ ہوگئیں اور ہم لوگ وہیں رہے یہاں تک کہ ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں جس طرح سیدہ سودہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی تھی میں بھی اسی طرح آپ سے اجازت لے کر لوگوں سے پہلے چلی جاتی تھی تو یہ بات میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے خوش ہوا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْذَنَ لَهَا فَتَدْفَعَ قَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَ الْقَاسِمُ وَكَانَتْ امْرَأَةً ثَبِطَةً قَالَ الْقَاسِمُ الثَّبِطَةُ الثَّقِيلَةُ فَدَفَعَتْ وَحُبِسْنَا مَعَهُ حَتَّى دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ فَأَدْفَعَ قَبْلَ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کس عمل کے ذریعے حج مکمل ہوتا ہے۔
عبدالرحمن بن یعمر دہلی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حج کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا حج عرفات میں قیام کا نام ہے (راوی کو شک ہے) عرفہ کا نام ہے جو شخص فجر کی نماز سے پہلے مزدلفہ میں رات کے وقت پہنچ جاتا ہے اس نے حج کو پالیا۔ آپ فرماتے ہیں منیٰ کے ایام تین ہیں ارشاد ربانی ہے " جو شخص دونوں میں جلدی کرے اسے کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر سے کام لے اسے بھی کوئی گناہ نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمُرَ الدِّيلِيَّ يَقُولُ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَجِّ فَقَالَ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ أَوْ يَوْمُ عَرَفَةَ وَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَدْ أَدْرَكَ وَقَالَ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کس عمل کے ذریعے حج مکمل ہوتا ہے۔
حضرت عروہ بن مضرس بیان کرتے ہیں ایک شخص میدان عرفات میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت کئی لوگ موجود تھے اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول میں جبل طے سے آرہا ہوں میری سواری تھک گئی ہے اور میں خود بھی تھک کر چور ہوگیا ہوں کوئی پہاڑ ایسا نہیں ہے جس سے گزر کر میں نہیں آیا کیا مجھے حج نصیب ہوگا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے ہمراہ اس نماز میں شریک ہو اور وہ رات یا دن سے پہلے عرفات آگیا اس نے اپنے احرام کو پورا کرلیا اور حج کو مکمل کرلیا۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْقِفِ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّءٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ إِنْ بَقِيَ جَبَلٌ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ قَالَ مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ وَقَدْ أَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ وَتَمَّ حَجُّهُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ سے روانگی کو وقت
حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں زمانہ جاہلیت میں لوگ مزدلفہ سے سورج نکلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے وہ یہ کہا کرتے ہیں اے ثبیر تو روشن ہوجا تاکہ ہم روانہ ہوجائیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی مخالفت کی اور آپ سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی جس وقت روشنی میں فجر کی نماز پڑھی جاتی ہے اس وقت روانہ ہوگئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَكَانُوا يَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ لَعَلَّنَا نُغِيرُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ بِقَدْرِ صَلَاةِ الْمُسْفِرِينَ أَوْ قَالَ الْمُشْرِقِينَ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ وادی محسر سے تیزی سے گزرنا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت فضل روایت کرتے ہیں عرفہ کی رات اور مزدلفہ کی صبح جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا آرام سے چلو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اونٹ کی لگام کھینچے ہوئے تھے جب آپ وادی محسر میں داخل ہوئے تو آپ نے رفتار تیز کردی۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔

امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں اونٹ کو تیز چلانے کے لیے لفظ ایضاع استعمال ہوتا ہے جبکہ گھوڑے کو دوڑانے کیلئے لفظ ایجاف استعمال ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا أَوْضَعَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ الْإِيضَاعُ لِلْإِبِلِ وَالْإِيجَافُ لِلْخَيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی وجہ سے محصور ہوجانے کا حکم
نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے صاحبزادے عبداللہ اور سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ آپ کو بیت اللہ تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا یہ اس زمانے کی بات ہے جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر پر حملہ کیا تھا اور ابھی انھیں شہید نہیں کیا تھا حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے جواب دیا ہم لوگ عمرہ کرنے کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ روانہ ہوئے تو بیت اللہ سے پہلے ہی کفار قریش ہمارے راستے میں رکاوٹ بن گئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہیں اپنی قربانی کا جانور ذبح کیا اور اپنا سر منڈوا لیا اور واپس تشریف لائے میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں میں نے عمرہ کی نیت کرلی ہے اگر مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کرلوں گا اگر راستے میں رکاوٹ ڈال دی گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا اور میں بھی اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا راوی کہتے ہیں پھر حضرت عبداللہ نے ذوالحلیفہ سے عمرہ کی نیت کی اور روانہ ہوئے اور بولے ان دونوں کی حیثیت ایک ہی ہے میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے عمرہ کے ہمراہ حج کی نیت بھی کرلی ہے نافع بیان کرتے ہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے حج اور عمرہ کے لیے ایک طواف کیا اور ان دونوں کی ایک ہی مرتبہ سعی کی۔ اور پھر اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک قربانی کے دن انھوں نے قربانی نہیں کی۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا جو شخص حج اور عمرہ ایک ساتھ ادا کرے وہ ان دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک قربانی کے دن ان دونوں سے مکمل طور پر فارغ نہ ہوجائے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمًا كَلَّمَا ابْنَ عُمَرَ لَيَالِيَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ فَقَالَا لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَقَالَ قَدْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا كَانَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ سَارَ فَقَالَ إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي قَالَ نَافِعٌ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعَى لَهُمَا سَعْيًا وَاحِدًا ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى جَاءَ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَهْدَى وَكَانَ يَقُولُ مَنْ جَمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ فَأَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا فَلَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا يَوْمَ النَّحْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی وجہ سے محصور ہوجانے کا حکم
حجاج بن عمرو انصاری نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہوجائے تو وہ احرام کھول دے اس پر بعد میں حج کرنا لازم ہوگا۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں یہی روایت ایک سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى قَالَ أَبُو مُحَمَّد رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ وَمَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کی رمی کس وقت کی جائے
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کے دن چاشت کے وقت یا اس کے بعد سورج ڈھلنے سے پہلے جمرہ کی رمی کی تھی۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ الضُّحَى وَبَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ جمرہ عقبہ کی رمی کس وقت کی جائے
عاصم بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹوں کے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ قربانی کے دن رمی کرلیں پھر اس سے اگلے دن بھی کرسکتے ہیں اور پھر اس کے بعد دو دن تک کرسکتے ہیں پھر وہ روانگی کے دن بھی کرسکتے ہیں۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُوا الْغَدَ أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ ثُمَّ يَرْمُوا يَوْمَ النَّفْرِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ
tahqiq

তাহকীক: