আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب بیع کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৮ টি
হাদীস নং: ১২৫২
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کتے کی بیع کا بیان
ابی مسعود انصاری سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت لینے سے اور خرچی سے فاحشہ کی اور کمائی سے فال نکالنے والے کی۔
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْکَاهِنِ يَعْنِي بِمَهْرِ الْبَغِيِّ مَا تُعْطَاهُ الْمَرْأَةُ عَلَی الزِّنَا وَحُلْوَانُ الْکَاهِنِ رَشْوَتُهُ وَمَا يُعْطَی عَلَی أَنْ يَتَکَهَّنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ بیع سلف کا بیان اور اس کو اس کے بدلے میں بیچنے کا بیان
رسول اللہ نے منع کیا ہے بیع سے اور سلف سے۔ کہا مالک نے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے میں تیرا اسباب اس شرط سے لیتا ہوں کہ وہ مجھ سے سلف کرے اس طرح تو یہ جایز نہیں اگر سلف کی شرط موقوف کردے تو بیع جائز ہوجائے گی۔ کہا مالک نے جن کپڑوں میں کھلم کھلا فرق ہے ان میں سے ایک کو دو یا تین کے بدلے میں بیع کرنا نقدا نقد یا میعاد پر طرح سے درست ہے اور جب ایک کپڑا دوسرے کپڑے کے مشابہ ہو اگر نام جدا جدا ہوں تو کمی بیشی درست ہے مگر ادھار درست نہیں۔ کہا مالک نے جس کپڑے کو خریدا اس کا بیچنا قبل قبضے کے بائع (بچنے والا) کے سوا اور کسی کے ہاتھ درست ہے۔ جب کہ اس کی قیمت نقد لے لے۔
بَاب السَّلَفِ وَبَيْعِ الْعُرُوضِ بَعْضِهَا بِبَعْضٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ آخُذُ سِلْعَتَكَ بِكَذَا وَكَذَا عَلَى أَنْ تُسْلِفَنِي كَذَا وَكَذَا فَإِنْ عَقَدَا بَيْعَهُمَا عَلَى هَذَا الْوَجْهِ فَهُوَ غَيْرُ جَائِزٍ فَإِنْ تَرَكَ الَّذِي اشْتَرَطَ السَّلَفَ مَا اشْتَرَطَ مِنْهُ كَانَ ذَلِكَ الْبَيْعُ جَائِزًا قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى الثَّوْبُ مِنْ الْكَتَّانِ أَوْ الشَّطَوِيِّ أَوْ الْقَصَبِيِّ بِالْأَثْوَابِ مِنَ الْإِتْرِيبِيِّ أَوْ الْقَسِّيِّ أَوْ الزِّيقَةِ أَوْ الثَّوْبِ الْهَرَوِيِّ أَوْ الْمَرْوِيِّ بِالْمَلَاحِفِ الْيَمَانِيَّةِ وَالشَّقَائِقِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ الْوَاحِدُ بِالْاثْنَيْنِ أَوْ الثَّلَاثَةِ يَدًا بِيَدٍ أَوْ إِلَى أَجَلٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ نَسِيئَةٌ فَلَا خَيْرَ فِيهِ قَالَ مَالِك وَلَا يَصْلُحُ حَتَّى يَخْتَلِفَ فَيَبِينَ اخْتِلَافُهُ فَإِذَا أَشْبَهَ بَعْضُ ذَلِكَ بَعْضًا وَإِنْ اخْتَلَفَتْ أَسْمَاؤُهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ وَذَلِكَ أَنْ يَأْخُذَ الثَّوْبَيْنِ مِنْ الْهَرَوِيِّ بِالثَّوْبِ مِنْ الْمَرْوِيِّ أَوْ الْقُوهِيِّ إِلَى أَجَلٍ أَوْ يَأْخُذَ الثَّوْبَيْنِ مِنْ الْفُرْقُبِيِّ بِالثَّوْبِ مِنْ الشَّطَوِيِّ فَإِذَا كَانَتْ هَذِهِ الْأَجْنَاسُ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَلَا يُشْتَرَى مِنْهَا اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ أَنْ تَبِيعَ مَا اشْتَرَيْتَ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ تَسْتَوْفِيَهُ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ إِذَا انْتَقَدْتَ ثَمَنَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৪
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ اس میں سلف کرنے کا بیان
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سے ایک شخص نے پوچھا جو کوئی کپڑوں میں سلف کرے پھر قبل قبضے کے ان کو بیچنا چاہے ابن عباس نے کہا یہ چاندی کی بیع ہے چاندی کے بدلے میں اور اس کو مکروہ جانا۔ کہا مالک نے ہماری دانست میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص ان کپڑوں کو اسی کے ہاتھ بیچنا چاہے جس سے خریدا ہے پہلی قیمت سے کچھ زیادہ پر کیونکہ اگر وہ کسی اور شخص سے ان کپڑوں کو بیچنا چاہے تو کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص سلف کرے غلام میں یا جانور میں یا کسی اور اسباب میں اور اس کے اوصاف بیان کردے ایک میعاد معین پر جب میعاد گزرے تو مشتری (خریدنے والا) ان چیزوں کو اسی بائع (بچنے والا) کے ہاتھ پہلی قیمت سے زیادہ پر نہ بیچے جب تک کہ ان چیزوں کو اپنے قبضے میں نہ لائے ورنہ ربا ہوجائے گا گویا بائع (بچنے والا) نے ایک مدت تک مشتری (خریدنے والا) کے روپوں سے فائدہ اٹھایا پھر زیادہ دے کر اس کو پھیر دیا تو یہ عین ربا ہے۔ کہا مالک نے جو شخص سلف کرے سونا چاندی دے کر کسی اساب میں یا جانور میں اور اس سے اوصاف بیان کردے ایک میعاد معین پر جب میعاد گزر جائے یا نہ گزرے تو مشتری (خریدنے والا) اس اسباب یا جانور کو بائع (بچنے والا) کے ہاتھ کسی اور اسباب کے بدلے میں بیچ سکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ اس اسباب کو نقد لے لے اس میں میعاد نہ ہو سوائے غلے کے کہ اس کا بیچنا قبل قبضے کے درست نہیں اور اگر مشتری (خریدنے والا) اس اس اسباب کو سوائے بائع (بچنے والا) کے اور کسی کے ہاتھ بیچے تو سونے چاندی کے بدلے میں بھی بیچ سکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ دام نقد لے میعاد نہ ہو ورنہ کا لئی کی بیع کا لئی کے بدلے میں ہوجائے گی یعنی دین کے بدلے میں دین۔ کہا مالک نے جو شخص کسی اسباب میں جو کھانے پینے کا نہیں ہے سلف کرے ایک میعاد پر تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے کہ اس اسباب کو سوائے بائع (بچنے والا) کے اور کسی کے ہاتھ سونا یا چاندی یا اسباب کے بدلے میں فروخت کر ڈالے قبضے سے پیشتر مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ بائع (بچنے والا) کے ہاتھ ہی بیچے اگر ایسا کرے تو اسباب کے بدلے میں بید ڈالے تو کچھ قباحت نہیں مگر نقدا نقد بیچے۔ کہا مالک نے جس نے روپے یا اشرفیاں دے کر سلف کی چار کپڑوں میں ایک میعاد پر اور ان کپڑوں کے اوصاف بیان کردیئے۔ جب مدت گزری تو مشتری (خریدنے والا) نے بائع (بچنے والا) پر ان چیزوں کا تقاضا کیا لیکن بائع (بچنے والا) کے پاس اس قسم کے کپڑے نہ نکلے بلکہ اس سے ہلکے اس وقت بائع (بچنے والا) نے کہا تو ان ہلکے کپڑوں میں سے آٹھ کپڑے لے لے تو مشتری (خریدنے والا) کو لینا درست ہے مگر اسی وقت نقد لینا چاہیے دیر نہ کرے اگر ان آٹھ کپڑوں کی کوئی معیاد نہ کرے گا تو درست نہیں ہے اگر قبل معیاد گزرنے کے دوسرے کپڑے اسی قسم کے ٹھہرائے تو درست نہیں البتہ دوسرے قسم کے کپڑوں سے بدلنا درست ہے۔
عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ سَلَّفَ فِي سَبَائِبَ فَأَرَادَ بَيْعَهَا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تِلْکَ الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ وَکَرِهَ ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ بِأَکْثَرَ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَهَا بِهِ وَلَوْ أَنَّهُ بَاعَهَا مِنْ غَيْرِ الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ لَمْ يَکُنْ بِذَلِکَ بَأْسٌ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ سَلَّفَ فِي رَقِيقٍ أَوْ مَاشِيَةٍ أَوْ عُرُوضٍ فَإِذَا كَانَ كُلُّ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ مَوْصُوفًا فَسَلَّفَ فِيهِ إِلَى أَجَلٍ فَحَلَّ الْأَجَلُ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ لَا يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ مِنْ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْهُ بِأَكْثَرَ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي سَلَّفَهُ فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ مَا سَلَّفَهُ فِيهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا فَعَلَهُ فَهُوَ الرِّبَا صَارَ الْمُشْتَرِي إِنْ أَعْطَى الَّذِي بَاعَهُ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فَانْتَفَعَ بِهَا فَلَمَّا حَلَّتْ عَلَيْهِ السِّلْعَةُ وَلَمْ يَقْبِضْهَا الْمُشْتَرِي بَاعَهَا مِنْ صَاحِبِهَا بِأَكْثَرَ مِمَّا سَلَّفَهُ فِيهَا فَصَارَ أَنْ رَدَّ إِلَيْهِ مَا سَلَّفَهُ وَزَادَهُ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ مَالِك مَنْ سَلَّفَ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا فِي حَيَوَانٍ أَوْ عُرُوضٍ إِذَا كَانَ مَوْصُوفًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ حَلَّ الْأَجَلُ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ أَنْ يَبِيعَ الْمُشْتَرِي تِلْكَ السِّلْعَةَ مِنْ الْبَائِعِ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الْأَجَلُ أَوْ بَعْدَ مَا يَحِلُّ بِعَرْضٍ مِنْ الْعُرُوضِ يُعَجِّلُهُ وَلَا يُؤَخِّرُهُ بَالِغًا مَا بَلَغَ ذَلِكَ الْعَرْضُ إِلَّا الطَّعَامَ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَلِلْمُشْتَرِي أَنْ يَبِيعَ تِلْكَ السِّلْعَةَ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنْهُ بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ عَرْضٍ مِنْ الْعُرُوضِ يَقْبِضُ ذَلِكَ وَلَا يُؤَخِّرُهُ لِأَنَّهُ إِذَا أَخَّرَ ذَلِكَ قَبُحَ وَدَخَلَهُ مَا يُكْرَهُ مِنْ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ وَالْكَالِئُ بِالْكَالِئِ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ دَيْنًا لَهُ عَلَى رَجُلٍ بِدَيْنٍ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ قَالَ مَالِك وَمَنْ سَلَّفَ فِي سِلْعَةٍ إِلَى أَجَلٍ وَتِلْكَ السِّلْعَةُ مِمَّا لَا يُؤْكَلُ وَلَا يُشْرَبُ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ يَبِيعُهَا مِمَّنْ شَاءَ بِنَقْدٍ أَوْ عَرْضٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهَا مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهَا الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا مِنْ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنْهُ إِلَّا بِعَرْضٍ يَقْبِضُهُ وَلَا يُؤَخِّرُهُ قَالَ مَالِك وَإِنْ كَانَتْ السِّلْعَةُ لَمْ تَحِلَّ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَبِيعَهَا مِنْ صَاحِبِهَا بِعَرْضٍ مُخَالِفٍ لَهَا بَيِّنٍ خِلَافُهُ يَقْبِضُهُ وَلَا يُؤَخِّرُهُ قَالَ مَالِك فِيمَنْ سَلَّفَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فِي أَرْبَعَةِ أَثْوَابٍ مَوْصُوفَةٍ إِلَى أَجَلٍ فَلَمَّا حَلَّ الْأَجَلُ تَقَاضَى صَاحِبَهَا فَلَمْ يَجِدْهَا عِنْدَهُ وَوَجَدَ عِنْدَهُ ثِيَابًا دُونَهَا مِنْ صِنْفِهَا فَقَالَ لَهُ الَّذِي عَلَيْهِ الْأَثْوَابُ أُعْطِيكَ بِهَا ثَمَانِيَةَ أَثْوَابٍ مِنْ ثِيَابِي هَذِهِ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا أَخَذَ تِلْكَ الْأَثْوَابَ الَّتِي يُعْطِيهِ قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ الْأَجَلُ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ مَحِلِّ الْأَجَلِ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَيْضًا إِلَّا أَنْ يَبِيعَهُ ثِيَابًا لَيْسَتْ مِنْ صِنْفِ الثِّيَابِ الَّتِي سَلَّفَهُ فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৫
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تانبے اور لوہے اور جو چیزیں تل کر بکتی ہیں ان کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو چیزیں تل کر بکتی ہیں سوائے چاندی اور سونے کے جیسے تانبا اور پیتل اور رانگ اور سیسہ اور لوہا اور پتے اور گھاس اور روئی وغیرہ ان میں کمی بیشی درست ہے جب کہ نقدا نقد ہو مثلا ایک رطل لوہے کہ دو رطل لوہے کے بدلے میں یا ایک رطل پیتل کو دو رطل پیتل کے بدلے میں لینا درست ہے مگر جب جنس ایک ہو تو وعدے پر لینا درست نہیں۔ اگر جنس مختلف ہو اس طرح کہ کھلم کھلا فرق ہو (جیسے پیتل بدلے میں لوہے کے) تو وعدے پر لینا بھی درست ہے۔ اگر کھلم کھلا فرق نہ ہو صرف نام کا فرق ہو جیسے قلعی اور سیسہ اور پیتل اور کانسی تو میعاد پر لینا مکروہ ہے۔ کہا مالک نے ان چیزوں کو قبضے سے پہلے بیچنا درست ہے سوائے بائع (بچنے والا) کے اور کسی کے ہاتھ نقد داموں پر جب ناپ تول کرلیا ضمان میں آجاتی ہے اور ناپ تول کر خریدنے میں جب تک مشتری (خریدنے والا) اس کو پھر ناپ تول نہ لے اور قبضہ نہ کرلے ضمان میں نہیں آتی۔ یہ حکم ان چیزوں کا میں نے اچھا نسا اور ہمارے نزدیک لوگوں کا عمل اسی پر رہا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کہ جو چیزیں کھانے اور پینے کی نہیں ہیں اور ناپ تول پر بکتی ہیں جیسے کسم اور گٹھلیاں یا پتے وغیرہ ان میں کمی بیشی درست ہے اگرچہ جنس ایک ہو مگر ادھار درست نہیں اگر جنس مختلف ہو تو ادھار بھی درست ہے اور ان چیزوں کو قبل قبضے کے بھی بیچنا درست ہے۔ سوائے بائع (بچنے والا) کے اور کسی کے ہاتھ جب قیمت نقد لے لے۔ کہا مالک نے جتنی چیزیں ایسی ہیں جو کام میں آتی ہیں جیسے ریتی اور چونا اگر اپنی جنس کے بدلے میں بیچی جائیں میعاد پر برابر برابر ہوں یا کم وبیش ناجائز ہیں اگر نقد بیچی جائیں تو درست ہے اگرچہ کم وبیش ہوں۔
بَاب بَيْعِ النُّحَاسِ وَالْحَدِيدِ وَمَا أَشْبَهَهُمَا مِمَّا يُوزَنُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَا كَانَ مِمَّا يُوزَنُ مِنْ غَيْرِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مِنْ النُّحَاسِ وَالشَّبَهِ وَالرَّصَاصِ وَالْآنُكِ وَالْحَدِيدِ وَالْقَضْبِ وَالتِّينِ وَالْكُرْسُفِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِمَّا يُوزَنُ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُؤْخَذَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَا بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ رِطْلُ حَدِيدٍ بِرِطْلَيْ حَدِيدٍ وَرِطْلُ صُفْرٍ بِرِطْلَيْ صُفْرٍ قَالَ مَالِك وَلَا خَيْرَ فِيهِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا اخْتَلَفَ الصِّنْفَانِ مِنْ ذَلِكَ فَبَانَ اخْتِلَافُهُمَا فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ فَإِنْ كَانَ الصِّنْفُ مِنْهُ يُشْبِهُ الصِّنْفَ الْآخَرَ وَإِنْ اخْتَلَفَا فِي الْاسْمِ مِثْلُ الرَّصَاصِ وَالْآنُكِ وَالشَّبَهِ وَالصُّفْرِ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ قَالَ مَالِك وَمَا اشْتَرَيْتَ مِنْ هَذِهِ الْأَصْنَافِ كُلِّهَا فَلَا بَأْسَ أَنْ تَبِيعَهُ قَبْلَ أَنْ تَقْبِضَهُ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ إِذَا قَبَضْتَ ثَمَنَهُ إِذَا كُنْتَ اشْتَرَيْتَهُ كَيْلًا أَوْ وَزْنًا فَإِنْ اشْتَرَيْتَهُ جِزَافًا فَبِعْهُ مِنْ غَيْرِ الَّذِي اشْتَرَيْتَهُ مِنْهُ بِنَقْدٍ أَوْ إِلَى أَجَلٍ وَذَلِكَ أَنَّ ضَمَانَهُ مِنْكَ إِذَا اشْتَرَيْتَهُ جِزَافًا وَلَا يَكُونُ ضَمَانُهُ مِنْكَ إِذَا اشْتَرَيْتَهُ وَزْنًا حَتَّى تَزِنَهُ وَتَسْتَوْفِيَهُ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي هَذِهِ الْأَشْيَاءِ كُلِّهَا وَهُوَ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ مِمَّا لَا يُؤْكَلُ وَلَا يُشْرَبُ مِثْلُ الْعُصْفُرِ وَالنَّوَى وَالْخَبَطِ وَالْكَتَمِ وَمَا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِأَنْ يُؤْخَذَ مِنْ كُلِّ صِنْفٍ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ فَإِنْ اخْتَلَفَ الصِّنْفَانِ فَبَانَ اخْتِلَافُهُمَا فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُمَا اثْنَانِ بِوَاحِدٍ إِلَى أَجَلٍ وَمَا اشْتُرِيَ مِنْ هَذِهِ الْأَصْنَافِ كُلِّهَا فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُبَاعَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى إِذَا قَبَضَ ثَمَنَهُ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْهُ قَالَ مَالِك وَكُلُّ شَيْءٍ يَنْتَفِعُ بِهِ النَّاسُ مِنْ الْأَصْنَافِ كُلِّهَا وَإِنْ كَانَتْ الْحَصْبَاءَ وَالْقَصَّةَ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِمِثْلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ فَهُوَ رِبًا وَوَاحِدٌ مِنْهُمَا بِمِثْلِهِ وَزِيَادَةُ شَيْءٍ مِنْ الْأَشْيَاءِ إِلَى أَجَلٍ فَهُوَ رِبًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت ،۔
امام مالک کو پہنچا رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا دو بیعوں سے ایک بیع میں۔ ایک شخص نے دوسرے سے کہا تم میرے واستے یہ اونٹ نقد خرید کرلو میں تم سے وعدے پر خرید کرلوں گا عبداللہ بن عمر نے اس کا برا جانا اور منع کیا قاسم بن محمد سے سوال ہوا ایک شخص نے ایک چیز خریدی دس دینار کے بدلے میں یا پندہ دینار اور ادھار کے بدلے میں تو قاسم بن محمد نے اس کو برا جانا اور اس سے منع کیا۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک کپڑا اس شرط سے خریدا اگر نقد دے تو دس دینار دے اگر وعدے پردے تو پندرہ دینار دے بہر حال مشتری (خریدنے والا) کو دونوں میں ایک قمیت دینا ضروری ہے تو یہ جانق نہیں کیونکہ اس نے اگر دس دینار نقد نہ دیئے تو دس کے بدلے پندرہ ادھار ہوئے اور جو دس نقد دے دیئے تو گویا پندرہ ادھار اس کے بدلے میں لئے۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے بائع (بچنے والا) سے کہا میں نے تجھ سے اس قسم کی کھجور پندرہ صاع یا اس قسم کی دس صاع ایک دینار کے بدلے میں لی دونوں میں سے ایک ضرور لوں گا یا یوں کہا میں نے تجھ سے اس قسم کی گیہوں پندرہ صاع یا اس قسم کی گیہوں دس صاع ایک دینار کے بدلے میں لئے دونوں میں سے ایک ضرور لوں گا تو یہ درست نہیں گویا اس نے دس صاع کھجور لے کر پھر اس کو چھوڑ کر پندرہ صاع کھجور لی یا دس صاع گیہوں چھوڑ کر اس کے عوض میں پندرہ صاع لئے یہ بھی اس میں داخل ہے یعنی دو بیع کرنا ایک بیع میں۔
بَاب النَّهْيِ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَجُلٍ ابْتَعْ لِي هَذَا الْبَعِيرَ بِنَقْدٍ حَتَّى أَبْتَاعَهُ مِنْكَ إِلَى أَجَلٍ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَكَرِهَهُ وَنَهَى عَنْهُ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اشْتَرَى سِلْعَةً بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ ابْتَاعَ سِلْعَةً مِنْ رَجُلٍ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ نَقْدًا أَوْ بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ قَدْ وَجَبَتْ لِلْمُشْتَرِي بِأَحَدِ الثَّمَنَيْنِ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي ذَلِكَ لِأَنَّهُ إِنْ أَخَّرَ الْعَشَرَةَ كَانَتْ خَمْسَةَ عَشَرَ إِلَى أَجَلٍ وَإِنْ نَقَدَ الْعَشَرَةَ كَانَ إِنَّمَا اشْتَرَى بِهَا الْخَمْسَةَ عَشَرَ الَّتِي إِلَى أَجَلٍ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً بِدِينَارٍ نَقْدًا أَوْ بِشَاةٍ مَوْصُوفَةٍ إِلَى أَجَلٍ قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ بِأَحَدِ الثَّمَنَيْنِ إِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لَا يَنْبَغِي لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَهَذَا مِنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ قَالَ لِرَجُلٍ أَشْتَرِي مِنْكَ هَذِهِ الْعَجْوَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ الصَّيْحَانِيَّ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ أَوْ الْحِنْطَةَ الْمَحْمُولَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ الشَّامِيَّةَ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ بِدِينَارٍ قَدْ وَجَبَتْ لِي إِحْدَاهُمَا إِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لَا يَحِلُّ وَذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ أَوْجَبَ لَهُ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ صَيْحَانِيًّا فَهُوَ يَدَعُهَا وَيَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ الْعَجْوَةِ أَوْ تَجِبُ عَلَيْهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ الْحِنْطَةِ الْمَحْمُولَةِ فَيَدَعُهَا وَيَأْخُذُ عَشَرَةَ أَصْوُعٍ مِنْ الشَّامِيَّةِ فَهَذَا أَيْضًا مَكْرُوهٌ لَا يَحِلُّ وَهُوَ أَيْضًا يُشْبِهُ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَهُوَ أَيْضًا مِمَّا نُهِيَ عَنْهُ أَنْ يُبَاعَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ مِنْ الطَّعَامِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس بیع میں دھوکا ہو اس کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا دھوکے کی بیع سے کہا مالک نے دھوکے کی بیع میں یہ داخل ہے کسی شخص کا جانور گم ہوگیا ہو یا غلام بھاگ گیا ہو اور اس کی قیمت پچاس دینار ہو ایک شخص اس سے کہے میں تیرے اس جانور یا غلام کو بیس دینار کو لیتا ہوں اگر وہ مل گیا تو بائع (بچنے والا) کے تیس دینار نقصان ہوئے اور جو نہ ملا تو مشتری (خریدنے والا) کے پاس بیس دینار گئے۔ کہا مالک نے اس میں ایک بڑا دھوکا ہے معلوم نہیں وہ جانور یا غلام اسی حال میں ہے یا اس میں کوئی عیب ہوگیا یا ہنر ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی قیمت گھٹ بڑھ گئی۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ حمل کا خریدنا بھی دھوکے کی بیع میں داخل ہے معلوم نہیں بچہ نکلتا ہے یا نہیں اگر نکلے تو خوبصورت ہوگا یا بدصورت پورا ہوگا یا لنڈورا۔ نر ہو یا مادہ اور ہر ایک کی قیمت کم وبیش ہے۔ کہا مالک نے مادہ کو بیچنا اور اس کے حمل کو مشتثنی کرلینا درست نہیں جیسے کوئی کسی سے کہے میری دودھ والی بکری کی قیمت تین دینار ہیں تو دو دینار کو لے لے مگر اس کے پیٹ کا بچہ جب پیدا ہوگا تو میں لے لوں گا یہ مکروہ ہے درست نہیں۔ کہا مالک نے زیتون کی لکڑی اس کے تیل کے اور تل تیل کے بدلے میں اور مکھن گھی کے بدلے میں بیچنا درست نہیں اس لئے کہ یہ مزابنہ میں داخل ہے۔ اور اس میں دھوکہ ہے معلوم نہیں اس تل یا لکڑی یا مکھن میں اسی قدر تیل یا گھی نکلتا ہے یا اس سے کم یا زیادہ۔ کہا مالک نے اسی طرح حب البان کا بیچنا روغن بان کے بدلے میں نادرست ہے البتہ حب البان کو خوشبودار بان کے بدلے میں بیچنا درست ہے کیونکہ وہ خوشبو ملانے سے تیل کے حکم میں نہ رہا۔ کہا مالک نے ایک شخص نے اپنی چیز کسی کے ہاتھ اس شرط پر بیچی کہ مشتری (خریدنے والا) کو نقصان نہ ہوگا تو یہ جائز نہیں گویا بائع (بچنے والا) نے مشتری (خریدنے والا) کو نوکر رکھا اگر اس چیز میں نفع ہو اور اگر اتنے ہی کو بکے جتنے کو خریدا ہے یا کم کو مشتری (خریدنے والا) کی محنت برباد ہوئی تو یہ درست نہیں مشتری (خریدنے والا) کو اس کی محنت کے موافق مزدوری ملے گی اور جو کچھ نفع نقصان ہو بائع (بچنے والا) کا ہوگا مگر یہ حکم جب ہے کہ مشتری (خریدنے والا) اس چیز کو بیچ چکا ہو اگر اس نے نہیں بیچا تو بیع کو فسخ کریں گے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی چیز بیچ ڈالی پھر مشتری (خریدنے والا) شرمندہ ہو کر بائع (بچنے والا) سے کہنے لگا کچھ قیمت کم کردے بائع (بچنے والا) نے انکار کیا اور کہا تو غم نہ کھابیچ دے تجھے نقصان نہ ہوگا اس میں کچھ قباحت نہیں نہ دھوکا ہے بلکہ بائع (بچنے والا) نے ایک رائے اپنی بیان کی کچھ اس شرط پر نہیں بیچا ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ قَالَ مَالِك وَمِنْ الْغَرَرِ وَالْمُخَاطَرَةِ أَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ قَدْ ضَلَّتْ دَابَّتُهُ أَوْ أَبَقَ غُلَامُهُ وَثَمَنُ الشَّيْءِ مِنْ ذَلِكَ خَمْسُونَ دِينَارًا فَيَقُولُ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُ مِنْكَ بِعِشْرِينَ دِينَارًا فَإِنْ وَجَدَهُ الْمُبْتَاعُ ذَهَبَ مِنْ الْبَائِعِ ثَلَاثُونَ دِينَارًا وَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ ذَهَبَ الْبَائِعُ مِنْ الْمُبْتَاعِ بِعِشْرِينَ دِينَارًا قَالَ مَالِك وَفِي ذَلِكَ عَيْبٌ آخَرُ إِنَّ تِلْكَ الضَّالَّةَ إِنْ وُجِدَتْ لَمْ يُدْرَ أَزَادَتْ أَمْ نَقَصَتْ أَمْ مَا حَدَثَ بِهَا مِنْ الْعُيُوبِ فَهَذَا أَعْظَمُ الْمُخَاطَرَةِ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مِنْ الْمُخَاطَرَةِ وَالْغَرَرِ اشْتِرَاءَ مَا فِي بُطُونِ الْإِنَاثِ مِنْ النِّسَاءِ وَالدَّوَابِّ لِأَنَّهُ لَا يُدْرَى أَيَخْرُجُ أَمْ لَا يَخْرُجُ فَإِنْ خَرَجَ لَمْ يُدْرَ أَيَكُونُ حَسَنًا أَمْ قَبِيحًا أَمْ تَامًّا أَمْ نَاقِصًا أَمْ ذَكَرًا أَمْ أُنْثَى وَذَلِكَ كُلُّهُ يَتَفَاضَلُ إِنْ كَانَ عَلَى كَذَا فَقِيمَتُهُ كَذَا وَإِنْ كَانَ عَلَى كَذَا فَقِيمَتُهُ كَذَا قَالَ مَالِك وَلَا يَنْبَغِي بَيْعُ الْإِنَاثِ وَاسْتِثْنَاءُ مَا فِي بُطُونِهَا وَذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ ثَمَنُ شَاتِي الْغَزِيرَةِ ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ فَهِيَ لَكَ بِدِينَارَيْنِ وَلِي مَا فِي بَطْنِهَا فَهَذَا مَكْرُوهٌ لِأَنَّهُ غَرَرٌ وَمُخَاطَرَةٌ قَالَ مَالِك وَلَا يَحِلُّ بَيْعُ الزَّيْتُونِ بِالزَّيْتِ وَلَا الْجُلْجُلَانِ بِدُهْنِ الْجُلْجُلَانِ وَلَا الزُّبْدِ بِالسَّمْنِ لِأَنَّ الْمُزَابَنَةَ تَدْخُلُهُ وَلِأَنَّ الَّذِي يَشْتَرِي الْحَبَّ وَمَا أَشْبَهَهُ بِشَيْءٍ مُسَمًّى مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهُ لَا يَدْرِي أَيَخْرُجُ مِنْهُ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَهَذَا غَرَرٌ وَمُخَاطَرَةٌ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا اشْتِرَاءُ حَبِّ الْبَانِ بِالسَّلِيخَةِ فَذَلِكَ غَرَرٌ لِأَنَّ الَّذِي يَخْرُجُ مِنْ حَبِّ الْبَانِ هُوَ السَّلِيخَةُ وَلَا بَأْسَ بِحَبِّ الْبَانِ بِالْبَانِ الْمُطَيَّبِ لِأَنَّ الْبَانَ الْمُطَيَّبَ قَدْ طُيِّبَ وَنُشَّ وَتَحَوَّلَ عَنْ حَالِ السَّلِيخَةِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ بَاعَ سِلْعَةً مِنْ رَجُلٍ عَلَى أَنَّهُ لَا نُقْصَانَ عَلَى الْمُبْتَاعِ إِنَّ ذَلِكَ بَيْعٌ غَيْرُ جَائِزٍ وَهُوَ مِنْ الْمُخَاطَرَةِ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّهُ كَأَنَّهُ اسْتَأْجَرَهُ بِرِبْحٍ إِنْ كَانَ فِي تِلْكَ السِّلْعَةِ وَإِنْ بَاعَ بِرَأْسِ الْمَالِ أَوْ بِنُقْصَانٍ فَلَا شَيْءَ لَهُ وَذَهَبَ عَنَاؤُهُ بَاطِلًا فَهَذَا لَا يَصْلُحُ وَلِلْمُبْتَاعِ فِي هَذَا أُجْرَةٌ بِمِقْدَارِ مَا عَالَجَ مِنْ ذَلِكَ وَمَا كَانَ فِي تِلْكَ السِّلْعَةِ مِنْ نُقْصَانٍ أَوْ رِبْحٍ فَهُوَ لِلْبَائِعِ وَعَلَيْهِ وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ إِذَا فَاتَتْ السِّلْعَةُ وَبِيعَتْ فَإِنْ لَمْ تَفُتْ فُسِخَ الْبَيْعُ بَيْنَهُمَا قَالَ مَالِك فَأَمَّا أَنْ يَبِيعَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً يَبُتُّ بَيْعَهَا ثُمَّ يَنْدَمُ الْمُشْتَرِي فَيَقُولُ لِلْبَائِعِ ضَعْ عَنِّي فَيَأْبَى الْبَائِعُ وَيَقُولُ بِعْ فَلَا نُقْصَانَ عَلَيْكَ فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ الْمُخَاطَرَةِ وَإِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ وَضَعَهُ لَهُ وَلَيْسَ عَلَى ذَلِكَ عَقَدَا بَيْعَهُمَا وَذَلِكَ الَّذِي عَلَيْهِ الْأَمْرُ عِنْدَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ملامسہ اور منابذہ کے بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ملام سے اور منابذے سے۔ کہا مالک نے ملامسہ اس کو کہتے ہیں کہ آدمی ایک کپڑے کو چھوڑ کر خرید کرلے نہ اس کو کھولے نہ اندر سے دیکھے یا اندھیری رات میں خریدے نہ جانے اس میں کیا ہے اور منابذہ اس کو کہتے ہیں کہ بائع (بچنے والا) اپنا کپڑا مشتری (خریدنے والا) کی طرف پھینک دے اور مشتری (خریدنے والا) اپنا کپڑا بائع (بچنے والا) کی طرف نہ سوچیں نہ بچاریں یہ اس کے بدلے میں اور وہ اس کے بدلے میں یہ دونوں بیع ممنوع ہیں۔ کہا مالک نے جو تھان تہہ کیا یا چادر بستے میں بندھی ہو تو اس کو بیچنا درست نہیں جب تک کھول کر اندر نہ دیکھے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ قَالَ مَالِک وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَلْمِسَ الرَّجُلُ الثَّوْبَ وَلَا يَنْشُرُهُ وَلَا يَتَبَيَّنُ مَا فِيهِ أَوْ يَبْتَاعَهُ لَيْلًا وَلَا يَعْلَمُ مَا فِيهِ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ ثَوْبَهُ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ عَلَی غَيْرِ تَأَمُّلٍ مِنْهُمَا وَيَقُولُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا هَذَا بِهَذَا فَهَذَا الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ مِنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ قَالَ مَالِک فِي السَّاجِ الْمُدْرَجِ فِي جِرَابِهِ أَوْ الثَّوْبِ الْقُبْطِيِّ الْمُدْرَجِ فِي طَيِّهِ إِنَّهُ لَا يَجُوزُ بَيْعُهُمَا حَتَّی يُنْشَرَا وَيُنْظَرَ إِلَی مَا فِي أَجْوَافِهِمَا وَذَلِکَ أَنَّ بَيْعَهُمَا مِنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَهُوَ مِنْ الْمُلَامَسَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مرابحہ کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص ایک شہر سے کپڑا خرید کرکے دوسرے شہر میں لائے پھر مرابحہ کے طور پر بیچنا چاہے تو اصل لاگت میں دلالوں کی دلالی اور تہہ کرنے کی مزدوری اور باندھا بوندھی کی اجرت اور اپنا خرچ اور مکان کا کرایہ شریک نہ کرے البتہ کپڑے کی بار برداری اس میں شریک کرلے مگر اس پر نفع نہ لے مگر جب مشتری (خریدنے والا) کو اطلاع دے اور وہ اس پر بھی نفع دینے کو راضی ہوجائے تو کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے کپڑوں کی دھلائی اور نگوائی اس لاگت میں داخل ہوگی اور اس پر نفع لیا جائے گا۔ جیسے کپڑے پر نفع لیا جاتا ہے۔ اگر کپڑوں کو بیچا اور ان چیزوں کا حال بیان نہ کیا تو ان پر نفع نہ ملے گا اب اگر کپڑا تلف ہوگیا تو کرایہ باربرداری کا محسوب ہوگا مگر اس پر نفع نہ لگایا جائے گا۔ اگر کپڑا موجود ہے تو بیع کو فسخ کردیں گے جب دونوں راضی ہوجائیں کسی امر پر۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے کوئی اسباب سونے یا چاندی کے بدلے میں خریدا تو اس دن چاندی سونے کا بھاؤ یہ تھا کہ دس درہم کو ایک دینار آتا تھا پھر مشتری (خریدنے والا) اس مال کو لے کر دوسرے شہر میں آیا اور اسی شہر میں مرابحہ کے کے طور پر بیچنا چاہا اسی نرخ پر جو سونے چاندی کا اس دن تھا اگر اس نے دراہم کے بدلے میں خریدا تھا اور دیناروں کے بدلے میں بیچا یا دیناروں کے بدلے میں خریدا تھا اور درہموں کے بدلے میں بیچا اور اسباب موجود ہے۔ تلف نہیں ہوا تو خریدار کو اختیار ہوگا چاہے لے چاہے نہ لے اور اگر وہ اسباب تلف ہوگیا تو مشتری (خریدنے والا) سے وہ ثمن جس کے عوض میں بائع (بچنے والا) نے خریدا تھا نفع حساب کرکے بائع (بچنے والا) کو دلادیں گے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے اپنی چیز جو سو دینار کو پڑی تھی دس فی صدی کے نفع پر بیچی پھر معلوم ہوا کہ وہ چیز نوے دینار کو پڑی تھی اور وہ چیز مشتری (خریدنے والا) کے پاس تلف ہوگئی تو اب بائع (بچنے والا) کو اختیار ہوگا چاہے اس چیز کی قیمت بازار کی لے لے اس دم کی قیمت جس دن وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کے پاس آئی تھی مگر جس صورت میں قیمت بازار کی اس ثمن سے جو اول میں ٹھہری تھی یعنی ایک سو دس دینار سے زیادہ ہو تو بائع (بچنے والا) کو ایک سو دس دینار سے زیادہ نہ ملیں گے اور اگر چاہے تو نوے دینار پر اسی حساب سے نفع لگا کر یعنی ننانوے دینار لے لے مگر جس صورت میں یہ ثمن قیمت سے کم ہو تو بائع (بچنے والا) کا اختیار ہوگا۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایک چیز مرابحہ پر بیچی اور کہا سو دینار کو مجھ کو پڑی ہے پھر اس کو معلوم ہوا ایک سو بیس دینار کو پڑی تو اب خریدار کو اختیار ہوگا اگر چاہے تو بائع (بچنے والا) کا اس دن کی قیمت بازار کی جس دن وہ شئے لی ہے دے دے اور اگر چاہے تو جس ثمن پر خرید کیا ہے نفع لگا کر جہاں تک پہنچے دے مگر جس صورت میں قیمت بازار کی پہلی ثمن سے (یعنی جو سو دینار پر لگی ہے) کم ہو تو مشتری (خریدنے والا) کو یہ نہیں پہنچتا کہ اس سے کم دے اس واسطے کہ مشتری (خریدنے والا) اس پر راضی ہوچکا ہے مگر بائع (بچنے والا) نے اس سے زیادہ بیان کیا تو خریدار کو اصلی ثمن سے کم کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔
بَاب بَيْعِ الْمُرَابَحَةِ حَدَّثَنِي يَحْيَى قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الْبَزِّ يَشْتَرِيهِ الرَّجُلُ بِبَلَدٍ ثُمَّ يَقْدَمُ بِهِ بَلَدًا آخَرَ فَيَبِيعُهُ مُرَابَحَةً إِنَّهُ لَا يَحْسِبُ فِيهِ أَجْرَ السَّمَاسِرَةِ وَلَا أَجْرَ الطَّيِّ وَلَا الشَّدِّ وَلَا النَّفَقَةَ وَلَا كِرَاءَ بَيْتٍ فَأَمَّا كِرَاءُ الْبَزِّ فِي حُمْلَانِهِ فَإِنَّهُ يُحْسَبُ فِي أَصْلِ الثَّمَنِ وَلَا يُحْسَبُ فِيهِ رِبْحٌ إِلَّا أَنْ يُعْلِمَ الْبَائِعُ مَنْ يُسَاوِمُهُ بِذَلِكَ كُلِّهِ فَإِنْ رَبَّحُوهُ عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ بَعْدَ الْعِلْمِ بِهِ فَلَا بَأْسَ بِهِ قَالَ مَالِك فَأَمَّا الْقِصَارَةُ وَالْخِيَاطَةُ وَالصِّبَاغُ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْبَزِّ يُحْسَبُ فِيهِ الرِّبْحُ كَمَا يُحْسَبُ فِي الْبَزِّ فَإِنْ بَاعَ الْبَزَّ وَلَمْ يُبَيِّنْ شَيْئًا مِمَّا سَمَّيْتُ إِنَّهُ لَا يُحْسَبُ لَهُ فِيهِ رِبْحٌ فَإِنْ فَاتَ الْبَزُّ فَإِنَّ الْكِرَاءَ يُحْسَبُ وَلَا يُحْسَبُ عَلَيْهِ رِبْحٌ فَإِنْ لَمْ يَفُتْ الْبَزُّ فَالْبَيْعُ مَفْسُوخٌ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَتَرَاضَيَا عَلَى شَيْءٍ مِمَّا يَجُوزُ بَيْنَهُمَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْمَتَاعَ بِالذَّهَبِ أَوْ بِالْوَرِقِ وَالصَّرْفُ يَوْمَ اشْتَرَاهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ بِدِينَارٍ فَيَقْدَمُ بِهِ بَلَدًا فَيَبِيعُهُ مُرَابَحَةً أَوْ يَبِيعُهُ حَيْثُ اشْتَرَاهُ مُرَابَحَةً عَلَى صَرْفِ ذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي بَاعَهُ فِيهِ فَإِنَّهُ إِنْ كَانَ ابْتَاعَهُ بِدَرَاهِمَ وَبَاعَهُ بِدَنَانِيرَ أَوْ ابْتَاعَهُ بِدَنَانِيرَ وَبَاعَهُ بِدَرَاهِمَ وَكَانَ الْمَتَاعُ لَمْ يَفُتْ فَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَخَذَهُ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ فَإِنْ فَاتَ الْمَتَاعُ كَانَ لِلْمُشْتَرِي بِالثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَهُ بِهِ الْبَائِعُ وَيُحْسَبُ لِلْبَائِعِ الرِّبْحُ عَلَى مَا اشْتَرَاهُ بِهِ عَلَى مَا رَبَّحَهُ الْمُبْتَاعُ قَالَ مَالِك وَإِذَا بَاعَ رَجُلٌ سِلْعَةً قَامَتْ عَلَيْهِ بِمِائَةِ دِينَارٍ لِلْعَشَرَةِ أَحَدَ عَشَرَ ثُمَّ جَاءَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّهَا قَامَتْ عَلَيْهِ بِتِسْعِينَ دِينَارًا وَقَدْ فَاتَتْ السِّلْعَةُ خُيِّرَ الْبَائِعُ فَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ قِيمَةُ سِلْعَتِهِ يَوْمَ قُبِضَتْ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْقِيمَةُ أَكْثَرَ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي وَجَبَ لَهُ بِهِ الْبَيْعُ أَوَّلَ يَوْمٍ فَلَا يَكُونُ لَهُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَذَلِكَ مِائَةُ دِينَارٍ وَعَشْرَةُ دَنَانِيرَ وَإِنْ أَحَبَّ ضُرِبَ لَهُ الرِّبْحُ عَلَى التِّسْعِينَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الَّذِي بَلَغَتْ سِلْعَتُهُ مِنْ الثَّمَنِ أَقَلَّ مِنْ الْقِيمَةِ فَيُخَيَّرُ فِي الَّذِي بَلَغَتْ سِلْعَتُهُ وَفِي رَأْسِ مَالِهِ وَرِبْحِهِ وَذَلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ دِينَارًا قَالَ مَالِك وَإِنْ بَاعَ رَجُلٌ سِلْعَةً مُرَابَحَةً فَقَالَ قَامَتْ عَلَيَّ بِمِائَةِ دِينَارٍ ثُمَّ جَاءَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّهَا قَامَتْ بِمِائَةٍ وَعِشْرِينَ دِينَارًا خُيِّرَ الْمُبْتَاعُ فَإِنْ شَاءَ أَعْطَى الْبَائِعَ قِيمَةَ السِّلْعَةِ يَوْمَ قَبَضَهَا وَإِنْ شَاءَ أَعْطَى الثَّمَنَ الَّذِي ابْتَاعَ بِهِ عَلَى حِسَابِ مَا رَبَّحَهُ بَالِغًا مَا بَلَغَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ أَقَلَّ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَ بِهِ السِّلْعَةَ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُنَقِّصَ رَبَّ السِّلْعَةِ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَهَا بِهِ لِأَنَّهُ قَدْ كَانَ رَضِيَ بِذَلِكَ وَإِنَّمَا جَاءَ رَبُّ السِّلْعَةِ يَطْلُبُ الْفَضْلَ فَلَيْسَ لِلْمُبْتَاعِ فِي هَذَا حُجَّةٌ عَلَى الْبَائِعِ بِأَنْ يَضَعَ مِنْ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَ بِهِ عَلَى الْبَرْنَامَجِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ برنامے پر بیع کرنے کا بیان
کہا مالک نے اگر چند آدمیوں نے مل کر اسباب خریدا اب ایک شخص دوسرا ان میں سے ایک شخص کو کہے تو نے جو اسباب خریدا ہے میں نے اس کے اوصاف سنے ہیں تو اپنا حصہ اس قدر نفع پر مجھے دے دے۔ میں تیری جگہ ان لوگوں کا شریک ہوجاؤں گا اور وہ منظور کرے بعد اس کے جب اس اسباب کو دیکھے تو برا اور گراں معلوم ہو اب اس کو اختیار نہ ہوگا لینا پڑے گا جب کہ اس کے ہاتھ برنامے پر بیچا ہو اور اوصاف بتادیئے ہوں۔ کہا مالک نے ایک شخص کے پاس مختلف کپڑوں کی گٹھڑیاں آئیں اور اس نے برنامہ سنا کے ان گٹھڑیوں کو فروخت کیا جب لوگوں نے مال کھول کر دیکھا تو گراں معلوم ہوا اور نادم ہوئے اس صورت میں وہ مال ان کو لینا ہوگا۔ جب کہ برنامے کے موافق ہو۔
بَاب الْبَيْعِ عَلَى الْبَرْنَامَجِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْقَوْمِ يَشْتَرُونَ السِّلْعَةَ الْبَزَّ أَوْ الرَّقِيقَ فَيَسْمَعُ بِهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ الْبَزُّ الَّذِي اشْتَرَيْتَ مِنْ فُلَانٍ قَدْ بَلَغَتْنِي صِفَتُهُ وَأَمْرُهُ فَهَلْ لَكَ أَنْ أُرْبِحَكَ فِي نَصِيبِكَ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُرْبِحُهُ وَيَكُونُ شَرِيكًا لِلْقَوْمِ مَكَانَهُ فَإِذَا نَظَرَ إِلَيْهِ رَآهُ قَبِيحًا وَاسْتَغْلَاهُ قَالَ مَالِك ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ وَلَا خِيَارَ لَهُ فِيهِ إِذَا كَانَ ابْتَاعَهُ عَلَى بَرْنَامَجٍ وَصِفَةٍ مَعْلُومَةٍ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقْدَمُ لَهُ أَصْنَافٌ مِنْ الْبَزِّ وَيَحْضُرُهُ السُّوَّامُ وَيَقْرَأُ عَلَيْهِمْ بَرْنَامَجَهُ وَيَقُولُ فِي كُلِّ عِدْلٍ كَذَا وَكَذَا مِلْحَفَةً بَصْرِيَّةً وَكَذَا وَكَذَا رَيْطَةً سَابِرِيَّةً ذَرْعُهَا كَذَا وَكَذَا وَيُسَمِّي لَهُمْ أَصْنَافًا مِنْ الْبَزِّ بِأَجْنَاسِهِ وَيَقُولُ اشْتَرُوا مِنِّي عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ فَيَشْتَرُونَ الْأَعْدَالَ عَلَى مَا وَصَفَ لَهُمْ ثُمَّ يَفْتَحُونَهَا فَيَسْتَغْلُونَهَا وَيَنْدَمُونَ قَالَ مَالِك ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُمْ إِذَا كَانَ مُوَافِقًا لِلْبَرْنَامَجِ الَّذِي بَاعَهُمْ عَلَيْهِ قَالَ مَالِك وَهَذَا الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا يُجِيزُونَهُ بَيْنَهُمْ إِذَا كَانَ الْمَتَاعُ مُوَافِقًا لِلْبَرْنَامَجِ وَلَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس بیع میں بائع اور مشتری کا اختیار ہو اس کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں مگر جس بیع میں اختیار کی شرط ہو۔ عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) اختلاف کریں توبائع کو قول معتبر ہوگا اور بیع کا رد کر ڈالیں گے۔ کہا مالک نے ایک شخص نے ایک چیز بیچی اور بیچتے وقت یہ شرط لگائی کہ میں فلانے سے مشورہ کروں گا اگر اس نے اجازت دی تو بیع نافذ ہے اور جو اس نے منع کیا تو بیع لغو ہے مشتری (خریدنے والا) اس شرط پر راضی ہوگیا بعد اس کے پشیمان ہوا تو اس کو اختیار نہ ہوگا بلکہ بائع (بچنے والا) کو جب وہ شخص اجازت دے گا تو نافذ ہوجائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر ایک شخص کوئی چیز خرید کرے کسی شخص سے پھر ثمن میں اختلاف ہو بائع (بچنے والا) کہے میں نے دس دینار کو بیچا مشتری (خریدنے والا) کہے میں نے پانچ دینار کو خریدا تو بائع (بچنے والا) سے کہا جائے گا اگر تیرا جی چاہے تو پانچ دینار کو مشتری (خریدنے والا) کو دے دے نہیں تو تو قسم کھا اس امر پر میں نے اپنی چیز نہیں بیچی مگر دس دینار کو اگر بائع (بچنے والا) نے قسم کھائی تو مشتری (خریدنے والا) سے کہا جائے گا اگر تیرا جی چاہے تو اس کی چیز دس دینار کو لے لے نہیں تو قسم کھا میں نے اس چیز کو نہیں خریدا مگر پانچ دینار کو مشتری (خریدنے والا) نے یہ قسم کھائی تو وہ بری ہوجائے گا کیونکہ ہر ایک ان میں سے دوسرے کا مدعی ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُتَبَايِعَانِ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَی صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا بَيِّعَيْنِ تَبَايَعَا فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ قَالَ مَالِك فِيمَنْ بَاعَ مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً فَقَالَ الْبَائِعُ عِنْدَ مُوَاجَبَةِ الْبَيْعِ أَبِيعُكَ عَلَى أَنْ أَسْتَشِيرَ فُلَانًا فَإِنْ رَضِيَ فَقَدْ جَازَ الْبَيْعُ وَإِنْ كَرِهَ فَلَا بَيْعَ بَيْنَنَا فَيَتَبَايَعَانِ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ يَنْدَمُ الْمُشْتَرِي قَبْلَ أَنْ يَسْتَشِيرَ الْبَائِعُ فُلَانًا إِنَّ ذَلِكَ الْبَيْعَ لَازِمٌ لَهُمَا عَلَى مَا وَصَفَا وَلَا خِيَارَ لِلْمُبْتَاعِ وَهُوَ لَازِمٌ لَهُ إِنْ أَحَبَّ الَّذِي اشْتَرَطَ لَهُ الْبَائِعُ أَنْ يُجِيزَهُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي السِّلْعَةَ مِنْ الرَّجُلِ فَيَخْتَلِفَانِ فِي الثَّمَنِ فَيَقُولُ الْبَائِعُ بِعْتُكَهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَيَقُولُ الْمُبْتَاعُ ابْتَعْتُهَا مِنْكَ بِخَمْسَةِ دَنَانِيرَ إِنَّهُ يُقَالُ لِلْبَائِعِ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِهَا لِلْمُشْتَرِي بِمَا قَالَ وَإِنْ شِئْتَ فَاحْلِفْ بِاللَّهِ مَا بِعْتَ سِلْعَتَكَ إِلَّا بِمَا قُلْتَ فَإِنْ حَلَفَ قِيلَ لِلْمُشْتَرِي إِمَّا أَنْ تَأْخُذَ السِّلْعَةَ بِمَا قَالَ الْبَائِعُ وَإِمَّا أَنْ تَحْلِفَ بِاللَّهِ مَا اشْتَرَيْتَهَا إِلَّا بِمَا قُلْتَ فَإِنْ حَلَفَ بَرِئَ مِنْهَا وَذَلِكَ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُدَّعٍ عَلَى صَاحِبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قرض میں سود کا بیان
ابو صالح نے کہا میں نے اپنا کپڑا دار نخلہ والوں کے ہاتھ بیچا ایک وعدے پر جب میں کوفے جانے لگا تو ان لوگوں نے کہا اگر کچھ کم کردو تم تمہارا روپیہ ہم ابھی دے دیتے ہیں میں نے یہ زید بن ثابت (رض) سے بیان کیا انہوں نے کہا میں تجھے اس روپے کے کھانے اور کھلانے کی اجازت نہیں دیتا۔
عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَی السَّفَّاحِ أَنَّهُ قَالَ بِعْتُ بَزًّا لِي مِنْ أَهْلِ دَارِ نَخْلَةَ إِلَی أَجَلٍ ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَی الْکُوفَةِ فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ بَعْضَ الثَّمَنِ وَيَنْقُدُونِي فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَا آمُرُکَ أَنْ تَأْکُلَ هَذَا وَلَا تُوکِلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قرض میں سود کا بیان
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا ایک شخص کا میعادی قرض کسی پر آتا ہو قرضدار یہ کہے یہ مجھ سے کچھ کم کر کے نقد لے لے اور قرض خواہ اس پر راضی ہوجائے تو عبداللہ بن عمر نے اس کو مکروہ جانا اور اس سے منع کیا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الرَّجُلِ يَکُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَی الرَّجُلِ إِلَی أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَيُعَجِّلُهُ الْآخَرُ فَکَرِهَ ذَلِکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَنَهَی عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قرض میں سود کا بیان
زید بن اسلم نے کہا کیا جاہلیت میں سود اس طور پر ہوتا تھا ایک شخص کا قرض میعادی دوسرے شخص پر آتا ہو جب میعاد گزر جائے تو قرضخواہ قرضدار سے کہے یا تم قرض ادا کرو یا سود دو اگر اس نے قرض ادا کیا تو بہتر ہے نہیں تو قرضخواہ اپنا قرضہ بڑھا دیتا اور پھر میعاد کراتا۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے دوسرے شخص پر سو دینار آتے ہوں وعدے پر جب وعدہ گزر جائے تو قرضدار قرضخواہ سے کہے تو میرے ہاتھ کوئی ایسی چیز جس کی قیمت سو دینار ہوں ڈیڑھ سو دینار کو بیع ڈال ایک میعاد پر یہ بیع درست نہیں اور ہمیشہ اہل علم اس سے منع کرتے رہے اس لئے کہ قرضخواہ نے اپنی چیز کی قیمت سو دینار وصول کرلی اور وہ جو سو دینار قرضے کے تھے ان کی میعاد بڑھا دی۔ بعوض پچاس دینار کے جو اس کو فائدہ حاصل ہو اس شئے کے بیچنے میں۔ یہ بیع مشابہ ہے اس کے جو زید بن اسلم نے روایت کیا کہ جاہلیت کے زمانے میں جب قرض کی مدت گزر جاتی تو قرضخواہ قرضدار سے کہتا یا تو قرض ادا کر یا سود دے اگر وہ ادا کردیتا تو لے لیتا نہیں تو اور مہلت دے کر قرضہ کو بڑھا دیتا۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَکُونَ لِلرَّجُلِ عَلَی الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَی أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّ الْأَجَلُ قَالَ أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي فَإِنْ قَضَی أَخَذَ وَإِلَّا زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَأَخَّرَ عَنْهُ فِي الْأَجَلِ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ الْمَكْرُوهُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الدَّيْنُ إِلَى أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ الطَّالِبُ وَيُعَجِّلُهُ الْمَطْلُوبُ وَذَلِكَ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَةِ الَّذِي يُؤَخِّرُ دَيْنَهُ بَعْدَ مَحِلِّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَيَزِيدُهُ الْغَرِيمُ فِي حَقِّهِ قَالَ فَهَذَا الرِّبَا بِعَيْنِهِ لَا شَكَّ فِيهِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ عَلَى الرَّجُلِ مِائَةُ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّتْ قَالَ لَهُ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ بِعْنِي سِلْعَةً يَكُونُ ثَمَنُهَا مِائَةَ دِينَارٍ نَقْدًا بِمِائَةٍ وَخَمْسِينَ إِلَى أَجَلٍ هَذَا بَيْعٌ لَا يَصْلُحُ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ إِنَّمَا يُعْطِيهِ ثَمَنَ مَا بَاعَهُ بِعَيْنِهِ وَيُؤَخِّرُ عَنْهُ الْمِائَةَ الْأُولَى إِلَى الْأَجَلِ الَّذِي ذَكَرَ لَهُ آخِرَ مَرَّةٍ وَيَزْدَادُ عَلَيْهِ خَمْسِينَ دِينَارًا فِي تَأْخِيرِهِ عَنْهُ فَهَذَا مَكْرُوهٌ وَلَا يَصْلُحُ وَهُوَ أَيْضًا يُشْبِهُ حَدِيثَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي بَيْعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا حَلَّتْ دُيُونُهُمْ قَالُوا لِلَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ إِمَّا أَنْ تَقْضِيَ وَإِمَّا أَنْ تُرْبِيَ فَإِنْ قَضَى أَخَذُوا وَإِلَّا زَادُوهُمْ فِي حُقُوقِهِمْ وَزَادُوهُمْ فِي الْأَجَلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قرض کے مختلف مسائل کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مالدار شخص کا دیر کرنا قرض ادا کرنے میں ظلم ہے اور جب تم میں سے کوئی حوالہ کیا جائے مالدار شخص پر تو چاہے کہ حوالہ قبول کرلے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُکُمْ عَلَی مَلِيئٍ فَلْيَتْبَعْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৬
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قرض کے مختلف مسائل کا بیان
موسیٰ بن میسرہ نے سنا ایک شخص پوچھ رہا تھا سعید بن مسیب سے میں قرض کے بدل میں بیچا کرتا ہوں سعید نے کہا تو نہ بیچ مگر اس چیز کو جو تیرے پاس ہو۔ کہا مالک نے جو شخص کوئی چیز خرید کرے اس شرط پر کہ بائع (بچنے والا) وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کو اتنی مدت میں سپرد کردے اس میں مشتری (خریدنے والا) نے کوئی مصلحت رکھی ہو مثلا اس وقت بازار میں اس مال کی نکاسی کی امید ہو یا اور کچھ غرض ہو پھر بائع (بچنے والا) اس وعدے میں خلاف کر اور مشتری (خریدنے والا) چاہے کہ وہ شئے بائع (بچنے والا) کو پھیر دے تو مشتری (خریدنے والا) کو یہ حق نہیں پہنچتا اور بیع لازم رہے گی اگر بائع (بچنے والا) اس شئے کو قبل میعاد کے لئے آیا تو مشتری (خریدنے والا) پر جبر نہ کیا جائے گا اس کے لینے پر۔ کہا مالک نے جو شخص اناج خرید کر اس کو تول لے پھر ایک خریدار آئے جو مشتری (خریدنے والا) سے اس اناج کو خرید کرنا چاہے مشتری (خریدنے والا) اس سے کہے کہ میں اناج تول چکا ہوں اور وہ شخص مشتری (خریدنے والا) کو سچا سمجھ کر اس غلے کو نقد مول لے لے تو کچھ قباحت نہیں مگر وعدے پر لینا مکروہ ہے جب تک وہ خریدار دوبارہ اس کو تول نہ لے۔ کہا مالک نے دین کا خریدنا درست نہیں خواہ غائب پر ہو یا حاضر پر مگر جب شخص حاضر اس کا اقرار کرے اسی طرح جو دین میت پر ہو اس کا بھی خریدنا درست نہیں کیونکہ اس میں دھوکا ہے معلوم نہیں وہ قرض ملتا ہے یا نہیں اس واسطے اگر میت یا غائب پر اور بھی دین نکلا تو اس کے پیسے مفت گئے دوسرے یہ کہ وہ قرض اس کی ضمان میں داخل نہیں ہو اگر نہ پنٹا تو اس کے پیسے مفت گئے۔ کہا مالک نے بیع سلف (قرض) میں اور بیع عینہ میں یہ فرق ہے کہ بیع عینہ والا دس دینار نقد دے کر پندرہ دینار وعدے پر لیتا ہے تو یہ صریح دھوکا ہے اور بالکل فریب ہے۔
عَنْ مُوسَی بْنِ مَيْسَرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَبِيعُ بِالدَّيْنِ فَقَالَ سَعِيدٌ لَا تَبِعْ إِلَّا مَا آوَيْتَ إِلَی رَحْلِکَ قَالَ مَالِك فِي الَّذِي يَشْتَرِي السِّلْعَةَ مِنْ الرَّجُلِ عَلَى أَنْ يُوَفِّيَهُ تِلْكَ السِّلْعَةَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِمَّا لِسُوقٍ يَرْجُو نَفَاقَهَا فِيهِ وَإِمَّا لِحَاجَةٍ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ الَّذِي اشْتَرَطَ عَلَيْهِ ثُمَّ يُخْلِفُهُ الْبَائِعُ عَنْ ذَلِكَ الْأَجَلِ فَيُرِيدُ الْمُشْتَرِي رَدَّ تِلْكَ السِّلْعَةِ عَلَى الْبَائِعِ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ لِلْمُشْتَرِي وَإِنَّ الْبَيْعَ لَازِمٌ لَهُ وَإِنَّ الْبَائِعَ لَوْ جَاءَ بِتِلْكَ السِّلْعَةِ قَبْلَ مَحِلِّ الْأَجَلِ لَمْ يُكْرَهْ الْمُشْتَرِي عَلَى أَخْذِهَا قَالَ مَالِك فِي الَّذِي يَشْتَرِي الطَّعَامَ فَيَكْتَالُهُ ثُمَّ يَأْتِيهِ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنْهُ فَيُخْبِرُ الَّذِي يَأْتِيهِ أَنَّهُ قَدْ اكْتَالَهُ لِنَفْسِهِ وَاسْتَوْفَاهُ فَيُرِيدُ الْمُبْتَاعُ أَنْ يُصَدِّقَهُ وَيَأْخُذَهُ بِكَيْلِهِ إِنَّ مَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ بِنَقْدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَمَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ إِلَى أَجَلٍ فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ حَتَّى يَكْتَالَهُ الْمُشْتَرِي الْآخَرُ لِنَفْسِهِ وَإِنَّمَا كُرِهَ الَّذِي إِلَى أَجَلٍ لِأَنَّهُ ذَرِيعَةٌ إِلَى الرِّبَا وَتَخَوُّفٌ أَنْ يُدَارَ ذَلِكَ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ بِغَيْرِ كَيْلٍ وَلَا وَزْنٍ فَإِنْ كَانَ إِلَى أَجَلٍ فَهُوَ مَكْرُوهٌ وَلَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك لَا يَنْبَغِي أَنْ يُشْتَرَى دَيْنٌ عَلَى رَجُلٍ غَائِبٍ وَلَا حَاضِرٍ إِلَّا بِإِقْرَارٍ مِنْ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ وَلَا عَلَى مَيِّتٍ وَإِنْ عَلِمَ الَّذِي تَرَكَ الْمَيِّتُ وَذَلِكَ أَنَّ اشْتِرَاءَ ذَلِكَ غَرَرٌ لَا يُدْرَى أَيَتِمُّ أَمْ لَا يَتِمُّ قَالَ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا اشْتَرَى دَيْنًا عَلَى غَائِبٍ أَوْ مَيِّتٍ أَنَّهُ لَا يُدْرَى مَا يَلْحَقُ الْمَيِّتَ مِنْ الدَّيْنِ الَّذِي لَمْ يُعْلَمْ بِهِ فَإِنْ لَحِقَ الْمَيِّتَ دَيْنٌ ذَهَبَ الثَّمَنُ الَّذِي أَعْطَى الْمُبْتَاعُ بَاطِلًا قَالَ مَالِك وَفِي ذَلِكَ أَيْضًا عَيْبٌ آخَرُ أَنَّهُ اشْتَرَى شَيْئًا لَيْسَ بِمَضْمُونٍ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَتِمَّ ذَهَبَ ثَمَنُهُ بَاطِلًا فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَصْلُحُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ أَنْ لَا يَبِيعَ الرَّجُلُ إِلَّا مَا عِنْدَهُ وَأَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي شَيْءٍ لَيْسَ عِنْدَهُ أَصْلُهُ أَنَّ صَاحِبَ الْعِينَةِ إِنَّمَا يَحْمِلُ ذَهَبَهُ الَّتِي يُرِيدُ أَنْ يَبْتَاعَ بِهَا فَيَقُولُ هَذِهِ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَمَا تُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ لَكَ بِهَا فَكَأَنَّهُ يَبِيعُ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ نَقْدًا بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ فَلِهَذَا كُرِهَ هَذَا وَإِنَّمَا تِلْكَ الدُّخْلَةُ وَالدُّلْسَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ شرکت اور تولیہ اور اقالہ کے بیان میں
کہا مالک نے جس شخص نے کئی قسم کا کپڑا بیچا اور چند رقم کے کپڑے مستثنی کرلینے کی شرط کرلی تو کچھ قباحت نہیں اگر شرط نہیں کی تو وہ ان کپڑوں میں شریک ہوجائے گا۔ اس لئے کہ ایک رقم کے کپڑوں میں بھی کم وبیش ہوتی ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ شرکت اور تولیہ اور اقالہ کھانے کی چیزوں میں درست ہے ہے خواہ ان پر قبضہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو مگر یہ ضروری ہے کہ نقد ہو میعاد نہ ہو اور کمی بیشی نہ ہوا اگر اس میں کمی بیشی ہوگی یا میعاد ہوگی تو یہ معاملے بیع سمجھے جائیں گے شرکت اور تولیہ اور اقالہ نہ ہوں گے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے کوئی اسباب جیسے کپڑا یا غلام یا لونڈی خرید کیا پھر ایک شخص نے اس سے کہا کہ مجھ کو بھی اس میں شریک کرلو اس نے قبول کیا اور دونوں نے مل کر بائع (بچنے والا) کو قیمت ادا کردی پھر وہ اسباب کسی اور کا نکلا تو جو شخص شریک ہو وہ اپنے دام پہلے مشتری (خریدنے والا) سے لے لے گا۔ اور وہ بائع (بچنے والا) سے لے گا مگر جس صورت میں مشتری (خریدنے والا) نے خریدتے وقت بائع (بچنے والا) کے سامنے اس شریک سے کہہ دیا ہو کہ اگر مبیع میں فتور نکلے تو اس کی جواب وہی بائع (بچنے والا) پر ہوگی تو اس صورت میں وہ شریک اپنا نقصان بائع (بچنے والا) سے لے گا اگر ایسا نہ ہو تو مشتری (خریدنے والا) کی شرط کچھ کام نہ آئے گی اور تاوان کا نقصان اسی پر ہوگا۔ کہا مالک نے زید نے عمرو سے یہ کہا تو اس شئے کو خرید کرلے میرے اور اپنے ساجھے میں بکوادوں گا۔ تو میری طرف سے بھی دام دے دے تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ سلف (قرض) ہے بکوادینے کی شرط پر اگر وہ شئے تلف ہوجائے تو عمروزید سے اس کے حصہ کے دام لے لے گا البتہ اگر عمرو ایک شئے خرید کرچکا پھر زید نے کہا مجھے بھی اس میں شریک کرلے نصف کا میں بکوادوں گا تو یہ درست ہے۔
بَاب مَا جَاءَ فِي الشِّرْكَةِ وَالتَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ الْبَزَّ الْمُصَنَّفَ وَيَسْتَثْنِي ثِيَابًا بِرُقُومِهَا إِنَّهُ إِنْ اشْتَرَطَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْ ذَلِكَ الرَّقْمَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطْ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُ حِينَ اسْتَثْنَى فَإِنِّي أَرَاهُ شَرِيكًا فِي عَدَدِ الْبَزِّ الَّذِي اشْتُرِيَ مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّ الثَّوْبَيْنِ يَكُونُ رَقْمُهُمَا سَوَاءً وَبَيْنَهُمَا تَفَاوُتٌ فِي الثَّمَنِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ مِنْهُ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ قَبَضَ ذَلِكَ أَوْ لَمْ يَقْبِضْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ بِالنَّقْدِ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ رِبْحٌ وَلَا وَضِيعَةٌ وَلَا تَأْخِيرٌ لِلثَّمَنِ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ رِبْحٌ أَوْ وَضِيعَةٌ أَوْ تَأْخِيرٌ مِنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَارَ بَيْعًا يُحِلُّهُ مَا يُحِلُّ الْبَيْعَ وَيُحَرِّمُهُ مَا يُحَرِّمُ الْبَيْعَ وَلَيْسَ بِشِرْكٍ وَلَا تَوْلِيَةٍ وَلَا إِقَالَةٍ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى سِلْعَةً بَزًّا أَوْ رَقِيقًا فَبَتَّ بِهِ ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ أَنْ يُشَرِّكَهُ فَفَعَلَ وَنَقَدَا الثَّمَنَ صَاحِبَ السِّلْعَةِ جَمِيعًا ثُمَّ أَدْرَكَ السِّلْعَةَ شَيْءٌ يَنْتَزِعُهَا مِنْ أَيْدِيهِمَا فَإِنَّ الْمُشَرَّكَ يَأْخُذُ مِنْ الَّذِي أَشْرَكَهُ الثَّمَنَ وَيَطْلُبُ الَّذِي أَشْرَكَ بَيِّعَهُ الَّذِي بَاعَهُ السِّلْعَةَ بِالثَّمَنِ كُلِّهِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُشَرِّكُ عَلَى الَّذِي أَشْرَكَ بِحَضْرَةِ الْبَيْعِ وَعِنْدَ مُبَايَعَةِ الْبَائِعِ الْأَوَّلِ وَقَبْلَ أَنْ يَتَفَاوَتَ ذَلِكَ أَنَّ عُهْدَتَكَ عَلَى الَّذِي ابْتَعْتُ مِنْهُ وَإِنْ تَفَاوَتَ ذَلِكَ وَفَاتَ الْبَائِعَ الْأَوَّلَ فَشَرْطُ الْآخَرِ بَاطِلٌ وَعَلَيْهِ الْعُهْدَةُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ اشْتَرِ هَذِهِ السِّلْعَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ وَانْقُدْ عَنِّي وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ إِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ حِينَ قَالَ انْقُدْ عَنِّي وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ وَإِنَّمَا ذَلِكَ سَلَفٌ يُسْلِفُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنْ يَبِيعَهَا لَهُ وَلَوْ أَنَّ تِلْكَ السِّلْعَةَ هَلَكَتْ أَوْ فَاتَتْ أَخَذَ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي نَقَدَ الثَّمَنَ مِنْ شَرِيكِهِ مَا نَقَدَ عَنْهُ فَهَذَا مِنْ السَّلَفِ الَّذِي يَجُرُّ مَنْفَعَةً قَالَ مَالِك وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ سِلْعَةً فَوَجَبَتْ لَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَجُلٌ أَشْرِكْنِي بِنِصْفِ هَذِهِ السِّلْعَةِ وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ جَمِيعًا كَانَ ذَلِكَ حَلَالًا لَا بَأْسَ بِهِ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّ هَذَا بَيْعٌ جَدِيدٌ بَاعَهُ نِصْفَ السِّلْعَةِ عَلَى أَنْ يَبِيعَ لَهُ النِّصْفَ الْآخَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قرض دار کے مفلس ہوجانے کا بیان
ابی بکر بن عبدالرحمن (رض) روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنا مال بیچا کسی کے ہاتھ پھر مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اور بائع (بچنے والا) کو ثمن وصول نہیں ہوئی لیکن بائع (بچنے والا) نے اپنی چیز بجنسہ مشتری (خریدنے والا) کے پاس پائی تو بائع (بچنے والا) اس چیز کا زیادہ حقدار ہوگا اگر مشتری (خریدنے والا) مرگیا تو اس چیز میں بائع (بچنے والا) اور قرضخواہوں کے برابر ہوگا۔
عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَهُ مِنْهُ وَلَمْ يَقْبِضْ الَّذِي بَاعَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا فَوَجَدَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَإِنْ مَاتَ الَّذِي ابْتَاعَهُ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ فِيهِ أُسْوَةُ الْغُرَمَائِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قرض دار کے مفلس ہوجانے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنا مال بیچا کسی کے ہاتھ پھر مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اور بائع (بچنے والا) نے اپنی چیز بعینہ مشتری (خریدنے والا) کے پاس پائی تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ کہا مالک نے جس شخص نے کوئی اسباب بیچا پھر مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اور بائع (بچنے والا) نے اپنی چیز بعینہ مشتری (خریدنے والا) کے پاس پائی تو بائع (بچنے والا) اس کو لے لے گا اگر مشتری (خریدنے والا) نے اس میں سے کچھ بیچ ڈالا ہے تو جس قدر باقی ہے اس کا بائع (بچنے والا) زیادہ حقدار ہے بہ نسبت اور قرضخواہوں کے۔ اگر بائع (بچنے والا) تھوڑی سی ثمن پاچکا ہے پھر بائع (بچنے والا) یہ چاہے کہ اس ثمن کو پھیر کر جس قدر اسباب اپنا باقی ہے اس کو لے لے اور جو کچھ باقی رہ جائے اس میں اور قرضخواہوں کے برابر ہے تو ہوسکتا ہے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے سوت یا زمین خریدی پھر سوت کا کپڑا بن لیا اور زمین پر مکان بنایا بعد اس کے مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اب زمین کا بائع (بچنے والا) یہ کہے کہ میں زمین اور مکان سب لئے لیتا ہوں تو یہ نہیں ہوسکتا بلکہ زمین کی اور عملے کی قیمت لگائیں کے پھر دیکھیں گے اس قیمت کا حصہ زمین پر کتنا آتا ہے اور عملے پر کتنا آتا ہے اب بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں اس میں شریک رہیں گے زمین کا مالک اپنے حصہ کے موافق اور باقی قرضخواہ عملے کے موافق۔ کہا مالک نے اس کی مثال یہ ہے جیسے زمین اور عملے کی قیمت پندرہ سو ہوئی اس میں سے زمین کی قیمت پانچ سو ہے اور عملے کی ہزار ہے تو زمین والے کا ایک ثلث ہوگا اور باقی قرضخواہوں کے دو ثلث ہوں گے۔ کہا مالک نے یہی حکم سوت میں ہے جب کہ مشتری (خریدنے والا) نے اس کو بن لیا بعد اس کے قرضدار ہو کر مفلس ہوگیا۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے اس چیز میں تصرف نہیں کیا مگر اس چیز کی قیمت بڑھ گئی اب بائع (بچنے والا) یہ چاہتا ہے کہ اپنی شئے پھیر لے اور قرضخواہ چاہتے ہیں کہ وہ شئے بائع (بچنے والا) کو نہ دیں گو قرضخواہ ہوں کو اختیار ہے خواہ بائع (بچنے والا) کی ثمن پوری پوری حوالے کردیں۔ اگر اس چیز کی قیمت گھٹ گئی تو بائع (بچنے والا) کو اختیار ہے خواہ اپنی چیز لے لے پھر اس کو مشتری (خریدنے والا) کے مال سے کچھ غرض نہ ہوگی خواہ اپنی چیز نہ لے اور قرضخواہوں کے ساتھ شریک ہوجائے۔ کہا مالک (رح) نے اگر کسی شخص نے لونڈی خریدی یا جانور خریدا پھر اس لونڈی یا جانور کا مشتری (خریدنے والا) کے پاس آن کر بچہ پیدا ہوا بعد اس کے مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا تو وہ بچہ بائع (بچنے والا) ہوگا البتہ اگر قرضخواہ بائع (بچنے والا) کی پوری ثمن ادا کردیں تو بچہ کو اور اس کی ماں کو دونوں کو رکھ سکتے ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَکَ الرَّجُلُ مَالَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ بَاعَ مِنْ رَجُلٍ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الْمُبْتَاعُ فَإِنَّ الْبَائِعَ إِذَا وَجَدَ شَيْئًا مِنْ مَتَاعِهِ بِعَيْنِهِ أَخَذَهُ وَإِنْ كَانَ الْمُشْتَرِي قَدْ بَاعَ بَعْضَهُ وَفَرَّقَهُ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِهِ مِنْ الْغُرَمَاءِ لَا يَمْنَعُهُ مَا فَرَّقَ الْمُبْتَاعُ مِنْهُ أَنْ يَأْخُذَ مَا وَجَدَ بِعَيْنِهِ فَإِنْ اقْتَضَى مِنْ ثَمَنِ الْمُبْتَاعِ شَيْئًا فَأَحَبَّ أَنْ يَرُدَّهُ وَيَقْبِضَ مَا وَجَدَ مِنْ مَتَاعِهِ وَيَكُونَ فِيمَا لَمْ يَجِدْ أُسْوَةَ الْغُرَمَاءِ فَذَلِكَ لَهُ قَالَ مَالِك وَمَنْ اشْتَرَى سِلْعَةً مِنْ السِّلَعِ غَزْلًا أَوْ مَتَاعًا أَوْ بُقْعَةً مِنْ الْأَرْضِ ثُمَّ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ الْمُشْتَرَى عَمَلًا بَنَى الْبُقْعَةَ دَارًا أَوْ نَسَجَ الْغَزْلَ ثَوْبًا ثُمَّ أَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَ ذَلِكَ فَقَالَ رَبُّ الْبُقْعَةِ أَنَا آخُذُ الْبُقْعَةَ وَمَا فِيهَا مِنْ الْبُنْيَانِ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ لَهُ وَلَكِنْ تُقَوَّمُ الْبُقْعَةُ وَمَا فِيهَا مِمَّا أَصْلَحَ الْمُشْتَرِي ثُمَّ يُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُ الْبُقْعَةِ وَكَمْ ثَمَنُ الْبُنْيَانِ مِنْ تِلْكَ الْقِيمَةِ ثُمَّ يَكُونَانِ شَرِيكَيْنِ فِي ذَلِكَ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ بِقَدْرِ حِصَّتِهِ وَيَكُونُ لِلْغُرَمَاءِ بِقَدْرِ حِصَّةِ الْبُنْيَانِ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ تَكُونَ قِيمَةُ ذَلِكَ كُلِّهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَخَمْسَ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَتَكُونُ قِيمَةُ الْبُقْعَةِ خَمْسَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَقِيمَةُ الْبُنْيَانِ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَيَكُونُ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ الثُّلُثُ وَيَكُونُ لِلْغُرَمَاءِ الثُّلُثَانِ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ الْغَزْلُ وَغَيْرُهُ مِمَّا أَشْبَهَهُ إِذَا دَخَلَهُ هَذَا وَلَحِقَ الْمُشْتَرِيَ دَيْنٌ لَا وَفَاءَ لَهُ عِنْدَهُ وَهَذَا الْعَمَلُ فِيهِ قَالَ مَالِك فَأَمَّا مَا بِيعَ مِنْ السِّلَعِ الَّتِي لَمْ يُحْدِثْ فِيهَا الْمُبْتَاعُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّ تِلْكَ السِّلْعَةَ نَفَقَتْ وَارْتَفَعَ ثَمَنُهَا فَصَاحِبُهَا يَرْغَبُ فِيهَا وَالْغُرَمَاءُ يُرِيدُونَ إِمْسَاكَهَا فَإِنَّ الْغُرَمَاءَ يُخَيَّرُونَ بَيْنَ أَنْ يُعْطُوا رَبَّ السِّلْعَةِ الثَّمَنَ الَّذِي بَاعَهَا بِهِ وَلَا يُنَقِّصُوهُ شَيْئًا وَبَيْنَ أَنْ يُسَلِّمُوا إِلَيْهِ سِلْعَتَهُ وَإِنْ كَانَتْ السِّلْعَةُ قَدْ نَقَصَ ثَمَنُهَا فَالَّذِي بَاعَهَا بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ سِلْعَتَهُ وَلَا تِبَاعَةَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ مَالِ غَرِيمِهِ فَذَلِكَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَكُونَ غَرِيمًا مِنْ الْغُرَمَاءِ يُحَاصُّ بِحَقِّهِ وَلَا يَأْخُذُ سِلْعَتَهُ فَذَلِكَ لَهُ و قَالَ مَالِك فِيمَنْ اشْتَرَى جَارِيَةً أَوْ دَابَّةً فَوَلَدَتْ عِنْدَهُ ثُمَّ أَفْلَسَ الْمُشْتَرِي فَإِنَّ الْجَارِيَةَ أَوْ الدَّابَّةَ وَوَلَدَهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَرْغَبَ الْغُرَمَاءُ فِي ذَلِكَ فَيُعْطُونَهُ حَقَّهُ كَامِلًا وَيُمْسِكُونَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کن چیزوں میں ادھار درست ہے۔
ابو رافع سے روایت ہے کہ جو مولیٰ (غلام آزاد کئے ہوئے) تھے رسول اللہ ﷺ کے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرض لیا ایک چھوٹا اونٹ جب صدقے کے وقت کے وقت اونٹ آئے اور آپ ﷺ نے مجھ کو حکم کیا ویسا ہی اونٹ ادا کرنے کو میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صدقے کے اونٹوں میں سب اونٹ اچھے بڑے بڑے ہیں چھ چھ برس کے آپ ﷺ نے فرمایا اس میں سے دے دے اچھے وہ لوگ ہیں جو قرض اچھے طور پر ادا کریں۔
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَکْرًا فَجَائَتْهُ إِبِلٌ مِنْ الصَّدَقَةِ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَکْرَهُ فَقُلْتُ لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَائً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১
کتاب بیع کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جس چیز میں سلف درست ہے۔
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے ایک شخص سے روپے قرض لئے پھر اس سے اچھے ادا کئے وہ شخص بولا اے عبدالرحمن یہ تو میرے روپوں سے اچھے ہیں عبداللہ بن عمر نے کہا ہاں میں جانتا ہوں مگر میں اپنی خوشی سے دئے ہیں۔ کہا مالک نے جو شخص سونا چاندی یا اناج یا جانور قرض لے پھر اس سے بہتر ادا کرے تو کچھ قباحت نہیں جب کہ اس کی شرط نہ ہوئی ہو یا ایسی رسم نہ ہو یا اس کا وعدہ نہ کیا ہو اگر شرط یا رسم یا وعدے کے سبب سے ہو تو مکروہ ہے۔ بہتر نہیں۔ کہا مالک نے دیکھو رسول اللہ ﷺ نے چھوٹا اونٹ قرض لے کر اچھا بڑا اونٹ دیا اور عبداللہ بن عمر (رض) نے روپے قرض لے کر اس سے بہت دیئے مگر اس کی شرط یا وعدہ نہیں ہوا تھا تو جو کوئی خوشی سے ایسا کرے حلال ہے۔
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ اسْتَسْلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاهِمَ ثُمَّ قَضَاهُ دَرَاهِمَ خَيْرًا مِنْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذِهِ خَيْرٌ مِنْ دَرَاهِمِي الَّتِي أَسْلَفْتُکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ عَلِمْتُ وَلَکِنْ نَفْسِي بِذَلِکَ طَيِّبَةٌ قَالَ مَالِك لَا بَأْسَ بِأَنْ يُقْبِضَ مَنْ أُسْلِفَ شَيْئًا مِنْ الذَّهَبِ أَوْ الْوَرِقِ أَوْ الطَّعَامِ أَوْ الْحَيَوَانِ مِمَّنْ أَسْلَفَهُ ذَلِكَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عَلَى شَرْطٍ مِنْهُمَا أَوْ عَادَةٍ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ عَلَى شَرْطٍ أَوْ وَأْيٍ أَوْ عَادَةٍ فَذَلِكَ مَكْرُوهٌ وَلَا خَيْرَ فِيهِ قَالَ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى جَمَلًا رَبَاعِيًا خِيَارًا مَكَانَ بَكْرٍ اسْتَسْلَفَهُ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اسْتَسْلَفَ دَرَاهِمَ فَقَضَى خَيْرًا مِنْهَا فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ عَلَى طِيبِ نَفْسٍ مِنْ الْمُسْتَسْلِفِ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عَلَى شَرْطٍ وَلَا وَأْيٍ وَلَا عَادَةٍ كَانَ ذَلِكَ حَلَالًا لَا بَأْسَ بِهِ
তাহকীক: