কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৭ টি
হাদীস নং: ৪৫৩৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں پر آفت آنا اور اس کی تلافی
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آفتوں کا نقصان دلوایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٣ (البیوع ٢٤) (١٥٥٤) ، سنن ابی داود/البیوع ٢٤ (٣٣٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٧٠) ، مسند احمد (٣/٣٠٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4529
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْأَعْرَجُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْجَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ الْجَوَائِحَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں پر آفت آنا اور اس کی تلافی
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آگئی، چناچہ اس پر بہت سارا قرض ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے خیرات دو ، تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہوجاتی تو آپ نے (اس کے قرض خواہوں سے) کہا : جو پا گئے ہو وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٤ (البیوع ٢٥) (١٥٥٦) ، سنن ابی داود/البیوع ٦٠ (٣٤٦٩) ، سنن الترمذی/الزکاة ٢٤ (٦٥٥) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٥ (٢٣٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٧٠) ، مسند احمد (٣/٥٦، ٥٨) ، ویأتي عند المؤلف في باب ٩٥ برقم : ٤٦٨٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے۔ اس واقعہ میں پھلوں پر آفت آنے کا معاملہ پھلوں کے پک جانے کے بعد بیچنے پر ہوا تھا، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بیچنے والے سے بھرپائی کرانے کے بجائے عام لوگوں سے خیرات دینے کی اپیل کی، اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرض خواہ بقیہ قرض سے ہاتھ دھو لیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حاکم موجودہ مال کو قرض خواہوں کے درمیان بقدر حصہ تقسیم کر دے پھر بھی اس شخص کے ذمہ قرض خواہوں کا قرض باقی رہ جائے تو ایسی صورت میں قرض خواہ اسے تنگ کرنے، قید کرنے اور قرض کی ادائیگی پر مزید اصرار کرنے کے بجائے اسے مال کی فراہمی تک مہلت دے۔ حدیث کا مفہوم یہی ہے اور قرآن کی اس آیت وإن کان ذوعسر ۃ فنظر ۃ إلی میسر ۃ کے مطابق بھی ہے کیونکہ کسی کے مفلس (دیوالیہ) ہوجانے سے قرض خواہوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے، رہی اس حدیث کی یہ بات کہ اس کے علاوہ اب تم کو کچھ نہیں ملے گا تو یہ اس آدمی کے ساتھ خاص ہوسکتا ہے، کیونکہ اصولی بات وہی ہے جو اوپر گزری۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4530
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چند سال کے پھل فروخت کرنا
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کئی سال تک کے لیے پھل بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم /البیوع ١٦ (١٥٣٦) ، سنن ابی داود/البیوع ٢٤ (٣٣٧٤) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٣ (٢٢١٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٦٩) ، مسند احمد (٣/٣٠٩) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٤٦٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگلے سالوں میں پھل آئیں گے یا نہیں، اور پھل نہ آنے کی صورت میں خریدار کا گھاٹا ہی گھاٹا ہے اس طرح کی بیع کو بیع غرر یعنی دھوکے کی بیع کہا جاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4531
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيكٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: عَتِيكٌ بِالْكَافِ وَالصَّوَابُ عَتِيقٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ درخت کے پھلوں کو خشک پھلوں کے بدلہ فروخت کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے درخت کے پھل (کھجور) توڑے ہوئے پھلوں (کھجور) سے بیچنے سے منع فرمایا۔ عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : مجھ سے زید بن ثابت (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایا میں اجازت عطا فرمائی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٢٤، وحدیث زید بن ثابت وقد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع ٧٥ (٢١٧٣) ، ٨٢ (٢١٨٤، ٢١٨٨) ، ٨٤ (٢١٩٢) ، المساقاة ١٧ (٢٣٨٠) ، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٣٩) ، سنن الترمذی/البیوع ٦٣ (١٣٠٠، ١٣٠٢) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٥ (٢٢٦٨، ٢٢٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٢٣، موطا امام مالک/البیوع ٩ (١٤) ، مسند احمد (٢/٥، ٨، ٥/١٨٢، ١٨٦، ١٨٨، ١٩٠) ، سنن الدارمی/البیوع ٢٤ (٢٦٠٠) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٥٤٠، ٤٥٤٢- ٤٥٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عرایا : عریا کی شکل یہ ہوتی تھی کہ باغ کا مالک کسی غریب و مسکین کو درختوں کے درمیان سے کوئی درخت صدقہ کردیتا تھا، تو ایسے میں اگر مسکین اور اس کے بال بچوں کے باغ میں باربار آنے جانے سے مالک کو تکلیف ہوتی ہو تو اس کو یہ اجازت دی گئی کہ اس درخت پر لگے پھل (تر کھجور) کے بدلے توڑی ہوئی کھجور کا اندازہ لگا کر دیدے، یہ ضرورت کے تحت خاص اجازت ہے۔ عام حالات میں اس طرح کی بیع جائز نہیں۔ قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4532
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ وقَالَ ابْنُ عُمَرَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ درخت کے پھلوں کو خشک پھلوں کے بدلہ فروخت کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت میں موجود پھل کو متعین توڑے ہوئے پھلوں سے بیچنا اس طور پر کہ زیادہ ہوا تو بھی میرا (یعنی کا) اور کم ہوا تو بھی میرے ذمہ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٧٥ (٢١٧٢) ، صحیح مسلم/البیوع ١٤(١٥٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٢٢) ، مسند احمد (٢/٥، ٦٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4533
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى، إِنْ زَادَ لِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تازہ انگور خشک انگور کے عوض فروخت کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، مزانبہ درخت پر لگے کھجور کو توڑے ہوئے کھجور سے ناپ کر بیچنا، اور بیل پر لگے تازہ انگور کو توڑے ہوئے انگور (کشمش) سے ناپ کر بیچنا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٧٥ (٢١٧١) ، ٨٢ (٢١٨٥) ، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٦٠) ، موطا امام مالک/البیوع ١٣(٢٣) ، مسند احمد (٢/٧، ٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4534
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تازہ انگور خشک انگور کے عوض فروخت کرنے سے متعلق
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع محاقلہ اور مزانبہ سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٢١(صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4535
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تازہ انگور خشک انگور کے عوض فروخت کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے زید بن ثابت (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایا میں اجازت دی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٣٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4536
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تازہ انگور خشک انگور کے عوض فروخت کرنے سے متعلق
زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایا میں خشک کھجور کو تر کھجور سے بیچنے کی اجازت دی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٢٠ (٣٣٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٠٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4537
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عرایا میں اندازہ کر کے خشک کھجور دینا
زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عاریت والی بیع میں اجازت دی کہ (اس کی تازہ کھجوروں کو) اندازہ کر کے (توڑی ہوئی) کھجوروں کے بدلے بیچی (جا سکتی) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٣٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4538
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا تُبَاعُ بِخِرْصِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عرایا میں اندازہ کر کے خشک کھجور دینا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے زید بن ثابت (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عریہ کی اجازت دی کہ اس (کی تازہ کھجوروں کو) اندازہ لگا کر کے خشک کھجوروں کے بدلے بیچی (جا سکتی) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٣٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4539
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخِرْصِهَا تَمْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عرایا میں تر کھجور دینا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ان سے زید بن ثابت (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عاریت والی بیع میں اجازت دی کہ وہ توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور سے بیچی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز میں رخصت نہیں دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٣٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4540
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالرُّطَبِ وَبِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عرایا میں تر کھجور دینا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عاریت والی بیع میں (یہ) اجازت دی کہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کھجور اندازہ لگا کر کے بیچی جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٨٣ (٢١٩٠) ، المساقاة ١٧ (٢٣٨٢) ، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤١) ، سنن ابی داود/البیوع ٢١ (٣٣٦٤) ، سنن الترمذی/البیوع ٦٣ (١٣٠١) ، موطا امام مالک/البیوع ٩ (١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٤٣) ، مسند احمد (٢/٢٣٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اوپر جو عاریت والی بیع میں یہ اجازت موجود ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو توڑی ہوئی تازہ اور سوکھی کھجور کے بدلے بیچ سکتے ہیں، یہ ایک ضرورت کے تحت اجازت ہے، اور بات ضرورت کی ہے تو پانچ وسق سے یہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے، اس لیے صرف پانچ وسق تک کی اجازت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4541
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عرایا میں تر کھجور دینا
سہیل بن ابی حثمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پھل بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ پک نہ جائیں اور بیع عرایا میں اجازت دی کہ اندازہ لگا کر کے بیچا جائے، تاکہ کچی کھجور والے تازہ کھجور کھا سکیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٨٣ (٢١٩١) ، المساقاة ١٧ (٢٣٨٤) ، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤٠) ، سنن ابی داود/البیوع ٢٠ (٣٣٦٣) ، سنن الترمذی/البیوع ٦٤ (١٣٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٤٦) ، مسند احمد (٤/٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح ق دون قوله حتى يبدو صلاحه صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4542
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عرایا میں تر کھجور دینا
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، یعنی : درخت کے پھل کو توڑے ہوئے پھل سے بیچنا، سوائے اصحاب عرایا کے، آپ نے انہیں اس کی اجازت دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظرما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4543
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّرَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلَّا لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ عرایا میں تر کھجور دینا
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تخمینہ (اندازہ) لگا کر کے عاریت والی بیع کی اجازت دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٤٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4544
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ، قَالُوا: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تر کھجور کے عوض خشک کھجور
سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجور بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے اپنے اردگرد موجود لوگوں سے سوال کیا : جب تازہ کھجور سوکھ جاتی ہے تو کیا کم ہوجاتی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، تو آپ نے اس سے منع فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ١٨ (٣٣٦٠) ، سنن الترمذی/البیوع ١٤ (١٢٢٥) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٥ (٢٤٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٥٤) ، موطا امام مالک/البیوع ١٢ (٢٢) ، مسند احمد ١/١٧٥، ١٧٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اگر کسی کے پاس خشک کھجوریں ہوں اور وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتا ہے تو ایک دوسرے کے بدلے برابر یا کم و بیش کے حساب سے خریدو فروخت کرنے کی بجائے خشک کھجوروں کو پیسوں سے فروخت کر دے، پھر ان پیسوں سے تازہ کھجوریں خرید لے، ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے (دیکھئیے نمبر ٤٥٥٧ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4545
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ ؟، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ: أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ ؟، قَالُوا: نَعَمْ،فَنَهَى عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ تر کھجور کے عوض خشک کھجور
سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوکھی کھجور کے بدلے تازہ کھجور بیچنے کے متعلق سوال کیا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : کیا تازہ کھجور سوکھنے پر کم ہوجائے گی ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4546
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ: أَيَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ ؟، قَالُوا: نَعَمْ،فَنَهَى عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کھجور کا ڈھیر جس کی پیمائش کا علم نہ ہو کھجور کے عوض فروخت کرنا
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بےناپی کھجور کے ڈھیر کو ناپی ہوئی کھجور سے بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ٩ (١٥٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٢٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : دونوں کھجوریں خشک ہوں جن کو برابر برابر کے حساب سے بیچ سکتے ہیں، مگر دونوں کی ناپ معلوم ہونی چاہیئے، کیونکہ ایسی چیزوں کی خریدو فروخت میں کم و بیش ہونا جائز نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4547
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اناج کا ایک انبار اناج کے انبار کے عوض فروخت کرنا
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اناج کا ڈھیر اناج کے ڈھیر سے نہیں بیچا جائے گا ١ ؎، اور نہ ہی اناج کا ڈھیر ناپے اناج سے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ دونوں کی مقدار معلوم نہیں، تو ہوسکتا ہے کہ ایک زیادہ ہو اور ایک کم، جب کہ تفاضل (کمی زیادتی) جائز نہیں۔ ٢ ؎: کیونکہ گرچہ ایک ڈھیر کی مقدار معلوم ہے مگر دوسرے کی معلوم نہیں، تو ہوسکتا ہے کہ کمی زیادتی ہوجائے، جو جائز نہیں، یہ اس صورت میں ہے جب دونوں ڈھیروں کی جنس ایک ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4548
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبَاعُ الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالصُّبْرَةِ مِنَ الطَّعَامِ، وَلَا الصُّبْرَةُ مِنَ الطَّعَامِ بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ الطَّعَامِ.
তাহকীক: