কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৬ টি
হাদীস নং: ৩৮৭২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت (گناہ کے کام) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3841
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : محمد بن زبیر ضعیف ہیں، ان جیسے سے حجت قائم نہیں ہوتی اور اس حدیث کے سلسلے میں ان کے متعلق اختلاف کیا گیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٧١ (ضعیف) (اس کے راوی ” محمد بن زبیر “ ضعیف الحدیث ہیں، اور اس حدیث کے مضمون کا کوئی شاہد موجود نہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3842
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ ضَعِيفٌ لَا يَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ، وَقَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
عمران (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٧١ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی حدیث پر کلام ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3843
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
عمران (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : غضب کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ (محمد کے والد) زبیر نے اس حدیث کو عمران بن حصین سے نہیں سنا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٧١ (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎: اس کی دلیل اگلی روایت ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3844
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. وَقِيلَ: إِنَّ الزُّبَيْرَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : نذر کی دو قسمیں ہیں : جو نذر اللہ کی اطاعت کی ہو تو وہ اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے اور جو نذر اللہ کی معصیت کی ہو تو وہ شیطان کی ہے اور اسے پورا نہیں کرنا ہے اور اس کا کفارہ وہی ہوگا جو قسم کا ہوتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٨٩١) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بھی محمد اور ان کے باپ زبیر ضعیف ہیں، نیز ایک راوی مبہم بھی ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3845
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: صَحِبْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: النَّذْرُ نَذْرَانِ: فَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي طَاعَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلَّهِ وَفِيهِ الْوَفَاءُ، وَمَا كَانَ مِنْ نَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلَا وَفَاءَ فِيهِ، وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
زبیر حنظلی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے بیان کیا کہ اس نے عمران بن حصین (رض) سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا، جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے قبیلے کی مسجد میں نماز میں حاضر نہیں ہوگا، تو عمران (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : غضب کی کوئی نذر نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3846
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ نَذْرًا، لَا يَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ ؟ فَقَالَ عِمْرَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا نَذْرَ فِي غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت کی کوئی نذر نہیں، اور نہ ہی غضب میں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٨٠٨) ، مسند احمد (٤/٤٣٩، ٤٤٣) (ضعیف) (لفظ ” غضب “ میں اس حدیث کا کوئی شاہد نہیں ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3847
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا غَضَبٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ منصور بن زاذان کی روایت کے الفاظ اس سے مختلف ہیں (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3848
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُلَيْمٍ وَهُوَ عُبَيْدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي الْمَعْصِيَةِ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ فِي لَفْظِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آدمی کی ایسی چیزوں میں نذر نہیں، جن کا اسے اختیار نہیں اور نہ ہی اللہ کی معصیت میں نذر ہے ۔ علی بن زید نے منصور کی مخالفت کی ہے اور اسے بسند حسن بصری عن عبدالرحمٰن بن سمرہ سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٨١١) ، مسند احمد (٤/٤٢٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3849
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ فَرَوَاهُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : علی بن زید ضعیف ہیں اور اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے اور صحیح عمران بن حصین (رض) ہے اور دوسری سند سے یہ حدیث عمران بن حصین (رض) سے روایت کی گئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٧٠٠) (صحیح) (اس کے راوی ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3850
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ، وَهَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ: عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت میں کوئی نذر نہیں اور نہ ہی ایسی چیز میں کوئی نذر ہے جس کا آدمی کو اختیار نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٤٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3851
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس شخص پر کیا واجب ہے کہ جس نے نذر مانی ہو ایک کام کے کرنے کی اور پھر وہ شخص اس کام کی انجام دہی سے عاجز ہو جائے
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے، آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اس نے نذر مانی ہے کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے گا، آپ نے فرمایا : اس طرح اپنی جان کو تکلیف دینے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ سوار ہو کر جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزء الصید ٢٧ (١٨٦٥) ، الأیمان ٣١ (٦٧٠١) ، صحیح مسلم/النذور ٤ (١٦٤٢) ، سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٣٠١) ، سنن الترمذی/الأیمان ٩ (١٥٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٢) ، مسند احمد (٣/١٠٦، ١١٤، ١٨٣، ١٨٣، ٢٣٥، ٢٧١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ جاہل صوفیوں نے جو نئی نئی قسم کے پر مشقت افعال یہ سمجھ کر ایجاد کر رکھے ہیں کہ ان سے تزکیہ نفوس حاصل ہوتا ہے حالانکہ شریعت سے ان کا ذرہ برابر تعلق نہیں، یہ احکام شریعت سے ان کی جہالت و ناواقفیت کی دلیل ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمارے لیے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے صاف صاف طور پر بیان نہ کردیا ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3852
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟. قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ. قَالَ: إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس شخص پر کیا واجب ہے کہ جس نے نذر مانی ہو ایک کام کے کرنے کی اور پھر وہ شخص اس کام کی انجام دہی سے عاجز ہو جائے
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسے بوڑھے شخص کے پاس سے ہوا جو دو آدمیوں کے درمیان ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا : اس کا کیا حال ہے ؟ ان لوگوں نے عرض کیا : اس نے (کعبہ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا : اس کے اس طرح اپنی جان کو تکلیف پہنچانے کی اللہ کو ضرورت نہیں، اسے حکم دو کہ سوار ہو کر چلے، چناچہ انہوں نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3853
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْخٍ يُهَادَى بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَذَا ؟. قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ. قَالَ: إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ، مُرْهُ فَلْيَرْكَبْ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس شخص پر کیا واجب ہے کہ جس نے نذر مانی ہو ایک کام کے کرنے کی اور پھر وہ شخص اس کام کی انجام دہی سے عاجز ہو جائے
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا، آپ نے فرمایا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ عرض کیا گیا : اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا : اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٩٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3854
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذَا ؟. فَقِيلَ: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ. فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ انشاء اللہ کہنے سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی بات کی قسم کھائے، پھر وہ ان شاء اللہ کہے تو اس نے استثناء کرلیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأیمان ٧ (١٥٣٢) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٦ (٢١٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٢٣) ، مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی وہ قسم توڑنے والا نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3855
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَدِ اسْتَثْنَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ انشاء اللہ کہنے سے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : آج رات میں نوے ( ٩٠) عورتوں (بیویوں) کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر عورت ایک ایسا بچہ جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان سے کہا گیا : آپ ان شاء اللہ کہیں، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ سلیمان (علیہ السلام) اپنی عورتوں کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے آدھا بچہ جنا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر انہوں نے ان شاء اللہ کہا ہوتا تو وہ قسم توڑنے والے نہیں ہوتے اور اپنی حاجت پالینے میں کامیاب بھی رہتے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ١٩ (٥٢٤٢) ، صحیح مسلم/الأیمان ٥ (١٦٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥١٨) ، مسند احمد (٢/٢٧٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے پہلے کتاب الأیمان والنذور میں قسم اور نذر کو دو شرط مان کر اس باب میں تیسری شرط کا ذکر کیا، اس لیے کہ ان میں اکثر و بیشتر استثنا اور تعلیق کا تذکرہ ہوتا ہے، اسی لیے اس کو تیسری شرط کا عنوان دے کر یہ بتایا کہ اس میں مزارعت اور و ثائق کا تذکرہ ہوگا (التعلیقات السلفیۃ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3856
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقِيلَ لَهُ: قُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ، فَطَافَ بِهِنَّ، فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ.
তাহকীক: