আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب بیع کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৮ টি

হাদীস নং: ১২৭২
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو سلف درست نہیں اس کا بیان
حضرت عمر بن خطابن سے کسی نے کہا جو شخص کسی کو اناج قرض دئیے اس شرط پر کہ فلانے شہر میں ادا کرنا انہوں نے اس کو مکروہ جانا اور کہا بار برداری کی اجرت کہاں جائے گی۔ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شخص کو قرض دیا اور عمدہ اس سے ٹھہرایا عبداللہ بن عمر نے کہا یہ ربا ہے اس نے کہا پھر کیا حکم کرتے ہو عبداللہ بن عمر نے کہا قرض تین طور پر ہے ایک اللہ کے واسطے اس میں تو اللہ کی رضا مندی ہے ایک اپنے دوست کی خوشی کے لئے اس میں دوست کی رضا مندی ہے ایک قرض اس واسطے ہے کہ حلال مال دے کر حرام مال لے یہ سود ہے پھر وہ شخص بولا اب مجھ کو کیا حکم کرتے ہو ابوعبدالرحمن انہوں نے کہا میرے نزدیک مناسب یہ ہے کہ تو دستاویز کو پھاڑ ڈال اگر وہ شخص جس کو تو نے قرض دیا ہے جیسا مال تو نے دیا ہے ویسا ہی دے تو لے لے اگر اس سے برا دے اور تو لے لے تو تجھے اجر ہوگا اگر وہ اپنی خوشی سے اس سے اچھا دے تو اس نے تیرا شکریہ ادا کیا اور تو نے جو اتنے دنوں تک اس کو مہلت دی اس کا ثواب تجھے ملا۔
بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ السَّلَفِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي رَجُلٍ أَسْلَفَ رَجُلًا طَعَامًا عَلَى أَنْ يُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فِي بَلَدٍ آخَرَ فَكَرِهَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَالَ فَأَيْنَ الْحَمْلُ يَعْنِي حُمْلَانَهُ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَسْلَفْتُ رَجُلًا سَلَفًا وَاشْتَرَطْتُ عَلَيْهِ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَذَلِكَ الرِّبَا قَالَ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ السَّلَفُ عَلَى ثَلَاثَةِ وُجُوهٍ سَلَفٌ تُسْلِفُهُ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَلَكَ وَجْهُ اللَّهِ وَسَلَفٌ تُسْلِفُهُ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ صَاحِبِكَ فَلَكَ وَجْهُ صَاحِبِكَ وَسَلَفٌ تُسْلِفُهُ لِتَأْخُذَ خَبِيثًا بِطَيِّبٍ فَذَلِكَ الرِّبَا قَالَ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَرَى أَنْ تَشُقَّ الصَّحِيفَةَ فَإِنْ أَعْطَاكَ مِثْلَ الَّذِي أَسْلَفْتَهُ قَبِلْتَهُ وَإِنْ أَعْطَاكَ دُونَ الَّذِي أَسْلَفْتَهُ فَأَخَذْتَهُ أُجِرْتَ وَإِنْ أَعْطَاكَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتَهُ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَذَلِكَ شُكْرٌ شَكَرَهُ لَكَ وَلَكَ أَجْرُ مَا أَنْظَرْتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو سلف درست نہیں اس کا بیان
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص کسی کو قرض دے تو سوائے قرض ادا کرنے کے اور کوئی شرط نہ کرائے۔ عبداللہ بن مسعود کہتے تھے جو شخص کسی کو قرض دے اس سے زیادہ نہ ٹھہرائے اگر ایک مٹھی گھاس کی ہو۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کوئی جانور جس کا حلیہ اور صفت معلوم ہو کسی کو قرض دے تو کچھ قباحت نہیں اب مقروض ویسا ہی جانور ادا کرے۔ مگر لونڈی کو قرض لینا درست نہیں کیونکہ یہ ذریعہ ہے حرام کے حلال کرنے کا لوگ ایک درسرے کی لونڈی قرض لے آئیں گے پھر جب تک جی چاہے گا اس سے جماع کریں گے بعد اس کے مالک کو پھیر دیں گے یہ تو حلال نہیں ہمیشہ اہل علم اس سے منع کرتے رہے اور کسی کو اس کی اجازت نہ دی۔
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلَا يَشْتَرِطْ إِلَّا قَضَائَهُ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلَا يَشْتَرِطْ أَفْضَلَ مِنْهُ وَإِنْ كَانَتْ قَبْضَةً مِنْ عَلَفٍ فَهُوَ رِبًا قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ بِصِفَةٍ وَتَحْلِيَةٍ مَعْلُومَةٍ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ وَعَلَيْهِ أَنْ يَرُدَّ مِثْلَهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ الْوَلَائِدِ فَإِنَّهُ يُخَافُ فِي ذَلِكَ الذَّرِيعَةُ إِلَى إِحْلَالِ مَا لَا يَحِلُّ فَلَا يَصْلُحُ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَسْتَسْلِفَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ فَيُصِيبُهَا مَا بَدَا لَهُ ثُمَّ يَرُدُّهَا إِلَى صَاحِبِهَا بِعَيْنِهَا فَذَلِكَ لَا يَصْلُحُ وَلَا يَحِلُّ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَلَا يُرَخِّصُونَ فِيهِ لِأَحَدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৪
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو مول تول یا بیع ممنوع ہے اس کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ بیچیں بعض تمہارے اوپر بعض کے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৫
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو مول تول یا بیع ممنوع ہے اس کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مت ملو بنجاروں سے آگے بڑھ کر ان کا مال خریدنے کے واسطے اور نہ بیچنے ایک تم میں کا دوسرے کی بیع پر اور نہ بخش کرو اور نہ بیچے بستی والا دیہات والے کی طرف سے اور نہ جمع کرے دودھ اونٹ اور بکری کے تھنوں میں اگر کوئی ایسی اونٹنی یا بکری خریدے پھر دودھ دوہنے کے بعد اس کا حال معلوم ہو تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے اگر چاہے رکھ لے یا چاہے تو پھیر دے اور دوھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور دے دے۔ کہا مالک نے یہ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ بیچے تم میں کا دوسرے کی بیع پر اس سے یہ مراد ہے کہ ایک شخص دوسرے کے مول پر مول نہ کرے جب بائع (بچنے والا) پہلے مول پر راضی ہوچکا ہو اور اپنی چیز تو لنے لگا ہو اور عیب سے اپنے تئیں بری کرنے لگا ہو یا اور کوئی کام ایسا کرے جس سے معلوم ہو کہ بائع (بچنے والا) پہلے مول پر راضی ہوچکا ہے اور جو بائع (بچنے والا) پہلے مول پر راضی نہ ہو بلکہ وہ مال اسی طرح بیچنے کے واسطے رکھا ہوا تو ہر ایک کو اس کا مول کرنا درست ہے اور اگر ایک شخص کے مول کرتے ہی اور لوگوں کو مول کرنا منع ہوجائے تو اس میں بیچنے والے کا نقصان ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَلَقَّوْا الرُّکْبَانَ لِلْبَيْعِ وَلَا يَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنْ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِکَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَکَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى أَنْ يَسُومَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ إِذَا رَكَنَ الْبَائِعُ إِلَى السَّائِمِ وَجَعَلَ يَشْتَرِطُ وَزْنَ الذَّهَبِ وَيَتَبَرَّأُ مِنْ الْعُيُوبِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ أَنَّ الْبَائِعَ قَدْ أَرَادَ مُبَايَعَةَ السَّائِمِ فَهَذَا الَّذِي نَهَى عَنْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ بِالسَّوْمِ بِالسِّلْعَةِ تُوقَفُ لِلْبَيْعِ فَيَسُومُ بِهَا غَيْرُ وَاحِدٍ قَالَ وَلَوْ تَرَكَ النَّاسُ السَّوْمَ عِنْدَ أَوَّلِ مَنْ يَسُومُ بِهَا أُخِذَتْ بِشِبْهِ الْبَاطِلِ مِنْ الثَّمَنِ وَدَخَلَ عَلَى الْبَاعَةِ فِي سِلَعِهِمْ الْمَكْرُوهُ وَلَمْ يَزَلْ الْأَمْرُ عِنْدَنَا عَلَى هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৬
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو مول تول یا بیع ممنوع ہے اس کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا نجش سے اور یہ نجش ہے کہ مال کی قیمت اس کی حیثیت سے زیادہ دینے لگے لینے کی نیت سے نہیں بلکہ اس غرض سے کہ دوسرا شخص دھوکا کھا کر اس قیمت کو لے لے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ النَّجْشِ قَالَ مَالِک وَالنَّجْشُ أَنْ تُعْطِيَهُ بِسِلْعَتِهِ أَکْثَرَ مِنْ ثَمَنِهَا وَلَيْسَ فِي نَفْسِکَ اشْتِرَاؤُهَا فَيَقْتَدِي بِکَ غَيْرُکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৭
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع کے مختلف مسائل کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے بیان کیا کہ مجھ کو لوگ فریب دیتے ہیں خریدو فروخت میں آپ ﷺ نے فرمایا جب تو خریدو فروخت کیا کرے تو کہہ دیا کر کہ فریب نہیں ہے وہ شخص جب معاملہ کرتا تو یہی کہا کرتا کہ فریب نہیں ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا ذَکَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ قَالَ فَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ لَا خِلَابَة
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৮
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع کے مختلف مسائل کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ محمد بن منکدر کہتے تھے اللہ اس بندے کو چاہتا ہے جو بیچتے وقت نرمی کرتا ہے اور خریدتے وقت بھی نرمی کرتا ہے قرص ادا کرتے وقت بھی نرمی کرتا ہے اور قرض وصول کرتے وقت بھی۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا إِنْ بَاعَ سَمْحًا إِنْ ابْتَاعَ سَمْحًا إِنْ قَضَی سَمْحًا إِنْ اقْتَضَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৯
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع کے مختلف مسائل کا بیان
سعید بن مسیب کہتے تھے جب تو ایسے ملک میں آئے جہاں کے لوگ پورا پورا ناپتے اور تولتے ہوں تو وہاں زیادہ رہ جب ایسے ایسے ملک میں آئے جہان کے لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہوں تو وہاں کم رہ۔ کہا مالک نے کوئی شخص اونٹ یا بکریاں یا کپڑا یا غلام لونڈی بےگنے جھنڈ کے جھنڈخریدلے اچھا نہیں جو چیزیں گنتی ہے بکتی ہیں ان کو گن لینا بہتر ہے۔ ابن شہاب سے سوال ہوا کوئی شخص ایک جانور کو لے پھر دوسرے شخص کو اس سے زیادہ پر کرایہ کو دے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں۔
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ إِذَا جِئْتَ أَرْضًا يُوفُونَ الْمِکْيَالَ وَالْمِيزَانَ فَأَطِلْ الْمُقَامَ بِهَا وَإِذَا جِئْتَ أَرْضًا يُنَقِّصُونَ الْمِکْيَالَ وَالْمِيزَانَ فَأَقْلِلْ الْمُقَامَ بِهَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْإِبِلَ أَوْ الْغَنَمَ أَوْ الْبَزَّ أَوْ الرَّقِيقَ أَوْ شَيْئًا مِنْ الْعُرُوضِ جِزَافًا إِنَّهُ لَا يَكُونُ الْجِزَافُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يُعَدُّ عَدًّا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُعْطِي الرَّجُلَ السِّلْعَةَ يَبِيعُهَا لَهُ وَقَدْ قَوَّمَهَا صَاحِبُهَا قِيمَةً فَقَالَ إِنْ بِعْتَهَا بِهَذَا الثَّمَنِ الَّذِي أَمَرْتُكَ بِهِ فَلَكَ دِينَارٌ أَوْ شَيْءٌ يُسَمِّيهِ لَهُ يَتَرَاضَيَانِ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ تَبِعْهَا فَلَيْسَ لَكَ شَيْءٌ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا سَمَّى ثَمَنًا يَبِيعُهَا بِهِ وَسَمَّى أَجْرًا مَعْلُومًا إِذَا بَاعَ أَخَذَهُ وَإِنْ لَمْ يَبِعْ فَلَا شَيْءَ لَهُ قَالَ مَالِك وَمِثْلُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ إِنْ قَدَرْتَ عَلَى غُلَامِي الْآبِقِ أَوْ جِئْتَ بِجَمَلِي الشَّارِدِ فَلَكَ كَذَا وَكَذَا فَهَذَا مِنْ بَابِ الْجُعْلِ وَلَيْسَ مِنْ بَابِ الْإِجَارَةِ وَلَوْ كَانَ مِنْ بَابِ الْإِجَارَةِ لَمْ يَصْلُحْ قَالَ مَالِك فَأَمَّا الرَّجُلُ يُعْطَى السِّلْعَةَ فَيُقَالُ لَهُ بِعْهَا وَلَكَ كَذَا وَكَذَا فِي كُلِّ دِينَارٍ لِشَيْءٍ يُسَمِّيهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ كُلَّمَا نَقَصَ دِينَارٌ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ نَقَصَ مِنْ حَقِّهِ الَّذِي سَمَّى لَهُ فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَدْرِي كَمْ جَعَلَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক: