আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৫ টি
হাদীস নং: ৮৪৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حائضہ کے طواف الزیارة کا بیان
ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ ام سلیم نے پوچھا رسول اللہ ﷺ سے اور اس کو حیض آگیا تھا یا زچگی ہوئی تھی بعد طواف الافاضہ کے یوم النحر کو تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی اجازت دی اور وہ چلی گئیں کہا مالک نے جس عورت کو حیض آجائے منیٰ میں تو وہ ٹھہری رہے یہاں تک کہ وہ طواف الافاضہ کرے اور اگر طواف الافاضہ کے بعد اس کو حیض آیا تو اپنے شہر کو چلی جائے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ہم کو رخصت پہنچی ہے حائضہ کے واسطے اور اگر حیض آیا طواف الافاضہ سے پہلے پھر خون بند نہ ہوا تو اکثر مدت لگا لیں گے حیض کی۔
عَنْ أَبَي سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بِنْتَ مِلْحَانَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَاضَتْ أَوْ وَلَدَتْ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَتْ قَالَ مَالِک وَالْمَرْأَةُ تَحِيضُ بِمِنًی تُقِيمُ حَتَّی تَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَا بُدَّ لَهَا مِنْ ذَلِکَ وَإِنْ کَانَتْ قَدْ أَفَاضَتْ فَحَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ فَلْتَنْصَرِفْ إِلَی بَلَدِهَا فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا فِي ذَلِکَ رُخْصَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَائِضِ قَالَ وَإِنْ حَاضَتْ الْمَرْأَةُ بِمِنًی قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ فَإِنَّ کَرِيَّهَا يُحْبَسُ عَلَيْهَا أَکْثَرَ مِمَّا يَحْبِسُ النِّسَائَ الدَّمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شکار مارے پرند چرند کا کی جزا کا بیان
ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے حکم کیا بجو کے مارنے میں (جزا) ایک مینڈھے کا اور ہرن میں ایک بکری اور خرگوش میں بکری کے بچے کا جو سال بھر کا ہو اور جنگلی چوہے میں بکری کے چار ماہ کے بچے کا۔
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَی فِي الضَّبُعِ بِکَبْشٍ وَفِي الْغَزَالِ بِعَنْزٍ وَفِي الْأَرْنَبِ بِعَنَاقٍ وَفِي الْيَرْبُوعِ بِجَفْرَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شکار مارے پرند چرند کا کی جزا کا بیان
محمد بن سرین سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اپنے ساتھی کے ساتھ گھوڑے ڈالے ایک تنگ گھاٹی میں تو مارا ہم نے ہرن کو اور ہم دونوں احرام باندھے ہوئے تھے حضرت عمر نے ایک شخص کو جو ان کے پہلو میں بیٹھا تھا بلایا اور کہا آؤ ہم تم مل کر حکم کردیں تو دونوں نے مل کر ایک بکری کا حکم کیا وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا اور کہنے لگا یہ ہیں امیر المومنین ایک ہرن کا فیصہ اکیلے نہ کرسکے جب تک کہ ایک اور شخص کو اپنے ساتھ نہ بلایا۔ حضرت عمر نے یہ بات سن لی تو اس پکارا اور کہا تو نے سورت مائدہ پڑھی ہے وہ بولا نہیں حضرت عمر بولے تو اس شخص کو پہچانتا ہے جس نے میرے ساتھ مل کر فیصلہ کیا اس نے کہا نہیں حضرت عمر نے کہا اگر تو یہ کہتا کہ میں نے سورت مائدہ پڑھی ہے تو اس وقت میں تجھے مارتا پھر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اپنی کتاب میں تجویز کردیں جزا کردو عادل تم میں سے وہ ہدی ہو جو پہنچے مکہ میں اور یہ شخص عبدالرحمن بن عوف ہے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنِّي أَجْرَيْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَرَسَيْنِ نَسْتَبِقُ إِلَی ثُغْرَةِ ثَنِيَّةٍ فَأَصَبْنَا ظَبْيًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَی فَقَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ إِلَی جَنْبِهِ تَعَالَ حَتَّی أَحْکُمَ أَنَا وَأَنْتَ قَالَ فَحَکَمَا عَلَيْهِ بِعَنْزٍ فَوَلَّی الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحْکُمَ فِي ظَبْيٍ حَتَّی دَعَا رَجُلًا يَحْکُمُ مَعَهُ فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ الرَّجُلِ فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ تَعْرِفُ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي حَکَمَ مَعِي فَقَالَ لَا فَقَالَ لَوْ أَخْبَرْتَنِي أَنَّکَ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ لَأَوْجَعْتُکَ ضَرْبًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ يَحْکُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْکَعْبَةِ وَهَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شکار مارے پرند چرند کا کی جزا کا بیان
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عرہ کہتے تھے نیل گائے میں ایک گائے لازم اور ہرن میں ایک بکری لازم ہے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ کَانَ يَقُولُ فِي الْبَقَرَةِ مِنْ الْوَحْشِ بَقَرَةٌ وَفِي الشَّاةِ مِنْ الظِّبَائِ شَاةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شکار مارے پرند چرند کا کی جزا کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے مکہ کے کبوتر کو جب قتل کیا جائے تو ایک بکری لازم ہے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي حَمَامِ مَکَّةَ إِذَا قُتِلَ شَاةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ احرام کی حالت اگر ٹڈی مارے تو اس کی جزا کا بیان
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا حضرت عمر کے پاس اور کہا کہ میں نے چند ٹڈیوں کو کوڑے سے مار ڈالا اور میں احرام باندھے ہوئے تھا آپ نے فرمایا کہ ایک مٹھی بھر کھانا کسی کو کھلا دے۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَصَبْتُ جَرَادَاتٍ بِسَوْطِي وَأَنَا مُحْرِمٌ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَطْعِمْ قَبْضَةً مِنْ طَعَامٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ احرام کی حالت اگر ٹڈی مارے تو اس کی جزا کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا حضرت عمر بن خطاب کے پاس اور پوچھا آپ سے میں نے ایک ٹڈی مار ڈالی حالت احرام میں حضرت عمر نے کہا آؤ ہم تم مل کر فیصلہ کریں کعب نے کہا ایک درہم لازم ہے حضرت عمر نے کہا تیرے پاس بہت دراہم ہیں میرے نزدیک ایک کھجور بہتر ہے ایک ٹڈی سے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ عَنْ جَرَادَاتٍ قَتَلَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ عُمَرُ لِکَعْبٍ تَعَالَ حَتَّی نَحْکُمَ فَقَالَ کَعْبٌ دِرْهَمٌ فَقَالَ عُمَرُ لِکَعْبٍ إِنَّکَ لَتَجِدُ الدَّرَاهِمَ لَتَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قبل نحر کے حلق کرے اس کے فدیہ کا بیان
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے احرام باندھے ہوئے، ان کی سر میں جوئیں پڑگئیں تو حکم دیا رسول اللہ ﷺ نے ان کو سر منڈانے کا اور کہا تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو دو دو مد کھانا دے یا ایک بکری ذبح کر ان میں سے جو بھی کرے گا کافی ہے۔
عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَقَالَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاکِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ لِکُلِّ إِنْسَانٍ أَوْ انْسُکْ بِشَاةٍ أَيَّ ذَلِکَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قبل نحر کے حلق کرے اس کے فدیہ کا بیان
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید تجھ کو تکلیف دیتی ہیں جوئیں انہوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ ، آپ ﷺ نے فرمایا یا منڈاو ڈال سر اپنا اور تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا یا ایک بکری ذبح کر۔
عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَعَلَّکَ آذَاکَ هَوَامُّکَ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْلِقْ رَأْسَکَ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاکِينَ أَوْ انْسُکْ بِشَاةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قبل نحر کے حلق کرے اس کے فدیہ کا بیان
کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ آئے میرے پاس رسول اللہ ﷺ اور میں ہانڈی پھونک رہا تھا اپنے ساتھیوں کی اور میرے سر اور ڈاڑھی کے بال جوؤں سے بھر گئے تھے اور آپ ﷺ نے میری پیشانی تھام کر فرمایا ان بالوں کو منڈوا ڈال اور تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا اور رسول اللہ ﷺ جانتے تھے کہ میرے پاس قربانی کے واسطے کچھ نہیں ہے۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنے ناک کے بال اکھاڑے یا بغل کے یا بدن پر نورہ لگایا یا سر میں زخم ہوا اور ضروت کی وجہ سے سر منڈوایا یا گدی کے بال منڈوائے پچھنے لگانے کے واسطے احرام میں، اگر بھولے سے یا نادانی سے یہ کام کرے تو ان سب صورتوں میں اس پر فدیہ ہے اور محرم کو درست نہیں کہ پچھنے لگانے کی جگہ مونڈے۔ کہا مالک نے جو شخص نادانی سے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لے تو فدیہ دے۔
عَنْ مَالِک عَنْ عَطَائِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ بِسُوقِ الْبُرَمِ بِالْکُوفَةِ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ قَالَ جَائَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْفُخُ تَحْتَ قِدْرٍ لِأَصْحَابِي وَقَدْ امْتَلَأَ رَأْسِي وَلِحْيَتِي قَمْلًا فَأَخَذَ بِجَبْهَتِي ثُمَّ قَالَ احْلِقْ هَذَا الشَّعَرَ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاکِينَ وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَنْسُکُ بِهِ قَالَ مَالِک مَنْ نَتَفَ شَعَرًا مِنْ أَنْفِهِ أَوْ مِنْ إِبْطِهِ أَوْ اطَّلَی جَسَدَهُ بِنُورَةٍ أَوْ يَحْلِقُ عَنْ شَجَّةٍ فِي رَأْسِهِ لِضَرُورَةٍ أَوْ يَحْلِقُ قَفَاهُ لِمَوْضِعِ الْمَحَاجِمِ وَهُوَ مُحْرِمٌ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا إِنَّ مَنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِکَ فَعَلَيْهِ الْفِدْيَةُ فِي ذَلِکَ کُلِّهِ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَحْلِقَ مَوْضِعَ الْمَحَاجِمِ وَمَنْ جَهِلَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ الْجَمْرَةَ افْتَدَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کوئی رکن بھول جائے اس کا بیان
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عباس نے کہا جو شخص اپنے کاموں میں سے کوئی کام بھول جائے یا چھوڑ دے تو ایک دم دے ایوب نے کہا مجھے یاد نہیں سعید نے بھول جائے کہا یا چھوڑ دے کہا۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ نَسِيَ مِنْ نُسُکِهِ شَيْئًا أَوْ تَرَکَهُ فَلْيُهْرِقْ دَمًا قَالَ أَيُّوبُ لَا أَدْرِي قَالَ تَرَکَ أَوْ نَسِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ فدیہ کے مختلف مسائل کا بیان
کہا مالک نے جو شخص چاہے ایسے کپڑے پہننا جو احرام میں درست نہیں ہیں یا بال کم کرنا چاہے یا خوشبو لگانا چاہے بغیر ضرورت کے فدیہ کو آسان سمجھ کر تو یہ جائز نہیں ہے بلکہ رخصت ضرورت کے وقت ہے جو کوئی ایسا کرے فدیہ دے۔ کہا مالک نے جو شخص حج میں تین روزے رکھنا بھول جائے یا بیماری کی وجہ سے نہ رکھ سکے یہاں تک کہ اپنے شہر چلا جائے تو اس کو اگر ہدی کی قدرت ہو تو ہدی دے ورنہ تین روزے اپنے گھر میں رکھ کر پھر سات روزے رکھے۔
قَالَ مَالِک فِيمَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْبَسَ شَيْئًا مِنْ الثِّيَابِ الَّتِي لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَلْبَسَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ أَوْ يُقَصِّرَ شَعَرَهُ أَوْ يَمَسَّ طِيبًا مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ لِيَسَارَةِ مُؤْنَةِ الْفِدْيَةِ عَلَيْهِ قَالَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَ ذَلِکَ وَإِنَّمَا أُرْخِصَ فِيهِ لِلضَّرُورَةِ وَعَلَی مَنْ فَعَلَ ذَلِکَ الْفِدْيَةُ قَالَ مَالِک فِي الَّذِي يَجْهَلُ أَوْ يَنْسَی صِيَامَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ أَوْ يَمْرَضُ فِيهَا فَلَا يَصُومُهَا حَتَّی يَقْدَمَ بَلَدَهُ قَالَ لِيُهْدِ إِنْ وَجَدَ هَدْيًا وَإِلَّا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي أَهْلِهِ وَسَبْعَةً بَعْدَ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کی مختلف احادیث کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ٹھہرے منیٰ میں حجہ الوداع میں اور لوگ مسئلہ پوچھتے تھے آپ ﷺ سے سو ایک شخص آیا اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے سر منڈا لیا قبل نحر کے آپ ﷺ نے فرمایا اب ذبح کرلے کچھ حرج نہیں ہے پھر دوسرا شخص آیا وہ بولا یا رسول اللہ ﷺ میں نے نادانی سے نحر کیا قبل رمی کے آپ ﷺ نے فرمایا رمی کرلے کچھ حرج نہیں ہے عبداللہ بن عمر نے کہا پھر جب سوال ہوا آپ ﷺ سے کسی چیز کے مقدم یا موخر کرنے کا آپ ﷺ نے فرمایا کرلے اور کچھ حرج نہیں ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ بِمِنًی وَالنَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْحَرْ وَلَا حَرَجَ ثُمَّ جَائَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کی مختلف احادیث کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب لوٹتے جہاد یا حج یا عمرہ سے تو تکبیر کہتے ہر چڑھاؤ پر تین بار فرمایا لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل چیز قدیر۔ ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں اللہ کی طرف پوجنے والے ہیں سجدہ کرنے والے ہیں اللہ اپنے پروردگار کی طرف سچا کیا اللہ نے وعدہ اپنا اور مدد کی اپنے بندے کی اور بھگادیا فوجوں کو اکیلے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُکَبِّرُ عَلَی کُلِّ شَرَفٍ مِنْ الْأَرْضِ ثَلَاثَ تَکْبِيرَاتٍ ثُمَّ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کی مختلف احادیث کا بیان
کریب سے روایت ہے جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن عباس کے، کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا ایک عورت پر اور وہ اپنے محافہ میں تھی تو کہا گیا اس سے کہ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں اس نے اپنے لڑکے کا بازو پکڑ کر کہا یا رسول اللہ ﷺ لڑکے کا بھی حج ہے فرمایا ہاں اور تجھ کو اجر ہے۔
عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي مِحَفَّتِهَا فَقِيلَ لَهَا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْ بِضَبْعَيْ صَبِيٍّ کَانَ مَعَهَا فَقَالَتْ أَلِهَذَا حَجٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَکِ أَجْرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کی مختلف احادیث کا بیان
طلحہ بن عبیداللہ بن کریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں دیکھا جاتا شیطان کسی روز ذلیل اور منحوس اور غضبناک زیادہ عرفے کے روز سے اس وجہ سے کہ دیکھتا ہے اس دن اللہ کی رحمت اترتی ہوئی اور بڑے بڑے گناہ معاف ہوتے ہوئے مگر بدر کے روز بھی شیطان کا یہی حال تھا لوگوں نے کہا اس دن کیا تھا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دیکھا اس نے جبرائیل کو فرشتوں کی صف باندھے ہوئے۔
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ وَلَا أَدْحَرُ وَلَا أَحْقَرُ وَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ وَمَا ذَاکَ إِلَّا لِمَا رَأَی مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللَّهِ عَنْ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِلَّا مَا أُرِيَ يَوْمَ بَدْرٍ قِيلَ وَمَا رَأَی يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَمَا إِنَّهُ قَدْ رَأَی جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِکَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کی مختلف احادیث کا بیان
عبیداللہ بن کریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہتر دعاؤں میں عرفے کی دعا ہے اور بہتر اس میں جو کہا میں نے اور میرے سے پہلے پیغمبروں نے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الدُّعَائِ دُعَائُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کی مختلف احادیث کا بیان
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے مکے میں جس سال مکہ فتح ہوا آپ ﷺ کے سر پر خود تھا جب آپ ﷺ نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ ﷺ ابن خطل کعبے کے پردے پکڑے ہوئے لٹک رہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کو مار ڈالو۔ امام مالک نے کہا کہ اس دن رسول اللہ ﷺ محرم نہیں تھے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَی رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِک وَلَمْ يَکُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کی مختلف احادیث کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر آئے مکے سے جب قدید میں پہنچے تو مدینے کے فساد کی خبر پہنچی پس آپ مکہ میں بغیر احرام کے لوٹ آئے۔ ابن شہاب سے ایسی ہی روایت ہے
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَقْبَلَ مِنْ مَکَّةَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِقُدَيْدٍ جَائَهُ خَبَرٌ مِنْ الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ فَدَخَلَ مَکَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ عَنْ مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج کی مختلف احادیث کا بیان
عمران انصاری سے روایت ہے کہ میرے پاس عبداللہ بن عمر آئے اور میں مکے کی راستے میں ایک درخت کے تلے ٹھہرا ہوا تھا، تو انہوں نے پوچھا کیوں ٹھہرا تو اس درخت کے تلے، میں نے کہا سایہ کے واسطے انہوں نے کہا یا اور کسی کام کے واسطے میں نے کہا نہیں، میں صرف سایہ کے واسطے ٹھہرا ہوں، عبداللہ بن عمر نے کہا : فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب تو منیٰ میں دو پہاڑوں کے بیچ میں پہنچے اور اشارہ کیا ہاتھ سے پورب کی طرف وہاں ایک جگہ ہے جس کو سُرر کہتے ہیں وہاں ایک درخت ہے اس کے تلے ستر نبیوں کی نال کاٹی گئی یا ستر نبیوں کو نبوت ملی پس وہ اس سبب سے خوش ہوئے۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ عَدَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَکَّةَ فَقَالَ مَا أَنْزَلَکَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ فَقُلْتُ أَرَدْتُ ظِلَّهَا فَقَالَ هَلْ غَيْرُ ذَلِکَ فَقُلْتُ لَا مَا أَنْزَلَنِي إِلَّا ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًی وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِنَّ هُنَاکَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السِّرَرُ بِهِ شَجَرَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا
তাহকীক: