কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৭ টি
হাদীস নং: ৪৬১৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک مدت کے لئے کوئی چیز گروی رکھ کر غلہ ادھار خریدنا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ مدت تک کے لیے ادھار اناج خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ رہن رکھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ١٤ (٢٠٦٨) ، ٣٣ (٢٠٩٦) ، ٨٨ (٢٢٠٠) ، السلم ٥ (٢٢٥١) ، ٦ (٢٢٥٢) ، الاستقراض ١ (٢٣٨٦) ، الرہن ٢ (٢٥٠٩) ، ٥ (٢٥١٣) ، الجہاد ٨٩ (٢٩١٦) ، المغازي ٨٦ (٤٤٦٧) ، صحیح مسلم/البیوع ٤٥ (المساقاة ٢٤) (١٦٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الرہون ١ (الأحکام ٦٢) (٢٤٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٤٨) ، مسند احمد (٦/٤٢، ١٦٠، ٢٣٠، ٢٣٧) ، ویأتي عند المؤلف ٤٦٥٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4609
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ گھر میں رہ کر کوئی چیز گروی رکھنا۔
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جو کی ایک روٹی اور بودار چربی لے گئے، اور آپ نے اپنی زرہ مدینے کے ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی تھی اور اپنے گھر والوں کے لیے اس سے جَو لیے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ١٤ (٢٠٦٩) ، الرہون ١ (٢٥٠٨) ، سنن الترمذی/البیوع ٧ (١٢١٥) ، سنن ابن ماجہ/الرہون ١ (الأحکام ٦٢) (٢٤٣٧) ، (تحفہ الأشراف : ١٣٥٥) ، مسند احمد (٣/١٣٣، ٢٠٨، ٢٣٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4610
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهُ مَشَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، قَالَ: وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ، وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کا فروخت کرنا جو کہ فروخت کرنے والے شخص کے پاس موجود نہ ہو
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ١ ؎، اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ٢ ؎، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہ ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٧ (٣٥٠٤) ، سنن الترمذی/البیوع ١٩ (١٢٣٤) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٠ (٢١٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٦٤) ، مسند احمد (٢/١٧٨) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٦٣٤، ٤٦٣٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا خریدار کے ہاتھ آٹھ سو کا سامان ایک ہزار روپے کے بدلے اس شرط پر بیچے کہ بیچنے والا خریدار کو ایک ہزار روپے بطور قرض دے گا ( دیکھئیے باب رقم ٧٠ ) گویا بیع کی اگر یہ شکل نہ ہوتی تو بیچنے والا خریدار کو قرض نہ دیتا اور اگر قرض کا وجود نہ ہوتا تو خریدار یہ سامان نہ خریدتا۔ ٢ ؎: مثلاً کوئی کہے کہ یہ غلام میں نے تجھ سے ایک ہزار نقد اور دو ہزار ادھار میں بیچا ( دیکھئیے باب رقم ٧٢ ) یہ ایسی بیع ہے جو دو شرطں ہیں یا مثلاً کوئی یوں کہے کہ میں نے تم سے اپنا یہ کپڑا اتنے اتنے میں اس شرط پر بیچا کہ اس کا دھلوانا اور سلوانا میرے ذمہ ہے۔ ٣ ؎: بیچنے والے کے پاس جو چیز موجود نہیں ہے اسے بیچنے سے اس لیے روک دیا گیا ہے کہ اس میں دھوکہ دھڑی کا خطرہ ہے جیسے کوئی شخص اپنے بھاگے ہوئے غلام یا اونٹ بیچے جب کہ ان دونوں کے واپسی کی ضمانت بیچنے والا نہیں دے سکتا البتہ ایسی چیز کی بیع جو اپنی صفت کے اعتبار سے خریدار کے لیے بالکل واضح ہو جائز ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے بیع سلم کی اجازت دی ہے باوجود یہ کہ بیچی جانے والی چیز بیچنے والے کے پاس بروقت موجود نہیں ہوتی۔ ( کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہوسکتا ہے ) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4611
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کا فروخت کرنا جو کہ فروخت کرنے والے شخص کے پاس موجود نہ ہو
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس چیز کا بیچنا آدمی کے لیے جائز نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطلاق ٧ (٢١٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٠٤) ، مسند احمد (٢/١٨٩، ١٩٠) (حسن، صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4612
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْأَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: عُثْمَانُ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ سَيْفٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ بَيْعٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ اس چیز کا فروخت کرنا جو کہ فروخت کرنے والے شخص کے پاس موجود نہ ہو
حکیم بن حزام (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : اللہ کے رسول ! میرے پاس آدمی آتا ہے اور وہ مجھ سے ایسی چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی۔ کیا میں اس سے اس چیز کو بیچ دوں اور پھر وہ چیز اسے بازار سے خرید کر دے دوں ؟ آپ نے فرمایا : جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اسے مت بیچو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٧٠ (٣٥٠٣) ، سنن الترمذی/البیوع ١٩ (١٢٣٢) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٠ (٢١٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٣٦) ، مسند احمد (٣/٤٠٢، ٤٣٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4613
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ، ثُمَّ أَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ، قَالَ: لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ غلہ میں بیع سلم کرنے سے متعلق
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر (رض) کے زمانے میں گی ہوں، جَو اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم، آیا ان کے یہاں یہ چیزیں ہوتی بھی تھیں یا نہیں۔ اور ابن ابزیٰ نے (سوال کرنے پر) اسی طرح کہا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/السلم ٢ (٢٢٤٢) ، ٣ (٢٢٤٤، ٢٢٤٥) ، ٧ (٢٢٥٤، ٢٢٥٥) ، سنن ابی داود/البیوع ٥٧ (٣٤٦٤، ٣٤٦٥) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٩ (٢٢٨٢) ، (تحفة الأشراف : ٥١٧١) ، مسند احمد (٤/٣٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سلف یا سلم یہ ہے کہ خریدار بیچنے والے کو سامان کی قیمت پیشگی دے دے اور سامان کی ادائیگی کے لیے ایک میعاد مقرر کرلے، ساتھ ہی سامان کا وزن وصف اور نوعیت وغیرہ متعین ہو۔ ( اگلی حدیث دیکھیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4614
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى: عَنِ السَّلَفِ، قَالَ: كُنَّا نُسْلِفُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ إِلَى قَوْمٍ لَا أَدْرِي أَعِنْدَهُمْ أَمْ لَا، وَابْنُ أَبْزَى، قَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ خشک انگور میں سلم کرنا
ابن ابی مجالد بیان کرتے ہیں کہ ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد میں سلم کے سلسلے میں بحث ہوگئی تو انہوں نے مجھے ابن ابی اوفی (رض) کے پاس بھیجا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اور ابوبکر و عمر (رض) کے زمانے میں گیہوں، جَو، کشمش اور کھجور میں بیع سلم کیا کرتے تھے، ایسے لوگوں سے جن کے پاس ہم یہ چیزیں نہیں پاتے اور (ابن ابی المجالد کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابزیٰ سے پوچھا تو انہوں نے اسی طرح کہا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4615
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَقَالَ مَرَّةً: عَبْدُ اللَّهِ، وَقَالَ مَرَّةً: مُحَمَّدٌ، قَالَ: تَمَارَى أَبُو بُرْدَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ فِي السَّلَمِ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كُنَّا نُسْلِمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَلَى عَهْدِ عُمَرَ فِي الْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ إِلَى قَوْمٍ مَا نُرَى عِنْدَهُمْ، وَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پھلوں میں بیع سلف سے متعلق
ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو لوگ کھجور میں دو تین سال کے لیے بیع سلم کرتے تھے، آپ نے انہیں روک دیا، اور فرمایا : جو بیع سلم کرے تو مقررہ ناپ، مقررہ وزن میں مقررہ مدت تک کے لیے کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/السلم ١ (٢٢٣٩) ، ٢ (٢٢٢١) ، ٧ (٢٢٥٣) ، صحیح مسلم/المساقاة ٢٥ (البیوع ٤٦) (١٦٠٤) ، سنن ابی داود/البیوع ٥٧ (٣٤٦٣) ، سنن الترمذی/البیوع ٧٠ (١٣١١) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٩ (٢٢٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٢٠) ، مسند احمد (١/٢١٧، ٢٢٢، ٢٨٢، ٣٥٨) ، سنن الدارمی/البیوع ٤٥ (٢٦٢٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ناپ وزن اور اس میں یہ تعیین و تحدید اس لیے ہے تاکہ جھگڑے اور اختلاف پیدا ہونے والی بات نہ رہ جائے، اگر مدت نہ معلوم ہو اور وزن اور ناپ نہ متعین ہو تو بیع سلف صحیح نہ ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4616
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَنَهَاهُمْ وَقَالَ: مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جانور میں سلف سے متعلق
ابورافع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے اونٹ کے بچے میں بیع سلم کی، وہ شخص اپنے نوجوان اونٹ کا تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے ایک شخص سے کہا : جاؤ، اس کے لیے نوجوان اونٹ خرید دو ، اس نے آپ کے پاس آ کر کہا : مجھے تو سوائے بہترین، رباعی (جو ساتویں برس میں لگ چکا ہو) نوجوان اونٹ کے کوئی نہیں ملا، آپ نے فرمایا : اسے وہی دے دو ، اس لیے کہ بہترین مسلمان وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں بہتر ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ٤٣ (المساقاة ٢٢) (١٦٠٠) ، سنن ابی داود/البیوع ١١ (٣٣٤٦) ، سنن الترمذی/البیوع ٧٥ (١٣١٨) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٢ (٢٢٨٥) ، موطا امام مالک/البیوع ٤٣ (٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٢٥) ، مسند احمد (٦/٣٩٠) ، سنن الدارمی/البیوع ٣١ (٢٦٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4617
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْأَبِي رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ بَكْرَهُ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: انْطَلِقْ فَابْتَعْ لَهُ بَكْرًا، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: مَا أَصَبْتُ إِلَّا بَكْرًا رَبَاعِيًا خِيَارًا، فَقَالَ: أَعْطِهِ، فَإِنَّ خَيْرَ الْمُسْلِمِينَ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جانور میں سلف سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ذمہ ایک شخص کا ایک جوان اونٹ باقی تھا، وہ آپ کے پاس تقاضا کرتا ہوا آیا تو آپ نے (صحابہ سے) فرمایا : اسے دے دو ، انہیں اس سے زیادہ عمر کے ہی اونٹ ملے تو آپ نے فرمایا : اسی کو دے دو ، اس نے کہا : آپ نے پورا پورا ادا کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوکالة ٥ (٢٣٠٥) ، ٦ (٢٣٠٦) ، الاستقراض ٤ (٢٣٩٠) ، ٦(٢٣٩٢) ، ٧ (٢٣٩٣) ، ١٣ (٢٤٠١) الہبة ٢٣ (٢٦٠٦) ، ٢٥(٢٦٠٩) ، صحیح مسلم/المساقاة ٢٢ (١٦٠١) ، (البیوع ٤٣) سنن الترمذی/البیوع ٧٥ (١٣١٦، ١٣١٧) ، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٦(الأحکام ٥٦) (٢٣٢٢) ، (مقتصرا علی قولہ : ” إن خیارکم ۔۔ “ ) حم ٢/٣٧٣، ٣٩٣، ٤١٦، ٤٣١، ٤٥٦، ٤٧٦، ٥٠٩ ویأتی عند المؤلف برقم ٤٦٩٧ مثل ابن ماجہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4618
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: أَعْطُوهُ، فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، قَالَ: أَعْطُوهُ، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً. Q
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جانور میں سلف سے متعلق
عرباض بن ساریہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک جوان اونٹ بیچا تو میں آپ کے پاس اس کا تقاضا کرنے آیا، آپ نے فرمایا : میں تو تمہیں بختی (عمدہ قسم کا اونٹ) دوں گا ، پھر آپ نے مجھے ادا کیا تو بہت اچھا ادا کیا، اور آپ کے پاس ایک اعرابی (دیہاتی) اپنا جوان اونٹ مانگتے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا : اسے جوان اونٹ دے دو ، تو اس دن ان لوگوں نے اسے ایک بڑا (مکمل) اونٹ دیا، اس نے کہا : یہ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ نے فرمایا : تم میں بہتر وہ ہے جو بہتر طرح سے قرض ادا کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٢ (٢٢٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٨٧) ، مسند احمد (٤/١٢٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4619
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ هَانِئٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، يَقُولُ: بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: أَجَلْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا نَجِيبَةً، فَقَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي، وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ يَتَقَاضَاهُ سِنَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطُوهُ سِنًّا، فَأَعْطَوْهُ يَوْمَئِذٍ جَمَلًا، فَقَالَ: هَذَا خَيْرٌ مِنْ سِنِّي، فَقَالَ: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ قَضَاءً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جانور کو جانور کے عوض ادھار فروخت کرنا
سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذی روح کے بدلے ذی روح کو ادھار بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ١٥ (٣٣٥٦) ، سنن الترمذی/البیوع ٢١ (١٢٣٧) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٦ (٢٢٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٣) ، مسند احمد ٥/١٢، ٢١، ١٩، ٢٢، سنن الدارمی/البیوع ٣٠ (٢٦٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب ادھار کی صورت طرفین سے ہو اور اگر کسی ایک جانب سے ہو تو بیع جائز ہے ( دیکھئیے : صحیح بخاری کتاب البیوع باب ١٠٨ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4620
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ حیوان کو اسی حیوان کی جنس کے بدلے کم یا زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کے جواز کے بیان میں
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی، آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ غلام ہے، اتنے میں اسے ڈھونڈتا ہوا اس کا مالک آپہنچا تو آپ نے فرمایا : اسے میرے ہاتھ بیچ دو ، چناچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا، پھر آپ نے اس کے بعد کسی سے بیعت نہیں لی جب تک کہ اس سے پوچھ نہ لیتے کہ وہ غلام ہے ؟۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤١٨٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4621
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِعْنِيهِ، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کے بچہ کو فروخت کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حمل والے جانور کے حمل کی بیع سلم کرنا سود ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٤٤٠) مسند احمد (١/٢٤٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4622
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: السَّلَفُ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کے بچہ کو فروخت کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حاملہ کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٤ (٢١٩٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٦٢) ، مسند احمد (٢/١٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4623
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کے بچہ کو فروخت کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حاملہ کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ٣ (١٥١٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٩٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ بیع زمانہ جاہلیت میں رائج تھی، آدمی اس شرط پر اونٹ خریدتا تھا کہ جب اونٹنی بچہ جنے گی پھر بچے کا بچہ ہوگا تب وہ اس اونٹ کے پیسے دے گا تو ایسی خریدو فروخت سے روک دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں دھوکہ ہے، یہ بیع غرر ( دھوکہ والی بیع ) کی قبیل سے ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4624
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مذکو رہ مضمون کی تفسیر سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حاملہ کے حمل کی بیع سے منع فرمایا اور یہ ایسی بیع تھی جو جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، ایک شخص اونٹ خریدتا اور پیسے دینے کا وعدہ اس وقت تک کے لیے کرتا جب وہ اونٹنی جنے اور پھر اس کا بچہ جنے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٦١ (٢١٤٣) ، سنن ابی داود/البیوع ٢٥ (٣٣٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٧٠) ، موطا امام مالک/البیوع ٢٦ (٦٢) ، مسند احمد (١/٥٦، ٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4625
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ، وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ جَزُورًا إِلَى أَنْ تُنْتِجَ النَّاقَةُ، ثُمَّ تُنْتِجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چند سالوں کے واسطے پھل فروخت کرنا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کئی سال کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٧٦٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: باغ کے پھل کئی سال کے لیے بیچنا، یہ بھی بیع غرر ( دھوکہ والی خریدو فروخت ) کی قبیل سے ہے، اس میں خریدار کے لیے دھوکہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4626
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چند سالوں کے واسطے پھل فروخت کرنا
جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کئی سال کی بیع کرنے سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٣٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4627
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ابْنُ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ ایک مدت مقرر کرکے ادھار فروخت کرنے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو قطری چادریں تھیں، جب آپ بیٹھتے اور ان میں پسینہ آتا تو وہ بھاری ہوجاتیں، ایک یہودی کا شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا : اگر آپ اس کے پاس کسی کو بھیج کر تاوقت سہولت (قیمت ادا کرنے کے وعدہ پر) دو کپڑے خرید لیتے تو بہتر ہوتا، چناچہ آپ نے اس کے پاس ایک شخص کو بھیجا، اس (یہودی) نے کہا : مجھے معلوم ہے محمد کیا چاہتے ہیں، وہ تو میرا مال ہضم کرنا چاہتے ہیں، یا یہ دونوں چادروں کو ہضم کرنا چاہتے ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس نے جھوٹ کہا، اسے معلوم ہے کہ میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ امانت کا ادا کرنے والا ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البیوع ٧ (١٢١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٠٠) ، مسند احمد (٦/١٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: آپ ﷺ نے اس طرح کی بیع پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ اس یہودی کے پاس اس کے لیے آدمی بھیجا، اسی سے باب پر استدلال ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4628
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَيْنِ قِطْرِيَّيْنِ، وَكَانَ إِذَا جَلَسَ فَعَرِقَ فِيهِمَا ثَقُلَا عَلَيْهِ، وَقَدِمَ لِفُلَانٍ الْيَهُودِيِّ بَزٌّ مِنْ الشَّأْمِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ، إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي أَوْ يَذْهَبَ بِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ.
তাহকীক: