আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب بیع کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৮ টি

হাদীস নং: ১২৩২
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع عینہ کا بیان اور کھانے کی چیزوں کو قبل قبضہ کے بیچنے کا بیان
عبداللہ بن عمر نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اناج خریدتے تھے پھر آپ ﷺ ہمارے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے وہ ہم کو حکم کرتا تھا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لے جائیں جہاں خریدا ہے قبل اس کے کہ ہم اس کو بیع کریں۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنْ الْمَکَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَی مَکَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع عینہ کا بیان اور کھانے کی چیزوں کو قبل قبضہ کے بیچنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ حکیم بن حزام نے غلہ خریدا جو حضرت عمر نے لوگوں کو دلوایا تھا پھر حکیم بن حزام نے اس غلہ کو بیچ ڈالا قبضہ سے پہلے جب حضرت عمر کو اس کی خبر پہنچی آپ نے وہ غلہ حکیم بن حزام کو پھر وا دیا اور کہا جس غلہ کو تو خریدے پھر اس کو مت بیچ جب تک اس پر قبضہ نہ کرلے۔ امام مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم کے عہد حکومت میں لوگوں کو سندیں ملیں جار کے غلہ کی لوگوں نے ان سندوں کو بیچا ایک دوسرے کے ہاتھ قبل اس بات کے کہ غلہ اپنے قبضہ میں لائیں تو زید بن ثابت اور ایک اور صحابہ مروان کے پاس گئے اور کہا کیا تو ربا کو درست جانتا ہے اے مروان مروان نے کہا معاذاللہ کیا کہتے ہو انہوں نے کہا کہ یہ سندیں جن لوگوں نے خریدا پھر خرید کر دوبارہ بیچا قبلہ غلہ لینے کے مروان نے چوکیدار کو بھیجا کہ وہ سندیں لوگوں سے چھین کر سند والوں کے حوالے کردیں۔ امام مالک کو پہنچا ایک شخص نے اناج خریدنا چاہا ایک شخص سے وعدے پر تو بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو بازار میں لے گیا اور اس کو بورے دکھا کر کہنے لگا کون سے غلہ میں تمہاری واسطے خرید کروں مشتری (خریدنے والا) نے کہا کیا تو میرے ہاتھ اس چیز کا بیچتا ہے جو خود تیرے پاس نہیں ہے پھر بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں عبداللہ بن عمر کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا عبداللہ بن عمر نے مشتری (خریدنے والا) سے کہا مت خریدو اس چیز کو جو بائع (بچنے والا) کے پاس نہیں ہے اور بائع (بچنے والا) سے کہا مت بیچ اس چیز کو جو تیرے پاس نہیں ہے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ ابْتَاعَ طَعَامًا أَمَرَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ فَبَاعَ حَکِيمٌ الطَّعَامَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ لَا تَبِعْ طَعَامًا ابْتَعْتَهُ حَتَّی تَسْتَوْفِيَهُ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ صُكُوكًا خَرَجَتْ لِلنَّاسِ فِي زَمَانِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ مِنْ طَعَامِ الْجَارِ فَتَبَايَعَ النَّاسُ تِلْكَ الصُّكُوكَ بَيْنَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا فَدَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالَا أَتُحِلُّ بَيْعَ الرِّبَا يَا مَرْوَانُ فَقَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَمَا ذَاكَ فَقَالَا هَذِهِ الصُّكُوكُ تَبَايَعَهَا النَّاسُ ثُمَّ بَاعُوهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا فَبَعَثَ مَرْوَانُ الْحَرَسَ يَتْبَعُونَهَا يَنْزِعُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ وَيَرُدُّونَهَا إِلَى أَهْلِهَا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَ طَعَامًا مِنْ رَجُلٍ إِلَى أَجَلٍ فَذَهَبَ بِهِ الرَّجُلُ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَبِيعَهُ الطَّعَامَ إِلَى السُّوقِ فَجَعَلَ يُرِيهِ الصُّبَرَ وَيَقُولُ لَهُ مِنْ أَيِّهَا تُحِبُّ أَنْ أَبْتَاعَ لَكَ فَقَالَ الْمُبْتَاعُ أَتَبِيعُنِي مَا لَيْسَ عِنْدَكَ فَأَتَيَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِلْمُبْتَاعِ لَا تَبْتَعْ مِنْهُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ وَقَالَ لِلْبَائِعِ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع عینہ کا بیان اور کھانے کی چیزوں کو قبل قبضہ کے بیچنے کا بیان
جمیل بن عبدالرحمن نے سعید بن مسیب سے کہا میں ان غلوں کو جو سرکار کی طرف سے لوگوں کو مقرر ہیں جار میں خرید کرتا ہوں پھر میں چاہتا ہوں کہ غلہ کو میعاد لگا کر لوگوں کے ہاتھ بیچوں سعید نے کہا تو چاہتا ہے ان لوگوں کو اسی غلہ میں سے ادا کرے جو تو نے خریدا ہے جمیل نے کہا ہاں سعید بن مسیب نے اس سے منع کیا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص اناج خرید کرے جیسے گیہوں جو جوار باجرہ ڈالیں وغیرہ جن میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے یا روٹی کے ساتھ کھانے کی چیزیں جیسے زیتون کا تیل یا گھی یا شہد یا سرکہ یا پنیر یا دودھ یا تل کا تیل اور جو اس کے مشابہ ہیں تو ان میں سے کوئی چیز نہ بیچے جب تک ان پر قبضہ نہ کرلے۔
عَنْ جَمِيلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنَ يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ مِنْ الْأَرْزَاقِ الَّتِي تُعْطَی النَّاسُ بِالْجَارِ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَ الطَّعَامَ الْمَضْمُونَ عَلَيَّ إِلَی أَجَلٍ فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ أَتُرِيدُ أَنْ تُوَفِّيَهُمْ مِنْ تِلْکَ الْأَرْزَاقِ الَّتِي ابْتَعْتَ فَقَالَ نَعَمْ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِکَ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّهُ مَنْ اشْتَرَی طَعَامًا بُرًّا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا أَوْ ذُرَةً أَوْ دُخْنًا أَوْ شَيْئًا مِنْ الْحُبُوبِ الْقِطْنِيَّةِ أَوْ شَيْئًا مِمَّا يُشْبِهُ الْقِطْنِيَّةَ مِمَّا تَجِبُ فِيهِ الزَّکَاةُ أَوْ شَيْئًا مِنْ الْأُدُمِ کُلِّهَا الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ وَالْخَلِّ وَالْجُبْنِ وَالشِّيرِقِ وَاللَّبَنِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِکَ مِنْ الْأُدْمِ فَإِنَّ الْمُبْتَاعَ لَا يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِکَ حَتَّی يَقْبِضَهُ وَيَسْتَوْفِيَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اناج کو میعاد پر بیچنا جس طرح مکروہ ہے اس کا بیان
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار منع کرتے تھے اس بات سے کوئی شخص گیہوں کو سونے کے بدلے میں یبچے معیاد لگا کر پھر قبل سونا لینے کے اس کے بدلے میں کھجور لے لے۔
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يَنْهَيَانِ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ حِنْطَةً بِذَهَبٍ إِلَی أَجَلٍ ثُمَّ يَشْتَرِيَ بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৬
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اناج کو میعاد پر بیچنا جس طرح مکروہ ہے اس کا بیان
کثیر بن فرقد نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے پوچھا کوئی شخص اناج کو سونے کے بدلے میں میعاد لگا کر بیچے پھر قبل سونا لینے کے اس کے بدلے میں کھجور خرید لے انہوں نے کہا یہ مکروہ ہے اور منع کیا اس سے۔ ابن شہاب سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔ کہا مالک نے سعید بن المسیب اور سلیمان بن یسار ابوبکر بن محمد اور ابن شہاب نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی آدمی گیہوں کو سونے کے بدلے میں بیچے پھر اس سونے کے بدلے کھجور خرید لے اسی شخص نے جس کے ہاتھ گیہوں بیچے قبل اس بات کے کہ سونے پر قبضہ کرے اگر اس سونے کے بدلے میں کسی اور شخص سے کھجور خریدے سوائے اس شخص کے جس کے ہاتھ گیہوں بیچے ہیں اور کھجور کی قیمت کا حوالے کر دے اس شخص پر جس کے ہاتھوں گیہوں بیچے ہیں تو درست ہے۔
عَنْ کَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ الرَّجُلِ يَبِيعُ الطَّعَامَ مِنْ الرَّجُلِ بِذَهَبٍ إِلَی أَجَلٍ ثُمَّ يَشْتَرِي بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ فَکَرِهَ ذَلِکَ وَنَهَی عَنْهُ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِکَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنْ لَا يَبِيعَ الرَّجُلُ حِنْطَةً بِذَهَبٍ ثُمَّ يَشْتَرِي الرَّجُلُ بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ مِنْ بَيْعِهِ الَّذِي اشْتَرَی مِنْهُ الْحِنْطَةَ فَأَمَّا أَنْ يَشْتَرِيَ بِالذَّهَبِ الَّتِي بَاعَ بِهَا الْحِنْطَةَ إِلَی أَجَلٍ تَمْرًا مِنْ غَيْرِ بَائِعِهِ الَّذِي بَاعَ مِنْهُ الْحِنْطَةَ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ وَيُحِيلَ الَّذِي اشْتَرَی مِنْهُ التَّمْرَ عَلَی غَرِيمِهِ الَّذِي بَاعَ مِنْهُ الْحِنْطَةَ بِالذَّهَبِ الَّتِي لَهُ عَلَيْهِ فِي ثَمَرِ التَّمْرِ فَلَا بَأْسَ بِذَلِکَ قَالَ مَالِک وَقَدْ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَلَمْ يَرَوْا بِهِ بَأْسًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৭
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اناج میں سلف کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمر نے کہا کچھ قباحت نہیں اگر ایک مرد دوسرے مرد سے سلف کرے اناج میں جب اس کا وصف بیان کر دے نرخ مقرر کر کے میعاد معین پر جب وہ سلم کسی ایسے کھیت میں نہ ہو جس کی بہتری کا حال معلوم نہ ہو یا ایسی کھجور میں نہ ہو جس کی بہتری کا حال معلوم نہ ہو۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جو شخص سلف کرے اناج میں نرخ مقرر کر کے مدت معین پر تو جب مدت گزرے اور خریدار بائع (بچنے والا) کے پاس وہ اناج نہ پائے اور سلف کو مسخ کرے تو خریدار کو چاہیے اپنی چاندی یا سونا دیا ہو یا قیمت دی ہوئی بعینہ پھیر لے یہ نہ کرے کہ اس کے بدلے میں دوسری چیز بائع (بچنے والا) سے خرید لے جب تک اپنے ثمن پر قبضہ نہ کرلے کیونکہ اگر خریدار نے جو قیمت دی ہے اس کے سوا کچھ لے آیا اس کے بدلے میں دوسرا اسباب خرید لے تو اس نے اناج کو قبل قبضہ کے بیچا اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے بائع (بچنے والا) سے کہا سلف کو فسخ کر ڈال اور ثمن واپس کرنے کے لئے میں تجھ کو مہلت دیتا ہوں تو یہ جائز نہیں اور اہل علم اس کو منع کرتے ہیں کیونکہ جب میعاد گزر گئی اور اناج بائع (بچنے والا) کے ذمہ واجب ہو اب مشتری (خریدنے والا) نے اپنے حق وصول کرنے میں دیر کی اس شرط سے کہ بائع (بچنے والا) سلم کو فسخ کر ڈالے تو گویا مشتری (خریدنے والا) نے اپنے اناج کو ایک مدت پر بیچا قبل قبضے کے۔ کہا مالک نے اس کی مثال یہ ہے کہ جب مدت پوری ہوئی اور خریدار نے اناج لینا پسند نہ کیا تو اس اناج کے بدلے میں کچھ روپے ٹھہرا لئے ایک مدت پر تو یہ اقالہ نہیں ہے اقالہ وہ ہے جس میں کمی بیشی بائع (بچنے والا) یا مشتری (خریدنے والا) کی طرف سے نہ ہو اگر اس میں کمی بیشی ہوگی یا کوئی میعاد بڑھ جائے گی یا کچھ فائدہ مقرر ہوگا بائع (بچنے والا) کا یا مشتری (خریدنے والا) کا تو وہ اقالہ بیع سمجھا جائے گا اور اقالہ اور شرکت اور تولیہ جب تک درست ہیں کہ کمی بیشی یا میعاد نہ ہو اگر یہ چیزیں ہوں گی تو وہ نئی بیع سمجھیں گے۔ جن وجوہ سے بیع درست ہوتی ہے یہ بھی درست ہوں گی اور جن وجوہ سے بیع نادرست ہوتی ہے یہ بھی نادرست ہوگی۔ کہا مالک نے جو شخص سلف میں عمدہ گیہوں ٹھہرائے پھر میعاد گزرنے کے بعد اس سے بہتر یا بری لے لے تو کچھ قباحت نہیں بشرطیکہ وزن وہی ہو جو ٹھہرا ہو یہی حکم انگور اور کھجور میں ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لَا بَأْسَ بِأَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الطَّعَامِ الْمَوْصُوفِ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی مَا لَمْ يَکُنْ فِي زَرْعٍ لَمْ يَبْدُ صَلَاحُهُ أَوْ تَمْرٍ لَمْ يَبْدُ صَلَاحُهُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ سَلَّفَ فِي طَعَامٍ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَحَلَّ الْأَجَلُ فَلَمْ يَجِدْ الْمُبْتَاعُ عِنْدَ الْبَائِعِ وَفَاءً مِمَّا ابْتَاعَ مِنْهُ فَأَقَالَهُ فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ إِلَّا وَرِقَهُ أَوْ ذَهَبَهُ أَوْ الثَّمَنَ الَّذِي دَفَعَ إِلَيْهِ بِعَيْنِهِ وَإِنَّهُ لَا يَشْتَرِي مِنْهُ بِذَلِكَ الثَّمَنِ شَيْئًا حَتَّى يَقْبِضَهُ مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا أَخَذَ غَيْرَ الثَّمَنِ الَّذِي دَفَعَ إِلَيْهِ أَوْ صَرَفَهُ فِي سِلْعَةٍ غَيْرِ الطَّعَامِ الَّذِي ابْتَاعَ مِنْهُ فَهُوَ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى قَالَ مَالِك وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى قَالَ مَالِك فَإِنْ نَدِمَ الْمُشْتَرِي فَقَالَ لِلْبَائِعِ أَقِلْنِي وَأُنْظِرُكَ بِالثَّمَنِ الَّذِي دَفَعْتُ إِلَيْكَ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَمَّا حَلَّ الطَّعَامُ لِلْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ أَخَّرَ عَنْهُ حَقَّهُ عَلَى أَنْ يُقِيلَهُ فَكَانَ ذَلِكَ بَيْعَ الطَّعَامِ إِلَى أَجَلٍ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّ الْمُشْتَرِيَ حِينَ حَلَّ الْأَجَلُ وَكَرِهَ الطَّعَامَ أَخَذَ بِهِ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِالْإِقَالَةِ وَإِنَّمَا الْإِقَالَةُ مَا لَمْ يَزْدَدْ فِيهِ الْبَائِعُ وَلَا الْمُشْتَرِي فَإِذَا وَقَعَتْ فِيهِ الزِّيَادَةُ بِنَسِيئَةٍ إِلَى أَجَلٍ أَوْ بِشَيْءٍ يَزْدَادُهُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَوْ بِشَيْءٍ يَنْتَفِعُ بِهِ أَحَدُهُمَا فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْإِقَالَةِ وَإِنَّمَا تَصِيرُ الْإِقَالَةُ إِذَا فَعَلَا ذَلِكَ بَيْعًا وَإِنَّمَا أُرْخِصَ فِي الْإِقَالَةِ وَالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ مَا لَمْ يَدْخُلْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ زِيَادَةٌ أَوْ نُقْصَانٌ أَوْ نَظِرَةٌ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ زِيَادَةٌ أَوْ نُقْصَانٌ أَوْ نَظِرَةٌ صَارَ بَيْعًا يُحِلُّهُ مَا يُحِلُّ الْبَيْعَ وَيُحَرِّمُهُ مَا يُحَرِّمُ الْبَيْعَ قَالَ مَالِك مَنْ سَلَّفَ فِي حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ مَحْمُولَةً بَعْدَ مَحِلِّ الْأَجَلِ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ مَنْ سَلَّفَ فِي صِنْفٍ مِنْ الْأَصْنَافِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ خَيْرًا مِمَّا سَلَّفَ فِيهِ أَوْ أَدْنَى بَعْدَ مَحِلِّ الْأَجَلِ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي حِنْطَةٍ مَحْمُولَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ شَعِيرًا أَوْ شَامِيَّةً وَإِنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ عَجْوَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ صَيْحَانِيًّا أَوْ جَمْعًا وَإِنْ سَلَّفَ فِي زَبِيبٍ أَحْمَرَ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ أَسْوَدَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ بَعْدَ مَحِلِّ الْأَجَلِ إِذَا كَانَتْ مَكِيلَةُ ذَلِكَ سَوَاءً بِمِثْلِ كَيْلِ مَا سَلَّفَ فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اناج جب اناج کے بدلے میں بکے تو اس میں کمی بیشی نہیں چاہئے۔
سلیمان بن یسار نے کہا سعد بن ابی وقاص کے گدھے کا چارہ تمام ہوگیا انہوں نے اپنے غلام سے کہا گھر میں سے گیہوں لے جا اور اس کے برابر جو تلوا لا زیادہ مت لیجیو۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ قَالَ فَنِيَ عَلَفُ حِمَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ لِغُلَامِهِ خُذْ مِنْ حِنْطَةِ أَهْلِکَ فَابْتَعْ بِهَا شَعِيرًا وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اناج جب اناج کے بدلے میں بکے تو اس میں کمی بیشی نہیں چاہئے۔
عبدالرحمن بن اسود کے جانور کا چارہ تمام ہوگیا انہوں نے اپنے غلام سے کہا گھر سے گیہوں لے جا اور اس کے برابر جو تلوا لا۔ ابن معیقب دوسری سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نہ بیچا جائے گا گیہوں بدلے میں گیہوں کے اور کھجور بدلے کھجور کے اور گیہوں بدلے میں کھجور کے اور کھجور بدلے میں انگور کے مگر نقدا نقد کسی طرف میعاد نہ ہو اگر میعاد ہوگی تو حرام ہوجائے گا اسی طرح جتنی چیزیں روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہیں اگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ بدلے تو نقدا نقد لے۔ کہا مالک نے جتنی کھانے کی چیزیں ہیں یا روٹی کے ساتھ لگانے کی جب جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں۔ مثلا ایک مد گیہوں کو دو مد گیہوں کے بدلے میں یا ایک مد کھجور کو دو مد کھجور کے بدلے میں یا ایک مد انگور کو دو مد انگور کے بدلے میں نہ بیچیں گے اسی طرح جو چیزیں ان کے مشابہ ہیں کھانے کی یا روٹی کے ساتھ لگانے کی جب ان کی جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں اگرچہ نقدا نقد ہو جیسے کوئی چاندی کو چاندی کے بدلے میں اور سونے کو سونے کے بدلے میں اور بیچے تو کمی بیشی درست نہیں بلکہ ان سب چیزوں میں ضروری ہے کہ برابر ہوں۔ اور نقدا نقد ہوں۔ کہا مالک نے جب جنس میں اختلاف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد ہونا چاہیے جیسے کوئی ایک صاع کھجور کو دو صاع گیہوں کے بدلے میں یا ایک صاع کھجور کو دو صاع انگور کے بدلے یا ایک صاع گیہوں کے دو صاع گھی کے بدلے میں خریدے تو کچھ قباحت نہیں جب نقدا نقد ہوں میعاد نہ ہو اگر میعاد ہوگی تو درست نہیں۔ کہا مالک نے یہ درست نہیں کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر دوسرا گیہوں کا بورا اس کے بدلے میں لے یہ درست ہے کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر کھجور کا بورا اس کے بدلے میں لے نقدا نقد کیونکہ کھجور کو گیہوں کے بدلے میں ڈھیر لگا کر اٹکل سے بیچنا درست ہے۔ کہا مالک نے جتنی چیزیں کھانے کی یا روٹی کے ساتھ لگانے کی ہیں جب ان میں جنس مختلف ہو تو ایک دوسرے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر بیچنا درست ہے جب نقدا نقد ہو اگر اس میں میعاد ہو تو درست نہیں جیسے کوئی چاندی سونے کے بدلے میں ان چیزوں کا ڈھیر لگا کر بیچے تو درست ہے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے گیہوں تول کر ایک ڈھیر بنایا اور وزن چھپا کر کسی کے ہاتھ یبچا تو یہ درست نہیں۔ اگر مشتری (خریدنے والا) یہ چاہے کہ وہ گیہوں بائع (بچنے والا) کو واپس کر دے اس وجہ سے کہ بائع (بچنے والا) نے دیا ہو دانستہ وزن کو اس سے چھپایا اور دھوکا دیا تو ہوسکتا ہے اسی طرح جو چیز بائع (بچنے والا) وزن چھپا کر بیچے تو مشتری (خریدنے والا) کا اس کے پھیر دینے کا اختیار ہے اور ہمیشہ اہل علم اس بیع کو منع کرتے رہے۔ کہا مالک نے ایک روٹی کو دو روٹیوں سے بدلنا یا بڑی روٹی کو چھوٹی روٹی سے بدلنا اچھا نہیں البتہ اگر روٹی کو دوسری روٹی کے برابر سمجھے تو بدلنا درست ہے اگرچہ وزن نہ کرے۔ کہا مالک نے ایک مدزبد اور ایک مدلبن کو دو مدزبد کے بدلے میں لینا درست نہیں کیونکہ اس نے اپنے زبد کی عمدگی لبن کے شریک کرکے برابر کرلی اگر علیحدہ لبن کو بیچتا تو کبھی ایک صاع لبن کے بدلے میں ایک صاع زبد نہ آتی۔ اس قسم کا مسئل اوپر بیان ہوچکا۔ سعید بن مسیب سے محمد بن عبداللہ بن مریم نے پوچھا میں غلہ خرید کرتا ہوں جار کا تو کبھی میں ایک دینار اور نصف درہم کو خرید کرتا ہوں کیا نصف درہم کے بدلے میں اناج دے دوں سعید نے کہا نہیں بلکہ ایک درہم دے دے اور جس قدر باقی رہے اس کے بدلے میں بھی اناج لے لے۔
عَنْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَنِيَ عَلَفُ دَابَّتِهِ فَقَالَ لِغُلَامِهِ خُذْ مِنْ حِنْطَةِ أَهْلِکَ طَعَامًا فَابْتَعْ بِهَا شَعِيرًا وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلَهُ عَنْ ابْنِ مُعَيْقِيبٍ الدَّوْسِيِّ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنْ لَا تُبَاعَ الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَلَا التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَلَا الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ وَلَا التَّمْرُ بِالزَّبِيبِ وَلَا الْحِنْطَةُ بِالزَّبِيبِ وَلَا شَيْءٌ مِنْ الطَّعَامِ كُلِّهِ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ الْأَجَلُ لَمْ يَصْلُحْ وَكَانَ حَرَامًا وَلَا شَيْءَ مِنْ الْأُدْمِ كُلِّهَا إِلَّا يَدًا بِيَدٍ قَالَ مَالِك وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْ الطَّعَامِ وَالْأُدْمِ إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ فَلَا يُبَاعُ مُدُّ حِنْطَةٍ بِمُدَّيْ حِنْطَةٍ وَلَا مُدُّ تَمْرٍ بِمُدَّيْ تَمْرٍ وَلَا مُدُّ زَبِيبٍ بِمُدَّيْ زَبِيبٍ وَلَا مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْحُبُوبِ وَالْأُدْمِ كُلِّهَا إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ وَإِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ إِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ لَا يَحِلُّ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ الْفَضْلُ وَلَا يَحِلُّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ قَالَ مَالِك وَإِذَا اخْتَلَفَ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ مِمَّا يُؤْكَلُ أَوْ يُشْرَبُ فَبَانَ اخْتِلَافُهُ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَا بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ وَصَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ زَبِيبٍ وَصَاعٌ مِنْ حِنْطَةٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ سَمْنٍ فَإِذَا كَانَ الصِّنْفَانِ مِنْ هَذَا مُخْتَلِفَيْنِ فَلَا بَأْسَ بِاثْنَيْنِ مِنْهُ بِوَاحِدٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَ فِي ذَلِكَ الْأَجَلُ فَلَا يَحِلُّ قَالَ مَالِك وَلَا تَحِلُّ صُبْرَةُ الْحِنْطَةِ بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ وَلَا بَأْسَ بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ بِصُبْرَةِ التَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ جِزَافًا قَالَ مَالِك وَكُلُّ مَا اخْتَلَفَ مِنْ الطَّعَامِ وَالْأُدْمِ فَبَانَ اخْتِلَافُهُ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى بَعْضُهُ بِبَعْضٍ جِزَافًا يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَهُ الْأَجَلُ فَلَا خَيْرَ فِيهِ وَإِنَّمَا اشْتِرَاءُ ذَلِكَ جِزَافًا كَاشْتِرَاءِ بَعْضِ ذَلِكَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ جِزَافًا قَالَ مَالِك وَذَلِكَ أَنَّكَ تَشْتَرِي الْحِنْطَةَ بِالْوَرِقِ جِزَافًا وَالتَّمْرَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا فَهَذَا حَلَالٌ لَا بَأْسَ بِهِ قَالَ مَالِك وَمَنْ صَبَّرَ صُبْرَةَ طَعَامٍ وَقَدْ عَلِمَ كَيْلَهَا ثُمَّ بَاعَهَا جِزَافًا وَكَتَمَ عَلَى الْمُشْتَرِيَ كَيْلَهَا فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ فَإِنْ أَحَبَّ الْمُشْتَرِي أَنْ يَرُدَّ ذَلِكَ الطَّعَامَ عَلَى الْبَائِعِ رَدَّهُ بِمَا كَتَمَهُ كَيْلَهُ وَغَرَّهُ وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا عَلِمَ الْبَائِعُ كَيْلَهُ وَعَدَدَهُ مِنْ الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ ثُمَّ بَاعَهُ جِزَافًا وَلَمْ يَعْلَمْ الْمُشْتَرِي ذَلِكَ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَرُدَّ ذَلِكَ عَلَى الْبَائِعِ رَدَّهُ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَلَا خَيْرَ فِي الْخُبْزِ قُرْصٍ بِقُرْصَيْنِ وَلَا عَظِيمٍ بِصَغِيرٍ إِذَا كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ أَكْبَرَ مِنْ بَعْضٍ فَأَمَّا إِذَا كَانَ يُتَحَرَّى أَنْ يَكُونَ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يُوزَنْ قَالَ مَالِك لَا يَصْلُحُ مُدُّ زُبْدٍ وَمُدُّ لَبَنٍ بِمُدَّيْ زُبْدٍ وَهُوَ مِثْلُ الَّذِي وَصَفْنَا مِنْ التَّمْرِ الَّذِي يُبَاعُ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ وَصَاعًا مِنْ حَشَفٍ بِثَلَاثَةِ أَصْوُعٍ مِنْ عَجْوَةٍ حِينَ قَالَ لِصَاحِبِهِ إِنَّ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ بِثَلَاثَةِ أَصْوُعٍ مِنْ الْعَجْوَةِ لَا يَصْلُحُ فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُجِيزَ بَيْعَهُ وَإِنَّمَا جَعَلَ صَاحِبُ اللَّبَنِ اللَّبَنَ مَعَ زُبْدِهِ لِيَأْخُذَ فَضْلَ زُبْدِهِ عَلَى زُبْدِ صَاحِبِهِ حِينَ أَدْخَلَ مَعَهُ اللَّبَنَ قَالَ مَالِك وَالدَّقِيقُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ لَا بَأْسَ بِهِ وَذَلِكَ لِأَنَّهُ أَخْلَصَ الدَّقِيقَ فَبَاعَهُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَوْ جَعَلَ نِصْفَ الْمُدِّ مِنْ دَقِيقٍ وَنِصْفَهُ مِنْ حِنْطَةٍ فَبَاعَ ذَلِكَ بِمُدٍّ مِنْ حِنْطَةٍ كَانَ ذَلِكَ مِثْلَ الَّذِي وَصَفْنَا لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ فَضْلَ حِنْطَتِهِ الْجَيِّدَةِ حَتَّى جَعَلَ مَعَهَا الدَّقِيقَ فَهَذَا لَا يَصْلُحُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪০
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اناج بیچنے کے مختلف مسائل کا بیان
سعید بن المسیب سے محمد بن عبداللہ بن ابو مریم نے پوچھا میں غلہ خرید کرتا ہوں جار کا تو کبھی میں ایک دینار اور نصف درہم کو خرید کرتا ہوں کیا نصف درہم کے بدلے اناج دے دوں سعید نے کہا نہیں بلکہ ایک درہم دے دے اور جس قدر باقی رہے اس کے بدلے میں بھی اناج لے لے۔ محمد بن سیرین کہتے تھے مت بیچو دانوں کو بالی کے اندر جب تک پک نہ جائے۔ کہا مالک نے جو شخص اناج خریدے نرخ مقرر کرکے میعاد معین پر جب میعاد پوری ہو تو جس کے ذمہ اناج واجب ہے (مسلم الیہ) وہ کہے میرے پاس اناج نہیں ہے جو اناج میرے ذمہ ہے وہ میرے ہی ہاتھ بیچ ڈال اتنی میعاد پر وہ شخص (رب السلم) کہے یہ جائز نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے منع کیا ہے اناج بیچنے کو جب تک قبضے میں نہ آئے جس کے ذمہ پر اناج ہے وہ کہے اچھا تو کوئی اور اناج میرے ہاتھ بیچ ڈال میعاد پر تاکہ میں اسی اناج کو تیرے حوالے کردوں۔ تو یہ درست نہیں کیونکہ وہ شخص اناج دے کر پھیرلے گا اور بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو جو قیمت دے گا وہ گویا مشتری (خریدنے والا) کی ہوگی جو اس نے بائع (بچنے والا) کو دی اور یہ اناج درمیان میں حلال کرنے والا ہوگا تو گویا اناج کی بیع ہوگی قبل قبضے کے۔ کہا مالک نے یہ اس واسطے کہ اہل علم نے ان چیزوں میں رواج اور دستور کا اعتبار رکھا ہے اور ان کو مثل بیع کے نہیں سمجھا اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ناقص کم وزن روپے دیئے پھر مسلم الیہ نے اس کو پورے وزن کے روپے ادا کردیئے تو یہ درست ہے مگر ناقص روپوں کی بیع پورے وزن کے روپوں کے بدلے میں درست نہیں اگر اس شخص نے سلم کرتے وقت ناقص کم وزن روپے دے کر پورے روپے لینے کی شرط کی تھی تو درست نہ ہوگا۔ کہا مالک نے اس کی نظیر یہ بھی کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع کیا اور عرایا کی اجازت دی وجہ یہ ہے کہ مزابنہ کا معاملہ رجارت اور ہو شیاری کے طور پر ہوتا ہے اور عرایابطوراحسان اور سلوک کے ہوتا ہے۔ کہا مالک نے یہ درست نہیں کہ ربع یا ثلث درہم یا اور کسی کسر کے بدلے میں اناج خریدے اس شرط پر کہ اس ربع یا ثلث یا کسر کے عوض میں اناج دے گا وعدے پر البتہ اس میں کچھ قباحت نہیں کہ ربع یا ثلث درہم یا کسی کسر کے بدلے میں اناج خریدے وعدے پر جب وعدہ گزرے تو ایک درہم حوالے کردے اور باقی کے بدلے میں کوئی اور چیز خرید کرلے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر نے فرمایا ہمارے بازار میں کوئی احتکار نہ کرے جن لوگوں کو ہاتھ میں حاجت سے زیادہ روپیہ ہے وہ کسی ایک غلہ کو جو ہمارے ملک میں آئے خرید کر احتکار نہ کریں اور جو شخص تکلیف اٹھا کر ہمارے ملک میں غلہ لائے گرمی یا جاڑے میں تو وہ مہمان ہے عمر کا جس طرح اللہ کو منظور ہو بیچے اور جس طرح اللہ کو منظور ہو رکھ چھوڑے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ الطَّعَامَ يَكُونُ مِنْ الصُّكُوكِ بِالْجَارِ فَرُبَّمَا ابْتَعْتُ مِنْهُ بِدِينَارٍ وَنِصْفِ دِرْهَمٍ فَأُعْطَى بِالنِّصْفِ طَعَامًا فَقَالَ سَعِيدٌ لَا وَلَكِنْ أَعْطِ أَنْتَ دِرْهَمًا وَخُذْ بَقِيَّتَهُ طَعَامًا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ كَانَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الْحَبَّ فِي سُنْبُلِهِ حَتَّى يَبْيَضَّ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَلَمَّا حَلَّ الْأَجَلُ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ لِصَاحِبِهِ لَيْسَ عِنْدِي طَعَامٌ فَبِعْنِي الطَّعَامَ الَّذِي لَكَ عَلَيَّ إِلَى أَجَلٍ فَيَقُولُ صَاحِبُ الطَّعَامِ هَذَا لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ قَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يُسْتَوْفَى فَيَقُولُ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ لِغَرِيمِهِ فَبِعْنِي طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ حَتَّى أَقْضِيَكَهُ فَهَذَا لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ إِنَّمَا يُعْطِيهِ طَعَامًا ثُمَّ يَرُدُّهُ إِلَيْهِ فَيَصِيرُ الذَّهَبُ الَّذِي أَعْطَاهُ ثَمَنَ الطَّعَامِ الَّذِي كَانَ لَهُ عَلَيْهِ وَيَصِيرُ الطَّعَامُ الَّذِي أَعْطَاهُ مُحَلِّلًا فِيمَا بَيْنَهُمَا وَيَكُونُ ذَلِكَ إِذَا فَعَلَاهُ بَيْعَ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ لَهُ عَلَى رَجُلٍ طَعَامٌ ابْتَاعَهُ مِنْهُ وَلِغَرِيمِهِ عَلَى رَجُلٍ طَعَامٌ مِثْلُ ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَالَ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ لِغَرِيمِهِ أُحِيلُكَ عَلَى غَرِيمٍ لِي عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّعَامِ الَّذِي لَكَ عَلَيَّ بِطَعَامِكَ الَّذِي لَكَ عَلَيَّ قَالَ مَالِك إِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ إِنَّمَا هُوَ طَعَامٌ ابْتَاعَهُ فَأَرَادَ أَنْ يُحِيلَ غَرِيمَهُ بِطَعَامٍ ابْتَاعَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ وَذَلِكَ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ سَلَفًا حَالًّا فَلَا بَأْسَ أَنْ يُحِيلَ بِهِ غَرِيمَهُ لِأَنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِبَيْعٍ وَلَا يَحِلُّ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ قَدْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ أَنْزَلُوهُ عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ وَلَمْ يُنْزِلُوهُ عَلَى وَجْهِ الْبَيْعِ وَذَلِكَ مِثْلُ الرَّجُلِ يُسَلِّفُ الدَّرَاهِمَ النُّقَّصَ فَيُقْضَى دَرَاهِمَ وَازِنَةً فِيهَا فَضْلٌ فَيَحِلُّ لَهُ ذَلِكَ وَيَجُوزُ وَلَوْ اشْتَرَى مِنْهُ دَرَاهِمَ نُقَّصًا بِوَازِنَةٍ لَمْ يَحِلَّ ذَلِكَ وَلَوْ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ حِينَ أَسْلَفَهُ وَازِنَةً وَإِنَّمَا أَعْطَاهُ نُقَّصًا لَمْ يَحِلَّ لَهُ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَأَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنْ التَّمْرِ وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ ذَلِكَ أَنَّ بَيْعَ الْمُزَابَنَةِ بَيْعٌ عَلَى وَجْهِ الْمُكَايَسَةِ وَالتِّجَارَةِ وَأَنَّ بَيْعَ الْعَرَايَا عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ لَا مُكَايَسَةَ فِيهِ قَالَ مَالِك وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَشْتَرِيَ رَجُلٌ طَعَامًا بِرُبُعٍ أَوْ ثُلُثٍ أَوْ كِسْرٍ مِنْ دِرْهَمٍ عَلَى أَنْ يُعْطَى بِذَلِكَ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَلَا بَأْسَ أَنْ يَبْتَاعَ الرَّجُلُ طَعَامًا بِكِسْرٍ مِنْ دِرْهَمٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يُعْطَى دِرْهَمًا وَيَأْخُذُ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِرْهَمِهِ سِلْعَةً مِنْ السِّلَعِ لِأَنَّهُ أَعْطَى الْكِسْرَ الَّذِي عَلَيْهِ فِضَّةً وَأَخَذَ بِبَقِيَّةِ دِرْهَمِهِ سِلْعَةً فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ عِنْدَ الرَّجُلِ دِرْهَمًا ثُمَّ يَأْخُذُ مِنْهُ بِرُبُعٍ أَوْ بِثُلُثٍ أَوْ بِكِسْرٍ مَعْلُومٍ سِلْعَةً مَعْلُومَةً فَإِذَا لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ سِعْرٌ مَعْلُومٌ وَقَالَ الرَّجُلُ آخُذُ مِنْكَ بِسِعْرِ كُلِّ يَوْمٍ فَهَذَا لَا يَحِلُّ لِأَنَّهُ غَرَرٌ يَقِلُّ مَرَّةً وَيَكْثُرُ مَرَّةً وَلَمْ يَفْتَرِقَا عَلَى بَيْعٍ مَعْلُومٍ قَالَ مَالِك وَمَنْ بَاعَ طَعَامًا جِزَافًا وَلَمْ يَسْتَثْنِ مِنْهُ شَيْئًا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا مَا كَانَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ مِنْهُ وَذَلِكَ الثُّلُثُ فَمَا دُونَهُ فَإِنْ زَادَ عَلَى الثُّلُثِ صَارَ ذَلِكَ إِلَى الْمُزَابَنَةِ وَإِلَى مَا يُكْرَهُ فَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا مَا كَانَ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْهُ وَلَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْهُ إِلَّا الثُّلُثَ فَمَا دُونَهُ وَهَذَا الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪১
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ حتکار کے بیان میں
امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہمارے بازار میں کوئی احتکار نہ کرے جن لوگوں کے ہاتھ میں حاجت سے زیادہ روپیہ ہے وہ کسی ایک غلہ کو جو ہمارے ملک میں آئے خرید کر احتکار نہ کریں اور جو شخص تکلیف اٹھاکر ہمارے ملک میں غلہ لائے گرمی یا جائے میں تو وہ مہمان ہے عمر کا جس طرح اللہ کو منظور ہو بیچے اور جس طرح اللہ کو منظور ہو رکھ چھوڑے۔
بَاب الْحُكْرَةِ وَالتَّرَبُّصِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا حُكْرَةَ فِي سُوقِنَا لَا يَعْمِدُ رِجَالٌ بِأَيْدِيهِمْ فُضُولٌ مِنْ أَذْهَابٍ إِلَى رِزْقٍ مِنْ رِزْقِ اللَّهِ نَزَلَ بِسَاحَتِنَا فَيَحْتَكِرُونَهُ عَلَيْنَا وَلَكِنْ أَيُّمَا جَالِبٍ جَلَبَ عَلَى عَمُودِ كَبِدِهِ فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ فَذَلِكَ ضَيْفُ عُمَرَ فَلْيَبِعْ كَيْفَ شَاءَ اللَّهُ وَلْيُمْسِكْ كَيْفَ شَاءَ اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ حتکار کے بیان میں
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب حاطب بن ابی بلتعہ کے پاس سے ہو کر گزرے اور وہ انگور بیچ رہے تھے بازار میں حضرت عمر نے فرمایا تو تم نرخ بڑھا دو یا ہمارے بازار سے اٹھ جاؤ۔ حضرت عثمان بن عفان منع کرتے تھے احتکار سے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَرَّ بِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ وَهُوَ يَبِيعُ زَبِيبًا لَهُ بِالسُّوقِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِمَّا أَنْ تَزِيدَ فِي السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تُرْفَعَ مِنْ سُوقِنَا عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانَ يَنْهَی عَنْ الْحُکْرَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جانور کو جانور کے بدلے میں بیچنے کا بیان اور جانور میں سلف کرنے کا بیان
حضرت علی نے اپنا اونٹ جس کا نام عصیفیر تھا بیس اونٹوں کے بدلے میں بیچا وعدے پر۔
عَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ بَاعَ جَمَلًا لَهُ يُدْعَی عُصَيْفِيرًا بِعِشْرِينَ بَعِيرًا إِلَی أَجَلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৪
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جانور کو جانور کے بدلے میں بیچنے کا بیان اور جانور میں سلف کرنے کا بیان
عبداللہ بن عمر نے ایک سانڈنی چار اونٹوں کے بدلے میں خریدی اور یہ ٹھہرایا کہ ان چار اونٹوں کو زبذہ میں بائع (بچنے والا) کو پہنچائیں گے۔
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اشْتَرَی رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ يُوفِيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৫
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جانور کو جانور کے بدلے میں بیچنے کا بیان اور جانور میں سلف کرنے کا بیان
امام مالک نے ابن شہاب سے پوچھا کہ ایک جانور کے بعلے میں دو جانور بیچنا میعاد پر بیچنا درست ہے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے ایک اونٹ کو دوسرے اونٹ سے بدلنے میں کچھ قباحت نہیں اس طرح ایک اونٹ اور کچھ روپے دے کر دوسرا اونٹ لے لینے میں اگرچہ اونٹ کو نقددے اور روپوں کو ادھار رکھے اور روپے نقد دے اور اونٹ کو ادھار رکھے یا دونوں کو ادھار رکھے تو بہتر نہیں ہے۔ کہا مالک نے اگر دو تین اونٹ لادنے کے دے کر ایک اونٹ سواری کا خریدے تو کچھ قباحت نہیں اگر ایک نوع کے جانور جیسے اونٹ یا بیل آپس میں ایسا اختلاف رکھتے ہوں کہ ان میں کھلم کھلا فرق ہو تو ایک جانور دے کردو جانور خریدنا نقد یا ادھار دونوں طرح سے درست ہے اگر ایک دوسرے کے مشابہ ہوں خواہ جنس ایک ہو یا مختلف تو ایک جانور دے کردو جانور لینا وعدے پر درست نہیں ہے۔ کہا مالک نے اس کی مثال یہ ہے کہ جو اونٹ یکساں ہوں ان میں باہم فرق نہ ہو ذات میں اور بوجھ لادنے میں تو ایسے اونٹوں میں سے دو اونٹ دے کر ایک اونٹ لینا وعدے پر درست نہیں البتہ اس میں کچھ قباحت نہیں کہ اونٹ خرید کر قبل قبضہ کرنے کے دوسرے کے ہاتھ بیچ ڈالے جب کہ قیمت اس کی نقد لے لے۔ کہا مالک نے جانور میں سلف کرنا درست ہے جب میعاد معین ہو اور اس جانور کے اوصاف اور حلیے بیان کردے اور قیمت دے دے تو بائع (بچنے والا) کو اسی طرح کے جانور دینے ہوں گے اور مشتری (خریدنے والا) کو لینے ہوں گے ہمارے شہر کے لوگ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتے رہے اور اسی کے قائل رہے۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ إِلَی أَجَلٍ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِالْجَمَلِ بِالْجَمَلِ مِثْلِهِ وَزِيَادَةِ دَرَاهِمَ يَدًا بِيَدٍ وَلَا بَأْسَ بِالْجَمَلِ بِالْجَمَلِ مِثْلِهِ وَزِيَادَةِ دَرَاهِمَ الْجَمَلُ بِالْجَمَلِ يَدًا بِيَدٍ وَالدَّرَاهِمُ إِلَى أَجَلٍ قَالَ وَلَا خَيْرَ فِي الْجَمَلِ بِالْجَمَلِ مِثْلِهِ وَزِيَادَةِ دَرَاهِمَ الدَّرَاهِمُ نَقْدًا وَالْجَمَلُ إِلَى أَجَلٍ وَإِنْ أَخَّرْتَ الْجَمَلَ وَالدَّرَاهِمَ لَا خَيْرَ فِي ذَلِكَ أَيْضًا قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ أَنْ يَبْتَاعَ الْبَعِيرَ النَّجِيبَ بِالْبَعِيرَيْنِ أَوْ بِالْأَبْعِرَةِ مِنْ الْحَمُولَةِ مِنْ مَاشِيَةِ الْإِبِلِ وَإِنْ كَانَتْ مِنْ نَعَمٍ وَاحِدَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى مِنْهَا اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ إِذَا اخْتَلَفَتْ فَبَانَ اخْتِلَافُهَا وَإِنْ أَشْبَهَ بَعْضُهَا بَعْضًا وَاخْتَلَفَتْ أَجْنَاسُهَا أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ فَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يُؤْخَذَ الْبَعِيرُ بِالْبَعِيرَيْنِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا تَفَاضُلٌ فِي نَجَابَةٍ وَلَا رِحْلَةٍ فَإِذَا كَانَ هَذَا عَلَى مَا وَصَفْتُ لَكَ فَلَا يُشْتَرَى مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ وَلَا بَأْسَ أَنْ تَبِيعَ مَا اشْتَرَيْتَ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ تَسْتَوْفِيَهُ مِنْ غَيْرِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ إِذَا انْتَقَدْتَ ثَمَنَهُ قَالَ مَالِك وَمَنْ سَلَّفَ فِي شَيْءٍ مِنْ الْحَيَوَانِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَوَصَفَهُ وَحَلَّاهُ وَنَقَدَ ثَمَنَهُ فَذَلِكَ جَائِزٌ وَهُوَ لَازِمٌ لِلْبَائِعِ وَالْمُبْتَاعِ عَلَى مَا وَصَفَا وَحَلَّيَا وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ عَمَلِ النَّاسِ الْجَائِزِ بَيْنَهُمْ وَالَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس طرح یا جس جانور کو بیچنا نا درست ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا حبل الحبلہ کی بیع سے یہ بیع ایام جاہلت میں مروج تھی آدمی اونٹ خریدتا تھا اس وعدے پر کہ جب اونٹنی کا بچہ ہوگا اور پھر بچے کا بچہ اس وقت میں دام لوں گا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَکَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ کَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَی أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ ثُمَّ تُنْتَجَ الَّتِي فِي بَطْنِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس طرح یا جس جانور کو بیچنا نا درست ہے۔
سعید بن مسیب نے کہا حیوان میں ربا نہیں ہے بلکہ حیوان میں تین بیعیں نا درست ہیں ایک مضا میں کی دوسرے ملا قیح کیتی سے حبل الحبلہ کی مضا میں وہ جانور جو مادہ کے شکم میں ہیں ملاقیح وہ جانور جو رن کے پشت میں ہیں حبل الحبلہ کا بیان ابھی ہوچکا ہے ،۔ کہا مالک نے معین جانور کی بیع جب وہ غائب ہو خواہ نزدیک ہو یا دور درست نہیں ہے۔ اگرچہ مشتری (خریدنے والا) اس جانور کو دیکھ چکا ہو اور پسند کرچکا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) سے دام لے کر نفع اٹھائے گا۔ اور مشتری (خریدنے والا) کو معلوم نہیں وہ جانور صحیح سالم جس طور سے اس نے دیکھا تھا ملے یا نہ ملے البتہ اگر غیر معین جانور کو اوصاف بیان کرکے بیچے تو کچھ قباحت نہیں۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ لَا رِبًا فِي الْحَيَوَانِ وَإِنَّمَا نُهِيَ مِنْ الْحَيَوَانِ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ الْمَضَامِينِ وَالْمَلَاقِيحِ وَحَبَلِ الْحَبَلَةِ وَالْمَضَامِينُ بَيْعُ مَا فِي بُطُونِ إِنَاثِ الْإِبِلِ وَالْمَلَاقِيحُ بَيْعُ مَا فِي ظُهُورِ الْجِمَالِ قَالَ مَالِک لَا يَنْبَغِي أَنْ يَشْتَرِيَ أَحَدٌ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ بِعَيْنِهِ إِذَا کَانَ غَائِبًا عَنْهُ وَإِنْ کَانَ قَدْ رَآهُ وَرَضِيَهُ عَلَی أَنْ يَنْقُدَ ثَمَنَهُ لَا قَرِيبًا وَلَا بَعِيدًا قَالَ مَالِک وَإِنَّمَا کُرِهَ ذَلِکَ لِأَنَّ الْبَائِعَ يَنْتَفِعُ بِالثَّمَنِ وَلَا يُدْرَی هَلْ تُوجَدُ تِلْکَ السِّلْعَةُ عَلَی مَا رَآهَا الْمُبْتَاعُ أَمْ لَا فَلِذَلِکَ کُرِهَ ذَلِکَ وَلَا بَأْسَ بِهِ إِذَا کَانَ مَضْمُونًا مَوْصُوفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جانور کو گوشت کے بدلے میں بیچنا
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا جانور کے بیچنے سے گوشت کے بدلے میں۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جانور کو گوشت کے بدلے میں بیچنا
سعید بن مسیب کہتے تھے یہ بھی جاہلیت کا جوا ہے گوشے کو ایک بکری یا دو بکریوں کے عوض میں بیچنا ،۔
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ بَيْعُ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جانور کو گوشت کے بدلے میں بیچنا
سعید بن مسیب کہتے تھے جانور کو گوشت کے بدلے میں بیچنا منع ہے ابولزناد نے کہا میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا اگر کوئی شخص دس بکریوں کے بدلے میں ایک اونٹ خرید کرے تو کیسا ہے سعید نے کہا اگر ذبح کرنے کے لئے خرید کرے تو کیسا ہے سعید نے کہا اگر ذبح کرنے کے لئے خرید کرے تو بہتر نہیں ابولزناد نے کہا میں نے سب عالموں کو جانور کی بیع سے گوشت کے بدلے میں منع کرتے ہوئے پایا اور ابان بن عثمان اور ہشام بن اسماعیل کے زمانے میں عاملوں کے پروانوں میں اس کی ممانعت لکھی جاتی تھی۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ نُهِيَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا اشْتَرَی شَارِفًا بِعَشَرَةِ شِيَاهٍ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنْ کَانَ اشْتَرَاهَا لِيَنْحَرَهَا فَلَا خَيْرَ فِي ذَلِکَ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَکُلُّ مَنْ أَدْرَکْتُ مِنْ النَّاسِ يَنْهَوْنَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِاللَّحْمِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَکَانَ ذَلِکَ يُکْتَبُ فِي عُهُودِ الْعُمَّالِ فِي زَمَانِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهِشَامِ بْنِ إِسْمَعِيلَ يَنْهَوْنَ عَنْ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ گوشت کو گوشت کے بدلے میں بیچنے کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ گوشت اونٹ کا ہو یا بکری کا یا اور کسی جانور کا اس کا گوشت، گوشت سے بدلنا درست نہیں مگر برابر تول کر نقدا نقد اگر اٹکل سے برابری کرے تو بھی کافی ہے۔ کہا مالک نے مچھلیوں کا گوشت اگر اونٹ یا گائے یا بکری کے گوشت کے بدلے میں بیچے کم وبیش تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے مگر یہ ضروری ہے کہ نقدا نقد ہو میعاد نہ ہو۔ کہا مالک نے پرندوں کا گوشت میرے نزدیک چرندوں اور مچھلیوں کے گوشت سے بڑافرق رکھتا ہے اگر یہ کم وبیش بیچے جائیں تو کچھ قباحت نہیں ہے مگر یہ ضروری ہے کہ نقدا نقد ہو۔ میعاد نہ ہو۔
بَاب بَيْعِ اللَّحْمِ بِاللَّحْمِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي لَحْمِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْوُحُوشِ أَنَّهُ لَا يُشْتَرَى بَعْضُهُ بِبَعْضٍ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يُوزَنْ إِذَا تَحَرَّى أَنْ يَكُونَ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ بِلَحْمِ الْحِيتَانِ بِلَحْمِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْوُحُوشِ كُلِّهَا اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ وَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ الْأَجَلُ فَلَا خَيْرَ فِيهِ قَالَ مَالِك وَأَرَى لُحُومَ الطَّيْرِ كُلَّهَا مُخَالِفَةً لِلُحُومِ الْأَنْعَامِ وَالْحِيتَانِ فَلَا أَرَى بَأْسًا بِأَنْ يُشْتَرَى بَعْضُ ذَلِكَ بِبَعْضٍ مُتَفَاضِلًا يَدًا بِيَدٍ وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ إِلَى أَجَلٍ
tahqiq

তাহকীক: