কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৭ টি
হাদীস নং: ৪৫৭৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ درہم درہم کے عوض فروخت کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سونے کے بدلے سونا، برابر برابر اور یکساں ہوگا، اور چاندی کے بدلے چاندی برابر برابر اور یکساں ہوگی، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود کا کام کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٥(البیوع ٣٦) (١٥٨٨) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٨ (٢٢٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٦٢٥) ، مسند احمد (٢/٢٦١، ٢٨٢، ٤٣٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4569
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونے کے بدلے سونا فروخت کرنا
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، اور ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو، اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٧٨ (٢١٧٧) ، صحیح مسلم/البیوع ٣٥ (المساقاة ١٤) (١٥٨٤) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٤ (١٢٤١) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٨٥) ، موطا امام مالک/البیوع ١٦(٣٠) ، مسند احمد ٣/٤، ٥١، ٥٣، ٦١، ٧٣، ٩٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4570
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا شَيْئًا غَائِبًا بِنَاجِزٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونے کے بدلے سونا فروخت کرنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی بیچنے سے روکا ہے، سوائے اس کے کہ وہ برابر ہوں، اور (ان میں سے) کسی نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو، اور نہ ہی ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ کرو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4571
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ النَّهْيَ عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ، وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونے کے بدلے سونا فروخت کرنا
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ (رض) نے پینے کا برتن جو سونے یا چاندی کا تھا اس سے زائد وزن کے بدلے بیچا تو ابو الدرداء (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کی بیع سے منع فرماتے ہوئے سنا، سوائے اس کے کہ وہ برابر برابر ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٩٥٣) ، موطا امام مالک/البیوع ١٦ (٣٣) ، مسند احمد (٦/٤٤٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4572
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نگینہ اور سونے سے جڑے ہوئے ہار کی بیع
فضالہ بن عبید (رض) کہتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک ہار جس میں سونا اور نگینے لگے ہوئے تھے، بارہ دینار میں خریدا، پھر میں نے انہیں الگ کیا تو اس میں لگا ہوا سونا بارہ دینار سے زیادہ کا تھا، اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا : جب تک الگ کرلیا جائے اسے نہ بیچا جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ١٧ (البیوع ٣٨) (١٥٩١) ، سنن ابی داود/البیوع ١٣(٣٣٥٢) ، سنن الترمذی/البیوع ٣٢ (١٢٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٧) ، مسند احمد (٦/٢١، ٢٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4573
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً فِيهَا ذَهَبٌ، وَخَرَزٌ بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نگینہ اور سونے سے جڑے ہوئے ہار کی بیع
فضالہ بن عبید (رض) کہتے ہیں کہ مجھے خیبر کے دن ایک ہار ملا جس میں سونا اور نگینے تھے، میں نے اسے بیچنا چاہا، اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ایک کو دوسرے سے الگ کر دو پھر بیچو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4574
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: أَصَبْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: افْصِلْ بَعْضَهَا مِنْ بَعْضٍ، ثُمَّ بِعْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چاندی کو سونے کے بدلہ ادھار فروخت کرنا
ابومنہال کہتے ہیں کہ شریک نے کچھ چاندی ادھار بیچی، پھر میرے پاس کر مجھے بتایا تو میں نے کہا : یہ درست نہیں، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے تو اسے بازار میں بیچا ہے، لیکن کسی نے اسے غلط نہیں کہا، چناچہ میں براء بن عازب (رض) کے پاس آ کر ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : مدینے میں رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور ہم اسی طرح سے بیچا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا : جب تک نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن ادھار ہو تو یہ سود ہے ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا : زید بن ارقم (رض) کے پاس جاؤ، میں نے ان کے پاس جا کر معلوم کیا تو انہوں نے بھی اسی جیسا بتایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٨ (٢٠٦٠، ٢٠٦١) ، (٢١٨٠، ٢١٨١) ، الشرکة ١٠(٢٤٩٧، ٢٤٩٨) ، مناقب الأنصار ٥١ (٣٩٣٩، ٣٩٤٠) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٦ (البیوع ٣٧) (١٥٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٨) ، مسند احمد (٤/٢٨٩، ٣٦٨، ٣٧١، ٣٧٢، ٢٧٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4575
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ فَجَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي، فَقُلْتُ: هَذَا لَا يَصْلُحُ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ: مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا، ثُمَّ قَالَ لِي: ائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چاندی کو سونے کے بدلہ ادھار فروخت کرنا
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم (رض) سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے، ہم نے آپ سے بیع صرف (اثمان کی خریدو فروخت) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا : اگر وہ نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھار ہو تو یہ صحیح نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4576
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟، فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چاندی کو سونے کے بدلہ ادھار فروخت کرنا
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے بیع صرف کے بارے میں براء بن عازب (رض) سے پوچھا، تو انہوں نے کہا : زید بن ارقم (رض) سے معلوم کرلو، وہ مجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ جاننے والے ہیں۔ چناچہ میں نے زید (رض) سے پوچھا تو انہوں نے کہا : براء (رض) سے معلوم کرو وہ مجھ سے بہتر ہیں اور زیادہ جاننے والے ہیں، تو ان دونوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے سے روکا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٧٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4577
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنِ الصَّرْفِ ؟، فَقَالَ: سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، فَسَأَلْتُ زَيْدًا: فَقَالَ: سَلْ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، فَقَالَا جَمِيعًا: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا بیچنے سے منع فرمایا، مگر برابر برابر، اور ہمیں حکم دیا کہ چاندی کے بدلے سونا جیسے چاہیں خریدیں اور سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٧٧ (٢١٧٥) ، ٨١ (٢١٨٢) ، صحیح مسلم/البیوع ٣٧ (المساقاة ١٦) (١٥٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٨١) ، مسند احمد (٣/٣٨، ٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کمی و زیادتی کے ساتھ بشرطیکہ نقدا ہو ادھار نہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4578
وَفِيمَا قُرِئَ عَلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا، وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم چاندی کے بدلے چاندی بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر، اور سونے کے بدلے سونا بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہو بیچو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کمی و زیادتی کے ساتھ بشرطیکہ نقداً ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4579
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا عَيْنًا بِعَيْنٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَلَا نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، إِلَّا عَيْنًا بِعَيْنٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَبَايَعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْتُمْ، وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے اسامہ بن زید (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سود تو صرف ادھار میں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٧٩ (٢١٧٨، ٢١٧٩) ، صحیح مسلم/البیوع ٣٩ (المساقاة ١٨) (١٥٩٦) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٩ (٢٢٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٤) ، مسند احمد (٥/٢٠٠، ٢٠٢، ٢٠٤، ٢٠٦، ٢٠٩) ، سنن الدارمی/البیوع ٤٢ (٢٦٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے، یا اسی طرح ہم جنس غلہ جات کی نقداً خریدو فروخت میں اگر کمی بیشی ہو تو سود نہیں ہے، سود تو اسی وقت ہے جب معاملہ ادھار کا ہو، امام نووی نیز دیگر علماء کہتے ہیں کہ اہل اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں ہے، کچھ لوگ اسے منسوخ کہتے ہیں اور کچھ تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اجناس مختلفہ میں سود صرف ادھار کی صورت میں ہے، پچھلی حدیثوں میں صراحت ہے کہ تفاضل میں سود ہے، اس لیے حدیث کو منسوخ ماننا ضروری ہے، یا اسامہ (رض) نے آپ ﷺ سے باہم مختلف اجناس کی خریدو فروخت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں اگر نقداً ہو، سود تو ادھار میں ہے۔ اس حدیث کو منسوخ ماننا، یا یہ تاویل اس لیے بھی ضروری ہے کہ ابن عباس (رض) وغیرھم کو تفاضل والی حدیث پہنچ گئی تو انہوں نے اس حدیث کے مطابق فتوی دینے سے رجوع کرلیا (کما حققہ العلماء) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4580
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا : آپ جو یہ باتیں کہتے ہیں، کیا آپ نے انہیں کتاب اللہ (قرآن) میں پایا ہے یا رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : نہ تو میں نے انہیں کتاب اللہ (قرآن) میں پایا ہے اور نہ ہی انہیں رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، لیکن اسامہ بن زید (رض) نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سود تو صرف ادھار میں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (لیکن یہ حکم منسوخ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4581
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ، أَشَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَوْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ: مَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ چاندی کو سونے کے عوض اور سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا، چناچہ میں دینار سے بیچتا تھا اور درہم لیتا تھا، پھر میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ سے کچھ معلوم کرنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا اور درہم لیتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں، اگر تم اسی دن کے بھاؤ سے لے لو جب تک کہ جدا نہ ہو اور تمہارے درمیان ایک دوسرے کا کچھ باقی نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ١٤ (٣٣٥٤، ٣٣٥٥) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٤ (١٢٤٢) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥١(٢٢٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٥٣، ١٨٦٨٥) ، مسند احمد (٢/٣٣، ٥٩، ٨٣، ٨٩، ١٠١، ١٣٩، سنن الدارمی/البیوع ٤٣ (٢٦٢٣) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٥٨٧-٤٥٨٩، ٤٥٩١-٤٥٩٣) (ضعیف) (اس روایت کا مرفوع ہونا ضعیف ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما کا اپنا واقعہ ہے، ضعیف ہونے کی وجہ سماک ہیں جو حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں اختلاط بھی ہوتا تھا، بس موقوف کو مرفوع بنادیا جب کہ ان کے دوسرے ساتھیوں نے موقوفاً ہی روایت کی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4582
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ ؟، قَالَ: لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں چاندی کے بدلے سونا یا سونے کے بدلے چاندی بیچتا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم اپنے ساتھی سے بیچو تو اس سے الگ نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان کوئی چیز باقی رہے (یعنی حساب بےباق کر کے الگ ہو) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4583
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ، أَوِ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ صَاحِبَكَ فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ درہم ٹھیرا کر دینار اور دینار ٹھیرا کر درہم لیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٨٦ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: سعید بن جبیر سے اسی سند سے نمبر ٤٥٩٢ پر جو روایت ہے وہی زیادہ صحیح ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4584
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الدَّنَانِيرَ مِنَ الدَّرَاهِمِ، وَالدَّرَاهِمَ مِنَ الدَّنَانِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یعنی دینار طے کر کے کر درہم لینے اور درہم طے کر کے کر دینار لینے میں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٨٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4585
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا يَعْنِي فِي قَبْضِ الدَّرَاهِمِ مِنَ الدَّنَانِيرِ، وَالدَّنَانِيرِ مِنَ الدَّرَاهِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق
ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہ درہم طے کر کے کر دینار لینے کو وہ ناپسند کرتے تھے جب وہ قرض کے طور پر ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٤١٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4586
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: فِي قَبْضِ الدَّنَانِيرِ مِنَ الدَّرَاهِمِ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُهَا إِذَا كَانَ مِنْ قَرْضٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے خواہ قرض کے طور پر ہو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٨٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4587
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى أَبِي شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا وَإِنْ كَانَ مِنْ قَرْضٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ سونے کے عوض چاندی اور چاندی کے عوض سونا لینے سے متعلق
اس سند سے بھی سعید بن جبیر سے اسی طرح مروی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : میں نے اس مقام میں اسے اسی طرح پایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٥٨٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی سعید کی پہلی روایت سے متضاد، اس سے گویا وہ ضعف کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4588
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ.
তাহকীক: