আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب بیع کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৮ টি
হাদীস নং: ১২১২
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو بیع کھجوروں کی مکروہ ہے اس کا بیان
ابو سعید اور ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو عامل مقرر کیا خیبر پر وہ عمدہ کھجور لے کر آیا آپ ﷺ نے پوچھا سب کھجوریں خبیر کی ایسی ہی ہوتی ہیں وہ بولا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ہم اس کھجور میں سے ایک صاع دو صاع کے بدلے میں یا دو صاع تین صاع کے بدلے میں خرید کیا کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرے پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور روپے دے کر خرید لے۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَی خَيْبَرَ فَجَائَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَکَذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلْ بِعْ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৩
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو بیع کھجوروں کی مکروہ ہے اس کا بیان
زید بن ابوعیاش سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا سعد بن ابی وقاص سے کہ جو کے غور اور حجاز میں پیدا ہوتا ہے کے بدلے میں بیچ سکتے ہیں انہوں نے کہا دونوں میں کونسا اچھا ہے بولے جو تو منع کیا اس سے اور سعد نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا کہ خشک کھجور کو رطب بدلے میں بیچنا کیسا ہے آپ ﷺ نے فرمایا رطب جب سوکھ جاتا ہے تو وزن اس کا کم ہوجاتا ہے لوگوں نے کہا ہاں آپ ﷺ نے منع فرمایا۔
عَنْ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ الْبَيْضَائِ بِالسُّلْتِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ قَالَ الْبَيْضَائُ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِکَ وَقَالَ سَعْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ اشْتِرَائِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ فَقَالُوا نَعَمْ فَنَهَی عَنْ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৪
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مزابنہ اور محاقلہ کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا مزابنہ اس کو کہتے ہیں کہ درخت پر پھل کھجور یا انگور اندزہ کر کے خشک کھجور یا انگور کے بدلے میں فروخت کی جائیں۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعُ الْکَرْمِ بِالزَّبِيبِ کَيْلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৫
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مزابنہ اور محاقلہ کا بیان
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا مزابنہ اور محاقلہ سے مزابنہ کے معنی اوپر بیان ہوئے اور محاقلہ اس کو کہتے ہیں کہ گہیوں کا کھیت بدلے میں خشک گہیوں کے بیچے۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِي رُئُوسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَةُ کِرَائُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مزابنہ اور محاقلہ کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا مزابنہ اور محاقلہ سے دونوں کے معنی اوپر گزرے۔ ابن شہاب نے کہا میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا کہ زمین کو کرایہ پر دینا سونے اور چاندی کے عوض میں درست ہے بولے ہاں درست ہے کچھ قباحت نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو چیز ڈھیر لگا کر بیچی جائے اور اس کا وزن اور کیل معلوم نہ ہو تولی اور ناپی ہوئی چیز کے بدلے میں وہ مزابنہ میں داخل ہے (بشرطیکہ ایک جنس ہو) اگر ایک شخص دوسرے سے کہے کہ یہ جو تیرا ڈھیر پڑا ہے گیہوں یا کھجور یا چارہ یا گٹھلیوں یا گھاس یا کسم یا روئی یا ریشم کا اس کو ناپ تول یا شمار اگر قدر سے نکلے تو میں تجھ کو مجرا دوں گا اور جو زیادہ نکلے تو میں لے لوں گا اس قسم کی بیع درست نہیں ہے بلکہ یہ جوئے کے مشابہ ہے۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ یہ کپڑا اتنی ٹوپیوں کو کافی ہے اگر پڑے تو میں دوں گا اور جو بڑھے میں لے لوں گا یا اس کپڑے میں اتنے کرتے بنیں گے اگر کم پڑے میں دے دوں گا اور جو زیادہ ہو لے لوں گا یا اس قدر کھا لوں میں اتنی جوتیاں بنیں گی اگر کم پڑے میں دوں گا زیادہ ہو تو لے لوں گا یا اس قدر دانوں میں اتنا تیل نکلے گا اگر کم نکلے تو میں دوں گا زیادہ نکلے تو میرا ہے یہ سب مزابنہ میں داخل ہے جائز نہیں یا یوں کہے کہ تیرے اس ڈھیر کے بدلے میں پتوں یا گٹھلیوں یا روئی یا تر کاری یا کسم کے اس قدر پتے گٹھلیاں یا روئی یا ترکاری یا کسم تول ناپ کردیتا ہوں ہر ایک کو اس کی جنس کے ساتھ بیچے تو بھی نادرست ہے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَالْمُحَاقَلَةُ اشْتِرَائُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ وَاسْتِکْرَائُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ اسْتِکْرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِک قَالَ مَالِك نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَتَفْسِيرُ الْمُزَابَنَةِ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ الْجِزَافِ الَّذِي لَا يُعْلَمُ كَيْلُهُ وَلَا وَزْنُهُ وَلَا عَدَدُهُ ابْتِيعَ بِشَيْءٍ مُسَمًّى مِنْ الْكَيْلِ أَوْ الْوَزْنِ أَوْ الْعَدَدِ وَذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الطَّعَامُ الْمُصَبَّرُ الَّذِي لَا يُعْلَمُ كَيْلُهُ مِنْ الْحِنْطَةِ أَوْ التَّمْرِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْأَطْعِمَةِ أَوْ يَكُونُ لِلرَّجُلِ السِّلْعَةُ مِنْ الْحِنْطَةِ أَوْ النَّوَى أَوْ الْقَضْبِ أَوْ الْعُصْفُرِ أَوْ الْكُرْسُفِ أَوْ الْكَتَّانِ أَوْ الْقَزِّ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ السِّلَعِ لَا يُعْلَمُ كَيْلُ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَلَا وَزْنُهُ وَلَا عَدَدُهُ فَيَقُولُ الرَّجُلُ لِرَبِّ تِلْكَ السِّلْعَةِ كِلْ سِلْعَتَكَ هَذِهِ أَوْ مُرْ مَنْ يَكِيلُهَا أَوْ زِنْ مِنْ ذَلِكَ مَا يُوزَنُ أَوْ عُدَّ مِنْ ذَلِكَ مَا كَانَ يُعَدُّ فَمَا نَقَصَ عَنْ كَيْلِ كَذَا وَكَذَا صَاعًا لِتَسْمِيَةٍ يُسَمِّيهَا أَوْ وَزْنِ كَذَا وَكَذَا رِطْلًا أَوْ عَدَدِ كَذَا وَكَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ لَكَ حَتَّى أُوفِيَكَ تِلْكَ التَّسْمِيَةَ فَمَا زَادَ عَلَى تِلْكَ التَّسْمِيَةِ فَهُوَ لِي أَضْمَنُ مَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَنْ يَكُونَ لِي مَا زَادَ فَلَيْسَ ذَلِكَ بَيْعًا وَلَكِنَّهُ الْمُخَاطَرَةُ وَالْغَرَرُ وَالْقِمَارُ يَدْخُلُ هَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا بِشَيْءٍ أَخْرَجَهُ وَلَكِنَّهُ ضَمِنَ لَهُ مَا سُمِّيَ مِنْ ذَلِكَ الْكَيْلِ أَوْ الْوَزْنِ أَوْ الْعَدَدِ عَلَى أَنْ يَكُونَ لَهُ مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَإِنْ نَقَصَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ عَنْ تِلْكَ التَّسْمِيَةِ أَخَذَ مِنْ مَالِ صَاحِبِهِ مَا نَقَصَ بِغَيْرِ ثَمَنٍ وَلَا هِبَةٍ طَيِّبَةٍ بِهَا نَفْسُهُ فَهَذَا يُشْبِهُ الْقِمَارَ وَمَا كَانَ مِثْلُ هَذَا مِنْ الْأَشْيَاءِ فَذَلِكَ يَدْخُلُهُ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الثَّوْبُ أَضْمَنُ لَكَ مِنْ ثَوْبِكَ هَذَا كَذَا وَكَذَا ظِهَارَةَ قَلَنْسُوَةٍ قَدْرُ كُلِّ ظِهَارَةٍ كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ يُسَمِّيهِ فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ حَتَّى أُوفِيَكَ وَمَا زَادَ فَلِي أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أَضْمَنُ لَكَ مِنْ ثِيَابِكَ هَذِي كَذَا وَكَذَا قَمِيصًا ذَرْعُ كُلِّ قَمِيصٍ كَذَا وَكَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ وَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَلِي أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الْجُلُودُ مِنْ جُلُودِ الْبَقَرِ أَوْ الْإِبِلِ أُقَطِّعُ جُلُودَكَ هَذِهِ نِعَالًا عَلَى إِمَامٍ يُرِيهِ إِيَّاهُ فَمَا نَقَصَ مِنْ مِائَةِ زَوْجٍ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ وَمَا زَادَ فَهُوَ لِي بِمَا ضَمِنْتُ لَكَ وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ عِنْدَهُ حَبُّ الْبَانِ اعْصُرْ حَبَّكَ هَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ كَذَا وَكَذَا رِطْلًا فَعَلَيَّ أَنْ أُعْطِيَكَهُ وَمَا زَادَ فَهُوَ لِي فَهَذَا كُلُّهُ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ الْأَشْيَاءِ أَوْ ضَارَعَهُ مِنْ الْمُزَابَنَةِ الَّتِي لَا تَصْلُحُ وَلَا تَجُوزُ وَكَذَلِكَ أَيْضًا إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الْخَبَطُ أَوْ النَّوَى أَوْ الْكُرْسُفُ أَوْ الْكَتَّانُ أَوْ الْقَضْبُ أَوْ الْعُصْفُرُ أَبْتَاعُ مِنْكَ هَذَا الْخَبَطَ بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ خَبَطٍ يُخْبَطُ مِثْلَ خَبَطِهِ أَوْ هَذَا النَّوَى بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ نَوًى مِثْلِهِ وَفِي الْعُصْفُرِ وَالْكُرْسُفِ وَالْكَتَّانِ وَالْقَضْبِ مِثْلَ ذَلِكَ فَهَذَا كُلُّهُ يَرْجِعُ إِلَى مَا وَصَفْنَا مِنْ الْمُزَابَنَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ پھلوں اور میووں کی بیع کے مختلف مسائل کا بیان
کہا مالک نے جو شخص کسی معین درختوں کے پھلوں کو خریدے یا ایک باغ کے میووں کو خریدے یا معین بکریوں کے دودھ کو خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے بشرطیکہ خریدار قیمت ادا کرتے ہی اپنا مال وصول کرنا شروع کر دے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی روپیہ دے کر ایک کپہ میں سے کسی قدر گھی مول لے اس میں کچھ قباحت نہیں ہے اگر کپہ قبل گھی لینے کے پھٹ جائے اور گھی بہہ جائے تو خریدار اپنے روپے پھیر لے گا۔ کہا مالک نے مثال اس کی یہ ہے کہ ایک شخص تین ڈھیر کھجور کے لگائے ایک عجوہ کا جو پندرہ صاع ہے اور ایک بیس کا جو دس صاع ہے اور ایک عذق کا جو بارہ صاع ہے پھر مشتری (خریدنے والا) نے کھجور والے دینار دے یا اس شرط سے کہ ان تینوں ڈھیروں میں سے جو میں چاہوں لے لوں گا تو یہ جائز نہیں۔ کہا مالک نے اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص اپنے اونٹ یا غلام کو جو درزی یا بڑھئی یا اور کوئی کام کرتا ہو کرایہ کو دے یا مکان کرایہ پردے اور زر کرایہ پیشگی لے لے بعد اس کے اونٹ یا غلام مرجائے اور گھر گرجائے تو اونٹ والا اسی طرح غلام یا مکان والا حساب کر کے جس قدر اجرت اس کے ذمہ پر باقی رہ گئی ہو واپس کر دے گا فرض کیجئیے کہ اگر مستاجر نے اپنا نصف حق وصول کیا تھا تو نصف اجرت اس کو واپس ملے گی۔ کہا مالک نے ان سب صورتوں میں سلف کرنا یعنی اجرت پیشگی دے دینا جب ہی درست ہے کہ اجرت دیتے ہی غلام یا اونٹ یا گھر پر قبضہ کرلے یا رطب توڑنا شروع کر دے یہ نہیں کہ اس میں دیر کرے یا کوئی میعاد ٹھہرائے۔ کہا مالک نے یہ سلف مکروہ ہے کہ کوئی شخص اونٹ کا کرایہ دے دے اونٹ والے سے یہ کہے کہ حج کے دنوں میں تیرے اونٹ پر سوار ہوں گا اور ابھی حج میں ایک عرصہ باقی ہو یا ایسا ہی غلام اور گھر میں کہے تو یہ صورت گویا اس طرح پر ہوئی کہ اگر وہ اونٹ یا غلام یا گھر اس وقت تک باقی رہے تو اسی کرایہ سے اس سے منفعت اٹھا لے اور اگر وہ اونٹ یا غلام یا لونڈی واپس کی جائے تو اپنے کرایہ کے پیسے پھیر لے۔ کہا مالک نے اگر وہ شخص کرایہ دیتے ہی اونٹ یا غلام یا گھر پر قبضہ کرلیتا تو کراہت جاتی رہتی اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص غلام یا لونڈی خرید کر اپنے قبضے میں لائے اور قیمت ان کی ادا کرے بعد اس کے کسی عیب کی وجہ سے وہ غلام یا لونڈی واپس کی جائے تو مشتری (خریدنے والا) اپنا زر ثمن بائع (بچنے والا) سے پھیر لے اور اس میں کچھ قباحت نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کسی معین غلام یا اونٹ کو کرایہ پر لے اور قبضے کی ایک میعاد مقرر کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ فلاں تاریخ سے میں اونٹ یا غلام کو اپنے قبضے و تصرت میں لوں گا تو یہ جائز نہیں کیونکہ نہ مستاجر نے قبضہ کیا اس اونٹ یا غلام پر نہ موجر نے ایسے دین میں سلف کی جس کا دینا مستاجر پر واجب ہے۔
بَاب جَامِعِ بَيْعِ الثَّمَرِ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى ثَمَرًا مِنْ نَخْلٍ مُسَمَّاةٍ أَوْ حَائِطٍ مُسَمًّى أَوْ لَبَنًا مِنْ غَنَمٍ مُسَمَّاةٍ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا كَانَ يُؤْخَذُ عَاجِلًا يَشْرَعُ الْمُشْتَرِي فِي أَخْذِهِ عِنْدَ دَفْعِهِ الثَّمَنَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ رَاوِيَةِ زَيْتٍ يَبْتَاعُ مِنْهَا رَجُلٌ بِدِينَارٍ أَوْ دِينَارَيْنِ وَيُعْطِيهِ ذَهَبَهُ وَيَشْتَرِطُ عَلَيْهِ أَنْ يَكِيلَ لَهُ مِنْهَا فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ انْشَقَّتْ الرَّاوِيَةُ فَذَهَبَ زَيْتُهَا فَلَيْسَ لِلْمُبْتَاعِ إِلَّا ذَهَبُهُ وَلَا يَكُونُ بَيْنَهُمَا بَيْعٌ وَأَمَّا كُلُّ شَيْءٍ كَانَ حَاضِرًا يُشْتَرَى عَلَى وَجْهِهِ مِثْلُ اللَّبَنِ إِذَا حُلِبَ وَالرُّطَبِ يُسْتَجْنَى فَيَأْخُذُ الْمُبْتَاعُ يَوْمًا بِيَوْمٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ فَنِيَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَ الْمُشْتَرِي مَا اشْتَرَى رَدَّ عَلَيْهِ الْبَائِعُ مِنْ ذَهَبِهِ بِحِسَابِ مَا بَقِيَ لَهُ أَوْ يَأْخُذُ مِنْهُ الْمُشْتَرِي سِلْعَةً بِمَا بَقِيَ لَهُ يَتَرَاضَيَانِ عَلَيْهَا وَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَأْخُذَهَا فَإِنْ فَارَقَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لِأَنَّهُ يَدْخُلُهُ الدَّيْنُ بِالدَّيْنِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ فَإِنْ وَقَعَ فِي بَيْعِهِمَا أَجَلٌ فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ وَلَا يَحِلُّ فِيهِ تَأْخِيرٌ وَلَا نَظِرَةٌ وَلَا يَصْلُحُ إِلَّا بِصِفَةٍ مَعْلُومَةٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَيَضْمَنُ ذَلِكَ الْبَائِعُ لِلْمُبْتَاعِ وَلَا يُسَمَّى ذَلِكَ فِي حَائِطٍ بِعَيْنِهِ وَلَا فِي غَنَمٍ بِأَعْيَانِهَا و سُئِلَ مَالِك عَنْ الرَّجُلِ يَشْتَرِي مِنْ الرَّجُلِ الْحَائِطَ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنْ النَّخْلِ مِنْ الْعَجْوَةِ وَالْكَبِيسِ وَالْعَذْقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أَلْوَانِ التَّمْرِ فَيَسْتَثْنِي مِنْهَا ثَمَرَ النَّخْلَةِ أَوْ النَّخَلَاتِ يَخْتَارُهَا مِنْ نَخْلِهِ فَقَالَ مَالِك ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ إِذَا صَنَعَ ذَلِكَ تَرَكَ ثَمَرَ النَّخْلَةِ مِنْ الْعَجْوَةِ وَمَكِيلَةُ ثَمَرِهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَأَخَذَ مَكَانَهَا ثَمَرَ نَخْلَةٍ مِنْ الْكَبِيسِ وَمَكِيلَةُ ثَمَرِهَا عَشَرَةُ أَصْوُعٍ أَوْ أَخَذَ الْعَجْوَةَ الَّتِي فِيهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَتَرَكَ الَّتِي فِيهَا عَشْرَةُ أَصْوُعٍ مِنْ الْكَبِيسِ فَكَأَنَّهُ اشْتَرَى الْعَجْوَةَ بِالْكَبِيسِ مُتَفَاضِلًا وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ بَيْنَ يَدَيْهِ صُبَرٌ مِنْ التَّمْرِ قَدْ صَبَّرَ الْعَجْوَةَ فَجَعَلَهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَجَعَلَ صُبْرَةَ الْكَبِيسِ عَشَرَةَ آصُعٍ وَجَعَلَ صُبْرَةَ الْعَذْقِ اثْنَيْ عَشَرَ صَاعًا فَأَعْطَى صَاحِبَ التَّمْرِ دِينَارًا عَلَى أَنَّهُ يَخْتَارُ فَيَأْخُذُ أَيَّ تِلْكَ الصُّبَرِ شَاءَ قَالَ مَالِك فَهَذَا لَا يَصْلُحُ و سُئِلَ مَالِك عَنْ الرَّجُلِ يَشْتَرِي الرُّطَبَ مِنْ صَاحِبِ الْحَائِطِ فَيُسْلِفُهُ الدِّينَارَ مَاذَا لَهُ إِذَا ذَهَبَ رُطَبُ ذَلِكَ الْحَائِطِ قَالَ مَالِك يُحَاسِبُ صَاحِبَ الْحَائِطِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِينَارِهِ إِنْ كَانَ أَخَذَ بِثُلُثَيْ دِينَارٍ رُطَبًا أَخَذَ ثُلُثَ الدِّينَارِ الَّذِي بَقِيَ لَهُ وَإِنْ كَانَ أَخَذَ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِ دِينَارِهِ رُطَبًا أَخَذَ الرُّبُعَ الَّذِي بَقِيَ لَهُ أَوْ يَتَرَاضَيَانِ بَيْنَهُمَا فَيَأْخُذُ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِينَارِهِ عِنْدَ صَاحِبِ الْحَائِطِ مَا بَدَا لَهُ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ تَمْرًا أَوْ سِلْعَةً سِوَى التَّمْرِ أَخَذَهَا بِمَا فَضَلَ لَهُ فَإِنْ أَخَذَ تَمْرًا أَوْ سِلْعَةً أُخْرَى فَلَا يُفَارِقْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ ذَلِكَ مِنْهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا هَذَا بِمَنْزِلَةِ أَنْ يُكْرِيَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ رَاحِلَةً بِعَيْنِهَا أَوْ يُؤَاجِرَ غُلَامَهُ الْخَيَّاطَ أَوْ النَّجَّارَ أَوْ الْعَمَّالَ لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْأَعْمَالِ أَوْ يُكْرِيَ مَسْكَنَهُ وَيَسْتَلِفَ إِجَارَةَ ذَلِكَ الْغُلَامِ أَوْ كِرَاءَ ذَلِكَ الْمَسْكَنِ أَوْ تِلْكَ الرَّاحِلَةِ ثُمَّ يَحْدُثُ فِي ذَلِكَ حَدَثٌ بِمَوْتٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَيَرُدُّ رَبُّ الرَّاحِلَةِ أَوْ الْعَبْدِ أَوْ الْمَسْكَنِ إِلَى الَّذِي سَلَّفَهُ مَا بَقِيَ مِنْ كِرَاءِ الرَّاحِلَةِ أَوْ إِجَارَةِ الْعَبْدِ أَوْ كِرَاءِ الْمَسْكَنِ يُحَاسِبُ صَاحِبَهُ بِمَا اسْتَوْفَى مِنْ ذَلِكَ إِنْ كَانَ اسْتَوْفَى نِصْفَ حَقِّهِ رَدَّ عَلَيْهِ النِّصْفَ الْبَاقِيَ الَّذِي لَهُ عِنْدَهُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ يَرُدُّ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ لَهُ قَالَ مَالِك وَلَا يَصْلُحُ التَّسْلِيفُ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا يُسَلَّفُ فِيهِ بِعَيْنِهِ إِلَّا أَنْ يَقْبِضَ الْمُسَلِّفُ مَا سَلَّفَ فِيهِ عِنْدَ دَفْعِهِ الذَّهَبَ إِلَى صَاحِبِهِ يَقْبِضُ الْعَبْدَ أَوْ الرَّاحِلَةَ أَوْ الْمَسْكَنَ أَوْ يَبْدَأُ فِيمَا اشْتَرَى مِنْ الرُّطَبِ فَيَأْخُذُ مِنْهُ عِنْدَ دَفْعِهِ الذَّهَبَ إِلَى صَاحِبِهِ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ تَأْخِيرٌ وَلَا أَجَلٌ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أُسَلِّفُكَ فِي رَاحِلَتِكَ فُلَانَةَ أَرْكَبُهَا فِي الْحَجِّ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَجِّ أَجَلٌ مِنْ الزَّمَانِ أَوْ يَقُولَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الْعَبْدِ أَوْ الْمَسْكَنِ فَإِنَّهُ إِذَا صَنَعَ ذَلِكَ كَانَ إِنَّمَا يُسَلِّفُهُ ذَهَبًا عَلَى أَنَّهُ إِنْ وَجَدَ تِلْكَ الرَّاحِلَةَ صَحِيحَةً لِذَلِكَ الْأَجَلِ الَّذِي سَمَّى لَهُ فَهِيَ لَهُ بِذَلِكَ الْكِرَاءِ وَإِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ مِنْ مَوْتٍ أَوْ غَيْرِهِ رَدَّ عَلَيْهِ ذَهَبَهُ وَكَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى وَجْهِ السَّلَفِ عِنْدَهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا فَرَقَ بَيْنَ ذَلِكَ الْقَبْضُ مَنْ قَبَضَ مَا اسْتَأْجَرَ أَوْ اسْتَكْرَى فَقَدْ خَرَجَ مِنْ الْغَرَرِ وَالسَّلَفِ الَّذِي يُكْرَهُ وَأَخَذَ أَمْرًا مَعْلُومًا وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ الْوَلِيدَةَ فَيَقْبِضَهُمَا وَيَنْقُدَ أَثْمَانَهُمَا فَإِنْ حَدَثَ بِهِمَا حَدَثٌ مِنْ عُهْدَةِ السَّنَةِ أَخَذَ ذَهَبَهُ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي ابْتَاعَ مِنْهُ فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ وَبِهَذَا مَضَتْ السُّنَّةُ فِي بَيْعِ الرَّقِيقِ قَالَ مَالِك وَمَنْ اسْتَأْجَرَ عَبْدًا بِعَيْنِهِ أَوْ تَكَارَى رَاحِلَةً بِعَيْنِهَا إِلَى أَجَلٍ يَقْبِضُ الْعَبْدَ أَوْ الرَّاحِلَةَ إِلَى ذَلِكَ الْأَجَلِ فَقَدْ عَمِلَ بِمَا لَا يَصْلُحُ لَا هُوَ قَبَضَ مَا اسْتَكْرَى أَوْ اسْتَأْجَرَ وَلَا هُوَ سَلَّفَ فِي دَيْنٍ يَكُونُ ضَامِنًا عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৮
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ میووں کی بیع کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص کوئی میوہ تر یا خشک خریدے اس کو نہ بیچے یہاں تک کہ اس پر قبضہ کرلے اور میوے کو میوے سے بدلیں اگر بیچے تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور جو میوہ لیا ایسا ہے کہ سوکھا کر کھایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے اس کو اگر میوے کے بدلے میں بیچے اور ایک جنس ہو تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور برابر بیچے کمی بیشی اس میں درست نہیں البتہ اگر جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد بیچنا چاہیے اس میں میعاد لگانا درست نہیں اور جو میوہ سوکھایا نہیں جاتا بلکہ تر کھایا جاتا ہے۔ جیسے خربوزہ ککڑی، ترنج، کیلا، گا جر، انار وغیرہ اس کو ایک دوسرے کے بدلے میں اگرچہ جنس ایک ہو کمی بیشی کے ساتھ بھی درست ہے جب اس میں میعاد نہ ہو نقدا نقد ہو۔
بَاب بَيْعِ الْفَاكِهَةِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ ابْتَاعَ شَيْئًا مِنْ الْفَاكِهَةِ مِنْ رَطْبِهَا أَوْ يَابِسِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْهَا بَعْضُهُ بِبَعْضٍ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ وَمَا كَانَ مِنْهَا مِمَّا يَيْبَسُ فَيَصِيرُ فَاكِهَةً يَابِسَةً تُدَّخَرُ وَتُؤْكَلُ فَلَا يُبَاعُ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ وَمِثْلًا بِمِثْلٍ إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ فَإِنْ كَانَ مِنْ صِنْفَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُبَاعَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَا يَصْلُحُ إِلَى أَجَلٍ وَمَا كَانَ مِنْهَا مِمَّا لَا يَيْبَسُ وَلَا يُدَّخَرُ وَإِنَّمَا يُؤْكَلُ رَطْبًا كَهَيْئَةِ الْبِطِّيخِ وَالْقِثَّاءِ وَالْخِرْبِزِ وَالْجَزَرِ وَالْأُتْرُجِّ وَالْمَوْزِ وَالرُّمَّانِ وَمَا كَانَ مِثْلَهُ وَإِنْ يَبِسَ لَمْ يَكُنْ فَاكِهَةً بَعْدَ ذَلِكَ وَلَيْسَ هُوَ مِمَّا يُدَّخَرُ وَيَكُونُ فَاكِهَةً قَالَ فَأَرَاهُ حَقِيقًا أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا لَمْ يَدْخُلْ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ الْأَجَلِ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৯
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے دونوں سعد کو کہ جتنے برتن سونے اور چاندی کے مال غنیمت میں آئے ہیں
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعْدَيْنِ أَنْ يَبِيعَا آنِيَةً مِنْ الْمَغَانِمِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَبَاعَا کُلَّ ثَلَاثَةٍ بِأَرْبَعَةٍ عَيْنًا أَوْ کُلَّ أَرْبَعَةٍ بِثَلَاثَةٍ عَيْنًا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২০
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دینار کو ایک دینار کے بدلے میں بیچو اور ایک درہم کو ایک درہم کے بدلے میں نہ زیادہ کے بدلے میں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مت بیچو سونے کے بدلے میں سونا مگر برابر نہ زیادہ کرو ایک دوسرے پر اور مت بیچو چاندی کے بدلے میں چاندی کے مگر برابر نہ زیادہ کرو ایک دوسرے پر نہ بیچو کچھ اس میں سے نقد وعدہ پر۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২২
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ایک سنار آیا اور بولا اے ابوعبدالرحمن میں سونے کا زیور بناتا ہوں پھر اس کے وزن سے زیادہ دینار لے کر اس کو بیچتا ہوں اور یہ زیادتی اپنی محنت کے عوض میں لیتا ہوں عبداللہ بن عمر منع کرتے رہے یہاں تک کہ عبداللہ بن عمر مسجد کے دروازے پر آئے یا اپنے جانور پر سوار ہونے کو آئے اس وقت عبداللہ بن عمر نے کہا دینار کو بدلے میں دینار کے اور درہم کو بدلے میں درہم کے بیچ اور زیادتی نہ لے یہی وصیت ہے۔ حضرت عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مت بیچو ایک دینار کو دو دینار کے بدلے میں نہ ایک درہم کو دو درہم کے بدلے میں۔
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَائَهُ صَائِغٌ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ ثُمَّ أَبِيعُ الشَّيْئَ مِنْ ذَلِکَ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلُ مِنْ ذَلِکَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي فَنَهَاهُ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِکَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ يَنْهَاهُ حَتَّی انْتَهَی إِلَی بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَی دَابَّةٍ يُرِيدُ أَنْ يَرْکَبَهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْکُمْ عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৩
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے ایک برتن پانی پینے کا سونے یا چاندی کا اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے بدلے میں بیچا تو ابوالدردا نے ان سے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ اس سے منع کرتے تھے مگر برابر برابر بیچنا درست رکھتے تھے معاویہ نے کہا میرے نزدیک کچھ قباحت نہیں ہے ابوالدردا نے کہا بھلا کان میرے عذر قبول کرے گا اگر میں معاویہ کو اس بدلہ دوں میں تو ان سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور وہ مجھ سے اپنی رائے بیان کرتے ہیں اب میں تمہارے ملک میں نہ رہوں گا پھر ابودردا مدینہ میں حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے یہ قصہ بیان کیا حضرت عمر نے معاویہ کو لکھا کہ ایسی بیع نہ کریں مگر برابر تول کر۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا أَرَی بِمِثْلِ هَذَا بَأْسًا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ أَنَا أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ لَا أُسَاکِنُکَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِهَا ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَائِ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی مُعَاوِيَةَ أَنْ لَا تَبِيعَ ذَلِکَ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا مت بیچو سونے کو بدلے میں سونے کے مگر برابر برابر نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو چاندی کے بدے میں چاندی کے مگر برابر نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں سونے کے اس طرح پر کہ ایک نقد ہو اور دوسرا وعدے پر بلکہ تجھ سے اگر اتنی مہلت چاہے کہ اپنے گھر میں سے ہو کر آئے تو اتنی بھی اجازت مت دے میں خوف کرتا ہوں تمہارے اوپر سود کا۔
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالذَّهَبِ أَحَدُهُمَا غَائِبٌ وَالْآخَرُ نَاجِزٌ وَإِنْ اسْتَنْظَرَکَ إِلَی أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْکُمْ الرَّمَائَ وَالرَّمَائُ هُوَ الرِّبَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا بیچو سونے کو سونے کے مگر برابر برابر نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو ایک کو دوسرے پر اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں سونے کے اس طرح پر کہ ایک نقد ہو دوسرا وعدہ پر بلکہ تجھ سے اگر اتنی مہلت چاہے کہ اپنے گھر میں سے ہو کر آئے تو اتنی بھی اجازت مت دے میں خوف کرتا ہوں تمہارے اوپر سود کا۔ حضرت عمر نے کہا ایک دینار بدلے میں ایک دینار کے چاہے ایک درہم بدلے میں ایک درہم کے اور ایک صاع بدلے میں ایک صاع کے اور نہ بیچو نقد بدلے میں وعدے کے۔
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَإِنْ اسْتَنْظَرَکَ إِلَی أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْکُمْ الرَّمَائَ وَالرَّمَائُ هُوَ الرِّبَا عَنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالصَّاعُ بِالصَّاعِ وَلَا يُبَاعُ کَالِئٌ بِنَاجِزٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৬
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
سعید بن مسیب کہتے تھے نہیں ربا ہے مگر سونے میں یا چاندی میں یا جو چیز ناپ تول کر بکتی ہے کھانے پینے کی۔
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ لَا رِبًا إِلَّا فِي ذَهَبٍ أَوْ فِي فِضَّةٍ أَوْ مَا يُکَالُ أَوْ يُوزَنُ بِمَا يُؤْکَلُ أَوْ يُشْرَبُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৭
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
سعید بن مسیب کہتے تھے روپیہ اشرفی کا کانٹا گویا ملک میں فساد کرنا ہے۔ کہا امام مالک (رح) نے اگر سونے کو چاندی کے بدلے میں یا چاندی کو سونے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے جب وہ ڈلی ہوں یا زیور ہوں لیکن روپے اشرفی کا خریدنا بغیر گنے ہوئے جائز نہیں بلکہ اس میں دھوکا ہے اور مسلمانوں کے دستور کے خلاف ہے لیکن سونے چاندی کا ڈلا یا زیور جو تل کے بکتا ہے اس کو اٹکل سے خریدنا جیسے گیہوں یا کھجور وغیرہ کو خریدتے ہیں برا نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کلام مجید یا تلوار یا انگوٹھی جس میں سونا یا چاندی لگا ہو روپے اشرفی کے بدلے میں خرید کرے تو دیکھیں گے اگر ان چیزوں میں سونا لگا ہوا ہے اور اشرفیوں کے بدلے میں اس کو خرید کیا اور اس چیز کی قیمت دو ثلث سے کم نہیں ہے اور جس قدر سونا اس میں لگا ہوا ہے اس کی قیمت ایک ثلث سے زیادہ نہیں ہے تو درست ہے جب نقدا نقد ہو اسی طرح اگر چاندی لگی ہوئی ہے اور روپیوں کے بدلے میں خرید کیا تب بھی یہی حکم ہے۔
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ قَطْعُ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ مِنْ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ جِزَافًا إِذَا كَانَ تِبْرًا أَوْ حَلْيًا قَدْ صِيغَ فَأَمَّا الدَّرَاهِمُ الْمَعْدُودَةُ وَالدَّنَانِيرُ الْمَعْدُودَةُ فَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَشْتَرِيَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ جِزَافًا حَتَّى يُعْلَمَ وَيُعَدَّ فَإِنْ اشْتُرِيَ ذَلِكَ جِزَافًا فَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ الْغَرَرُ حِينَ يُتْرَكُ عَدُّهُ وَيُشْتَرَى جِزَافًا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ الْمُسْلِمِينَ فَأَمَّا مَا كَانَ يُوزَنُ مِنْ التِّبْرِ وَالْحَلْيِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُبَاعَ ذَلِكَ جِزَافًا وَإِنَّمَا ابْتِيَاعُ ذَلِكَ جِزَافًا كَهَيْئَةِ الْحِنْطَةِ وَالتَّمْرِ وَنَحْوِهِمَا مِنْ الْأَطْعِمَةِ الَّتِي تُبَاعُ جِزَافًا وَمِثْلُهَا يُكَالُ فَلَيْسَ بِابْتِيَاعِ ذَلِكَ جِزَافًا بَأْسٌ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى مُصْحَفًا أَوْ سَيْفًا أَوْ خَاتَمًا وَفِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ ذَهَبٌ أَوْ فِضَّةٌ بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فَإِنَّ مَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ وَفِيهِ الذَّهَبُ بِدَنَانِيرَ فَإِنَّهُ يُنْظَرُ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنْ الذَّهَبِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلَا يَكُونُ فِيهِ تَأْخِيرٌ وَمَا اشْتُرِيَ مِنْ ذَلِكَ بِالْوَرِقِ مِمَّا فِيهِ الْوَرِقُ نُظِرَ إِلَى قِيمَتِهِ فَإِنْ كَانَ قِيمَةُ ذَلِكَ الثُّلُثَيْنِ وَقِيمَةُ مَا فِيهِ مِنْ الْوَرِقِ الثُّلُثَ فَذَلِكَ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ عِنْدَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৮
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع صرف کے بیان میں
مالک بن اوس نے کہا مجھے حاجت ہوئی سو دینار کے درہم لینے کی تو مجھے بلایا طلحہ بن عبیداللہ نے پھر ہم دونوں راضی ہوئے صرف کے اوپر اور انہوں نے دینار مجھ سے لے لئے اور ہاتھ سے لٹ پلٹ کرنے لگے اور کہا صبر کرو یہاں تک کہ میرا خزانچی غابہ آجائے حضرت عمر نے یہ سن کر کہا نہیں قسم اللہ کی مت چھوڑنا طلحہ کو بغیر روپے لئے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سونے کا بیچنا چاندی کے بدلے میں ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور گہیوں بدلے گیہوں کے بیچنا ربا ہے مگر نقدا نقد اور کھجور بدلے کھجور کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور جو بدلے جو کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور نمک بدلے نمک کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے روپے اشرفیوں کے بدلے میں لئے پھر اس میں ایک روپیہ کھوٹا نکلا اب اس کو پھیرنا چاہے تو سب اشرفیاں اپنی پھیر لے اور سب روپے اس کے واپس دے دے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سونا بدلے میں چاندی کے ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور حضرت عمر نے فرمایا اگر تجھ سے اپنے گھر جانے کی مہلت مانگے تو مہلت نہ دے اگر ایک روپیہ اس کو پھیر دے گا اور اس سے جدا ہوجائے گا تو مثل دین کے یا میعاد کے ہوجائے گا اسی واسطے یہ مکروہ ہے خود اس بیع کو توڑ ڈالنا چاہیے کہ ایک طرف نقد ہو دوسرے طرف وعدہ خواہ ایک جنس یا کئی جنس ہوں۔
عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ قَالَ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّی اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ حَتَّی يَأْتِيَنِي خَازِنِي مِنْ الْغَابَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَا تُفَارِقْهُ حَتَّی تَأْخُذَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ قَالَ مَالِک إِذَا اصْطَرَفَ الرَّجُلُ دَرَاهِمَ بِدَنَانِيرَ ثُمَّ وَجَدَ فِيهَا دِرْهَمًا زَائِفًا فَأَرَادَ رَدَّهُ انْتَقَضَ صَرْفُ الدِّينَارِ وَرَدَّ إِلَيْهِ وَرِقَهُ وَأَخَذَ إِلَيْهِ دِينَارَهُ وَتَفْسِيرُ مَا کُرِهَ مِنْ ذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَإِنْ اسْتَنْظَرَکَ إِلَی أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ وَهُوَ إِذَا رَدَّ عَلَيْهِ دِرْهَمًا مِنْ صَرْفٍ بَعْدَ أَنْ يُفَارِقَهُ کَانَ بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ أَوْ الشَّيْئِ الْمُتَأَخِّرِ فَلِذَلِکَ کُرِهَ ذَلِکَ وَانْتَقَضَ الصَّرْفُ وَإِنَّمَا أَرَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ لَا يُبَاعَ الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ وَالطَّعَامُ کُلُّهُ عَاجِلًا بِآجِلٍ فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَکُونَ فِي شَيْئٍ مِنْ ذَلِکَ تَأْخِيرٌ وَلَا نَظِرَةٌ وَإِنْ کَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ أَوْ کَانَ مُخْتَلِفَةً أَصْنَافُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৯
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مرطلہ کا بیان
یزید بن عبداللہ بن قسیط نے کہا سعید بن مسیب کو دیکھا جب سونے کو سونے کے بدلے میں بیچتے تو اپنے سونے کو ایک پلہ میں رکھتے اور دوسرا شخص اپنے سونے کو دوسرے پلے میں رکھتا جب ترازو کا کاٹنا برابر ہوجاتا تو دوسرے کا سونا لے لیتا اور اپنا سونا دے دیتے۔ کہا مالک نے جو شخص سونے کو سونے کے بدلے میں تول کر بیچے تو کچھ قباحت نہیں اگرچہ ایک پلڑے میں گیارہ دینار چڑھیں اور دوسری طرف دس دینار جب نقدا نقد ہوں اور وزن برابر ہو اگرچہ شمار میں کم زیادہ ہوں ایسا ہی دراہم کا حکم ہے۔
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ رَأَی سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُرَاطِلُ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ فَيُفْرِغُ ذَهَبَهُ فِي کِفَّةِ الْمِيزَانِ وَيُفْرِغُ صَاحِبُهُ الَّذِي يُرَاطِلُهُ ذَهَبَهُ فِي کِفَّةِ الْمِيزَانِ الْأُخْرَی فَإِذَا اعْتَدَلَ لِسَانُ الْمِيزَانِ أَخَذَ وَأَعْطَی قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ مُرَاطَلَةً أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ أَنْ يَأْخُذَ أَحَدَ عَشَرَ دِينَارًا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ يَدًا بِيَدٍ إِذَا كَانَ وَزْنُ الذَّهَبَيْنِ سَوَاءً عَيْنًا بِعَيْنٍ وَإِنْ تَفَاضَلَ الْعَدَدُ وَالدَّرَاهِمُ أَيْضًا فِي ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الدَّنَانِيرِ قَالَ مَالِك مَنْ رَاطَلَ ذَهَبًا بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقًا بِوَرِقٍ فَكَانَ بَيْنَ الذَّهَبَيْنِ فَضْلُ مِثْقَالٍ فَأَعْطَى صَاحِبَهُ قِيمَتَهُ مِنْ الْوَرِقِ أَوْ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا يَأْخُذُهُ فَإِنَّ ذَلِكَ قَبِيحٌ وَذَرِيعَةٌ إِلَى الرِّبَا لِأَنَّهُ إِذَا جَازَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ الْمِثْقَالَ بِقِيمَتِهِ حَتَّى كَأَنَّهُ اشْتَرَاهُ عَلَى حِدَتِهِ جَازَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ الْمِثْقَالَ بِقِيمَتِهِ مِرَارًا لِأَنْ يُجِيزَ ذَلِكَ الْبَيْعَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ صَاحِبِهِ قَالَ مَالِك وَلَوْ أَنَّهُ بَاعَهُ ذَلِكَ الْمِثْقَالَ مُفْرَدًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ لَمْ يَأْخُذْهُ بِعُشْرِ الثَّمَنِ الَّذِي أَخَذَهُ بِهِ لِأَنْ يُجَوِّزَ لَهُ الْبَيْعَ فَذَلِكَ الذَّرِيعَةُ إِلَى إِحْلَالِ الْحَرَامِ وَالْأَمْرُ الْمَنْهِيُّ عَنْهُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُرَاطِلُ الرَّجُلَ وَيُعْطِيهِ الذَّهَبَ الْعُتُقَ الْجِيَادَ وَيَجْعَلُ مَعَهَا تِبْرًا ذَهَبًا غَيْرَ جَيِّدَةٍ وَيَأْخُذُ مِنْ صَاحِبِهِ ذَهَبًا كُوفِيَّةً مُقَطَّعَةً وَتِلْكَ الْكُوفِيَّةُ مَكْرُوهَةٌ عِنْدَ النَّاسِ فَيَتَبَايَعَانِ ذَلِكَ مِثْلًا بِمِثْلٍ إِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّ صَاحِبَ الذَّهَبِ الْجِيَادِ أَخَذَ فَضْلَ عُيُونِ ذَهَبِهِ فِي التِّبْرِ الَّذِي طَرَحَ مَعَ ذَهَبِهِ وَلَوْلَا فَضْلُ ذَهَبِهِ عَلَى ذَهَبِ صَاحِبِهِ لَمْ يُرَاطِلْهُ صَاحِبُهُ بِتِبْرِهِ ذَلِكَ إِلَى ذَهَبِهِ الْكُوفِيَّةِ فَامْتَنَعَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَ ثَلَاثَةَ أَصْوُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ بِصَاعَيْنِ وَمُدٍّ مِنْ تَمْرٍ كَبِيسٍ فَقِيلَ لَهُ هَذَا لَا يَصْلُحُ فَجَعَلَ صَاعَيْنِ مِنْ كَبِيسٍ وَصَاعًا مِنْ حَشَفٍ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ بَيْعَهُ فَذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُ الْعَجْوَةِ لِيُعْطِيَهُ صَاعًا مِنْ الْعَجْوَةِ بِصَاعٍ مِنْ حَشَفٍ وَلَكِنَّهُ إِنَّمَا أَعْطَاهُ ذَلِكَ لِفَضْلِ الْكَبِيسِ أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ بِعْنِي ثَلَاثَةَ أَصْوُعٍ مِنْ الْبَيْضَاءِ بِصَاعَيْنِ وَنِصْفٍ مِنْ حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ فَيَقُولُ هَذَا لَا يَصْلُحُ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَيَجْعَلُ صَاعَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ وَصَاعًا مِنْ شَعِيرٍ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ الْبَيْعَ فِيمَا بَيْنَهُمَا فَهَذَا لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيُعْطِيَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ بَيْضَاءَ لَوْ كَانَ ذَلِكَ الصَّاعُ مُفْرَدًا وَإِنَّمَا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ لِفَضْلِ الشَّامِيَّةِ عَلَى الْبَيْضَاءِ فَهَذَا لَا يَصْلُحُ وَهُوَ مِثْلُ مَا وَصَفْنَا مِنْ التِّبْرِ قَالَ مَالِك فَكُلُّ شَيْءٍ مِنْ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالطَّعَامِ كُلِّهِ الَّذِي لَا يَنْبَغِي أَنْ يُبَاعَ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُجْعَلَ مَعَ الصِّنْفِ الْجَيِّدِ مِنْ الْمَرْغُوبِ فِيهِ الشَّيْءُ الرَّدِيءُ الْمَسْخُوطُ لِيُجَازَ الْبَيْعُ وَلِيُسْتَحَلَّ بِذَلِكَ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْ الْأَمْرِ الَّذِي لَا يَصْلُحُ إِذَا جُعِلَ ذَلِكَ مَعَ الصِّنْفِ الْمَرْغُوبِ فِيهِ وَإِنَّمَا يُرِيدُ صَاحِبُ ذَلِكَ أَنْ يُدْرِكَ بِذَلِكَ فَضْلَ جَوْدَةِ مَا يَبِيعُ فَيُعْطِي الشَّيْءَ الَّذِي لَوْ أَعْطَاهُ وَحْدَهُ لَمْ يَقْبَلْهُ صَاحِبُهُ وَلَمْ يَهْمُمْ بِذَلِكَ وَإِنَّمَا يَقْبَلُهُ مِنْ أَجْلِ الَّذِي يَأْخُذُ مَعَهُ لِفَضْلِ سِلْعَةِ صَاحِبِهِ عَلَى سِلْعَتِهِ فَلَا يَنْبَغِي لِشَيْءٍ مِنْ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالطَّعَامِ أَنْ يَدْخُلَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الصِّفَةِ فَإِنْ أَرَادَ صَاحِبُ الطَّعَامِ الرَّدِيءِ أَنْ يَبِيعَهُ بِغَيْرِهِ فَلْيَبِعْهُ عَلَى حِدَتِهِ وَلَا يَجْعَلُ مَعَ ذَلِكَ شَيْئًا فَلَا بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩০
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع عینہ کا بیان اور کھانے کی چیزوں کو قبل قبضہ کے بیچنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص طعام خریدے پھر اس کو نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کرے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی یسْتَوْفِيَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩১
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع عینہ کا بیان اور کھانے کی چیزوں کو قبل قبضہ کے بیچنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اناج خریدے پھر اس کو نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کرے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّی يَقْبِضَهُ
তাহকীক: