কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৭ টি
হাদীস নং: ৪৬৫৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ فروخت کرنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت میں اختلاف سے متعلق
عبدالملک بن عبید کہتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس حاضر ہوئے، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے ایک سامان کی خریدو فروخت کر رکھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا : میں نے اسے اتنے اور اتنے میں لیا ہے، دوسرے نے کہا : میں نے اسے اتنے اور اتنے میں بیچا ہے تو ابوعبیدہ نے کہا : ابن مسعود (رض) کے پاس بھی ایسا ہی مقدمہ آیا تو انہوں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس ایسا ہی مقدمہ آیا۔ تو آپ ﷺ نے بائع کو قسم کھانے کا حکم دیا پھر (فرمایا : خریدار) کو اختیار ہے، چاہے تو اسے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٦١١) (صحیح) (پچھلی روایت نیز دیگر متابعات و شواہد کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ” عبدالملک بن عبید “ مجہول ہیں، اور ” ابو عبیدہ “ کا اپنے باپ ” ابن مسعود رضی الله عنہ “ سے سماع نہیں ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4649
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، وَاللَّفْظُ لإِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَضَرْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَتَاهُ رَجُلَانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَبِكَذَا، وَقَالَ هَذَا: بِعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَقَالَأَبُو عُبَيْدَةَ: أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا، فَقَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمِثْلِ هَذَا،فَأَمَرَ الْبَائِعَ أَنْ يَسْتَحْلِفَ، ثُمَّ يَخْتَارَ الْمُبْتَاعُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ یہود اور نصاری سے خرید و فروخت کرنے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے ادھار اناج (غلہ) خریدا اور اسے اپنی ایک زرہ بطور رہن دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٦١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4650
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ وَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ یہود اور نصاری سے خرید و فروخت کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گھر والوں کی خاطر تیس صاع جَو کے بدلے رہن (گروی) رکھی ہوئی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البیوع ٧ (١٢١٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٢٨) ، مسند احمد (١/٢٣٦، ٣٠٠، ٣٦١) ، سنن الدارمی/البیوع ٤٤ (٢٦٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4651
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ لِأَهْلِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مدبر کی بیع سے متعلق
جابر (رض) کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنا ایک غلام بطور مدبر آزاد (یعنی مرنے کے بعد آزاد ہونے کی شرط پر) کردیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی، تو آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی مال ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا ؟ چناچہ اسے نعیم بن عبداللہ عدوی (رض) نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، رسول اللہ ﷺ ان (دراہم) کو لے کر آئے اور اسے ادا کردیا، پھر فرمایا : اپنی ذات سے شروع کرو اور اس پر صدقہ کرو، پھر کچھ بچ جائے تو وہ تمہارے گھر والوں کا ہے، تمہارے گھر والوں سے بچ جائے تو تمہارے رشتے داروں کے لیے ہے اور اگر تمہارے رشتے داروں سے بھی بچ جائے تو اس طرح اور اس طرح ، اپنے سامنے، اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے ہوئے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٥٤٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مدبر: وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے کہے کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔ اگر مدبّر کرنے والا مالک محتاج ہوجائے تو اس مدبّر غلام کو بیچا جاسکتا ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آدمی محتاج تھا اور اس پر قرض تھا، امام بخاری اور مؤلف نیز دیگر علماء مطلق طور پر مدبّر کے بیچنے کو جائز مانتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4652
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ ؟، قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا، وَهَكَذَا وَهَكَذَا، يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَعَنْ يَمِينِكَ، وَعَنْ شِمَالِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مدبر کی بیع سے متعلق
جابر (رض) سے روایت ہے کہ ابومذکور نامی انصاری نے ایک یعقوب نامی غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا : اسے کون خریدے گا ؟ اسے نعیم ابن عبداللہ (رض) نے آٹھ سو درہم میں خریدا، آپ نے اس (انصاری) کو وہ (درہم) دے کر فرمایا : تم میں جب کوئی محتاج ہو تو پہلے اپنی ذات سے شروع کرے، پھر اگر بچے تو اپنے گھر والوں پر، پھر اگر بچے تو اپنے رشتے داروں پر، اور اگر پھر بھی بچ رہے تو ادھر ادھر (یعنی دوسرے فقراء پر خرچ کرے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ١٣ (٩٩٧) ، سنن ابی داود/العتق ٩ (٣٩٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٦٧) ، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٦٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4653
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِيهِ ؟، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، وَقَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى قَرَابَتِهِ، أَوْ عَلَى ذِي رَحِمِهِ، فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَهُنَا، وَهَهُنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مدبر کی بیع سے متعلق
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مدبر (غلام) کو بیچ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ١١٠ (٢٢٣٠) ، سنن ابی داود/العتق ٩ (٣٩٥٥) ، سنن ابن ماجہ/العتق ١ (الأحکام ٩٤) (٢٥١٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٤١٦) ، مسند احمد (٣/٣٠١، ٣٧٠، ٣٩٠) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٤٢٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4654
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ الْمُدَبَّرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৫৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مکاتب کو فروخت کرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں، اپنی کتابت کے سلسلے میں ان کی مدد چاہتی تھیں، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تم اپنے گھر والوں (مالکوں) کے پاس لوٹ جاؤ، اب اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت (کی رقم) ادا کر دوں اور تمہارا ولاء (حق وراثت) میرے لیے ہوگا تو میں ادا کر دوں گی، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ اپنے گھر والوں سے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا : اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں البتہ تمہارا ولاء (ترکہ) ہمارے لیے ہوگا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : انہیں خرید لو ٢ ؎ اور آزاد کر دو ۔ ولاء (وراثت) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا، پھر آپ نے فرمایا : کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہیں، لہٰذا اگر کوئی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہ ہو، تو وہ پوری نہ ہوگی گرچہ سو شرطیں لگائی گئی ہوں، اللہ کی شرط قبول کرنے اور اعتماد کرنے کے لائق ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٦٧ (٢١٥٥) ، المکاتب ٢ (٢٥٦١) ، الشروط ٣(٢٧١٧) ، صحیح مسلم/العتق ٢ (١٥٠٤) ، سنن ابی داود/العتق ٢ (٣٩٢٩) ، سنن الترمذی/الوصایا ٧ (٢١٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٨٠) ، موطا امام مالک/العتق ١٠ (١٧) ، مسند احمد (٦/٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مکاتب: وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے کہے کہ اگر تم اتنی اتنی رقم اتنی مدت میں، یا جب بھی کما کر ادا کر دے تو تم آزاد ہو۔ ٢ ؎: بریرہ رضی اللہ عنہا نے چونکہ ابھی تک مکاتبت ( معاہدہ آزادی ) کی کوئی قسط ادا نہیں کی تھی، اس لیے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کل رقم ادا کر کے انہیں خرید لیا، یہی باب سے مناسبت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4655
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَمَنِ اشْتَرَطَ شَيْئًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اگر مکاتب نے اپنے بدل کتابت میں کچھ بھی نہ دیا ہو تو اس کا فروخت کرنا درست ہے
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا نے آ کر کہا : عائشہ ! میں نے نو اوقیہ کے بدلے اپنے گھر والوں (مالکوں) سے مکاتبت کرلی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ دوں گی تو آپ میری مدد کریں۔ (اس وقت) انہوں نے اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہ کیا تھا۔ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اور ان میں دلچسپی لے رہی تھیں : جاؤ اپنے لوگوں (مالکوں) کے پاس اگر وہ پسند کریں کہ میں انہیں یہ رقم ادا کر دوں اور تمہارا ولاء (حق وراثت) میرے لیے ہوگا تو میں ایسا کروں، بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے لوگوں (مالکوں) کے پاس گئیں اور ان کے سامنے یہ بات پیش کی، تو انہوں نے انکار کیا اور کہا : اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن وہ ولاء (ترکہ) ہمارا ہوگا، اس کا ذکر عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا : یہ چیز تمہیں ان سے مانع نہ رکھے، خریدو اور آزاد کر دو ، ولاء (ترکہ) تو اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا : امابعد، لوگوں کا کیا حال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہوتیں، جو ایسی شرط لگائے گا جو اللہ کی کتاب (قرآن) میں نہیں ہے تو وہ باطل ہے گرچہ وہ سو شرطیں ہوں، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ زیادہ قابل قبول اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ لائق بھروسہ ہے، ولاء (حق وراثت) اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4656
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ يُونُسُ، وَاللَّيْثُ، أَنَّابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ، وَنَفِسَتْ فِيهَا: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أُعْطِيَهُمْ ذَلِكَ جَمِيعًا وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ ذَلِكِ لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي، وَأَعْتِقِي، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، فَفَعَلَتْ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ النَّاسِ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنْ، اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کا فروخت کرنا
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء (وراثت) کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/العتق ٣ (١٥٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٢٣) ، موطا امام مالک/العتق ١٠ (٢٠) ، مسند احمد (٢/٩، ٧٩، ١٠٧) ، سنن الدارمی/البیوع ٣٦ (٢٦١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اگر کسی نے غلام کو آزاد کیا تو اس غلام کے مرنے پر اگر اس کے عصبہ وارث نہ ہوں، تو آزاد کرنے والا عصبہ ہوگا، اور عصبہ والا ترکے کا حقدار ہوگا اسی کو ولاء کہتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4657
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کا فروخت کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء (حق وراثت) بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧١٥٠) ، سنن الدارمی/الفرائض ٥٣ (٣٢٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4658
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ولاء کا فروخت کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/العتق ٣ (١٥٠٦ م) ، سنن ابی داود/الفرائض ١٤ (٢٩١٩) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٠ (١٢٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الفرائض ١٥ (٢٧٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٧١٨٩) ، مسند احمد (٢/٧٩، ١٠٧) ، سنن الدارمی/الفرائض ٥٣ (٣٢٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4659
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پانی کا فروخت کرنا
جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٣٩٩) ، مسند احمد (٣/٣٥٦) ، سنن الدارمی/البیوع ٦٩ (٢٦٥٤) ، وانظر أیضا حدیث رقم : ٤٦٤٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مراد نہر اور چشمے وغیرہ کا پانی جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو، اور اگر پانی پر کسی کا کسی طرح کا خرچ آیا ہو تو ایسے پانی کا بیچنا منع نہیں ہے، جیسے راستوں میں ٹھنڈا پانی، مینرل واٹر وغیرہ بیچنا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4660
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پانی کا فروخت کرنا
ایاس بن عمر (یا ابن عبد) (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پانی بیچنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ قتیبہ کہتے ہیں : مجھے ان (سفیان) سے ایک مرتبہ ابومنہال کے بعض کلمات سمجھ میں نہیں آئے جیسا میں نے چاہا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٦٣ (٣٤٧٨) ، سنن الترمذی/البیوع ٤٤ (١٢٧١) ، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٨ (الأحکام ٧٩) (٢٤٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٧) ، مسند احمد (٣/١٣٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4661
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عُمَرَ، وَقَالَ مَرَّةً: ابْنَ عَبْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، قَالَ قُتَيْبَةُ: لَمْ أَفْقَهْ عَنْهُ بَعْضَ حُرُوفِ أَبِي الْمِنْهَالِ كَمَا أَرَدْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ضرورت سے زائد پانی فروخت کرنا
ایاس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فاضل پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہط کے نگراں نے وہط کا فاضل پانی بیچا تو عبداللہ بن عمرو (رض) نے اسے ناپسند کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4662
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ إِيَاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ضرورت سے زائد پانی فروخت کرنا
ابومنہال نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی ایاس بن عبد (رض) نے کہا : فاضل پانی مت بیچو، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاضل پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٦٦٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4663
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا الْمِنْهَالِ أَخْبَرَهُ، أَنَّإِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شراب فروخت کرنا
ابن وعلہ مصری سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس (رض) سے انگور کے رس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو شراب کی مشکیں تحفہ میں دیں تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا تمہیں علم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے ؟ پھر اس نے کانا پھوسی کی - میں اس بات کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکا تو میں نے اس کی بغل کے آدمی سے پوچھا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے کہا : تم نے اس سے کیا کانا پھوسی کی ؟ ، وہ بولا : میں نے اس سے کہا کہ وہ اسے بیچ دے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا ہے، اس نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے ، تو اس آدمی نے دونوں مشکوں کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ جو کچھ اس میں تھا بہہ گیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٢ (البیوع ٣٣٤) (١٥٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٢٣) ، موطا امام مالک/الأشربة ٥ (١٢) ، مسند احمد (١/٢٣٠، ٢٤٤، ٣٢٣، ٣٥٨) ، سنن الدارمی/البیوع ٣٥ (٢٦١٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4664
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ ابْنِ وَعْلَةَ الْمِصْرِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَهَا ؟، فَسَارَّ وَلَمْ أَفْهَمْ مَا سَارَّ كَمَا أَرَدْتُ، فَسَأَلْتُ إِنْسَانًا إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَ سَارَرْتَهُ ؟، قَالَ: أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا، حَرَّمَ بَيْعَهَا، فَفَتَحَ الْمَزَادَتَيْنِ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৬৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ شراب فروخت کرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے ان کی تلاوت کی، پھر شراب کی تجارت حرام قرار دی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٧٣ (٤٥٩) ، البیوع ٢٥ (٢٠٨٤) ، ١٠٥ (٢٢٢٦) ، تفسیر آل عمران ٤٩-٥٢ (٤٥٤٠، ٤٥٤٣) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٢ (البیوع ٣٣) (١٥٨٠) ، سنن ابی داود/البیوع ٦٦ (٣٤٩١) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٧ (٣٣١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣٦) ، مسند احمد (٦/٤٦، ١٠٠، ١٢٧، ١٨٦، ١٨٩٠، ٢٨٧) ، سنن الدارمی/البیوع ٣٥ (٢٦١٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4665
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ الرِّبَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَلَاهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کتے کی فروخت سے متعلق
ابومسعود عقبہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور نجومی کی آمدنی سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٢٩٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4666
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَأَبَا مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کتے کی فروخت سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، کتے کی قیمت کو (بھی) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4667
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَاءَ حَرَّمَهَا: وَثَمَنُ الْكَلْبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کونسا کتا فروخت کرنا درست ہے؟
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے، اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا سوائے شکاری کتے کے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٣٠٠ (صحیح) (لیکن ” إلا کلب صید “ کا جملہ صحیح نہیں ہے، اور یہ جملہ صحیح مسلم میں بھی نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ ثقہ راویوں کی روایت میں إلا کلب صید کا ذکر نہیں ہے، اس کے رواۃ حجاج مختلط، اور ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4668
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ، إِلَّا كَلْبِ صَيْدٍ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا مُنْكَرٌ.
তাহকীক: