আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৪৫ টি

হাদীস নং: ৭৬৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
امام مالک نے پوچھا عبداللہ بن دینار سے کہ عبداللہ بن عمر اونٹ کی جھول کا کیا کرتے تھے جب کعبہ شریف کا غلاف بن گیا تھا ؟ انہوں نے کہا صدقہ میں دے دیتے تھے
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ مَا کَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَصْنَعُ بِجِلَالِ بُدْنِهِ حِينَ کُسِيَتْ الْکَعْبَةُ هَذِهِ الْکِسْوَةَ قَالَ کَانَ يَتَصَدَّقُ بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے قربانی کے لئے پانچ برس یا زیادہ کا اونٹ ہونا چاہیے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ فِي الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الثَّنِيُّ فَمَا فَوْقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৬৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے اونٹوں کے جھول نہیں پھاڑتے تھے اور نہ جھول پہناتے تھے یہاں تک کہ عرفہ کو جاتے منیٰ سے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يَشُقُّ جِلَالَ بُدْنِهِ وَلَا يُجَلِّلُهَا حَتَّی يَغْدُوَ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ ہدی ہانکنے کی ترکیب کا بیان
عروہ بن زبیر اپنے بیٹوں سے کہتے تھے اے میرے بیٹو ! اللہ کے لئے تم میں سے کوئی ایسا اونٹ نہ دے جو آپ اپنے دوست کو دیتے ہوئے شرماتے ہو اس لئے کہ اللہ جل جلالہ سب کریموں سے کریم ہے اور زیادہ حقدار ہے اس امر کا کہ اس کے واسطے چیز چن کردی جائے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لِبَنِيهِ يَا بَنِيَّ لَا يُهْدِيَنَّ أَحَدُکُمْ مِنْ الْبُدْنِ شَيْئًا يَسْتَحْيِي أَنْ يُهْدِيَهُ لِکَرِيمِهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَکْرَمُ الْکُرَمَائِ وَأَحَقُّ مَنْ اخْتِيرَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ہدی لے جانے والے نے پوچھا آپ ﷺ سے یا رسول اللہ ﷺ جو ہدی راستے میں ہلاک ہونے لگے اس کا کیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو اونٹ ہدی کا ہلاک ہونے لگے اس کو نحر کر اور اس کے گلے میں جو قلادہ پڑا تھا وہ اس کے خون میں ڈال دے پھر اس کو چھوڑ دے کہ لوگ کھا لیں اس کو۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ صَاحِبَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْهَدْيِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ بَدَنَةٍ عَطِبَتْ مِنْ الْهَدْيِ فَانْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ قِلَادَتَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْکُلُونَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان
سعید بن مسیب نے کہا جو شخص ہدی کا اونٹ لے جائے پھر وہ تلف ہونے لگے اور وہ اس کو نحر کر کے چھوڑ دے کہ لوگ اس میں سے کھائیں تو اس پر کچھ الزام نہیں ہے البتہ اگر خود اس میں سے کھائے یا کسی کو کھانے کا حکم دے تو تاوان لازم ہوگا، عبداللہ بن عباس نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَاقَ بَدَنَةً تَطَوُّعًا فَعَطِبَتْ فَنَحَرَهَا ثُمَّ خَلَّی بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْکُلُونَهَا فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْئٌ وَإِنْ أَکَلَ مِنْهَا أَوْ أَمَرَ مَنْ يَأْکُلُ مِنْهَا غَرِمَهَا،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان
ابن شہاب نے کہا جو شخص اونٹ جزا کا یا نذر کا یا تمتع کا لے گیا پھر وہ راستے میں تلف ہوگیا تو اس پر اس کا عوض لازم ہے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَی بَدَنَةً جَزَائً أَوْ نَذْرًا أَوْ هَدْيَ تَمَتُّعٍ فَأُصِيبَتْ فِي الطَّرِيقِ فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جب ہدی مر جائے یا چلنے سے عاجز ہوجائے یا کھو جائے اس کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا جو شخص اونٹ ہدی کا لے جائے پھر وہ راستے میں مرجائے یا گم ہوجائے تو اگر نذر کو ہو تو اس کا عوض دے اور جو نفل ہو تو چاہے عوض دے چاہے نہ دے۔
عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَهْدَی بَدَنَةً ثُمَّ ضَلَّتْ أَوْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا إِنْ کَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا وَإِنْ کَانَتْ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَائَ أَبْدَلَهَا وَإِنْ شَائَ تَرَکَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم جب اپنی بیوی سے صحبت کرے اس کی ہدی کا بیان
امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب اور ابوہریرہ (رض) سوال ہوا کہ ایک شخص نے جماع کیا اپنی بی بی سے احرام میں وہ کیا کرے ان سب نے جواب دیا کہ وہ دونوں حج کے ارکان ادا کرتے جائیں یہاں تک کہ حج پورا ہوجائے پھر آئندہ سال ان پر حج اور ہدی لازم ہے۔ حضرت علی نے یہ بھی فرمایا کہ پھر آئندہ سال جب حج کریں تو دونوں جدا جدا رہیں یہاں تک کہ حج پورا ہوجائے۔
عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ فَقَالُوا يَنْفُذَانِ يَمْضِيَانِ لِوَجْهِهِمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا ثُمَّ عَلَيْهِمَا حَجُّ قَابِلٍ وَالْهَدْيُ قَالَ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَإِذَا أَهَلَّا بِالْحَجِّ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ محرم جب اپنی بیوی سے صحبت کرے اس کی ہدی کا بیان
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا سعید بن مسیب سے وہ کہتے تھے لوگوں سے تم کیا کہتے ہو اس شخص کے بارے میں جس نے جماع کیا اپنی عورت سے، احرام کی حالت میں تو لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا تب سعید نے کہا کہ ایک شخص نے ایسا ہی کیا تھا تو اس نے مدینہ میں کسی کو بھیجا دریافت کرنے کے لئے بعض لوگوں کے پاس، بعض لوگوں نے کہا کہ میاں بیوی میں ایک سال تک جدائی کی جائے، سعید نے کہا دونوں حج کرنے چلے جائیں اور اس حج کو پورا کریں جو فاسد کردیا ہے جب فارغ ہو کر لوٹیں تو دوسرے سال اگر زندہ رہیں تو پھر حج کریں اور ہدی دیں اور دوسرے حج کا احرام وہیں سے باندھیں جہاں سے پہلے حج کا احرام باندھا تھا اور مرد عورت جدا رہیں جب تک فارغ نہ ہوں حج سے۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ مَا تَرَوْنَ فِي رَجُلٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ الْقَوْمُ شَيْئًا فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَبَعَثَ إِلَی الْمَدِينَةِ يَسْأَلُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَی عَامٍ قَابِلٍ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ لِيَنْفُذَا لِوَجْهِهِمَا فَلْيُتِمَّا حَجَّهُمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ فَإِذَا فَرَغَا رَجَعَا فَإِنْ أَدْرَکَهُمَا حَجٌّ قَابِلٌ فَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ وَالْهَدْيُ وَيُهِلَّانِ مِنْ حَيْثُ أَهَلَّا بِحَجِّهِمَا الَّذِي أَفْسَدَاهُ وَيَتَفَرَّقَانِ حَتَّی يَقْضِيَا حَجَّهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کو حج نہ ملے اس کی ہدی کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ابوایوب انصاری حج کرنے کو نکلے جب نازیہ میں پہنچے مکہ کے راستے میں تو ان کا اونٹ گم ہوگیا سو آئے وہ مکہ میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس دسویں تاریخ کو ذی الحجہ کی اور بیان کیا ان سے حضرت عمر نے فرمایا کہ عمرہ کرلے اور احرام کھول ڈال پھر آئندہ سال حج کے دن آئیں تو حج کر اور ہدی دے موافق اپنی طاقت کے۔
عَنْ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّی إِذَا کَانَ بِالنَّازِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَکَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ عُمَرُ اصْنَعْ کَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ فَإِذَا أَدْرَکَکَ الْحَجُّ قَابِلًا فَاحْجُجْ وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کو حج نہ ملے اس کی ہدی کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ہبار بن اسود آئے یوم النحر کو اور عمر بن خطاب نحر کر رہے تھے اپنی ہدی کا تو کہا انہوں نے اے امیر المومنیں ہم نے تاریخ کے شمار میں غلطی کی ہم سمجھتے تھے کہ آج عرفہ کا روز ہے حضرت عمر نے کہا مکہ کو جاؤ اور تم اور تمہارے ساتھی سب طواف کرو اگر کوئی ہدی تمہارے ساتھ ہو تو اس کو نحر کر ڈالو پھر حلق کرو یا قصر اور لوٹ جاؤ اپنے وطن کو، آئندہ سال آؤ اور حج کرو اور ہدی دو جس کو ہدی نہ ملے وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات روزے جب لوٹے تب رکھے۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ هَبَّارَ بْنَ الْأَسْوَدِ جَائَ يَوْمَ النَّحْرِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْحَرُ هَدْيَهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَخْطَأْنَا الْعِدَّةَ کُنَّا نَرَی أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَرَفَةَ فَقَالَ عُمَرُ اذْهَبْ إِلَی مَکَّةَ فَطُفْ أَنْتَ وَمَنْ مَعَکَ وَانْحَرُوا هَدْيًا إِنْ کَانَ مَعَکُمْ ثُمَّ احْلِقُوا أَوْ قَصِّرُوا وَارْجِعُوا فَإِذَا کَانَ عَامٌ قَابِلٌ فَحُجُّوا وَأَهْدُوا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৭৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص صبحت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف الزیادہ کے اس کی ہدی کا بیان
عبداللہ بن عباس سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے صحبت کی اپنی بی بی سے اور وہ منیٰ میں تھا قبل طواف زیارہ کے، تو حکم کیا اس کو عبداللہ بن عباس نے ایک اونٹ نحر کرنے کا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ بِأَهْلِهِ وَهُوَ بِمِنًی قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جو شخص صبحت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف الزیادہ کے اس کی ہدی کا بیان
عبداللہ بن عباس نے کہا جو شخص صحبت کرے اپنی بی بی سے قبل طواف زیارہ کے تو وہ ایک عمرہ کرے اور ہدی دے۔ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ يَعْتَمِرُ وَيُهْدِي عَنْ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ فِي ذَلِكَ مِثْلَ قَوْلِ عکرمۃ عن ابن عباس
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے۔
حضرت علی فرماتے تھے کہ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے مراد ایک بکری ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے ایک بکری مراد ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ کَانَ يَقُولُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ شَاةٌ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَ يَقُولُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ شَاةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے۔
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ سے ایک بکری یا گائے مراد ہے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ مَا اسْتَيْسَرَ مِنْ الْهَدْيِ بَدَنَةٌ أَوْ بَقَرَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ موافق طاقت کے ہدی کیا چیز ہے۔
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک آزاد لونڈی عمرہ بنت عبدالرحمن کی جس کا نام رقیہ تھا مجھ سے کہتی تھی کہ میں چلی عمرہ بنت عبدالرحمن کے ساتھ مکہ کو تو آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی وہ مکہ میں پہنچیں اور میں بھی ان کے ساتھ تھی تو طواف کیا خانہ کعبہ کا اور سعی کی صفا اور مروہ کے درمیان میں پھر عمرہ مسجد کے اندر گئیں اور مجھ سے کہا کہ تیرے پاس قینچی ہے میں نے کہا نہیں عمرہ نے کہا کہیں سے ڈھونڈھ کر لاؤ سو میں ڈھونڈھ کر لائی عمرہ نے اپنی لٹیں بالوں کی اس سے کاٹیں جب یوم النحر ہوا تو ایک بکری ذبح کی۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ مَوْلَاةً لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ لَهَا رُقَيَّةُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی مَکَّةَ قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَمْرَةُ مَکَّةَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَأَنَا مَعَهَا فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ دَخَلَتْ صُفَّةَ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ أَمَعَکِ مِقَصَّانِ فَقُلْتُ لَا فَقَالَتْ فَالْتَمِسِيهِ لِي فَالْتَمَسْتُهُ حَتَّی جِئْتُ بِهِ فَأَخَذَتْ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ذَبَحَتْ شَاةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں
صدقہ بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کا رہنے والا آیا عبداللہ بن عمر کے پاس اور اس نے بٹ لیا تھا اپنے بالوں کو تو کہا اے ابا عبدالرحمن میں صرف عمرہ کا احرام باندھ کر آیا عبداللہ بن عمر نے کہا اگر تو میرے ساتھ ہوتا یا مجھ سے پوچھتا تو میں تجھے قران کا حکم کرتا اس شخص نے کہا اب تو ہوچکا عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جتنے بال تیرے پریشان ہیں ان کو کتروا ڈال اور ہدی دے، ایک عورت عراق کی رہنے والی بوالی اے ابا عبدالرحمن کیا ہدی ہے اس کی ؟ انہوں نے کہا جو ہدی ہے اس کی، اس عورت نے کہا کیا ہدی ہے ؟ عبداللہ بن عمر نے کہا میرے نزدیک تو یہ ہے کہ اگر مجھے سوا بکری کے کچھ نہ ملے تب بھی بکری ذبح کرنا بہتر ہے روزے رکھنے سے۔
عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ الْمَکِّيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ جَائَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ ضَفَرَ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي قَدِمْتُ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ کُنْتُ مَعَکَ أَوْ سَأَلْتَنِي لَأَمَرْتُکَ أَنْ تَقْرِنَ فَقَالَ الْيَمَانِي قَدْ کَانَ ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ خُذْ مَا تَطَايَرَ مِنْ رَأْسِکَ وَأَهْدِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مَا هَدْيُهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ هَدْيُهُ فَقَالَتْ لَهُ مَا هَدْيُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أَنْ أَذْبَحَ شَاةً لَکَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو عورت احرام باندھے ہو جب احرام کھلوائے تو کنگھی نہ کرے جب تک اپنے بالوں کی لٹیں نہ کٹوا دے اور جو اس کے پاس ہدی ہو جب تک ہدی نحر نہ کرے تو اپنے بال نہ کتروائے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ إِذَا حَلَّتْ لَمْ تَمْتَشِطْ حَتَّی تَأْخُذَ مِنْ قُرُونِ رَأْسِهَا وَإِنْ کَانَ لَهَا هَدْيٌ لَمْ تَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا حَتَّی تَنْحَرَ هَدْيَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ مختلف حدیثیں ہدی کے بیان میں
ابو اسما سے جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن جعفر کے روایت ہے کہ عبداللہ بن جعفر کے ساتھ وہ مدینہ سے نکلے تو گزرے حسین بن علی پر اور وہ بیمار تھے سقیا میں پس ٹھہرے رہے وہاں عبداللہ بن جعفر یہاں تک کہ جب خوف ہوا حج کے فوت ہوجانے کا تو نکل کھڑے ہوئے عبداللہ بن جعفر اور ایک آدمی بھیج دیا حضرت علی کے پاس اور ان کی بی بی اسما بنت عمیس کے پاس وہ دونوں مدینہ میں تھے تو آئے حضرت علی اور اسماء مدینہ سے امام حسین کے پاس انہوں نے اشارہ کیا اپنے سر کی طرف حضرت علی نے حکم کیا ان کا سر مونڈا گیا سقیا میں، پھر قربانی کی ان کی طرف سے ایک اونٹ کی وہیں سقیا میں، کہا یحییٰ بن سعید نے کہ امام حسین حضرت عثمان بن عفان کے ساتھ نکلے تھے حج کرنے کو۔
عَنْ أَبِي أَسْمَائَ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ فَخَرَجَ مَعَهُ مِنْ الْمَدِينَةِ فَمَرُّوا عَلَی حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ مَرِيضٌ بِالسُّقْيَا فَأَقَامَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَتَّی إِذَا خَافَ الْفَوَاتَ خَرَجَ وَبَعَثَ إِلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَسْمَائَ بِنْتِ عُمَيْسٍ وَهُمَا بِالْمَدِينَةِ فَقَدِمَا عَلَيْهِ ثُمَّ إِنَّ حُسَيْنًا أَشَارَ إِلَی رَأْسِهِ فَأَمَرَ عَلِيٌّ بِرَأْسِهِ فَحُلِّقَ ثُمَّ نَسَکَ عَنْهُ بِالسُّقْيَا فَنَحَرَ عَنْهُ بَعِيرًا قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَکَانَ حُسَيْنٌ خَرَجَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي سَفَرِهِ ذَلِکَ إِلَی مَکَّةَ
tahqiq

তাহকীক: