সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
حج کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪ টি
হাদীস নং: ১৭৩৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ کس وقت احرام باندھنا مستحب ہے
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے بعد احرام باندھا تھا اور تلبیہ پڑھنا شروع کیا تھا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ قَالَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ هُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ أَوْ أَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کا بیان
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ تلبیہ پڑھا کرتے تھے۔ " میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بیشک حمد اور نعمت تیرے لیے ہیں اور بادشاہی میں بھی تیرا کوئی شریک نہیں نافع بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر (رض) ان کلمات میں ان کلمات کا اضافہ کیا کرتے تھے میں حاضر ہوں رغبت اور عمل تیرے ہی لیے ہیں میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا لَبَّى قَالَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ يَحْيَى وَذَكَرَ نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَزِيدُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ بلند آواز میں پڑھنا
خلاد بن سائب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا ہے جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے آپ اپنے ساتھیوں کو یہ حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پڑھیں۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرَائِيلُ فَقَالَ مُرْ أَصْحَابَكَ أَوْ مَنْ مَعَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ أَوْ بِالْإِهْلَالِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج میں کوئی شرط عائد کرنا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت زبیر بن عبدالمطلب کی صاحبزادی ضباعہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی یا رسول اللہ میں حج کرنا چاہتی ہوں میں کیا نیت کروں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا تم یہ نیت کرو میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں وہیں حلال ہوجاؤں گی جہاں آگے جانے کے قابل نہ رہوں (پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا) اپنے پروردگار کی بارگاہ میں تمہیں وہی سہولت حاصل ہوگی جس کا تم نے استثناء کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ قَالَ فَحَدَّثْتُ عِكْرِمَةَ فَحَدَّثَنِي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ فَكَيْفَ أَقُولُ قَالَ قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي فَإِنَّ لَكِ عَلَى رَبِّكِ مَا اسْتَثْنَيْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج افراد
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج افراد کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج قران
حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد اس حدیث کے ذریعے نفع دے مجھے فرشتے سلام کیا کرتے تھے۔ ابن زیاد نے مجھے یہ ہدایت کی میں نے انھیں داغ لگوا دیا تو سلام آنا بند ہوگیا یہاں تک کہ داغ کا اثر ختم ہوگیا۔ (تو سلام آنا شروع ہوگیا) تم یہ بات جان لو اللہ کی کتاب میں حج تمتع حلال ہے اس سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع نہیں کیا اس کے بارے میں قرآن کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا ایک صاحب نے اپنی رائے کے مطابق جو مناسب سمجھا اس کے بارے میں بیان کردیا۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ أَخْبَرَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ بَعْدُ إِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ وَإِنَّ ابْنَ زِيَادٍ أَمَرَنِي فَاكْتَوَيْتُ فَاحْتُبِسَ عَنِّي حَتَّى ذَهَبَ أَثَرُ الْمَكَاوِي وَاعْلَمْ أَنَّ الْمُتْعَةَ حَلَالٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيٌّ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا بَدَا لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع
محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے حج کے موقع پر حضرت معاویہ کو حضرت سعد بن مالک سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ آپ حج تمتع کے بارے میں کیا کہتے ہیں عمرے کو حج کے ساتھ ملا دینا۔ انھوں نے جواب دیا یہ بہت بہتر ہے حضرت معاویہ نے کہا حضرت عمر تو اس سے منع کیا کرتے تھے اور آپ حضرت عمر سے زیادہ بہتر ہیں ؟ حضرت سعد نے فرمایا عمر مجھ سے بہتر ہے لیکن یہ کام نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہے کیونکہ وہ حضرت عمر سے بھی بہتر ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ يَسْأَلُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ تَقُولُ بِالتَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ قَالَ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ فَقَالَ قَدْ كَانَ عُمَرُ يَنْهَى عَنْهَا فَأَنْتَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ قَالَ عُمَرُ خَيْرٌ مِنِّي وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع
حضرت ابوموسی بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ حج کرکے فارغ ہوچکے تھے اور بطحاء میں آپ نے پڑاؤ کیا ہوا تھا آپ نے مجھ سے دریافت کیا کیا تم نے حج کرلیا ہے میں نے عرض کی جی ہاں آپ نے دریافت کیا تم نے کون سا احرام باندھا تھا ؟ میں نے عرض کی میں نے یہ نیت کی تھی میں حاضر ہوں اور میں وہی احرام باندھتا ہوں جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باندھا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے بہت اچھا کیا اب جاؤ اور بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا مروہ کا چکر لگاؤ اور پھر احرام کھول دو حضرت ابوموسی بیان کرتے ہیں میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کا چکر لگایا۔ پھر میں بنوقیس سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے پاس آیا انھوں نے میرے سر میں سے جوئیں نکالیں اس کے بعد میں لوگوں کو یہی فتوی دیتارہا ایک مرتبہ ایک شخص نے مجھ کو کہا اے عبداللہ بن قیس اپنے پاس سے فتاوی بیان کرنا بند کردو آپ نہیں جانتے آپ کے بعد حج کے احکام کے بارے میں امیرالمومنین نے کیا حکم دیا ہے۔ (حضرت ابوموسی اشعری فرماتے ہیں) میں نے کہا اے لوگو میں نے تمہیں جتنے بھی فتوی دیئے ان سے باز آجاؤ امیرالمومنین تمہارے پاس تشریف لانے والے تم ان کی پیروی کرو جب حضرت عمر تشریف لائے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے یہ بات ذکر کی تو انھوں نے فرمایا اگر ہم اللہ کی کتاب کے حکم پر عمل کریں تو اللہ کی کتاب میں حج وعمرہ کو مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اگر ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کا جائز لیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا تھا جب تک قربانی کا جانور اپنے مخصوص مقام تک نہیں پہنچ گیا۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَجَّ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ لِي أَحَجَجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسَنْتَ اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ قَالَ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ فَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسِي فَجَعَلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ فَقَالَ لِي رَجُلٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدًا بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ فَقُلْتُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَأْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ أَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والا شخص احرام کی حالت میں (کسی جانور) کو قتل کرسکتا ہے ؟
حضرت ابن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی قتل کردے تو اسے کوئی بھی گناہ نہیں ہوگا کوا چوہا چیل بچھو اور باؤلا کتا۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَنْ قُتِلَ مِنْهُنَّ الْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والا شخص احرام کی حالت میں (کسی جانور) کو قتل کرسکتا ہے ؟
سیدہ عائشہ (رض) صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ فاسق جانوروں کو حل اور حرم میں قتل کرنے کا حکم دیا ہے چیل کوا چوہا بچھو اور باؤلا کتا۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں بعض روایات میں باؤلے کتے کی بجائے کالے کتے کا ذکر آیا ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحِدَأَةِ وَالْغُرَابِ وَالْفَأْرَةِ وَالْعَقْرَبِ وَالْكَلْبِ الْعَقُورِ قَالَ عَبْد اللَّهِ الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ الْأَسْوَدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا إِنَّ مَعْمَرًا كَانَ يَذْكُرُهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৯
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والے شخص کا بچھنے لگوانا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حالت احرام میں بچھنے لگوائے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫০
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والے شخص کا بچھنے لگوانا
حضرت عبداللہ بن بحینہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لحی جمل کے مقام پر پچھنے لگوائے تھے آپ اس وقت حالت احرام میں تھے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْيِ جَمَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫১
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والے شخص کا بچھنے لگوانا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حالت احرام میں بچھنے لگوائے تھے۔ اسحق بیان کرتے ہیں سفیان اس حدیث کو کبھی عطاء کے حوالے سے بیان کرتے ہیں اور کبھی طاؤس کے حوالے سے بیان کرتے ہیں اور کبھی ان دونوں کے حوالے سے ایک ساتھ ذکر کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ إِسْحَقُ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ عَطَاءٍ وَمَرَّةً عَنْ طَاوُسٍ وَجَمَعَهُمَا مَرَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫২
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام میں شادی کرنا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حالت احرام میں شادی کی تھی۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৩
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام میں شادی کرنا
نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں قریش سے تعلق رکھنے ایک شخص نے ابان بن عثمان کو شادی کا پیغام بھیجا وہ امیر حج تھے ابان نے کہا میرا خیال ہے یہ کوئی بد مذہب عراقی ہے حالت احرام والا شخص نہ تو کوئی خود نکاح کرسکتا ہے اور نہ کسی کا کوئی نکاح کرواسکتا ہے ہمیں یہ بات حضرت عثمان غنی نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے بتائی ہے۔ امام ابومحمد دارمی سے سوال کیا گیا آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ خَطَبَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ فَقَالَ أَبَانُ لَا أُرَاهُ عِرَاقِيًّا جَافِيًا إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عُثْمَانُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد تَقُولُ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৪
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام میں شادی کرنا
یزید بن اصم بیان کرتے ہیں سیدہ میمونہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب میرے ساتھ شادی کی تھی اس وقت ہم احرام کھول چکے تھے اور مکہ سے واپس آرہے تھے اور سرف کے مقام پر تھے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ أَنَّ مَيْمُونَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَلَالَانِ بَعْدَمَا رَجَعَ مِنْ مَكَّةَ بِسَرِفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৫
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام میں شادی کرنا
حضرت ابورافع بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدہ میمونہ سے شادی کی تھی آپ اس وقت احرام کھول چکے تھے جب آپ نے ان کے ساتھ شب بسری کی اس وقت آپ احرام کھول چکے تھے میں نے ان دونوں کے درمیان قاصد کے فرائض سر انجام دیئے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৬
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والے شخص کا شکار کا گوشت کھانا جبکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو
حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ بیان کرتے ہیں میرے والد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے احرام باندھا ہوا تھا جبکہ حضرت ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا انھوں نے ایک نیل گائے کو پکڑا اور اسے زخمی کردیا اور اس کا گوشت کھالیا (حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ایک نیل گائے کو پکڑ کر اس کو شکار کیا ہے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس کا حکم دیا اسے کھالو وہ سب لوگ حالت احرام میں تھے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ انْطَلَقَ أَبِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَأَصَابَ حِمَارَ وَحْشٍ فَطَعَنَهُ وَأَكَلَ مِنْ لَحْمِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَطَعَنْتُهُ فَقَالَ لِلْقَوْمِ كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৭
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والے شخص کا شکار کا گوشت کھانا جبکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو
حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم سفر کر رہے تھے لوگ حالت احرام میں تھے جبکہ حضرت ابوقتادہ حالت احرام میں نہیں تھے (حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں) میں نے ایک نیل گائے کو دیکھا میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اسے جا لیا لوگوں نے حالت احرام میں ہونے کے باوجود اس کا گوشت کھالیا لیکن میں نے نہیں کھایا تھا جب وہ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے انھوں نے آپ سے دریافت کیا کیا تم لوگوں نے شکار کیا تھا یا تم نے اسے مارا تھا (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ضربتم (یعنی تم نے اسے مارا ہے) لوگوں نے عرض کی نہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر تم کھالو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَبُو قَتَادَةَ حَلَالٌ إِذْ رَأَيْتُ حِمَارًا فَرَكِبْتُ فَرَسًا فَأَصَبْتُهُ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَلَمْ آكُلْ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ أَشَرْتُمْ قَتَلْتُمْ أَوْ قَالَ ضَرَبْتُمْ قَالُوا لَا قَالَ فَكُلُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫৮
حج کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ حالت احرام والے شخص کا شکار کا گوشت کھانا جبکہ اس نے خود شکار نہ کیا ہو
حضرت صعب بن جثامہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک نیل گائے کا گوشت لایا گیا تو آپ نے اسے واپس کردیا اور فرمایا ہم حالت احرام میں ہیں اور ہم شکار کا گوشت نہیں کھا سکتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ وَقَالَ إِنَّا حُرُمٌ لَا نَأْكُلُ الصَّيْدَ
তাহকীক: