কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৭ টি
হাদীস নং: ৪৬৯৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دولت مند شخص قرض دینے میں تاخیر کرے اس سے متعلق
شرید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہوجاتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأقضیة ٢٩ (٣٦٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (الأحکام ٥٨) (٢٤٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٣٨) ، مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس کی برائی کرسکتا ہے اور حاکم اسے سزا دے سکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4689
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دولت مند شخص قرض دینے میں تاخیر کرے اس سے متعلق
شرید (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہوجاتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4690
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونِ ابْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قرضدار کو کسی دوسرے کی طرف محول کرنا جائز ہے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اگر تم میں سے کوئی مالدار آدمی کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرلے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحوالة ١ (٢٢٨٧) ، صحیح مسلم/المساقاة ٧ (١٥٦٤) ، سنن ابی داود/البیوع ١٠ (٣٣٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٠٣) ، موطا امام مالک/البیوع ٤٠ (٨٤) ، مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٦٥) ، سنن الدارمی/البیوع ٤٨ (٢٦٢٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قرض کی ضمانت
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تاکہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں، آپ نے فرمایا : تمہارے اس ساتھی پر قرض ہے ، ابوقتادہ نے کہا : میں اس کی ضمانت لیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : پورا ادا کرو گے ؟ کہا : جی ہاں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٩٦٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4692
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنًا، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: أَنَا أَتَكَفَّلُ بِهِ، قَالَ: بِالْوَفَاءِ، قَالَ: بِالْوَفَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قرض بہتر طریقہ سے ادا کرنے کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں بہتر لوگ وہ ہیں جو قرض اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٦٢٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4693
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خِيَارُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حسن معاملہ اور قرضہ کی وصولی میں نرمی کی فضیلت
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک آدمی نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا لیکن وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا، پھر اپنے قاصد سے کہتا : جو قرض آسانی سے واپس ملے اسے لے لو اور جس میں دشواری پیش آئے، اسے چھوڑ دو اور معاف کر دو ، شاید اللہ تعالیٰ ہماری غلطیوں کو معاف کر دے، جب وہ مرگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا : کیا تم نے کبھی کوئی خیر کا کام کیا ؟ اس نے کہا : نہیں، سوائے اس کے کہ میرے پاس ایک لڑکا تھا، میں لوگوں کو قرض دیتا تھا جب میں اس لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تو اس سے کہتا کہ جو آسانی سے ملے اسے لے لینا اور جس میں دشواری ہو، اسے چھوڑ دینا اور معاف کردینا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تمہیں معاف کردیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢٣٢٦) ، مسند احمد (٢/ ٣٦١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4694
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟، قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ لِيَتَقَاضَى، قُلْتُ لَهُ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حسن معاملہ اور قرضہ کی وصولی میں نرمی کی فضیلت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک شخص لوگوں کو قرض دیتا تھا، جب کسی مفلس (دیوالیہ) کی پریشانی دیکھتا تو اپنے آدمی سے کہتا : اسے معاف کر دو ، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، پھر جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ١٨ (٢٠٨٧) ، الأنبیاء ٥٤ (٣٤٨٠) ، صحیح مسلم/المساقاة ٦ (١٥٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤١٠٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4695
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ وَكَانَ إِذَا رَأَى إِعْسَارَ الْمُعْسِرِ، قَالَ لِفَتَاهُ: تَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حسن معاملہ اور قرضہ کی وصولی میں نرمی کی فضیلت
عثمان بن عفان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کردیا جو خریدتے، بیچتے، (قرض) دیتے اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٨ (٢٢٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٣٠) ، مسند احمد (١/٥٨، ٦٧، ٧٠) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4696
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا، وَبَائِعًا وَقَاضِيًا، وَمُقْتَضِيًا الْجَنَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بغیر مال کے شرکت سے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ عمار، سعد اور میں نے بدر کے دن حصہ داری کی، چناچہ سعد دو قیدی لے کر آئے، ہم اور عمار کچھ بھی نہیں لائے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٦٩ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو عبیدہ “ کا اپنے باپ ” ابن مسعود “ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ” ابواسحاق “ مدلس اور مختلط ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4697
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: اشْتَرَكْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ، وَسَعْدٌ، يَوْمَ بَدْرٍ، فَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ، وَلَمْ أَجِئْ أَنَا، وَعَمَّارٌ بِشَيْءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بغیر مال کے شرکت سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے ایک غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا تو جتنا حصہ باقی ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہوگا بشرطیکہ اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت بھر مال ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠١) ، الأیمان ١٢ (١٥٠١) ، سنن ابی داود/العتق ٦ (٣٩٤٦) ، سنن الترمذی/الأحکام ١٤ (١٣٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٣٥) ، مسند احمد (٢/ ٣٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث کا تعلق اگلے باب سے ہے، کاتبوں کی غلطی سے یہ اس باب میں درج ہوگیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4698
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُتِمَّ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غلام باندی میں شرکت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی (بقیہ) قیمت کے برابر مال ہو تو وہ اس کے مال سے آزاد ہوجائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشرکة ٥ (٢٤٩١) ، العتق ٤ (٢٥٢٢) ، صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠١) ، سنن ابی داود/العتق ٦ (٣٩٤١) ، سنن الترمذی/الأحکام ١٤ (١٣٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٥١١) ، مسند احمد (٢/١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4699
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، وَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَبْدِ فَهُوَ عَتِيقٌ مِنْ مَالِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ درخت میں شرکت سے متعلق
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں اگر کسی کے پاس کوئی زمین یا کھجور کا درخت ہو تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اپنے حصہ دار و شریک سے نہ پوچھ لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الشفعة ١ (٢٤٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٦٥) ، مسند احمد (٢/٣٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے ثابت ہوا کہ درخت یا باغ میں حصہ داری جائز ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4700
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلَا يَبِعْهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زمین میں شرکت سے متعلق
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر مشترک مال جو تقسیم نہ ہوا ہو جیسے زمین یا باغ، میں شفعہ کا حکم دیا، اس کے لیے صحیح نہیں کہ وہ اسے بیچے جب تک کہ حصہ دار سے اجازت نہ لے لے، اگر وہ (شریک) چاہے تو اسے لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، اور اگر اس (شریک) سے اس کی اجازت لیے بغیر بیچ دیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٦٥٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4701
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ وَحَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شفعہ سے متعلق احادیث
ابورافع (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حقدار ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشفعة ٢ (٢٢٥٨) ، الحیل ١٤(٦٩٧٧) ، ١٥(٦٩٧٨) ، سنن ابی داود/البیوع ٧٥ (٣٥١٦) ، سنن ابن ماجہ/الشفعة ٣ (الأحکام ٨٧) (٢٤٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٢٧) ، مسند احمد (٦/١٠، ٣٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کرسکے، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ دونوں کی جائیداد اس طرح مشترک ہو کہ دونوں کے حصے کی تعیین نہ ہو، اور دونوں کا راستہ بھی ایک ہو، دیکھئیے حدیث رقم ٤٧٠٨۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4702
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شفعہ سے متعلق احادیث
شرید (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میری زمین ہے، جس میں کسی کی حصہ داری اور شرکت نہیں اور نہ ہی پڑوس کے سوا کسی کا حصہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الشفعة ٢ (٢٤٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٤٠) ، مسند احمد (٤/٣٨٨، ٣٨٩، ٣٩٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4703
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِكَةٌ، وَلَا قِسْمَةٌ إِلَّا الْجُوَارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شفعہ سے متعلق احادیث
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر وہ مال جو تقسیم نہ ہوا ہو، اس میں شفعہ کا حق ہے۔ لہٰذا جب حد بندی ہوجائے اور راستہ متعین ہوجائے تو اس میں شفعہ کا حق نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٥٨٣) (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، اس لیے کہ ابوسلمہ نے یہاں پر واسطہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الشفعہ (٢٢٥٧) میں ابو سلمہ نے اس حدیث کو جابر (رضی الله عنہ) سے روایت کیا ہے ) وضاحت : ١ ؎: حق شفعہ کے سلسلہ میں مناسب اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حق ایسے دو پڑوسیوں کو حاصل ہوگا جن کے مابین پانی، راستہ وغیرہ مشتر کہوں، دوسری صورت میں یہ حق حاصل نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4704
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَعُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭০৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شفعہ سے متعلق احادیث
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شفعہ اور پڑوس کے حق کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٦٨٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4705
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ وَالْجِوَارِ.
তাহকীক: