আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৫ টি
হাদীস নং: ৮২৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منی کے دنوں میں رات کو مکہ میں رہنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا کوئی حاجی منیٰ کی راتوں میں جمرہ عقبہ کے ادھر نہ رہے۔
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَبْعَثُ رِجَالًا يُدْخِلُونَ النَّاسَ مِنْ وَرَاءِ الْعَقَبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ منی کے دنوں میں رات کو مکہ میں رہنے کا بیان
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عروہ بن زبیر نے کہا کہ منیٰ کی راتوں میں کوئی مکہ میں نہ رہے بلکہ منیٰ میں رہے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ فِي الْبَيْتُوتَةِ بِمَکَّةَ لَيَالِيَ مِنًی لَا يَبِيتَنَّ أَحَدٌ إِلَّا بِمِنًی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کنکریاں مارنے کا بیان
امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب ٹھہرتے تھے جمرہ اولی اور وسطی کے پاس بڑی دیر تک کہ تھک جاتا تھا کھڑا ہونے والا۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلًا حَتَّی يَمَلَّ الْقَائِمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کنکریاں مارنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جمرہ اولی اور وسطی کے پاس ٹھہرتے تھے بڑی دیر تک پھر تکبیر کہتے اور تسبیح اور تحمید پڑھتے اور دعا مانگتے اللہ جل جلالہ سے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلًا يُکَبِّرُ اللَّهَ وَيُسَبِّحُهُ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو اللَّهَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کنکریاں مارنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کنکریاں مارتے وقت تکبیر کہتے ہر کنکری مارنے پر۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُکَبِّرُ عِنْدَ رَمْيِ الْجَمْرَةِ کُلَّمَا رَمَی بِحَصَاةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کنکریاں مارنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جس کا آفتاب ڈوب جائے بارہویں تاریخ کو منیٰ میں تو وہ نہ جائے جب تک تیرہویں تاریخ کو رمی نہ کرلے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ مَنْ غَرَبَتْ لَهُ الشَّمْسُ مِنْ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَهُوَ بِمِنًی فَلَا يَنْفِرَنَّ حَتَّی يَرْمِيَ الْجِمَارَ مِنْ الْغَدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کنکریاں مارنے کا بیان
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ لوگ جب رمی کرنے کو جاتے تو پیدل جاتے اور پیدل آتے لیکن سب سے پہلے معاویہ بن ابی سفیان رمی کے واسطے سوار ہوئے۔
عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّاسَ کَانُوا إِذَا رَمَوْا الْجِمَارَ مَشَوْا ذَاهِبِينَ وَرَاجِعِينَ وَأَوَّلُ مَنْ رَکِبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کنکریاں مارنے کا بیان
امام مالک نے پوچھا عبدالرحمن بن قاسم سے کہ قاسم بن محمد کہاں سے رمی کرتے تھے جمرہ عقبہ کی، بولے جہاں سے ممکن ہوتا۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ مِنْ أَيْنَ کَانَ الْقَاسِمُ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ مِنْ حَيْثُ تَيَسَّرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ کنکریاں مارنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے تینوں دنوں میں رمی بعد زوال کے کی جائے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ لَا تُرْمَی الْجِمَارُ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ حَتَّی تَزُولَ الشَّمْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار میں رخصت کا بیان
عاصم بن عدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی اونٹ والوں کو رات اور کہیں بسر کرنے کی سوائے منیٰ کے، وہ لوگ رمی کرلیں یوم النحر کو پھر دوسرے دن یا تیسرے دن دونوں پھر اگر رہیں تو چوتھے دن بھی رمی کریں
عَنْ اصِمِ بْنِ عَدِيٍّ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِرِعَائِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ خَارِجِينَ عَنْ مِنًی يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ لِيَوْمَيْنِ ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار میں رخصت کا بیان
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ زمانہ اول میں اونٹ چرانے والے کو اجازت تھی رات کو رمی کرنے کی۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَذْکُرُ أَنَّهُ أُرْخِصَ لِلرِّعَائِ أَنْ يَرْمُوا بِاللَّيْلِ يَقُولُ فِي الزَّمَانِ الْأَوَّلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار میں رخصت کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ صفیہ بن ابی عبید کی بھتیجی کو نفاس ہوا مزدلفہ میں تو وہ اور صفیہ ٹھہر گئیں یہاں تک کہ منیٰ میں جب پہنچیں آفتاب ڈوب گیا یوم النحر کو تو حکم کیا ان دونوں کو عبداللہ بن عمر نے کنکریاں مارنے کا جب آئیں وہ منیٰ میں اور کوئی جزا ان پر لازم نہ کی۔
عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَةَ أَخٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ نُفِسَتْ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَتَخَلَّفَتْ هِيَ وَصَفِيَّةُ حَتَّی أَتَتَا مِنًی بَعْدَ أَنْ غَرَبَتْ الشَّمْسُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ فَأَمَرَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنْ تَرْمِيَا الْجَمْرَةَ حِينَ أَتَتَا وَلَمْ يَرَ عَلَيْهِمَا شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف الزیارة کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے خطبہ پڑھا عرفات میں اور سکھائے ان کو ارکان حج کے اور کہا ان سے ! جب تم آؤ منیٰ میں اور کنکریاں مار چکو تو سب چیزیں درست ہوگئیں تمہارے واسطے جو حرام تھیں احرام میں، مگر عورتوں سے صحبت کرنا اور خوشبو لگانا کوئی شخص تم میں سے صحبت نہ کرے اور نہ خوشبو لگائے جب تک طواف نہ کرلے خانہ کعبہ کا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَةَ وَعَلَّمَهُمْ أَمْرَ الْحَجِّ وَقَالَ لَهُمْ فِيمَا قَالَ إِذَا جِئْتُمْ مِنًی فَمَنْ رَمَی الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَی الْحَاجِّ إِلَّا النِّسَائَ وَالطِّيبَ لَا يَمَسَّ أَحَدٌ نِسَائً وَلَا طِيبًا حَتَّی يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طواف الزیارة کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص کنکریاں مارے اور سر منڈائے یا بال کتروائے اور اس کے ساتھ اگر ہدی ہو تو نحر کرے پس حلال ہوجائیں گیں اس پر وہ چیزیں جو حرام تھیں مگر صحبت کرنا عورتوں سے اور خوشبو لگانا درست نہ ہوگا طواف الزیارہ تک۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَنْ رَمَی الْجَمْرَةَ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ وَنَحَرَ هَدْيًا إِنْ کَانَ مَعَهُ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَائَ وَالطِّيبَ حَتَّی يَطُوفَ بِالْبَيْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حائضہ کو مکہ میں جانے کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم نکلے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہ الوداع کے سال میں تو احرام باندھا ہم نے عمرہ کا پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس شخص کے ساتھ ہدی ہو تو وہ احرام حج اور عمرہ کا ساتھ باندھے پر احرام نہ کھولے یہاں تک کہ دونوں سے فارغ ہو، حضرت عائشہ نے کہا کہ میں آئی مکہ میں حیض کی حالت میں تو میں نے نہ طواف کیا نہ سعی کی صفا مروہ کی اور شکایت کی میں نے رسول اللہ ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا اپنا سر کھول ڈال اور کنگھی کر اور عمرہ چھوڑ دے اور حج کا احرام باندھ لے میں نے ویسا ہی کیا جب ہم حج کرچکے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو عبدالرحمن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم کو بھیجا میں نے عمرہ ادا کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمرہ عوض ہے تیرے اس عمرہ کا تو جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہوگئے پھر حج کے واسطے دوسرا طواف کیا جب لوٹ کر آئے منیٰ سے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ کا ایک ساتھ باندھا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ عروہ بن زبیر نے بھی حضرت عائشہ (رض) ایسا ہی روایت کیا۔
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّی يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا قَالَتْ فَقَدِمْتُ مَکَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْقُضِي رَأْسَکِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ هَذَا مَکَانُ عُمْرَتِکِ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا مِنْهَا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًی لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ کَانُوا أَهَلُّوا بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حائضہ کو مکہ میں جانے کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں آئی مکہ میں حالت حیض میں اور میں نے طواف نہ کیا خانہ کعبہ کا اور نہ سعی کی صفا اور مرہ کی تو میں نے شکوہ کیا اس کا رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا جو کام حاجی کرتے ہیں وہ تو بھی کر فقط طواف اور سعی نہ کر جب تک کہ پاک نہ ہو۔ کہا مالک نے جو عورت عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ میں آئے اور وہ حیض سے ہو اور حج کے دن آجائیں اور طواف نہ کرسکے تو اگر حج کے فوت ہونے کا خوف ہو تو حج کا احرام باندھ لے اور ہدی دے اور اس کا حکم قارن جیسا ہوگا ایک طواف اس کو کافی ہے اور وقوف عرفہ اور وقوف مزدلفہ اور رمی جمار حیض کی حالت میں ادا کرسکتی ہے مگر طواف الزیارہ نہ کرے جب تک حیض سے پاک نہ ہو۔
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَدِمْتُ مَکَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّی تَطْهُرِي قَالَ مَالِک فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي تُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ تَدْخُلُ مَکَّةَ مُوَافِيَةً لِلْحَجِّ وَهِيَ حَائِضٌ لَا تَسْتَطِيعُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ إِنَّهَا إِذَا خَشِيَتْ الْفَوَاتَ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ وَأَهْدَتْ وَکَانَتْ مِثْلَ مَنْ قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَأَجْزَأَ عَنْهَا طَوَافٌ وَاحِدٌ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ إِذَا کَانَتْ قَدْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ وَصَلَّتْ فَإِنَّهَا تَسْعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَتَقِفُ بِعَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ وَتَرْمِي الْجِمَارَ غَيْرَ أَنَّهَا لَا تُفِيضُ حَتَّی تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حائضہ کے طواف الزیارة کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ صفیہ کو حیض آیا تو بیان کیا رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا وہ ہمیں روکنے والی ہے لوگوں نے کہا وہ طواف الافاضہ کرچکی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا پھر نہیں۔
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ حَاضَتْ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَابِسَتُنَا هِيَ فَقِيلَ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ فَقَالَ فَلَا إِذًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حائضہ کے طواف الزیارة کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ سے یا رسول اللہ ﷺ صفیہ کو حیض آگیا آپ ﷺ نے فرمایا شاید وہ ہم کو روکے گی کیا اس نے طواف نہ کیا خانہ کعبہ کا، عورتوں نے کہا ہاں کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا پھر چلو۔
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا أَلَمْ تَکُنْ طَافَتْ مَعَکُنَّ بِالْبَيْتِ قُلْنَ بَلَی قَالَ فَاخْرُجْنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حائضہ کے طواف الزیارة کا بیان
عمرہ بنت عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ عائشہ جب حج کرتیں عورتوں کے ساتھ اور خوف ہوتا ان کو حیض آجانے کا تو یوم النحر کو ان کو روانہ کر دیتیں طواف الافاضہ کے واسطے، جب وہ طواف کر چکتیں اب اگر ان کو حیض آتا تو ان کے پاک ہونے کا انتظار نہ کرتیں بلکہ چل کھڑی ہوتیں۔
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ کَانَتْ إِذَا حَجَّتْ وَمَعَهَا نِسَائٌ تَخَافُ أَنْ يَحِضْنَ قَدَّمَتْهُنَّ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَفَضْنَ فَإِنْ حِضْنَ بَعْدَ ذَلِکَ لَمْ تَنْتَظِرْهُنَّ فَتَنْفِرُ بِهِنَّ وَهُنَّ حُيَّضٌ إِذَا کُنَّ قَدْ أَفَضْنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حائضہ کے طواف الزیارة کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا صفیہ کا تو لوگوں نے کہا آپ ﷺ سے ان کو حیض آگیا آپ ﷺ نے فرمایا شاید وہ ہمیں روکنے والے ہے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ وہ طواف کر چکیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کچھ نہیں۔ ہشام نے کہا عروہ نے کہا عائشہ نے جب ہم اس کا ذکر کرتے تھے کہ اگر پہلے سے عورتوں کو طواف کے لئے روانہ کردینا مفید نہیں تو لوگ کیوں بھیج دیتے ہیں اور اگر یہ لوگ جیسے سمجھتے ہیں کہ طواف الوداع کے لئے ٹھہرنا لازم ہے صحیح ہوتا تو منیٰ میں چھ ہزار عورتوں سے زیادہ حیض کی حالت میں پڑی ہوتیں طواف الوداع کے انتظار میں۔
عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَقِيلَ لَهُ قَدْ حَاضَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا إِذًا قَالَ هِشَامٌ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَنَحْنُ نَذْکُرُ ذَلِکَ فَلِمَ يُقَدِّمُ النَّاسُ نِسَائَهُمْ إِنْ کَانَ ذَلِکَ لَا يَنْفَعُهُنَّ وَلَوْ کَانَ الَّذِي يَقُولُونَ لَأَصْبَحَ بِمِنًی أَکْثَرُ مِنْ سِتَّةِ آلَافِ امْرَأَةٍ حَائِضٍ کُلُّهُنَّ قَدْ أَفَاضَتْ
তাহকীক: