কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৭ টি
হাদীস নং: ৪৬৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خنزیر کا فروخت کرنا
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ مکہ میں تھے : اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے بیچنے سے منع فرمایا۔ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! مردے کی چربی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ اس سے تو کشتیاں چکنی کی جاتی ہیں، کھالوں میں استعمال ہوتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ نے فرمایا : نہیں، وہ حرام ہے ، اس وقت آپ نے یہ بھی فرمایا : اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک و برباد کرے، اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تھی، انہوں نے اسے پگھلایا، پھر بیچا اور اس کی قیمت کھائی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٢٦١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4669
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ، وَهُوَ بِمَكَّةَ: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدَّهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ؟، فَقَالَ: لَا، هُوَ حَرَامٌ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَّلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جفتی کرانے کی اجرت لینے کی ممانعت۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ سے جفتی کرانے پر اجرت لینے سے، پانی بیچنے اور زمین کو بٹائی پر دینے سے ١ ؎ یعنی آدمی اپنی زمین اور پانی کو بیچ دے تو ان سب سے آپ ﷺ نے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٨ (البیوع ٢٩) (١٥٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس بٹائی سے مراد وہ معاملہ ہے جس میں زمین والا زمین کے کسی خاص حصے کی پیداوار لینا چاہے، کیونکہ آدھے پر بٹائی کا معاملہ آپ ﷺ نے خود اہل خیبر سے کیا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4670
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، وَبَيْعِ الْأَرْضِ لِلْحَرْثِ يَبِيعُ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ، فَعَنْ ذَلِكَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جفتی کرانے کی اجرت لینے کی ممانعت۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإجارة ٢١ (٢٢٨٤) ، دالبیوع ٤٢ (٣٤٢٩) ، سنن الترمذی/البیوع ٤٢ (١٢٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٣٣) ، مسند احمد (٢/١٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4671
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ. ح وَأَنْبَأَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جفتی کرانے کی اجرت لینے کی ممانعت۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ بنی کلاب کی شاخ بنی صعق کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے اسے اس سے منع فرمایا، اس نے کہا : ہمیں تو اس کی وجہ سے تحفے ملتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البیوع ٤٥ (١٢٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٥٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4672
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّوَاسِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الصَّعْقِ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّا نُكْرِمُ عَلَى ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جفتی کرانے کی اجرت لینے کی ممانعت۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگانے کی کمائی سے، کتے کی قیمت سے اور نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٣٦٢٧) ، مسند احمد (٢/٢٩٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4673
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، وَعَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جفتی کرانے کی اجرت لینے کی ممانعت۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤١٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4674
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جفتی کرانے کی اجرت لینے کی ممانعت۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت سے اور نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٧٩ تعلیقًام) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩ (٢١٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٠٧) ، سنن الدارمی/البیوع ٨٠ (٢٦٦٥) (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ ابوحازم نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن پچھلی روایت (رقم ٤٦١٧) سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4675
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَعَسْبِ الْفَحْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص ایک شے خریدے پھر اس کی قیمت دینے سے قبل مفلس ہوجائے اور وہ چیز اسی طرح موجود ہو اس سے متعلق
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص (سامان خریدنے کے بعد) مفلس ہوگیا، پھر بیچنے والے کو اس کے پاس اپنا مال بعینہ ملا تو دوسروں کی بہ نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستقراض ١٤ (٢٤٠٢) ، صحیح مسلم/المساقاة ٥ (البیوع ٢٦) (١٥٥٩) ، سنن ابی داود/البیوع ٧٦(٣٥١٩، ٣٥٢٠) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٦ (١٢٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٦ (٤٣٥٨، ٢٣٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٦١) ، موطا امام مالک/البیوع ٤٢ (٨٨) ، مسند احمد (٢/٢٢٨، ٢٤٧، ٢٤٩، ٢٥٨، ٤١٠، ٤٦٨، ٤٧٤، ٥٠٨) ، سنن الدارمی/البیوع ٥١ (٢٦٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس باب کی احادیث کی روشنی میں علماء نے کچھ شرائط کے ساتھ ایسے شخص کو اپنے سامان کا زیادہ حقدار ٹھہرایا ہے جو یہ سامان کسی ایسے شخص کے پاس بعینہٖ پائے جس کا دیوالیہ ہوگیا ہو، وہ شرائط یہ ہیں :( الف ) سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو۔ ( ب ) پایا جانے والا سامان اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو۔ ( ج ) سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی نہ لیا گیا ہو۔ ( د ) کوئی ایسی رکاوٹ حائل نہ ہو جس سے وہ سامان لوٹایا ہی نہ جاسکے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4676
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ ثُمَّ وَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا، فَهُوَ أَوْلَى بِهِ مِنْ غَيْرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص ایک شے خریدے پھر اس کی قیمت دینے سے قبل مفلس ہوجائے اور وہ چیز اسی طرح موجود ہو اس سے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو مفلس ہوجائے اور اس کے پاس بعینہ کسی کا سامان موجود ہو اور وہ اسے پہچان لے فرمایا : اس سامان کا مستحق وہ ہے جس نے اسے اس کے ہاتھ بیچا تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4677
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ الرَّجُلِ يُعْدِمُ إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ بِعَيْنِهِ وَعَرَفَهُ أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِي بَاعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص ایک شے خریدے پھر اس کی قیمت دینے سے قبل مفلس ہوجائے اور وہ چیز اسی طرح موجود ہو اس سے متعلق
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص کے پھلوں پر جو اس نے خریدے تھے آفت آگئی اور اس کا قرض بہت زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس پر صدقہ کرو ، چناچہ لوگوں نے اس پر صدقہ کیا، اس کی مقدار اتنی نہ ہوسکی کہ اس کا قرض پورا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو تمہیں ملے لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انطر حدیث رقم : ٤٥٣٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جب حاکم موجودہ مال کو قرض خواہوں کے مابین بقدر حصہ تقسیم کر دے پھر بھی اس شخص کے ذمہ قرض خواہوں کا قرض باقی رہ جائے تو ایسی صورت میں قرض خواہ اسے تنگ کرنے، قید کرنے اور قرض کی ادائیگی پر مزید اصرار کرنے کے بجائے اسے مال کی فراہمی تک مہلت دے۔ حدیث کا مفہوم یہی ہے اور قرآن کی اس آیت وإن کان ذوعسر ۃ فنظر ۃ إلی میسر ۃ کے مطابق بھی ہے کیونکہ کسی کے مفلس ہوجانے سے قرض خواہوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4678
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا وَكَثُرَ دَيْنُهُ، قالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ وَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ایسا مال فروخت کرے جو درحقیقت اس مال کا مالک نہ ہو۔
اسید بن حضیر بن سماک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی کسی شخص کے ہاتھ میں اپنی (چوری کی ہوئی) چیز پائے اور اس پر چوری کا الزام نہ ہو تو چاہے تو اتنی قیمت ادا کر کے اس سے لے لے جتنے میں اس نے اسے خریدا ہے اور چاہے تو چور کا پیچھا کرے، یہی فیصلہ ابوبکر اور عمر (رض) نے (بھی) کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٠) ، مسند احمد (٤/٢٢٦) (صحیح الإسناد) (اسید حضیر کے بجائے صحیح ” اسید بن ظہیر “ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4679
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرِ بْنِ سِمَاكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى أَنَّهُ إِذَا وَجَدَهَا فِي يَدِ الرَّجُلِ غَيْرِ الْمُتَّهَمِ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَهَا بِمَا اشْتَرَاهَا وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ. وَقَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ایسا مال فروخت کرے جو درحقیقت اس مال کا مالک نہ ہو۔
بنی حارثہ کے ایک فرد اسید بن حضیر انصاری (رض) کہتے ہیں کہ وہ یمامہ کے گورنر تھے، مروان نے ان کو لکھا کہ معاویہ (رض) نے انہیں لکھا ہے کہ جس کی کوئی چیز چوری ہوجائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے، جہاں بھی اسے پائے، پھر مروان نے یہ بات مجھے لکھی تو میں نے مروان کو لکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے فیصلہ کیا کہ چوری کرنے والے سے ایک ایسے شخص نے کوئی چیز خریدی جس پر چوری کا الزام نہ ہو تو اس چیز کے مالک کو اختیار دیا جائے گا چاہے تو وہ اس کی قیمت دے کر اسے لے لے (جتنی قیمت اس نے چور کو دی ہے) اور اگر چاہے تو چور کا پیچھا کرے، یہی فیصلہ ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) عنہم نے کیا، پھر مروان نے میری یہ تحریر معاویہ (رض) کے پاس بھیجی، معاویہ (رض) نے مروان کو لکھا : تمہیں اور اسید کو حق نہیں کہ تم دونوں مجھ پر حکم چلاؤ بلکہ تمہارا والی اور امیر ہونے کی وجہ سے میں تم کو حکم کروں گا، لہٰذا جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے، اس پر عمل کرو، مروان نے معاویہ (رض) کی تحریر (میرے پاس) بھیجی تو میں نے کہا : جب تک میں حاکم ہوں ان کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کروں گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق کروں گا، معاویہ (رض) کے حکم کے مطابق نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4680
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَلَقَدْ أَخْبَرَنِيعِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ، ثُمَّ أَحَدَ بَنِي حَارِثَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ عَامِلًا عَلَى الْيَمَامَةِ، وَأَنَّ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ: أَنَّ أَيَّمَا رَجُلٍ سُرِقَ مِنْهُ سَرِقَةٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَيْثُ وَجَدَهَا، ثُمَّ كَتَبَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ إِلَيَّ، فَكَتَبْتُ إِلَى مَرْوَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِأَنَّهُ: إِذَا كَانَ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنَ الَّذِي سَرَقَهَا غَيْرُ مُتَّهَمٍ يُخَيَّرُ سَيِّدُهَا، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الَّذِي سُرِقَ مِنْهُ بِثَمَنِهَا، وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ، ثُمَّ قَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِي إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ إِنَّكَ لَسْتَ أَنْتَ وَلَا أُسَيْدٌ تَقْضِيَانِ عَلَيَّ وَلَكِنِّي أَقْضِي فِيمَا وُلِّيتُ عَلَيْكُمَا، فَأَنْفِذْ لِمَا أَمَرْتُكَ بِهِ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِ مُعَاوِيَةَ، فَقُلْتُ: لَا أَقْضِي بِهِ مَا وُلِّيتُ بِمَا قَالَ مُعَاوِيَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ایسا مال فروخت کرے جو درحقیقت اس مال کا مالک نہ ہو۔
سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے جب کسی کے پاس پائے، اور بیچنے والا جس کے پاس چیز پائی گئی ہے وہ اپنے بیچنے والے کا پیچھا کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٨٠(٣٥٣١) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٩٥) ، مسند احمد (٥/١٣، ١٨) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور متن پچھلے متن کا مخالف بھی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ أَحَقُّ بِعَيْنِ مَالِهِ إِذَا وَجَدَهُ، وَيَتْبَعُ الْبَائِعُ مَنْ بَاعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص ایسا مال فروخت کرے جو درحقیقت اس مال کا مالک نہ ہو۔
سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی عورت کی شادی دو ولیوں نے کردی تو وہ ان میں پہلے شوہر کی ہوگی، اور جس نے کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچی تو وہ چیز ان میں سے پہلے کی ہوگی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/النکاح ٢٢ (٢٠٨٨) ، سنن الترمذی/النکاح ٢٠ (١١١٠) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢١ (٢١٩١) ، الأحکام ١٩ (٢٣٤٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٢) ، مسند احمد (٥/٨، ١١، ١٢، ١٨، ٢٢) ، سنن الدارمی/النکاح ١٥ (٢٢٤٠) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے ) وضاحت : ١ ؎: پہلے ولی کے ذریعے ہونے والے نکاح کا اعتبار ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4682
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قرض لینے سے متعلق حدیث
عبداللہ بن ابی ربیعہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے چالیس ہزار قرض لیے، پھر آپ کے پاس مال آیا تو آپ نے مجھے ادا کر دئیے، اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں، تمہارے گھر والوں اور تمہارے مال میں برکت عطا فرمائے، قرض کا بدلہ تو شکریہ ادا کرنا اور قرض ادا کرنا ہی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٦ (٢٤٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٥٢) ، مسند احمد (٤/٣٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4683
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: اسْتَقْرَضَ مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَجَاءَهُ مَالٌ، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ، وَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْحَمْدُ وَالْأَدَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قرض داری کی مذمت
محمد بن جحش (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا، پھر ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا، پھر فرمایا : سبحان اللہ ! کتنی سختی نازل ہوئی ہے ؟ ہم لوگ خاموش رہے اور ڈر گئے، جب دوسرا دن ہوا تو میں نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! وہ کیا سختی ہے جو نازل ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : قسم اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ایک شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کیا جائے پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کیا جائے اور اس پر قرض ہو تو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک اس کا قرض ادا نہ ہوجائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٢٢٦) ، مسند احمد (٥/٢٨٩، ٢٩٠) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یا قرض خواہ قرض نہ ادا کرنے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کر دے، تو بھی وہ عفو و مغفرت کا مستحق ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4684
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ وَضَعَ رَاحَتَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا نُزِّلَ مِنَ التَّشْدِيدِ، فَسَكَتْنَا وَفَزِعْنَا فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ سَأَلْتُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نُزِّلَ ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيِيَ، ثُمَّ قُتِلَ، ثُمَّ أُحْيِيَ، ثُمَّ قُتِلَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قرض داری کی مذمت
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک جنازے میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا : کیا فلاں گھرانے کا کوئی شخص یہاں ہے ؟ چناچہ ایک شخص کھڑا ہوا تو اس سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پہلی دو مرتبہ میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ تم نے میرا جواب نہ دیا، سنو ! میں نے تمہیں صرف بھلائی کے لیے پکارا تھا، فلاں شخص ان میں کا ایک آدمی جو مرگیا تھا - اپنے قرض کی وجہ سے (جنت میں جانے سے) رکا ہوا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٩ (٣٣٤١) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٢٣) ، مسند احمد (٥/٢٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس لیے اس کے قرض کی ادائیگی کا انتظام کرو یا قرض خواہ کو راضی کرلو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4685
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْسَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَقَالَ: أَهَهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ثَلَاثًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ لَا تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلَّا بِخَيْرٍ، إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَاتَ مَأْسُورًا بِدَيْنِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قرض داری میں آسانی اور سہولت سے متعلق حدیث شریف
عمران بن حذیفہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں اور کثرت سے لیا کرتی تھیں، تو ان کے گھر والوں نے اس سلسلے میں ان سے گفتگو کی اور ان کو برا بھلا کہا اور ان پر غصہ ہوئے تو وہ بولیں : میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی، میں نے اپنے خلیل اور محبوب ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جو بھی کوئی قرض لیتا ہے اور اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرض ادا کرنے کی فکر میں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا میں ادا کردیتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٠(٢٤٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٧٧) (صحیح) (لیکن ” فی الدنیا “ کا لفظ صحیح نہیں ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح دون قوله في الدنيا صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4686
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَتْ مَيْمُونَةُ تَدَّانُ وَتُكْثِرُ، فَقَالَ لَهَا أَهْلُهَا فِي ذَلِكَ وَلَامُوهَا وَوَجَدُوا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: لَا أَتْرُكُ الدَّيْنَ، وَقَدْ سَمِعْتُ خَلِيلِي وَصَفِيِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَدَّانُ دَيْنًا فَعَلِمَ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ قَضَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ قرض داری میں آسانی اور سہولت سے متعلق حدیث شریف
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے قرض لیا، ان سے کہا گیا : ام المؤمنین ! آپ قرض لے رہی ہیں حالانکہ آپ کے پاس ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے ؟ ، عرض کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے کوئی قرض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کی فکر میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٠٧٣) ، مسند احمد (٦/٣٣٢، ٣٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4687
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَدَانَتْ، فَقِيلَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، تَسْتَدِينِينَ وَلَيْسَ عِنْدَكِ وَفَاءٌ، قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَخَذَ دَيْنًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُؤَدِّيَهُ أَعَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ دولت مند شخص قرض دینے میں تاخیر کرے اس سے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم میں سے کوئی شخص مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ١ ؎، اور مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحوالة ١(٢٢٨٨) ، سنن الترمذی/البیوع ٦٨ (١٣٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٦٦٢) ، موطا امام مالک/البیوع ٤٠ (٨٤) ، مسند احمد (٢/ ٣٧٦، ٤٦٣، ٤٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کردینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید عمرو کا سامنا بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کرلے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کر لینی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4688
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ، وَالظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ.
তাহকীক: