আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৫ টি
হাদীস নং: ৭৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عرفات تمام ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن عرفہ میں نہ ٹھہرو اور مزدلفہ تمام ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر میں نہ ٹھہرو۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَرَفَةُ کُلُّهَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ وَالْمُزْدَلِفَةُ کُلُّهَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفات اور مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان
عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جانو تم کہ عرفات سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے مگر بطن محسر۔ کہا مالک نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج، نہ رفث ہے نہ فسق ہے نہ جھگڑا ہے حج میں، تو رفث کے معنی جماع کے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے فرمایا ہے احل لکم لیلہ الصیام الرفث الی نساء کم حلال ہے تمہارے لئے روزوں کی رات میں جماع اپنی عورتوں سے یہاں پر رفث سے جماع مراد ہے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ اعْلَمُوا أَنَّ عَرَفَةَ کُلَّهَا مَوْقِفٌ إِلَّا بَطْنَ عُرَنَةَ وَأَنَّ الْمُزْدَلِفَةَ کُلَّهَا مَوْقِفٌ إِلَّا بَطْنَ مُحَسِّرٍ قَالَ مَالِک قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ قَالَ فَالرَّفَثُ إِصَابَةُ النِّسَائِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أُحِلَّ لَکُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ قَالَ وَالْفُسُوقُ الذَّبْحُ لِلْأَنْصَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ بے وضو عرفات یا مزدلفہ میں ٹھہرنے کا اور سوار ہو کر ٹھہرنے کا بیان
کہا یحییٰ نے سوال ہوا امام مالک سے کہ عرفات میں یا مزدلفہ میں کوئی آدمی بےوضو ٹھہر سکتا ہے یا بےوضو کنکریاں مار سکتا ہے یا بےوضو صفا اور مروہ کے درمیان میں دوڑ سکتا ہے تو جواب دیا کہ جتنے ارکان حائضہ عورت کرسکتی ہے وہ سب کام مرد بےوضو کرسکتا ہے اور اس پر کچھ لازم نہیں آتا مگر افضل یہ ہے کہ ان سب کاموں میں باوضو ہو اور قصدا بےوضو ہونا اچھا نہیں ہے۔ سوال ہوا امام مالک سے کہ عرفات میں سوار ہو کر ٹھہرے یا اتر کر، بولے سوار ہو کر مگر جب کوئی عذر ہو اس کو یا اس کے جانور کو تو اللہ جل جلالہ قبول کرنے والا ہے عذر کو۔
سُئِلَ مَالِک هَلْ يَقِفُ الرَّجُلُ بِعَرَفَةَ أَوْ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَوْ يَرْمِي الْجِمَارَ أَوْ يَسْعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ فَقَالَ کُلُّ أَمْرٍ تَصْنَعُهُ الْحَائِضُ مِنْ أَمْرِ الْحَجِّ فَالرَّجُلُ يَصْنَعُهُ وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ ثُمَّ لَا يَکُونُ عَلَيْهِ شَيْئٌ فِي ذَلِکَ وَلَکِنْ الْفَضْلُ أَنْ يَکُونَ الرَّجُلُ فِي ذَلِکَ کُلِّهِ طَاهِرًا وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَعَمَّدَ ذَلِکَ و سُئِلَ مَالِک عَنْ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ لِلرَّاکِبِ أَيَنْزِلُ أَمْ يَقِفُ رَاکِبًا فَقَالَ بَلْ يَقِفُ رَاکِبًا إِلَّا أَنْ يَکُونَ بِهِ أَوْ بِدَابَّتِهِ عِلَّةٌ فَاللَّهُ أَعْذَرُ بِالْعُذْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وقوف عرفات کی انتہا کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر کہتے تھے جو شخص عرفہ میں نہ ٹھہرا یوم النحر کے طلوع فجر تک تو فوت ہوگیا حج اس کا اور جو یوم النحر کے طلوع فجر سے پہلے عرفہ میں ٹھہرا تو اس نے پا لیا حج کو۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَقِفْ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ وَمَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ وقوف عرفات کی انتہا کا بیان
عروہ بن زبیر نے کہا کہ جب مزدلفہ کی رات کی صبح ہوگئی اور وہ عرفہ میں نہ ٹھہرا تو حج اس کا فوت ہوگیا اور جو مزدلفہ کی رات کو عرفہ میں ٹھہرا طلوع فجر سے پہلے تو پا لیا اس نے حج کو۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَدْرَکَهُ الْفَجْرُ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ وَلَمْ يَقِفْ بِعَرَفَةَ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ وَمَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلَةِ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْحَجَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عورتوں اور لڑکوں کو آگے روانہ کردینے کا بیان
سالم اور عبیداللہ سے جو دو بیٹے ہیں عبداللہ بن عمر کے روایت ہے کہ ان کے باپ عبداللہ بن عمر آگے روانہ کردیتے تھے عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے منیٰ کی طرف تاکہ نماز صبح کی منیٰ میں پڑھ کر لوگوں کے آنے سے اول کنکریاں مار لیں۔
عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَالِمٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُقَدِّمُ أَهْلَهُ وَصِبْيَانَهُ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَی مِنًی حَتَّی يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمِنًی وَيَرْمُوا قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عورتوں اور لڑکوں کو آگے روانہ کردینے کا بیان
اسماء بنت ابی بکر کی آزاد لونڈی سے روایت ہے کہ ہم اسما بنت ابی بکر کے ساتھ منیٰ میں آئے منہ اندھیرے تو میں نے کہا کہ ہم منیٰ میں منہ اندھیرے آئے اسماء نے کہا ہم ایسا ہی کرتے تھے اس شخص کے ساتھ جو تجھ سے بہتر تھے۔ امام مالک نے سنا بعض اہل علم سے مکروہ جانتے تھے کنکریاں مارنا قبل طلوع فجر کے نحر کے دن اور جس نے ماریں تو نحر اس کو حلال ہوگیا۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ مَوْلَاةً لِأَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ جِئْنَا مَعَ أَسْمَائَ ابْنَةِ أَبِي بَکْرٍ مِنًی بِغَلَسٍ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا لَقَدْ جِئْنَا مِنًی بِغَلَسٍ فَقَالَتْ قَدْ کُنَّا نَصْنَعُ ذَلِکَ مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْکِ عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَکْرَهُ رَمْيَ الْجَمْرَةِ حَتَّی يَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ وَمَنْ رَمَی فَقَدْ حَلَّ لَهُ النَّحْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عورتوں اور لڑکوں کو آگے روانہ کردینے کا بیان
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت المنذر دیکھتی تھیں اسما بنت ابی بکر کو مزدلفہ میں کہ جو امامت کرتا تھا ان کی اور ان کے ساتھیوں کی نماز میں حکم کرتی تھیں اس شخص کو کہ نماز پڑھائے صبح کی فجر نکلتے ہی پھر سوار ہو کر منیٰ کو آتی تھیں اور توقف نہ کرتی تھیں۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا کَانَتْ تَرَی أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ تَأْمُرُ الَّذِي يُصَلِّي لَهَا وَلِأَصْحَابِهَا الصُّبْحَ يُصَلِّي لَهُمْ الصُّبْحَ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ ثُمَّ تَرْکَبُ فَتَسِيرُ إِلَی مِنًی وَلَا تَقِفُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے لوٹتے وقت چلنے کا بیان
عروہ بن زبیر نے کہا کہ سوال ہو اسامہ بن زید سے اور میں بیٹھا تھا ان کے پاس کہ رسول اللہ ﷺ حج وداع میں کس طرح چلاتے تھے اونٹ کو ؟ کہا انہوں نے چلاتے تھے ذرا تیز جب جگہ پاتے تو خوب دوڑا کر چلاتے تھے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ کَيْفَ کَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ کَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے لوٹتے وقت چلنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر تیز کرتے تھے اپنے اونٹ کو بطن محسر میں ایک ڈھیلے کی مار تک۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُحَرِّکُ رَاحِلَتَهُ فِي بَطْنِ مُحَسِّرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں نحر کرنے کا بیان
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منیٰ کو نحر کی جگہ یہ ہے اور ساری منیٰ نحر کی جگہ ہے اور عمرہ میں کہا مروہ کو نحر کی جگہ یہ ہے اور سب راستے مکہ کے نحر کی جگہ ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِنًی هَذَا الْمَنْحَرُ وَکُلُّ مِنًی مَنْحَرٌ وَقَالَ فِي الْعُمْرَةِ هَذَا الْمَنْحَرُ يَعْنِي الْمَرْوَةَ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّةَ وَطُرُقِهَا مَنْحَرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں نحر کرنے کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم نکلے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جب پانچ راتیں باقی رہی تھیں ذیقعدہ کی اور ہم کو گمان یہی تھا کہ آپ ﷺ حج کو نکلے ہیں جب ہم نزدیک ہوئے مکہ سے تو حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو جس کے ساتھ ہدی نہ تھی کہ طواف اور سعی کر کے احرام کھول ڈالے کہا عائشہ نے کہ یوم النحر کے دن ہمارے پاس گوشت آیا گائے کا تو میں نے پوچھا کہ یہ گوشت کہاں سے آیا لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیبیوں کی طرف سے نحر کیا ہے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلَا نُرَی إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَکَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ قَالَتْ عَائِشَةُ فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالُوا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৯৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حج میں نحر کرنے کا بیان
حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا لوگوں نے احرام کھول ڈالا اور آپ ﷺ نے عمرہ کر کے اپنا احرام نہیں کھولا تو فرمایا آپ ﷺ نے میں نے تلبید کی اپنے سر کی اور تقلید کی اپنی ہدی کی تو میں احرام نہ کھولوں گا جب تک نحر نہ کرلوں۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِکَ فَقَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ نحر کرنے کا بیان
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہدی کے بعض جانوروں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بعضوں کو اوروں نے ذبح کیا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ وَنَحَرَ غَيْرُهُ بَعْضَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ نحر کرنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص نذر کرے بدنہ کی (بدنہ اونٹ یا گائے یا بیل کو کہتے ہیں) جو بھیجا جائے مکہ کو قربانی کے واسطے تو اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکا دے اور اشعار کرے پھر نحر کرے اس کا بیت اللہ کے پاس یا منیٰ میں دسویں تاریخ ذی الحجہ کو، اس کے سوا اور کوئی جگہ نہیں ہے اور جو شخص نذر کرے قربانی کے اونٹ یا گائے کی اس کو اختیار ہے کہ جہاں چاہے نحر کرے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَنْ نَذَرَ بَدَنَةً فَإِنَّهُ يُقَلِّدُهَا نَعْلَيْنِ وَيُشْعِرُهَا ثُمَّ يَنْحَرُهَا عِنْدَ الْبَيْتِ أَوْ بِمِنًی يَوْمَ النَّحْرِ لَيْسَ لَهَا مَحِلٌّ دُونَ ذَلِکَ وَمَنْ نَذَرَ جَزُورًا مِنْ الْإِبِلِ أَوْ الْبَقَرِ فَلْيَنْحَرْهَا حَيْثُ شَائَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ نحر کرنے کا بیان
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ عروہ نحر کرتے تھے اپنے اونٹوں کو کھڑا کر کے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ أَبَاهُ کَانَ يَنْحَرُ بُدْنَهُ قِيَامًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سر منڈانے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ رحم کرے حلق کرنے والوں پر صحابہ نے کہا اور قصر کرنے والوں پر یا رسول اللہ ﷺ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ رحم کرے حلق کرنے والوں پر پھر صحابہ نے کہا اور قصر کرنے والوں پر یا رسول اللہ ﷺ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور قصر کرنے والوں پر۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالْمُقَصِّرِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ سر منڈانے کا بیان
عبدالرحمن بن القاسم سے روایت ہے کہ ان کے باپ قاسم بن محمد مکہ میں عمرہ کا احرام باندھ کر رات کو آتے اور طواف وسعی کر کے حلق میں تاخیر کرتے صبح تک لیکن جب تک حلق نہ کرتے بیت اللہ کا طواف نہ کرتے اور کبھی مسجد میں آ کر وتر پڑھتے لیکن بیت اللہ کے قریب نہ جاتے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ کوئی شخص سر نہ منڈائے اور بال نہ کتروائے یہاں تک کہ نحر کرے ہدی کو اگر اس کے ساتھ ہو اور جو چیزیں احرام میں حرام تھیں ان کا استعمال نہ کرے جب تک احرام نہ کھول لے منیٰ میں یوم النحر کو کیونکہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ولا تحلقو رؤسکم حتی یبلغ الھدی محلہ مت منڈاؤ سروں کو اپنے جب تک ہدی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَدْخُلُ مَکَّةَ لَيْلًا وَهُوَ مُعْتَمِرٌ فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَيُؤَخِّرُ الْحِلَاقَ حَتَّی يُصْبِحَ قَالَ وَلَکِنَّهُ لَا يَعُودُ إِلَی الْبَيْتِ فَيَطُوفُ بِهِ حَتَّی يَحْلِقَ رَأْسَهُ قَالَ وَرُبَّمَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَوْتَرَ فِيهِ وَلَا يَقْرَبُ الْبَيْتَ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ أَحَدًا لَا يَحْلِقُ رَأْسَهُ وَلَا يَأْخُذُ مِنْ شَعَرِهِ حَتَّی يَنْحَرَ هَدْيًا إِنْ کَانَ مَعَهُ وَلَا يَحِلُّ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ عَلَيْهِ حَتَّی يَحِلَّ بِمِنًی يَوْمَ النَّحْرِ وَذَلِکَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَالَ وَلَا تَحْلِقُوا رُئُوسَکُمْ حَتَّی يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قصر کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب رمضان کے روزوں سے فارغ ہوتے اور حج کا قصد ہوتا تو سر اور داڑھی کے بال نہ لیتے یہاں تک کہ حج کرتے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا أَفْطَرَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ رَأْسِهِ وَلَا مِنْ لِحْيَتِهِ شَيْئًا حَتَّی يَحُجَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮০৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ قصر کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جب حلق کرتے حج یا عمرہ میں تو اپنی داڑھی اور مونچھ کے بال لیتے۔
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا حَلَقَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَخَذَ مِنْ لِحْيَتِهِ وَشَارِبِهِ
তাহকীক: