কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
خرید و فروخت کے مسائل و احکام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৭ টি
হাদীস নং: ৪৪৭৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیع کرنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر ان میں سے ایک دوسرے سے کہے کہ اختیار کی شرط کرلو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٤٧٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4469
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعيِدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیع کرنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر وہ اختیاری خریدو فروخت ہو ۔ نافع کی بعض روایتوں میں یوں ہے أو يقول أحدهما للآخر اختر یا ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہے : بیع میں اختیار کی شرط کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4470
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ، وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: أَوْ يَقُولَ: أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیع کرنے والے دونوں اختیار کے ساتھ رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ الگ تھلگ ہوجائیں، یا بیع خیار (اختیاری بیع) کے ساتھ ہو ۔ کبھی کبھی نافع نے یوں کہا : أو يقول أحدهما للآخر اختر یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کہے : بیع بالخیار کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٤٥ (٢١١٢) ، صحیح مسلم/البیوع ١٠ (١٥٣١) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٧ (٢١٨١) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٧٢) ، مسند احمد (٢/١٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4471
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ، وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ اخْتَرْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دو آدمی آپس میں خریدیں اور بیچیں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، اور ایک دوسری بار نافع نے (حتى يفترقا کے بجائے) ما لم يتفرقا کہا، حالانکہ وہ دونوں ایک جگہ تھے، یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے، لہٰذا اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے اور وہ دونوں اس (شرط خیار) پر بیع کرلیں تو بیع ہوجائے گی، اب اگر وہ دونوں بیع کرنے کے بعد جدا ہوجائیں اور ان میں سے کسی ایک نے بیع ترک نہ کی تو بیع ہوجائے گی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4472
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ حَتَّى يَفْتَرِقَا، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، فَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خریدو فروخت کرنے والے دونوں اپنی بیع کے سلسلے میں اس وقت تک اختیار کے ساتھ رہتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار (اختیاری خریدو فروخت) ہو ۔ نافع کہتے ہیں : چناچہ عبداللہ بن عمر (رض) جب کوئی ایسی چیز خریدتے جو دل کو بھا گئی ہو تو صاحب معاملہ سے (فوراً ) جدا ہوجاتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ١٠ (١٥٣١) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٦ (١٢٤٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٢٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4473
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ خِيَارًا، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خریدو فروخت کرنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4474
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُتَبَايِعَانِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن دینار سے متعلق راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البیوع ١٠ (١٥٣١) ، (تحفة الأشراف : ٧١٣١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4475
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن دینار سے متعلق راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٢٦٥) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٤٨٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4476
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن دینار سے متعلق راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٤٦ (٢١١٣) ، (تحفة الأشراف : ٧١٥٥) ، مسند احمد (٢/١٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4477
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن دینار سے متعلق راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک دونوں جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٤٨١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4478
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৪
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن دینار سے متعلق راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧١٩٥) ، مسند احمد (٢/١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4479
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৫
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن دینار سے متعلق راویوں کا اختلاف
عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوجائیں، إلا یہ کہ وہ بیع خیار ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧١٧٣) ، مسند احمد (٢/٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4480
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৬
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن دینار سے متعلق راویوں کا اختلاف
سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں یا ان میں سے ہر ایک بیع کو اپنی مرضی کے مطابق لے اور وہ تین بار اختیار لیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/التجارات ١٧ (٢١٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٠٠) ، مسند احمد (٥/١٢، ١٧، ٢١، ٢٢، ٢٣) (ضعیف) (اس کے رواة ” قتادہ “ اور ” حسن بصری “ دونوں مدلس ہیں اور ” عنعنہ “ سے روایت کیے ہوئے ہیں، نیز سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کے سماع میں بھی اختلاف ہے، مگر اس حدیث کا پہلا ٹکڑا پہلی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4481
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَأْخُذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الْبَيْعِ مَا هَوِيَ، وَيَتَخَايَرَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৭
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن دینار سے متعلق راویوں کا اختلاف
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے راضی نہ ہوجائے، یا خواہش پوری نہ کرلے (یعنی بیع خیار تک) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4482
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَيَأْخُذْ أَحَدُهُمَا مَا رَضِيَ مِنْ صَاحِبِهِ أَوْ هَوِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৮
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ جس وقت تک فروخت کرنے والا اور خریدار دونوں علیحدہ نہ ہوں اس وقت تک ان کو اختیار حاصل ہے
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار ہو، اور (کسی فریق کے لیے) یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے صاحب معاملہ سے اس اندیشے سے جدا ہو کہ کہیں وہ بیع فسخ کر دے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٥٣ (٣٤٥٦) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٦(١٢٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٩٧) ، مسند احمد (٢/١٨٣) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ جدائی سے مراد جسمانی جدائی ہے، یعنی دونوں کی مجلس بدل جائے، نہ کہ مجلس ایک ہی ہو اور بات چیت کا موضوع بدل جائے جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4483
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮৯
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع کے معاملہ میں دھوکہ ہو نا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ وہ بیع میں دھوکہ کھا جاتا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا : جب تم بیچو تو کہہ دیا کرو : فریب اور دھوکہ دھڑی نہ ہو، چناچہ وہ شخص جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا : دھوکہ دھڑی نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٤٨ (٢١١٧) ، الاستقراض ١٩ (٢٤٠٧) ، الخصومات ٣ (٢٤١٤) ، الحیل ٧ (٦٩٦٤) ، صحیح مسلم/البیوع ١٢ (١٥٣٣) ، سنن ابی داود/البیوع ٦٨ (٣٥٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٢٩) ، موطا امام مالک/البیوع ٤٦ (٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ کہہ دینے سے اسے اختیار حاصل ہوجاتا اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کے ساتھ چالبازی کی گئی ہے تو وہ اسے فسخ کرسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4484
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ، يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯০
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ بیع کے معاملہ میں دھوکہ ہو نا
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص کم عقلی کا شکار تھا اور تجارت کرتا تھا، اس کے گھر والوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے نبی ! آپ اسے تجارت کرنے سے روک دیجئیے، تو آپ نے اسے بلایا اور اسے اس سے روکا، اس نے کہا : اللہ کے نبی ! میں تجارت سے باز نہیں آسکتا، تو آپ نے فرمایا : جب بیچو تو کہو : فریب و دھوکہ نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٦٨ (٣٥٠١) ، سنن الترمذی/البیوع ٢٨ (١٢٥٠) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٤ (٢٣٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٥) ، مسند احمد (٣/٢١٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4485
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ كَانَ يُبَايِعُ، وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَيْهِ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، قَالَ: إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯১
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ کسی جانور کے سینہ میں دودھ اکھٹا کر کے فروخت کرنے سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی جب بکری یا اونٹنی بیچے تو اس کے تھن میں دودھ روک کر نہ رکھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٤٨٤٦) ، مسند احمد ٢/٢٧٣، ٤٨١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ ایسے جانور کو اگر بیچا جائے گا تو خریدار کے ساتھ دھوکہ ہوگا اور کسی کو دھوکہ دینا صحیح نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4486
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمُ الشَّاةَ أَوِ اللَّقْحَةَ، فَلَا يُحَفِّلْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯২
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مصراة بیچنے کی ممانعت یعنی کسی دودھ والے جانور کو بیچنے سے کچھ روز قبل اس کا دودھ نہ نکالنا تاکہ زیادہ دودھ دینے والا جانور سمجھ کر اس کی زیادہ بولی (قیمت) لگے
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آگے جا کر تجارتی قافلے سے مت ملو ١ ؎ اور اونٹنیوں اور بکریوں کو ان کے تھنوں میں دودھ روک کر نہ رکھو ٢ ؎، اگر کسی نے ایسا جانور خرید لیا تو اسے اختیار ہے چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو اسے لوٹا دے اور (لوٹاتے وقت) اس کے ساتھ ایک صاع کھجور دیدے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٣٧٢٢) مسند احمد (٢/٢٤٢، ٢٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چونکہ باہر سے آنے والے تاجر کو بازار کی قیمت کا صحیح علم نہیں ہے اس لیے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خریدنے میں تاجر کو دھوکہ ہوسکتا ہے، اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے تاجروں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ان سے مل کر ان کا سامان خریدنے سے منع فرما دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تاجر کو اختیار حاصل ہوگا بیع کے نفاذ اور عدم نفاذ کے سلسلہ میں۔ ٢ ؎: تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو تصریہ کہتے ہیں تاکہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے۔ ٣ ؎: تاکہ وہ اس دودھ کا بدل بن سکے جو خریددار نے دوہ لیا ہے، نیز واضح رہے کہ کسی ثابت شدہ حدیث کی تردید یہ کہہ کر نہیں کی جاسکتی کہ کسی مخالف اصل سے اس کا ٹکراؤ ہے یا اس میں مثلیت نہیں پائی جا رہی ہے اس لیے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی، بلکہ شریعت سے جو چیز ثابت ہو وہی اصل ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسی طرح حدیث مصراۃ ان احادیث میں سے ہے جو صحیح اور ثابت شدہ ہیں لہٰذا کسی قیل و قال کے بغیر اس پر عمل واجب ہے۔ کسی قیاس سے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4487
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، مَنِ ابْتَاعَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعُ تَمْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯৩
خرید و فروخت کے مسائل و احکام
পরিচ্ছেদঃ مصراة بیچنے کی ممانعت یعنی کسی دودھ والے جانور کو بیچنے سے کچھ روز قبل اس کا دودھ نہ نکالنا تاکہ زیادہ دودھ دینے والا جانور سمجھ کر اس کی زیادہ بولی (قیمت) لگے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ اس کے تھن میں روک رکھا گیا ہو تو جب اسے دو ہے اور اس پر راضی ہوجائے تو چاہیئے کہ اسے روک لے اور اگر اسے وہ ناپسند ہو تو اسے لوٹا دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دیدے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٦٥ (٢١٤٨ تعلیقًا) ، صحیح مسلم/البیوع ٤ (١٥٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٢٩) ، مسند احمد (٢/٤٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4488
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ ابْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَإِنْ رَضِيَهَا إِذَا حَلَبَهَا فَلْيُمْسِكْهَا، وَإِنْ كَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ.
তাহকীক: