কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৭ টি
হাদীস নং: ৪৫১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع ملامسہ سے متعلق احادیث
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٦٣ (٢١٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٢٧) ، موطا امام مالک/البیوع ٣٥ (٧٦) ، مسند احمد (٢/٢٧٩، ٣١٩، ٤١٩، ٤٦٤، ٤٧٦، ٤٨٠، ٤٩١، ٤٩٦، ٥٢١، ٥٢٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: زمانہ جاہلیت میں منابذہ، ملامسہ، یا کنکری پھینک کر خریدو فروخت کا عام رواج تھا، ان سارے معاملات میں دھوکا، اور مال و قیمت کی تحدید و تعیین نہیں ہوتی تھی، اس لیے یہ معاملات جھگڑے کا سبب ہوتے ہیں یا کسی فریق کے سخت گھاٹے میں پڑجانے سے اسے سخت تکلیف ہوتی ہے، اس لیے ان سے شریعت اسلامیہ نے منع کردیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4509
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، وَأَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع ملامسہ کے متلق احادیث
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا، اور وہ یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو چھو لے اسے اندر سے دیکھے بغیر (اور بیع ہوجائے) اور منابذہ سے منع فرمایا، اور منابذہ یہ ہے کہ آدمی اپنا کپڑا دوسرے کی طرف بیع کے ساتھ پھینکے اس سے پہلے کہ وہ اسے الٹ پلٹ کر دیکھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٦٣ (٢١٤٤) ، اللباس ٢٠ (٥٨٢٠) ، ٢١(٥٨٢٢) ، صحیح مسلم/البیوع ١ (١٥١٢) ، سنن ابی داود/البیوع ٢٥ (٣٣٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٠٨٧) ، مسند احمد (٣/٦، ٥٩، ٦٦، ٦٨، ٧١، ٩٥) ، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ٤٥١٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دور جاہلیت میں اس طرح کپڑا چھو کر یا پھینک کر بغیر دیکھے بیع کرلیتے اور ایجاب و قبول نہ ہوتا، اس سے منع کیا گیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4510
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ لَمْسِ الثَّوْبِ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَهِيَ طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ أَوْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع منابذہ سے متعلق حدیث
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4511
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع منابذہ سے متعلق حدیث
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کی بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٦٣ (٢١٤٧) ، الإستئذان ٤٢ (٦٢٨٤) ، سنن ابی داود/البیوع ٢٥ (٣٣٧٧، ٣٣٧٨) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٢ (٢١٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٤١٥٤) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٥١٩، ٥٣٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4512
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع منابذہ کی تفسیر
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا، ملامسہ یہ ہے کہ دو آدمی رات کو دو کپڑوں کی بیع کریں، ہر ایک دوسرے کا کپڑا چھو لے۔ منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی طرف کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف کپڑا پھینکے اور اسی بنیاد پر بیع کرلیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٣٢٦١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4513
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى بْنِ بَهْلُولٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَتَبَايَعَ الرَّجُلَانِ بِالثَّوْبَيْنِ تَحْتَ اللَّيْلِ يَلْمِسُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِيَدِهِ، وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ الثَّوْبَ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ إِلَيْهِ الثَّوْبَ فَيَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع منابذہ کی تفسیر
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ملامسہ سے منع فرمایا۔ اور ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو چھولے اس کی طرف دیکھے نہیں، اور منابذہ سے منع فرمایا، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کپڑا دوسرے آدمی کی طرف پھینکے اور وہ اسے الٹ کر نہ دیکھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4514
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍأَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الثَّوْبِ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ، وَالْمُنَابَذَةُ: طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع منابذہ کی تفسیر
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے، رہی دو قسم کی بیع تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں۔ منابذہ یہ ہے کہ وہ کہے : جب میں اس کپڑے کو پھینکوں تو بیع واجب ہوگئی، اور ملامسہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے چھولے اور جب چھولے تو اسے پھیلائے نہیں اور نہ اسے الٹ پلٹ کرے تو بیع واجب ہوگئی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥١٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4515
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ، أَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ، وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ يَعْنِي الْبَيْعَ، وَالْمُلَامَسَةُ: أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَنْشُرَهُ وَلَا يُقَلِّبَهُ إِذَا مَسَّهُ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع منابذہ کی تفسیر
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا، اور ہمیں دو قسم کی بیع منابذہ اور ملامسہ سے روکا، اور یہ دونوں ایسی بیع ہیں جنہیں زمانہ جاہلیت میں لوگ کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٨٠٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأطعمة ١٩ (٣٧٧٤) (صحیح) (سند میں جعفر اور زہری کے درمیان انقطاع ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4516
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْسَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ، وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ، عَنِ الْمُنَابَذَةِ، وَالْمُلَامَسَةِ، وَهِيَ بُيُوعٌ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع منابذہ کی تفسیر
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دو طرح کی بیع سے منع فرمایا، رہی دونوں بیع تو وہ منابذہ اور ملامسہ ہیں اور ملامسہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے : میں تمہارے کپڑے سے اپنا کپڑا بیچ رہا ہوں اور ان میں کوئی دوسرے کے کپڑے کو نہ دیکھے بلکہ صرف اسے چھولے، رہی منابذہ تو وہ یہ ہے کہ وہ کہے : جو میرے پاس ہے میں اسے پھینک رہا ہوں اور جو تمہارے پاس ہے اسے تم پھینکو تاکہ ان میں سے ایک دوسرے کی چیز خرید لے حالانکہ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ دوسرے کے پاس کتنا اور کس قسم کا کپڑا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٣٠ (٥٨٤) ، اللباس ٢٠ (٥٨١٩، ٥٨٢٠) ، صحیح مسلم/البیوع ١ (١٥١١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٧ (١٢٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٦٥) ، مسند احمد (٢/٤٧٧، ٤٩٦، ٥١٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4517
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ، أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُلَامَسَةُ، وَزَعَمَ أَنَّ الْمُلَامَسَةَ: أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أَبِيعُكَ ثَوْبِي بِثَوْبِكَ وَلَا يَنْظُرُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ الْآخَرِ وَلَكِنْ يَلْمِسُهُ لَمْسًا، وَأَمَّا الْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَقُولُ: أَنْبِذُ مَا مَعِي وَتَنْبِذُ مَا مَعَكَ لِيَشْتَرِيَ أَحَدُهُمَا مِنِ الْآخَرِ، وَلَا يَدْرِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا كَمْ مَعَ الْآخَرِ وَنَحْوًا مِنْ هَذَا الْوَصْفِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کنکری کی بیع سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کنکری کی بیع اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ٢ (١٥١٣) ، سنن ابی داود/البیوع ٢٥ (٣٣٧٦) ، سنن الترمذی/البیوع ١٧ (١٢٣٠) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٣ (٢١٩٤) ، مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦، ٣٧٦، ٤٣٩، ٤٩٦، سنن الدارمی/البیوع ٢٠ (٢٥٩٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کنکری کی بیع کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کہے : میں تمہاری طرف جب کنکری پھینک دوں تو بیع ہوگئی، یہ ممنوع اس لیے ہے کہ کنکری پھینکنے تک کی جو مدت بیع کے اثبات کے لیے رکھی گئی ہے وہ مجہول ہے، یا پھر یوں کہے کہ میں کنکری پھینکتا ہوں جس مال پر کنکری گرے وہی بیچنا ہے تو یہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ اس صورت میں بھی مال مجہول ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4518
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں کا بیچنا ان کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے۔
عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تک پختگی ظاہر نہ ہوجائے پھلوں کی بیع نہ کرو ، آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو (اس سے) منع فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٢ (٢٢١٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٠٢) ، مسند احمد (٢/ ١٢٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: پھلوں کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اگر ان کو درخت پر بیچ دیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ پختگی ظاہر ہونے سے پہلے آندھی طوفان آئے اور سارے یا اکثر پھل برباد ہوجائیں اور خریدار کا نقصان ہوجائے، اور پختگی ظاہر ہونے کے بعد اگر آندھی طوفان آئے بھی تو کم پھل برباد ہوں گے، نیز پختہ پھل اگر گر بھی گئے تو خریدار کی قیمت بھر پیسہ نکل آئے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4519
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں کا بیچنا ان کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ١٣ (١٥٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٣٢) ، مسند احمد (٢/٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4520
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں کا بیچنا ان کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھل نہ بیچو جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہوجائے، اور نہ (کھجور کے) درخت کے پھل کا اندازہ کر کے (درخت سے توڑی ہوئی) کھجوروں کو بیچو ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : مجھ سے سالم بن عبداللہ نے اپنے والد عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس جیسی صورت سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ١٣ (١٥٣٨) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٢ (٢٢١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٢٨) ، وحدیث ابن شہاب قد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع ٨٧ (٢١٩٩ تعلیقًا) ، صحیح مسلم/البیوع ١٣ (١٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٨٤) ، مسند احمد (٣/٢٦٢، ٣٦٣، وانظر حدیث رقم : ٤٥٢٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4521
أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، وَأَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مِثْلِهِ سَوَاءً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں کا بیچنا ان کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے۔
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو کہتے ہوئے سنا : ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا : پھل مت بیچو یہاں تک کہ اس کی پختگی ظاہر ہوجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧١٠٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4522
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں کا بیچنا ان کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے۔
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع مخابرہ، مزابنہ، محاقلہ سے، اور پکنے سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا، اور پھلوں کو درہم و دینار کے سوا کسی اور چیز کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، اور بیع عرایا میں رخصت دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩١٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مخابرہ: بیل میں لگی ہوئی انگور کو کشمش (توڑی ہوئی خشک انگور) سے بیچنا، یا کھیت کو اس طرح بٹائی پر دینا کہ پیداوار کٹنے کے وقت کھیت کا مالک یہ کہے کہ فلاں حصے میں جو پیداوار ہے وہ میں لوں گا، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ایک ہی کھیت کے مختلف حصوں میں مختلف انداز سے اچھی یا خراب پیداوار ہوتی ہے، اور کھیت کا مالک اچھی والی پیداوار لینا چاہتا ہے، یہ جھگڑے فساد یا دوسرے فریق کے نقصان کا سبب ہے، اس لیے بٹائی کے اس معاملہ سے روکا گیا، ہاں مطلق پیداوار کے آدھے یا تہائی پر بٹائی کا معاملہ صحیح ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر میں کیا تھا۔ ٢ ؎ مزابنہ: درخت پر لگے ہوئے پھل کو توڑے ہوئے پھل کے معینہ مقدار سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں۔ محاقلہ: کھیت میں لگی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے غلّہ سے بیچنا۔ عرایا: عرایا یہ ہے کہ باغ کا مالک ایک یا دو درخت کے پھل کسی مسکین کو کھانے کے لیے مفت دیدے اور باغ کے اندر اس کے آنے جانے سے تکلیف ہو تو مالک اس درخت کے پھلوں کا اندازہ کر کے مسکین سے خرید لے اور اس کے بدلے تازہ تر یا خشک کھجور اس کے حوالے کر دے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4523
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَأَنْ يُبَاعَ الثَّمَرُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَأَنْ لَا يُبَاعَ إِلَّا بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں کا بیچنا ان کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے۔
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع مخابرہ، مزابنہ، محاقلہ اور کھانے کے لائق ہونے سے پہلے درخت پر لگے پھلوں کو بیچنے سے منع فرما، یا سوائے بیع عرایا کے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩١٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بیع عرایا کا استثناء بیع مزابنہ سے ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4524
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَبَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يُطْعَمَ، إِلَّا الْعَرَايَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں کا بیچنا ان کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ کھانے کے لائق نہ ہوجائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٩٨٥) ، مسند احمد (٣/٣٥٧، ٣٧٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4525
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں کے پختہ ہونے سے قبل ان کا اس شرط پر خریدنا کہ پھل کاٹ لئے جائیں گے
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہوجائیں، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ خوش رنگ ہونا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہاں تک کہ لال ہوجائیں اور فرمایا : دیکھو ! اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے (پکنے سے پہلے گرجائیں) تو تم میں کوئی اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے لے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٥٨ (١٤٨٨) ، البیوع ٨٧، ٣١٩٨، ٢٢٠٨) ، صحیح مسلم/البیوع ٢٤ (المساقاة ٣) (١٥٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٣) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٢ (٢٢١٧) ، موطا امام مالک/البیوع ٨ (١١) ، مسند احمد (٣/١١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب خریدار سے توڑنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو، اگر فوری طور پر توڑ لینے کی شرط لگائی ہو تو اب یہ خریدار کی وجہ سے ہے کہ وہی اپنی قیمت کے بدلے اسی سودے پر راضی ہوگیا۔ اب بیچنے والے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے، اور نہ ہی پھلوں کے کسی آفت کے شکار ہونے کا خطرہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4526
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِم، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا تُزْهِيَ ؟، قَالَ: حَتَّى تَحْمَرَّ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں پر آفت آنا اور اس کی تلافی
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم نے اپنے (مسلمان) بھائی سے پھل بیچے پھر اچانک ان پر کوئی آفت آگئی تو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم اس سے کچھ لو، آخر تم کس چیز کے بدلے میں ناحق اپنے (مسلمان) بھائی کا مال لو گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٣ (البیوع ٢٤) (١٥٥٤) ، سنن ابی داود/البیوع ٦٠ (٣٤٧٠) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٣ (٢٢١٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٩٨) ، سنن الدارمی/البیوع ٢٢ (٢٥٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس طرح کے حادثہ میں بیچنے والے کے اوپر لازم ہے کہ خریدار کا جتنا نقصان (خسارہ) ہوا ہے اتنے کی وہ بھرپائی کر دے ورنہ وہ مسلمان بھائی کا مال کھا لینے کا مرتکب گردانا جائے گا، اور یہ اس صورت میں ہے جب پھل ابھی پکے نہ ہوئے ہوں، یا بیچنے والے نے ابھی خریدار کو مکمل قبضہ نہ دیا ہو، ورنہ پھل کے پک جانے اور قبضہ دے دینے کے بعد بیچنے والے کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے، اس طرح کا معاملہ ایک آدمی کے ساتھ پیش آیا تو آپ ﷺ نے بیچنے والے سے بھر پائی کرانے کی بجائے عام لوگوں سے خریدار پر صدقہ و خیرات کرنے کی اپیل کی جیسا کہ حدیث نمبر : ٤٥٣٤ میں آ رہا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4527
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں پر آفت آنا اور اس کی تلافی
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے پھل بیچے پھر ان پر کوئی آفت آگئی تو وہ اپنے بھائی سے (کچھ) نہ لے، آخر تم کس چیز کے بدلے میں اپنے مسلمان بھائی کا مال کھاؤ گے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4528
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ بَاعَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ أَخِيهِ، وَذَكَرَ شَيْئًا عَلَى مَا يَأْكُلُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ.
তাহকীক: