সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

حج کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪ টি

হাদীস নং: ১৭৫৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والے شخص کا شکار کا گوشت کھانا جبکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو
معاذ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں طلحہ بن عبیداللہ کے ساتھ ایک سفر میں تشریف تھا آپ کی خدمت میں ایک پرندہ تحفہ کے طور پر پیش کیا گیا وہ سب لوگ حالت احرام میں تھے حضرت طلحہ سو رہے تھے ہم میں سے بعض لوگوں نے پرندے کا گوشت کھالیا اور بعض لوگوں نے پرہیز کیا جب حضرت طلحہ بیدار ہوئے تو لوگوں نے انھیں اس بارے میں بتایا تو حضرت طلحہ نے ان لوگوں کی رائے کی تائید کی جن لوگوں نے گوشت کھالیا تھا اور فرمایا اس شکار کا گوشت ہم نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ کھایا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَاسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ فَأَخْبَرُوهُ فَوَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والے شخص کا شکار کا گوشت کھانا جبکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں مجھے حضرت صعب بن جثامہ نے یہ بات بتائی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے میں اس وقت ابواء (راوی کو شک ہے یا شاید) ودان کے مقام پر موجود تھا میں نے آپ کی خدمت میں ایک نیل گائے کا گوشت تحفے کے طور پر پیش کیا تو آپ نے وہ مجھے واپس کردیا جب آپ نے میرے چہرے پر ملال کے آثار دیکھے تو آپ نے فرمایا میں نے تمہیں واپس نہیں کرنا تھا لیکن ہم حالت احرام میں تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَيْتُ لَهُ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِي الْكَرَاهِيَةَ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ زندہ شخص کی طرف سے حج کرنا
حضرت ابن عباس (رض) حضرت فضل بن عباس کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت فضل حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سوار تھے وہ بیان کرتے ہیں خثعم قبیلے والی ایک عورت آئی اور عرض کی اللہ تعالیٰ نے حج اپنے بندوں پر فرض کیا ہے اور میرے والد بہت بوڑھے ہوچکے ہیں وہ سواری پر سنبھل کر بیٹھ نہیں سکتے کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جی ہاں۔ امام دارمی سے سوال کیا گیا آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَتْ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَمْسِكُ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَلَمْ يَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد تَقُولُ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ زندہ شخص کی طرف سے حج کرنا
حضرت ابن عباس (رض) حضرت فضل بن عباس کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک خاتون نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا میرے والد بوڑھے ہوچکے ہیں وہ اونٹ پر صحیح بیٹھ نہیں سکتے لیکن اللہ کا فرض (یعنی حج) ان پر فرض ہوچکا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا تم ان کی طرف سے حج کرلو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ هُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ لَا يَسْتَوِي عَلَى الْبَعِيرِ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجِّي عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ زندہ شخص کی طرف سے حج کرنا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ مسئلہ دریافت کیا اس وقت حضرت فضل بن عباس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سواری پر سوار تھے اس خاتون نے عرض کی یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے میرے والد بوڑھے ہوچکے ہیں وہ سواری پر صحیح بیٹھ نہیں سکتے اگر میں ان کی طرف سے حج کرلوں کیا ان کا فرض ادا ہوجائے گا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا جی ہاں !

حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے یہی روایت سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ زندہ شخص کی طرف سے حج کرنا
حضرت فضل بن عباس (راوی کو شک ہے یا شاید) حضرت عبیداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ میرے والد یا شاید میری والدہ بوڑھے ہوچکے ہیں اگر میں انھیں اونٹ پر سوار کرتا ہوں وہ سنبھل کر بیٹھ نہیں سکیں گے اگر میں انھیں باندھ دیتا ہوں تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ فوت ہوجائیں گے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تمہارا کیا خیال ہے تمہارے والد یا شاید تمہاری والدہ کے ذمہ کوئی قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے اس نے جواب دیا جی ہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو (راوی کو شک ہے یا شاید) یہ فرمایا اپنی والدہ کی طرف سے۔ امام دارمی سے سوال کیا گیا کیا زندہ آدمی کی طرف سے حج کیا جاسکتا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا اگر اس زندہ شخص پر فرض ہو جبکہ اس زندہ شخص پر حج فرض ہوچکا ہو ان سے پوچھا گیا آپ حضرت فضل بن عباس کی حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ أَوْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرٌ إِنْ أَنَا حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ أَوْ أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ أَوْ أُمِّكَ قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ الْحَجُّ عَنْ الْحَيِّ قَالَ إِذَا لَزِمَهُ قِيلَ لَهُ تَقُولُ بِحَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مرحوم شخص کی طرف سے حج کرنا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی میرے والد کو اسلام کا زمانہ نصیب ہوگیا وہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور سواری پر سوار نہیں ہوسکتے ان پر حج فرض ہوچکا ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تم ان کی اولاد میں سب سے بڑے ہو اس نے جواب دیا جی ہاں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے والد کے ذمہ کوئی قرض ہوتا تو تم ان کی طرف سے ادا کردیتے اور کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہوجاتا اس نے عرض کی جی ہاں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تم ان کی طرف سے حج کرلو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ مَوْلًى لِآلِ الْزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ رُكُوبَ الرَّحْلِ وَالْحَجُّ مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاحْجُجْ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مرحوم شخص کی طرف سے حج کرنا۔
حضرت سودہ بنت زمعاء بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی میرے والد بوڑھے ہوچکے ہیں وہ حج نہیں کرسکتے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد کے ذمہ کوئی قرض ہوتا تو کیا تم ان کی طرف سے ادا کردیتے اور کیا وہ ان کی طرف سے قبول ہوجاتا اس نے عرض کی جی ہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔
أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ يُقَالُ لَهُ يُوسُفُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَوْ الزُّبَيْرُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ قَالَتْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ قُبِلَ مِنْهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُ أَرْحَمُ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود کا استلام
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں جب سے میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان دونوں ارکان (حجراسود اور رکن یمانی) کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کے بعد تنگی اور آسانی کسی بھی زمانے میں کبھی میں نے ان دوارکان کا استلام ترک نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں میں نے نافع سے دریافت کیا کیا حضرت ابن عمر (رض) دونوں رکنوں کے درمیان چلا کرتے تھے انھوں نے جواب دیا وہ اس لیے چلتے تھے کہ اس طرح استلام میں آسانی رہتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا قُلْتُ لِنَافِعٍ أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ قَالَ إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي لِيَكُونَ أَيْسَرَ لِاسْتِلَامِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود کے استلام کی فضیلت
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب حجر اسود کو لائے گا تو اس کی دو آنکھیں ہونگی جس کے ذریعے وہ دیکھ رہا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس کے ذریعے وہ بولے گا اور وہ ہر اس شخص کے بارے میں گواہی دے گا جس نے اس کا استلام کیا تھا۔ ایک روایت میں الفاظ کچھ مختلف تھے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ قَالَ سُلَيْمَانُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৬৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ تین مرتبہ رمل کرنا اور چار مرتبہ چل کر گزرنا
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر اسود سے رکن یمانی تک تین چکروں میں رمل کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ تین مرتبہ رمل کرنا اور چار مرتبہ چل کر گزرنا
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بیت اللہ کا پہلی مرتبہ طواف کیا تو تین چکروں میں آپ دوڑ کر گزرے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے جب آپ صفا اور مروہ کی سعی کرتے ہوئے درمیان میں پہنچے تو آپ دوڑ کر گزرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے نافع سے دریافت کیا حضرت عبداللہ جب رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو کیا وہ چلنا شروع کردیتے تھے انھوں نے جواب دیا نہیں البتہ جب رکن کے پاس ہجوم زیادہ ہوتا تھا تو چلتے تھے۔ کیونکہ وہ رکن کے استلام کے بغیر آگے نہیں جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقُلْتُ لِنَافِعٍ أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَمْشِي إِذَا بَلَغَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ يُزَاحَمَ عَلَى الرُّكْنِ فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَلِمَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ تین مرتبہ رمل کرنا اور چار مرتبہ چل کر گزرنا
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر اسود سے رکن یمانی تک تین چکروں تک رمل کیا ہے اور چار چکروں میں چل کر گزرے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مخصوص طرز پر چادر لپیٹ کر رمل کرنا۔
ابن یعلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مخصوص طرز پر چادر لپیٹ کر طواف کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ طَافَ مُضْطَبِعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج قران کرنے والے کا طواف۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص حج اور عمرہ کا احرام باندھے اس کے لیے ان دونوں کے واسطے ایک طواف کافی ہے اور وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا جب تک ان دونوں سے فارغ نہ ہوجائے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ سواری پر بیٹھ کر طواف کرنا۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا تھا آپ جب رکن کے پاس تشریف لاتے تو اپنے ہاتھ میں موجود چیز کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ وَكَبَّرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج کرنے والی خاتون کو جب حیض آجائے تو وہ کیا کرے۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں میں جب مکہ میں آئی تو مجھے حیض آگیا میں صفا ومروہ کا طواف نہیں کرسکی تو میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی تو آپ نے ارشاد فرمایا تم وہ تمام کام کرو جو حاجی کرتے ہیں البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ طواف کے دوران بات چیت کرنا۔
حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف کرنا نماز پڑھنے کی مانند ہے۔ تاہم اللہ نے اس طواف میں گفتگو کو جائز قرار دیا ہے تو اس کے دوران کوئی شخص جو بات کرے اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کرے۔

یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَحَلَّ فِيهِ الْمَنْطِقَ فَمَنْ نَطَقَ فِيهِ فَلَا يَنْطِقْ إِلَّا بِخَيْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنا۔
حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں میرے پروردگار نے تین امور کے بارے میں میری رائے کی موافقت کی ہے میں نے عرض کی تھی اے اللہ کے رسول اگر آپ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالیں تو یہ مناسب ہوگا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی " مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج کرنے کا سنت طریقہ
امام جعفر صادق اپنے والد امام محمد بن باقر کا یہ بیان نقل کرتے ہیں امام باقر فرماتے ہیں ہم حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انھوں نے تمام حاضرین کا تعارف دریافت کیا جب میری باری آئی تو میں نے کہا میں علی بن حسین بن علی کا بیٹا " محمد " ہوں۔ تو حضرت جابر بن عبداللہ نے اپنا ہاتھ میرے اوپر والے اور نیچے والے بٹن کی طرف بڑھایا اور پھر اپنا منہ میرے سینے کے اوپر رکھ دیا میں ان دنوں نوجوان تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ فرمایا اے میرے بھتیجے تمہیں خوش آمدید ہو تم جو چاہو سوال کرسکتے ہو میں نے انس (رض) سے سوال کیا وہ نابینا ہوچکے تھے اور نماز کا وقت ہوچکا تھا۔ انھوں نے چھوٹی چادر لپیٹ کر نماز پڑھنا شروع کردی۔ وہ جب بھی اس چادر کو اپنے کندھوں کے اوپر ڈالتے تو اس کے ایک طرف والا حصہ ڈھلک جاتا کیونکہ وہ چھوٹی چادر تھی حالانکہ ان کی بڑی چادر ایک طرف کھونٹی کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی جب انھوں نے نماز ادا کرلی تو میں نے دریافت کیا آپ ہمیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے بارے میں بتائیں انھوں نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نو برس تک کوئی حج نہ کیا پھر دسویں سال آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج کے لیے تشریف لے جا رہے تھے کہ مدینہ منورہ سے بہت سے لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے ان میں سے بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے ہوئے اسی طرح حج کریں جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کریں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ہم لوگ بھی روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ پہنچ گئے وہاں حضرت اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابوبکر کو جنم دیا انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کسی کو بھیجا کہ اب میں کیا کروں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہدایت کی کہ تم غسل کرلو اور کپڑے کے ذریعے خون کے مقام کو باندھ لو اور احرام باندھ لو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی پھر اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی میں نے یہ دیکھا کہ حدنگاہ تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے سوار اور پیدل لوگوں کا ہجوم ہے آپ کے دائیں طرف بھی اسی طرح لوگ تھے اور بائیں طرف بھی اتنے ہی لوگ تھے اور آپ کے پیچھے بھی اتنے ہی لوگوں کا ہجوم تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان موجود تھے آپ پر قرآن نازل ہورہا تھا آپ کو اس کے مفہوم کا بخوبی علم تھا آپ نے کلمہ توحید کے ذریعے تلبیہ پڑھا اور کہا میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بیشک حمد اور نعمت تیرے لیے ہے اور بادشاہی بھی تیرا کوئی شریک نہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو تلبیہ پڑھا تھا لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھنا شروع کردیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہی تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم آپ کی ہمراہی میں بیت اللہ تک پہنچ گئے۔

حضرت جابر بیان کرتے ہیں ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی ہمیں عمرے کا کوئی خیال نہیں تھا جب ہم بیت اللہ ان کے ہمراہ پہنچ گئے آپ نے رک کر ان کا استلام کیا تین مرتبہ رمل کیا اور چار مرتبہ چل کر گزرے پھر آپ مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے وہاں نماز ادا کی اور یہ آیت پڑھی۔ " مقام ابراہیم کو مصلی (جائے نماز) بنا لو۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا تھا میرے والد صاحب نے یہ بات بتائی تھی کہ میرا خیال ہے انھوں نے حضرت جابر کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے طور پر نقل کی ہوگی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دو رکعات میں سورت اخلاص اور سورت کافرون کی تلاوت کی۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکن کے پاس واپس تشریف لائے آپ نے اس کا استلام کیا پھر آپ دروازے سے ہو کر صفا کی طرف تشریف لے گئے صفا تشریف لا کر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔ " بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا میں اس سے آغاز کروں گا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا سے آغاز کیا آپ اس پر چڑھ گئے جب آپ نے بیت اللہ کی طرف نظر کی تو اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور یہ پڑھا۔

" اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی ہے حمد و نعمت اسی کے لیے مخصوص ہے وہ زندہ کرتا ہے۔ وہ موت دیتا ہے وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے صرف ایک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے خاص بندوں کی مدد کی اور دشمنوں کے گروہوں کو تنہا اس نے پسپا کیا۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان دعا کی اور یہی کلمات تین مرتبہ پڑھے پھر آپ اتر کر مروہ کے پاس آگئے جب آپ بطن وادی میں پہنچے امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی فرماتے ہیں یعنی وہاں پہنچ کر آپ دوڑ کر گزرے یہاں تک کہ آپ بلندی کی طرف چڑھنے لگے تو آپ پھر چلنے لگے۔ ہم لوگ جب مروہ پر آئے تو آپ نے مروہ پر بھی وہی عمل کیا جو صفا پر کیا تھا یہاں تک کہ جب آپ نے مروہ کا آخری چکر لگایا تو یہ فرمایا جو بات بعد میں میرے ذہن میں آئی اگر مجھے پہلے خیال آجاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا اور اس عمل کو عمرہ بنا لیتا تم میں سے جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کردے۔ حضرت سراقہ بن مالک نے دریافت کیا یا رسول اللہ کیا یہ اسی سال کے لیے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرتے ہوئے ارشاد فرمایا عمرہ حج میں داخل ہوگیا یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ حضرت علی (رض) یمن سے قربانی کے کچھ جانور لے کر آئے تو انھوں نے سیدہ فاطمہ کو دیکھا کہ وہ احرام کھول چکی ہیں انھوں نے رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ لگایا ہوا ہے حضرت علی (رض) نے اس بات پر ان کا انکار کیا کہ حضرت فاطمہ نے بتایا کہ میرے والد نے مجھے یہ ہدایت کی ہے حضرت علی (رض) نے فرمایا میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گیا تاکہ حضرت فاطمہ کی شکایت کروں جو انھوں نے عمل کیا ہے اس کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کروں اور جو بات بتائی ہے اس کے بارے میں بھی دریافت کروں اور میں نے جو انکار کیا ہے اس کا بھی ذکر کروں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا نیت کی تھی حضرت علی (رض) کہتے ہیں میں نے عرض کی میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی نیت کرتا ہوں جو تیرے رسول نے کی ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے ساتھ تو قربانی کا جانور بھی ہے تو تم احرام نہ کھولو۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں حضرت علی (رض) یمن سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک سو قربانی کے اونٹ لے کر۔ سب لوگوں نے احرام کھول لیے اور بال کٹوا لیے سوائے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور ان لوگوں کے جن کے ہمراہ قربانی کے جانور موجود تھے۔

ترویہ کے دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منیٰ کا رخ کیا تو ہم لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے منیٰ پہنچ کر آپ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور صبح کی نماز ادا کی پھر آپ نے وہاں کچھ دیر قیام کیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا تو آپ نے نمرہ میں ایک خیمہ لگانے کا حکم دیا پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہو کر روانہ ہوئے قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ مشعر حرام کے نزدیک قیام کریں گے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں قریش مزدلفہ کے نزدیک قیام کیا کرتے تھے لیکن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے گزر کر عرفہ آگئے وہاں آپ کے لیے نمرہ میں خیمہ لگایا جا چکا تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری سے اترے جب سورج ڈھل گیا تو آپ کے حکم کے ذریعے قصواء پر پالان رکھا گیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سوار ہو کر بطن وادی میں تشریف لائے آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ " بیشک تمہارے خون اموال اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر قابل احترام ہے خبردار زمانہ جاہلیت کے تمام تر معاملات میں اپنے قدموں کے نیچے روندتا ہوں زمانہ جاہلیت کے تمام خون معاف ہیں اور سب سے پہلے میں اپنا خون معاف کرتا ہوں جو ربیعہ بنت حارث کے صاحبزادے کا تھا۔ جو بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا اسے ہذیل قبیلے کے لوگوں نے قتل کردیا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا تمام سود معاف ہے میں سب سے پہلے حضرت عباس بن عبدالمطلب کے وصول کرنے والے سود کو معاف کرتا ہوں وہ سب معاف ہیں۔ خواتین کے بارے میں اللہ سے ڈرو تم نے اللہ کی امانت کے ذریعے انھیں حاصل کیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو تم ان کی پٹائی کرو لیکن زیادتی کئے بغیر اور ان کا تم پر حق ہے کہ تم ان کے کھانے پینے اور لباس کا مناسب طور پر انتظام کرو اگر تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے تو تم کیا جواب دو گے لوگوں نے عرض کی ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے تصدیق کردی ہے اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے اور خیر خواہی کی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی اے اللہ تو گواہ ہوجا اے اللہ تو گواہ ہوجا اے اللہ تو گواہ ہوجا۔ پھر حضرت بلال نے ایک ہی اذان کہی پھر امامت کہی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز ادا کی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز ادا کی آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی نماز ادا نہیں کی۔ پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور کھڑے ہوگئے آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ " م خیرات " اور ایک روایت میں ہے " شجیرات " کی طرف کیا جبل مشات آپ کے سامنے تھا آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور وہاں کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب رہ گیا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اس کی زردی رخصت ہوگئی جب سورج کی ٹکیہ غروب ہوگئی آپ نے حضرت اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور روانہ ہوگئے آپ نے قصواء اونٹنی کی لگام کھینچی ہوئی تھی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے ساتھ مل رہا تھا آپ اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے یہ فرما رہے تھے آرام سے چلو، آرام سے چلو، جب آپ کسی ٹیلے کے پاس آتے تو اس کی لگام ڈھیلی کردیتے تاکہ وہ اوپر چڑھ جائے یہاں تک کہ آپ مزدلفہ تشریف لے آئے وہاں آپ نے ایک اذان اور دو اقامت کے ذریعے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ جب صبح صادق کا وقت ہوا تو آپ نے فجر کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ ادا کی پھر آپ قصوا اونٹنی پر سوار ہوئے اور مشعرح رام کے قریب آکر آپ نے قیام کیا۔

آپ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اس کی کبریائی بیان کی اس کی معبودیت کا ذکر کیا اس کی وحدانیت کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ جب اچھی طرح سے روشنی پھیل گئی تو سورج طلوع ہونے کے بعد آپ وہاں سے روانہ ہوئے آپ نے حضرت فضل بن عباس کو پیچھے بٹھا لیا وہ خوبصورت آدمی تھے ان کے بال بھی بہت خوبصورت تھے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روانہ ہوئے تو کچھ خواتین آپ کے پاس سے گزریں جو جارہی تھیں۔ حضرت فضل نے ان کی طرف دیکھنا شروع کردیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ ان کے چہرے پر رکھا اور حضرت فضل کا منہ دوسری طرف پھیر دیا یہاں تک کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محسر پہنچے تو آپ نے اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کردی اور اس کے درمیانی راستے پر ہو لیے جس سے تم لوگ جمرہ کبری کی طرف جاتے ہو جب آپ اس جمرہ کے پاس سے تشریف لائے جس کے پاس درخت ہیں تو وہاں آپ نے چھوٹی چھوٹی سات کنکریوں کے ذریعے رمی کی۔ پھر آپ نے بطن وادی سے رمی کی پھر آپ واپس قربان گاہ کی طرف لائے وہاں آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کئے اور پھر بقیہ حضرت علی (رض) کو دے دیئے جو انھوں نے قربان کئے آپ نے حضرت علی (رض) کو اپنی قربانی میں شریک کرلیا۔ پھر آپ کے حکم کے تحت ہر قربانی کے اونٹ کے کچھ حصہ لے کر ایک ہنڈیا میں پکایا گیا ان دونوں حضرات نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر آپ سوار ہوئے۔ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ بیت اللہ تشریف لائے تو آپ نے مکہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ بنوعبدالمطلب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ زم زم میں سے پانی نکال رہے تھے آپ نے فرمایا بنو عبدالمطلب پانی نکالتے رہو اگر لوگ تمہارے پلانے کے کام پر غالب نہ آگئے ہوتے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا ان لوگوں نے پانی کا ڈول آپ کی طرف بڑھایا تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ امام جعفر صادق کے حوالے سے امام محمد باقر سے حضرت جابر (رض) سے منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَ عَنْ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى زِرِّيَ الْأَعْلَى وَزِرِّيَ الْأَسْفَلِ ثُمَّ وَضَعَ فَمَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا شِئْتَ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي سَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ رَجَعَ طَرَفُهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ فَصَلَّى فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا فَقَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ فَنَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَخَلْفَهُ مِثْلُ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يُنْزَلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ فَلَمْ يَزِدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا وَلَبَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ قَالَ جَابِرٌ لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَكَانَ أَبِي يَقُولُ وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا فَلَمَّا أَتَى الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ يَعْنِي فَرَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا مَشَى حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرَ طَوَافٍ عَلَى الْمَرْوَةِ قَالَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُحِلَّ وَيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِأَبَدِ أَبَدٍ فَشَبَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْأُخْرَى فَقَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ لَا بَلْ لَأَبَدِ أَبَدٍ وَقَدِمَ عَلِيٌّ بِبُدْنٍ مِنْ الْيَمَنِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابَ صَبِيغٍ وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ عَلِيٌّ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَبِي أَمَرَنِي فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحَرِّشُهُ عَلَى فَاطِمَةَ فِي الَّذِي صَنَعَتْ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَكَرَتْ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَ صَدَقَتْ مَا فَعَلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ قَالَ فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحْلِلْ قَالَ فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَّهَ إِلَى مِنًى فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى إِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ أَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ لَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْمُزْدَلِفَةِ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتْ يَعْنِي الشَّمْسَ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا إِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَأَوَّلُ دَمٍ وُضِعَ دِمَاؤُنَا دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ فَرَفَعَهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِنِدَاءٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَةٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ لَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى وَقَفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصُّخَيْرَاتِ وَقَالَ إِسْمَعِيلُ إِلَى الشُّجَيْرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَذَهَبَتْ الصُّفْرَةُ حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ فَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ ثُمَّ دَفَعَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُصِيبُ رَأْسُهَا مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنْ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الْفَجْرَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَا اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا ثُمَّ دَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا فَلَمَّا دَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالظُّعُنِ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ فَحَوَّلَ الْفَضْلُ رَأْسَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ حَتَّى إِذَا أَتَى مُحَسِّرَ حَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى إِذَا أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَهَا الشَّجَرَةُ فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ حَصَاةٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ ثُمَّ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي بُدْنِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لُحُومِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَكِبَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَأَتَى الْبَيْتَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمَكَّةَ وَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْتَقُونَ عَلَى زَمْزَمَ فَقَالَ انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا يَغْلِبُكُمْ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا
tahqiq

তাহকীক: