আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৫ টি
হাদীস নং: ৮০৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قصر کا بیان
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ ایک شخص آیا قاسم بن محمد کے پاس اور اس نے کہا کہ میں نے طواف الافاضہ کیا اور میرے ساتھ میری بی بی نے بھی طواف الافاضہ کیا پھر میں ایک گھاٹی کی طرف گیا تاکہ صحبت کروں بی بی سے وہ بولی کہ میں نے ابھی بال نہیں کتروائے میں نے دانتوں سے اس کے بال کترے اور اس سے صحبت کی قاسم بن محمد ہنسے اور کہا کہ حکم کر اپنی عورت کو کہ بال کترے قینچی سے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلًا أَتَی الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ إِنِّي أَفَضْتُ وَأَفَضْتُ مَعِي بِأَهْلِي ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَی شِعْبٍ فَذَهَبْتُ لِأَدْنُوَ مِنْ أَهْلِي فَقَالَتْ إِنِّي لَمْ أُقَصِّرْ مِنْ شَعَرِي بَعْدُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعَرِهَا بِأَسْنَانِي ثُمَّ وَقَعْتُ بِهَا فَضَحِکَ الْقَاسِمُ وَقَالَ مُرْهَا فَلْتَأْخُذْ مِنْ شَعَرِهَا بِالْجَلَمَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قصر کا بیان
عبداللہ بن عمر اپنے عزیزوں میں سے ایک شخص سے ملے جس کا نام مجبر تھا انہوں نے طواف الافاضہ کرلیا تھا لیکن نہ حلق کیا نہ قصر نادانی سے، تو ان کو عبداللہ بن عمر نے لوٹ جانے کا اور حلق یا قصر کرکے اور طواف زیادہ دوبارہ کرنے کا حکم کیا۔ امام مالک کو پہنچا کہ سالم بن عبداللہ بن عمر جب ارادہ کرتے احرام کا تو قینچی منگاتے اور مونچھ اور داڑھی کے بال لیتے سواری اور لیبک کہنے سے پہلے احرام باندھ کر۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهِ يُقَالُ لَهُ الْمُجَبَّرُ قَدْ أَفَاضَ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ جَهِلَ ذَلِکَ فَأَمَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَرْجِعَ فَيَحْلِقَ أَوْ يُقَصِّرَ ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَی الْبَيْتِ فَيُفِيضَ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ دَعَا بِالْجَلَمَيْنِ فَقَصَّ شَارِبَهُ وَأَخَذَ مِنْ لِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْکَبَ وَقَبْلَ أَنْ يُهِلَّ مُحْرِمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ تلبید کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص بال گوندھے احرام کے وقت وہ سر منڈا دے احرام کھولتے وقت اور اس طرح بال نہ گوندھو کہ تلبید سے مشابہت ہوجائے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَنْ ضَفَرَ رَأْسَهُ فَلْيَحْلِقْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ تلبید کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص جوڑا باندھے یا گوندھ لے یا تلبید کرے بالوں کو احرام کے وقت تو واجب ہوگیا اس پر سر منڈانا۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَنْ عَقَصَ رَأْسَهُ أَوْ ضَفَرَ أَوْ لَبَّدَ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْحِلَاقُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنے کا اور عرفات میں نماز قصر کرنے کا اور خطبہ جلدی پڑھنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے کعبہ شریف کے اندر اور ان کے ساتھ اسامہ بن زید اور بلال بن رابح اور عثمان بن طلحہ تھے تو دروازہ بند کرلیا اور وہاں ٹھہرے رہے، عبداللہ نے کہا میں نے بلال سے پوچھا جب نکلے کیا کیا رسول اللہ ﷺ نے ؟ تو کہا انہوں نے ایک ستون پیچھے کو بائیں طرف کیا اور دو ستون داہنی طرف اور تین ستون پیچھے اپنے اور خانہ کعبہ میں ان دنوں چھ ستون تھے پھر نماز پڑھی آپ ﷺ نے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْکَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَکَثَ فِيهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَائَهُ وَکَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَی سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنے کا اور عرفات میں نماز قصر کرنے کا اور خطبہ جلدی پڑھنے کا بیان
سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ لکھا عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو جب وہ آیا تھا عبداللہ بن عمر کا کسی بات میں حج کے کاموں میں سے کسی میں اختلاف نہ کرنا، کہا سالم نے جب عرفہ کا روز ہوا تو عبداللہ بن عمر زوال ہوتے ہی آئے اور میں بھی ان کے ساتھ اور پکارا حجاج کے خیمہ کے پاس کہ کہاں ہے حجاج ؟ تو نکلا حجاج ایک چادر کسم میں رنگی ہوئی اوڑھے ہوئے اور کہا اے اباعبدالرحمن کیا ہے انہوں نے جواب دیا کہ اگر سنت کی پیروی چاہتا ہے تو چل حجاج بولا ابھی ؟ انہوں نے کہا ہاں ابھی، حجاج نے کہا مجھے تھوڑی مہلت دو کہ میں نہالوں پھر نکلتا ہوں عبداللہ بن عمر سواری سے اتر پڑے پھر حجاج نکلا سو میرے اور میرے باپ عبداللہ کے بیچ میں آگیا میں نے اس سے کہا اگر تجھ کو سنت کی پیروی منظور ہو تو آج کے روز خطبہ کو کم کر اور نماز جلد پڑھ وہ عبداللہ کی طرف دیکھنے لگا تاکہ ان سے سنے جب عبداللہ نے یہ دیکھا تو کہا سچ کہا سالم نے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ کَتَبَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ إِلَی الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ أَنْ لَا تُخَالِفَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فِي شَيْئٍ مِنْ أَمْرِ الْحَجِّ قَالَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ جَائَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ وَأَنَا مَعَهُ فَصَاحَ بِهِ عِنْدَ سُرَادِقِهِ أَيْنَ هَذَا فَخَرَجَ عَلَيْهِ الْحَجَّاجُ وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ فَقَالَ مَا لَکَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ الرَّوَاحَ إِنْ کُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَقَالَ أَهَذِهِ السَّاعَةَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَنْظِرْنِي حَتَّی أُفِيضَ عَلَيَّ مَائً ثُمَّ أَخْرُجَ فَنَزَلَ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّی خَرَجَ الْحَجَّاجُ فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي فَقُلْتُ لَهُ إِنْ کُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ السُّنَّةَ الْيَوْمَ فَاقْصُرْ الْخُطْبَةِ وَعَجِّلْ الصَّلَاةَ قَالَ فَجَعَلَ الْحَجَّاجُ يَنْظُرُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ کَيْمَا يَسْمَعَ ذَلِکَ مِنْهُ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ صَدَقَ سَالِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منی میں آٹھویں تاریخ نمازوں کا بیان اور جمعہ منی اور عرفہ میں آپڑنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نماز پڑھتے تھے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی منیٰ میں پھر صبح کو جب آفتاب نکل آتا تو عرفات کو جاتے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَالصُّبْحَ بِمِنًی ثُمَّ يَغْدُو إِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ إِلَی عَرَفَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں نماز کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی مغرب کی اور عشاء کی مزدلفہ میں ملا کر۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں نماز کا بیان
اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوٹے عرفات سے یہاں تک کہ جب پہنچے گھاٹی میں اترے اور پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن پورا وضو نہ کیا میں نے کہا نماز یا رسول اللہ ﷺ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز آگے ہے تیرے، پھر سوار ہوئے جب مزدلفہ میں آئے اترے اور پورا وضو کیا پھر تکبیر ہوئی تو نماز پڑھی مغرب کی اس کے بعد ہر شخص نے اپنا اونٹ اپنی جگہ میں بٹھایا پھر تکبیر ہوئی عشاء کی آپ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی بیچ میں ان دونوں کے کوئی نماز نہ پڑھی۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ فَتَوَضَّأَ فَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوئَ فَقُلْتُ لَهُ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ فَرَکِبَ فَلَمَّا جَائَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ کُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتْ الْعِشَائُ فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں نماز کا بیان
ابو ایوب انصاری نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب اور عشاء ملا کر مزدلفہ میں پڑھیں۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں نماز کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبدللہ بن عمر مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منی کی نماز کے بیان میں
کہا مالک نے مکہ کے رہنے والے حج کو جائیں تو منیٰ میں قصر کریں اور دو رکعتیں پڑھیں جب تک وہ حج سے لوٹیں۔
قَالَ مَالِک فِي أَهْلِ مَکَّةَ إِنَّهُمْ يُصَلُّونَ بِمِنًی إِذَا حَجُّوا رَکْعَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ حَتَّی يَنْصَرِفُوا إِلَی مَکَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منی کی نماز کے بیان میں
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں اور ابوبکر نے بھی وہاں دو رکعتیں پڑھیں اور عمر بن خطاب نے بھی دو رکعتیں وہاں پڑھیں اور عثمان بن عفان نے بھی دو رکعتیں وہاں پڑھیں اور آدھی خلافت تک پھر چار پڑھنے لگے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الصَّلَاةَ بِمِنًی رَکْعَتَيْنِ وَأَنَّ أَبَا بَکْرٍ صَلَّاهَا بِمِنًی رَکْعَتَيْنِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّاهَا بِمِنًی رَکْعَتَيْنِ وَأَنَّ عُثْمَانَ صَلَّاهَا بِمِنًی رَکْعَتَيْنِ شَطْرَ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منی کی نماز کے بیان میں
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جب مکہ میں آئے تو دو رکعتیں پڑھ کر لوگوں سے کہا اے مکہ والوں تم اپنی نماز پوری کرو کیونکہ ہم مسافر ہیں پھر منیٰ میں حضرت عمر نے وہی دو رکعتیں پڑھیں لیکن ہم کو یہ نہیں پہنچا کہ وہاں کچھ کہا۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا قَدِمَ مَکَّةَ صَلَّی بِهِمْ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ يَا أَهْلَ مَکَّةَ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ ثُمَّ صَلَّی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَکْعَتَيْنِ بِمِنًی وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منی کی نماز کے بیان میں
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے مکہ میں دو رکعتیں پڑھ کر لوگوں سے کہا اے مکہ والوں تم اپنی نماز پوری کرو کیونکہ ہم مسافر ہیں پھر منیٰ میں بھی حضرت عمر نے دو ہی رکعتیں پڑھیں لیکن ہم کو یہ نہیں پہنچا کہ وہاں کچھ کہا ہو۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّی لِلنَّاسِ بِمَکَّةَ رَکْعَتَيْنِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا أَهْلَ مَکَّةَ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ ثُمَّ صَلَّی عُمَرُ رَکْعَتَيْنِ بِمِنًی وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مقیم کی نماز کا بیان مکہ اور منی میں
کہا مالک نے جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی مکہ میں آگیا اور حج کا احرام باندھا تو وہ جب تک مکہ میں رہے چار رکعتیں پڑھے اس واسطے کہ اس نے چار راتوں سے زیادہ رہنے کی نیت کرلی۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَدِمَ مَکَّةَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ فَإِنَّهُ يُتِمُّ الصَّلَاةَ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ مَکَّةَ لِمِنًی فَيَقْصُرَ وَذَلِکَ أَنَّهُ قَدْ أَجْمَعَ عَلَی مُقَامٍ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِ لَيَالٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ایام تشریق کی تکبیروں کا بیان
یحییٰ بن سعید کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب گیارہویں تاریخ کو نکلے جب کچھ دن چڑھا تو تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہی پھر دوسرے دن نکلے جب دن نکلا اور تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہی تاکہ ایک تکیبر دوسری تکبیر سے ملتے ملتے آواز بیت اللہ کو پہنچے اور لوگ جانیں کہ حضرت عمر رمی کرنے نکلے ہیں۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ شَيْئًا فَکَبَّرَ فَکَبَّرَ النَّاسُ بِتَکْبِيرِهِ ثُمَّ خَرَجَ الثَّانِيَةَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِکَ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَکَبَّرَ فَکَبَّرَ النَّاسُ بِتَکْبِيرِهِ ثُمَّ خَرَجَ الثَّالِثَةَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ فَکَبَّرَ فَکَبَّرَ النَّاسُ بِتَکْبِيرِهِ حَتَّی يَتَّصِلَ التَّکْبِيرُ وَيَبْلُغَ الْبَيْتَ فَيُعْلَمَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ خَرَجَ يَرْمِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ معرس اور محصب کی نماز کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ بٹھایا بطحا میں جو ذوالحلیفہ میں تھا اور نماز پڑھی وہاں کہا نافع نے عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَائِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّی بِهَا قَالَ نَافِعٌ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ معرس اور محصب کی نماز کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ظہر اور عصر اور مغرب محصب میں پڑھتے پھر مکہ میں جاتے رات کو اور طواف کرتے خانہ کعبہ کا۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ يَدْخُلُ مَکَّةَ مِنْ اللَّيْلِ فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منی کے دنوں میں رات کو مکہ میں رہنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب چند آدمیوں کو مقرر کرتے اس بات پر کہ لوگوں کو پھیر دیں منیٰ کی طرف جمرہ عقبہ کے پیچھے سے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا يَبِيتَنَّ أَحَدٌ مِنْ الْحَاجِّ لَيَالِيَ مِنًی مِنْ وَرَائِ الْعَقَبَةِ
তাহকীক: