কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৭ টি
হাদীস নং: ৪৫৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غلہ کے عوض غلہ فروخت کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ میں لگے پھل کو بیچے، اگر وہ کھجور ہو تو نپی ہوئی کھجور سے بیچے، اور اگر انگور ہو تو اسے نپے ہوئے خشک انگور (منقیٰ یا کشمش) سے بیچے، اور اگر کھڑی کھیتی (فصل) ہو تو اسے نپے ہوئے اناج سے بیچے ۔ آپ نے ان تمام اقسام کی بیع سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٩١ (٢٢٠٥) ، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤٢) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٤ (٢٢٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٧٣) ، مسند احمد (٢/١٢٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4549
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ، أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَإِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غلہ کے عوض غلہ فروخت کرنا
جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مخابرہ، مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا، اور کھانے کے لائق ہونے سے پہلے کھجور کو بیچنے سے، اور اسے سوائے دینار اور درہم کے کسی اور چیز سے بیچنے سے (منع فرمایا) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩١٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4550
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يُطْعَمَ، وَعَنْ بَيْعِ ذَلِكَ إِلَّا بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بالی اس وقت تک فروخت نہ کرنا کہ جب تک وہ سفید نہ ہو جائیں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کھجور کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہوجائے، اور بالی کے بیچنے سے یہاں تک کہ وہ سفید پڑجائے (یعنی پک جائے) اور آفت سے محفوظ ہوجائے۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو روکا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ١٣ (١٥٣٥) ، سنن ابی داود/البیوع ٢٣ (٣٣٦٨) ، سنن الترمذی/البیوع ١٥ (١٢٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٥١٥) ، مسند احمد (٢/٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس طرح کی بیع میں بھی وہی بات ہے جو پھلوں کے پکنے سے پہلے ان کی بیع میں ہے، یعنی ہوسکتا ہے کہ کھیتی پکنے سے کسی آسمانی آفت کا شکار ہوجائے، تو خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4551
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلَةِ حَتَّى تَزْهُوَ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بالی اس وقت تک فروخت نہ کرنا کہ جب تک وہ سفید نہ ہو جائیں
ایک صحابی رسول (رض) نے کہا کہ اللہ کے رسول ! ہم صیحانی (نامی کھجور) اور عذق (نامی کھجور) ردی کھجور کے بدلے نہیں پاتے جب تک کہ ہم زیادہ نہ دیں، تو آپ نے فرمایا : اسے درہم سے بیچ دو پھر اس سے (صیحانی اور عذق کو) خرید لو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٥٦٦) (صحیح) (اس کے رواة ” اعمش “ اور ” حبیب “ دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4552
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ رَجُلًا مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَا نَجِدُ الصَّيْحَانِيَّ وَلَا الْعِذْقَ بِجَمْعِ التَّمْرِ حَتَّى نَزِيدَهُمْ ؟، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِعْهُ بِالْوَرِقِ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کھجور کو کھجور کے عوض کم زیادہ فروخت کرنا
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنایا، وہ جنیب (نامی عمدہ قسم کی) کھجور لے کر آیا تو آپ نے فرمایا : کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح ہیں ؟ وہ بولا : نہیں، اللہ کی قسم ! ہم یہ کھجور دو صاع کے بدلے ایک صاع یا تین صاع کے بدلے دو صاع لیتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایسا نہ کرو، گھٹیا اور ردی کھجوروں کو درہم (پیسوں) سے بیچ دو ، پھر درہم سے جنیب خرید لو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/لبیوع ٨٩ (٢٢٠١، ٢٢٠٢) ، الوکالة ٣ (٢٣٠٢، ٢٣٠٣) ، المغازي ٣٩ (٤٢، ٤٢٤٤) ، الاعتصام ٢٠(٧٣٥٠-٧٣٥١) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٨ (البیوع ٣٩) (١٥٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٠٤٤) ، موطا امام مالک /البیوع ١٢ (٢١) ، مسند احمد (٣/٤٥، ٤٧) ، سنن الدارمی/البیوع ٤٠ (٤٢٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہی معاملہ ہر طرح کے پھلوں اور غلوں میں کرنا چاہیئے، اگر کسی کو گھٹیا اور ردی قسم کے بدلے اچھے قسم کا پھل یا غلہ چاہیئے تو وہ قیمت سے خریدے، بدلے میں نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4553
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟، قَالَ: لَا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِصَاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کھجور کو کھجور کے عوض کم زیادہ فروخت کرنا
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ریان (نامی عمدہ) کھجوریں لائی گئیں اور آپ کی بعل نامی (گھٹیا قسم کی) سوکھی کھجور تھی تو آپ نے فرمایا : تمہارے پاس یہ کھجوریں کہاں سے آئیں ؟ لوگوں نے کہا : ہم نے اپنی دو صاع کھجوروں کے بدلے اسے ایک صاع خریدی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ایسا نہ کرو، اس لیے کہ یہ چیز صحیح نہیں، البتہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو اور پھر اس نقدی سے اپنی ضرورت کی دوسری کھجوریں خریدو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4554
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ، وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ، فَقَالَ: أَنَّى لَكُمْ هَذَا ؟، قَالُوا: ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَصِحُّ، وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ، وَاشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کھجور کو کھجور کے عوض کم زیادہ فروخت کرنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ردی کھجوریں ملتی تھیں تو ہم دو صاع دے کر ایک صاع (اچھی کھجوریں) خرید لیتے تھے، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : کھجور کے دو صاع ایک صاع کے بدلے، گیہوں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے اور دو درہم ایک درہم کے بدلے نہ لیے جائیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٢٠ (٢٠٨٠) ، صحیح مسلم/البیوع ٣٩ (المساقاة ١٨) (١٥٩٥) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٨ (٢٢٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٢٢) ، مسند احمد (٣/٤٨، ٤٩، ٥٠، ٥١، ٥٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4555
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمًا بِدِرْهَمَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کھجور کو کھجور کے عوض کم زیادہ فروخت کرنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ دو صاع ردی کھجوروں کے بدلے ایک صاع (عمدہ قسم کی کھجوریں) لیتے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک صاع کھجور کے بدلے دو صاع کھجور، ایک صاع گیہوں کے بدلے دو صاع گی ہوں، اور ایک درہم کے بدلے دو درہم لینا جائز نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4556
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ تَمْرَ الْجَمْعِ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کھجور کو کھجور کے عوض کم زیادہ فروخت کرنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ بلال (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس برنی نامی کھجور لائے، تو آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ وہ بولے : یہ میں نے ایک صاع دو صاع دے کر خریدی ہیں۔ آپ نے فرمایا : افسوس ! یہ تو عین سود ہے، اس کے نزدیک مت جانا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوکالة ١١ (٢٣١٢) ، صحیح مسلم/المساقاة ٨ (البیوع ٣٩) (١٥٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٤٦) ، مسند احمد (٣/٦٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4557
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْغَافِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: أَتَى بِلَالٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟، قَالَ: اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوِّهْ، عَيْنُ الرِّبَا لَا تَقْرَبْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کھجور کو کھجور کے عوض کم زیادہ فروخت کرنا
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سونا، چاندی کے بدلے سود ہے، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو، کھجور کھجور کے بدلے سود ہے، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو، گی ہوں گیہوں کے بدلے سود ہے، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو، جو جو کے بدلے سود ہے، سوائے اس کے کہ نقدا نقد ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٥٤ (٢١٣٤) ، ٧٤ (٢١٧٠) ، ٧٦ (٢١٧٤) ، صحیح مسلم/البیوع ٣٧ (المساقاة ١٥) (١٥٨٦) ، سنن ابی داود/البیوع ١٢ (٣٣٤٨) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٤ (١٢٤٣) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٠ (٢٢٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٣٠) ، موطا امام مالک/البیوع ١٧ (٣٨) ، مسند احمد (١/٢٤، ٣٥، ٤٥) ، سنن الدارمی/البیوع ٤١ (٢٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے لیکن ابوسعید (رض) کی جو صحیحین میں وارد حدیث میں دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں تفاضل (کمی بیشی) اور نسیئہ (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو جائز اور صحیح ہے اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہوجائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4558
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کھجور کو کھجور کے عوض فروخت کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کھجور کے بدلے کھجور، گیہوں کے بدلے گی ہوں، جَو کے بدلے جَو اور نمک کے بدلے نمک میں خریدو فروخت نقدا نقد ہے، جس نے زیادہ دیا، یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا، سوائے اس کے کہ جنس بدل جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٥ (البیوع ٣٦) (١٥٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٢١) ، مسند احمد (٢/٢٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سود صرف انہی چار چیزوں میں کمی زیادتی میں نہیں ہے، بلکہ اگلی حدیث میں دو اور چیزوں کا تذکرہ ہے، نیز صرف انہی چھ کی بیع میں تفاضل سود نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی ہر چیز میں موجود ہے سوائے ان چیزوں کے جن کو شریعت نے مستثنیٰ کردیا ہے جیسے : جانور، پس ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ بیچ سکتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4559
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: التَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ، أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گیہوں کے عوض گیہوں فروخت کرنا
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عتیک کہتے ہیں کہ ایک دن عبادہ بن صامت اور معاویہ (رض) اکٹھا ہوئے، عبادہ (رض) نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جَو کو جَو کے بدلے اور کھجور کو کھجور کے بدلے (ان میں سے ایک نے کہا : نمک کو نمک کے بدلے، دوسرے نے یہ نہیں کہا) بیچنے سے منع کیا، مگر برابر برابر اور نقدا نقد، اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی کے بدلے، چاندی سونے کے بدلے، گیہوں جو کے بدلے، جَو گیہوں کے بدلے نقداً نقد بیچیں جیسے بھی ہم چاہیں ١ ؎ ان (دونوں تابعی راویوں) میں سے ایک نے یہ بھی کہا : جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٨ (٢٢٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٥١١٣) ، مسند احمد (٥/٣٢٠) ، انظرأیضا حدیث رقم : ٤٥٦٥، ٤٥٦٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کمی زیادتی کے ساتھ بیچ سکتے ہیں جب جنس مختلف ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4560
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ، قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَمُعَاوِيَةَ، حَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ، وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ، وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا، قَالَ أَحَدُهُمَا: فَمَنْ زَادَ، أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گیہوں کے عوض گیہوں فروخت کرنا
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید (ابن عتیک) (ان کو ابن ہرمز بھی کہا جاتا ہے) بیان کرتے ہیں کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ (رض) ایک جگہ اکٹھا ہوئے، عبادہ (رض) نے لوگوں سے حدیث بیان کی کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، گیہوں گی ہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے (ان دونوں راویوں میں سے ایک نے کہا :) نمک نمک کے بدلے، (دوسرے نے یہ نہیں کہا) بیچنے سے منع کیا مگر برابر برابر، نقدا نقد (ان میں سے ایک نے کہا :) جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا، اس نے سود لیا، (اسے دوسرے (راوی) نے نہیں کہا) اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی کے بدلے، چاندی سونے کے بدلے، گیہوں جَو کے بدلے اور جَو گیہوں کے بدلے بیچیں، نقدا نقد جس طرح چاہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4561
أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَقَدْ كَانَ يُدْعَى ابْنَ هُرْمُزَ، قَالَ: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَهُمْ عُبَادَةُ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ، وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ قَالَ أَحَدُهُمَا: مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى، وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو کے عوض جو فروخت کرنا
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ (رض) ایک جگہ اکٹھا ہوئے تو عبادہ (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے، جَو جَو کے بدلے اور کھجور کھجور کے بدلے بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر (ان دونوں راویوں میں سے کسی ایک نے کہا :) اور نمک نمک کے بدلے، (یہ دوسرے نے نہیں کہا اور پھر ان میں سے ایک نے کہا :) جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود کا کام کیا، (یہ دوسرے نے نہیں کہا) اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونا چاندی سے، چاندی سونے سے، گیہوں جَو سے اور جَو گیہوں سے نقدا نقد بیچیں، جس طرح چاہیں (یعنی کم و زیادتی) ۔ جب یہ حدیث معاویہ (رض) کو پہنچی تو انہوں نے کھڑے ہو کر کہا : کیا بات ہے آخر لوگ رسول اللہ ﷺ سے ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جو ہم نے نہیں سنیں حالانکہ ہم بھی آپ کی صحبت میں رہے، یہ بات عبادہ بن صامت (رض) کو پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور دوبارہ حدیث بیان کی اور بولے : ہم تو اسے ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے گرچہ معاویہ (رض) کو یہ ناپسند ہو۔ قتادہ نے اس حدیث کو اس کے برعکس مسلم بن یسار سے، انہوں نے ابوالاشعث سے انہوں نے عبادہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٦٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4562
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيمُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ عُبَادَةُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ، قَالَ أَحَدُهُمَا: وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، وَلَمْ يَقُلِ الْآخَرُ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، قَالَ أَحَدُهُمَا: مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى، وَلَمْ يَقُلِ الْآخَرُ وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ، وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا، فَبَلَغَ هَذَا الْحَدِيثُ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَحِبْنَاهُ وَلَمْ نَسْمَعْهُ مِنْهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَقَامَ فَأَعَادَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمَ مُعَاوِيَةُ. خَالَفَهُ قَتَادَةُ رَوَاهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو کے عوض جو فروخت کرنا
عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے (وہ بدری صحابی ہیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی کہ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے) کہ وہ خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا : لوگو ! تم نے خریدو فروخت سے متعلق بعض ایسی چیزیں ایجاد کرلی ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہیں ؟ سنو ! سونا سونے کے بدلے، برابر برابر وزن کا ہو، ڈلا ہو یا سکہ، چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر وزن ڈالا ہو یا سکہ، اور کوئی حرج نہیں (یعنی) چاندی کو سونے سے نقدا نقد بیچنے میں جب کہ چاندی زیادہ ہو، البتہ اس میں نسیئہ (ادھار) درست نہیں، سنو ! گیہوں گیہوں کے بدلے، اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر ہو، البتہ جَو گیہوں کے بدلے نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں جب جَو زیادہ ہو لیکن نسیئہ (ادھار) درست نہیں، سنو ! کھجور کھجور کے بدلے برابر برابر ہو یہاں تک کہ انہوں نے ذکر کیا کہ نمک (نمک کے بدلے) برابر برابر ہو، جس نے زیادہ دیا، یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود لیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٥ (البیوع ٣٦) (١٥٨٧) ، سنن ابی داود/البیوع ١٢ (٣٣٤٩) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٣ (١٢٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٨٩) ، مسند احمد (٥/٣١٤، ٣٢٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4563
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا وَكَانَ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لَا يَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، أَنَّعُبَادَةَ قَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ بُيُوعًا لَا أَدْرِي مَا هِيَ أَلَا إِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَإِنَّ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْفِضَّةِ بِالذَّهَبِ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا، وَلَا تَصْلُحُ النَّسِيئَةُ أَلَا إِنَّ الْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ مُدْيًا بِمُدْيٍ، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْحِنْطَةِ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا، وَلَا يَصْلُحُ نَسِيئَةً أَلَا وَإِنَّ التَّمْرَ بِالتَّمْرِ مُدْيًا بِمُدْيٍ، حَتَّى ذَكَرَ الْمِلْحَ مُدًّا بِمُدٍّ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو کے عوض جو فروخت کرنا
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے، ڈلا ہو یا سکہ، برابر برابر ہو، چاندی چاندی کے بدلے ڈالا ہو یا سکہ، برابر برابر ہو، نمک نمک کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر اور یکساں ہو، لہٰذا جو زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود لیا ۔ یہ الفاظ محمد بن المثنیٰ کے ہیں، ابراہیم بن یعقوب نے جَو جَو کے بدلے کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظرما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4564
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ يَعْقُوبَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو کے عوض جو فروخت کرنا
سلیمان بن علی سے روایت ہے کہ بازار میں ان کے پاس سے ابوالمتوکل کا گزر ہوا، تو کچھ لوگ ان کے پاس گئے، ان لوگوں میں میں بھی تھا، ہم نے کہا : ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ سے بیع صرف ١ ؎ کے بارے میں پوچھیں، تو انہوں نے کہا : میں نے ابو سعید خدری (رض) کو (کہتے) سنا، (اس پر) ایک شخص نے ان سے کہا : آپ کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ابوسعید (رض) کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : میرے اور آپ ﷺ کے درمیان ان (ابوسعید رضی اللہ عنہ) کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا : سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گیہوں گیہوں کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے برابر برابر ہو، اب جو اس میں زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود کا کام کیا، اور سود لینے اور دینے والے (جرم میں) دونوں برابر ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٥ (البیوع ٣٦) (١٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٥٥) ، مسند احمد (٣/٤٩، ٦٦، ٩٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سونا چاندی کو سونا چاندی کے بدلے نقدا بیچنا بیع صرف ہے، اور اسی کو بیع اثمان بھی کہتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4565
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ مَرَّ بِهِمْ فِي السُّوقِ، فَقَامَ إِلَيْهِ قَوْمٌ أَنَا مِنْهُمْ، قَالَ: قُلْنَا أَتَيْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنِ الصَّرْفِ ؟، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ؟، قَالَ: لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُهُ، قَالَ: فَإِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَوْ قَالَ: وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، فَمَنْ زَادَ عَلَى ذَلِكَ، أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى، وَالْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جو کے عوض جو فروخت کرنا
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : سونا ایک پلڑا دوسرے پلڑے کے برابر ہو ، تو معاویہ (رض) نے کہا : یہ بات تو میرے سمجھ میں نہیں آتی، تو عبادہ (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے پروا نہیں اگر میں اس سر زمین میں نہ رہوں جہاں معاویہ (رض) رہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٠٨٤) ، مسند احمد (٥/٣١٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4566
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: قَالَ إِسْمَاعِيل: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ. ح وَأَنْبَأَنَايَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الذَّهَبُ الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ يَعْقُوبُ: الْكِفَّةُ بِالْكِفَّةِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنَّ هَذَا لَا يَقُولُ شَيْئًا، قَالَ عُبَادَةُ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَكُونَ بِأَرْضٍ يَكُونُ بِهَا مُعَاوِيَةُ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اشرفی کو اشرفی کے عوض فروخت کرنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم ہو تو ان دونوں میں کمی زیادتی نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٥ (البیوع ٣٦) (١٥٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٨٤) ، موطا امام مالک/البیوع ١٦ (٢٩) ، مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٨٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4567
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ درہم درہم کے عوض فروخت کرنا
عمر (رض) کہتے ہیں کہ دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم کی بیع میں کمی زیادتی جائز نہیں، یہ ہم سے نبی اکرم ﷺ کا عہد ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٣٩٨) (صحیح) (مجاہد کا عمر رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی آپ نے اس کا ہمیں حکم دیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4568
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرُ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا، هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا.
তাহকীক: