কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৬ টি
হাদীস নং: ৩৮১২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے سے قبل کفارہ دینا
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہی کام انجام دے جو بہتر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٧٥٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الکفارات ٨ (٢١١١) ، مسند احمد (٢/١٨٥، ٢٠٤، ٢١١، ٢١٢) (حسن، صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3781
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے سے قبل کفارہ دینا
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی قسم کھائے پھر اس کے سوا کو اس سے بہتر سمجھے تو چاہیئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور دیکھے کہ کون سی بات بہتر ہے تو وہی کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأیمان ١ (٦٦٢٢ مطولا) ، کفارات الأیمان ١٠(٦٧٢٢ مطولا) ، الأحکام ٥ (٧١٤٦ مطولا) ، ٦٠ (٧١٤٧) ، صحیح مسلم/الأیمان ٣ (١٦٥٢) ، سنن ابی داود/الأیمان ١٧ (٣٢٧٨) ، سنن الترمذی/الأیمان ٥ (١٥٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٩٥) ، مسند احمد ٥/٦١، ٦٢، ٦٣، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٩، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ٣٨١٤، ٨٣١٥، ٣٨٢٠- ٣٨٢٢، ٥٣٨٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3782
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَنْظُرِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ فَلْيَأْتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے سے قبل کفارہ دینا
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو پھر وہ کام کرو جو بہتر ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3783
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم توڑنے سے قبل کفارہ دینا
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہی کرو جو بہتر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3784
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ دینا
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٨٧١) ، مسند احمد (٤/٢٥٦، ٣٧٨) ، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٩ (٢٣٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کی پچھلی حدیث میں قسم توڑنے سے پہلے ہی کفارہ ادا کرنے کا ذکر ہے، اور عدی بن حاتم طائی (رض) کی اس حدیث میں قسم توڑنے کے بعد کفارہ ادا کرنے کی بات ہے، امام نسائی اور امام بخاری نے ان دونوں حدیثوں سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ چاہے تو کفارہ پہلے ادا کر دے، یا چاہے تو بعد میں ادا کرے دونوں صورتیں جائز ہیں، بعض علماء قسم توڑنے کے بعد ہی کفارہ ادا کرنے کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ذکر میں تقدیم تاخیر اتفاقیہ ہے، یا رواۃ کی طرف سے ہے کیونکہ خود عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث (رقم : ٢٨٢٠ ، ٢٨٢٢ ) میں کفارہ کا تذکرہ بعد میں ہے، یعنی قسم کا ٹوٹنا پہلے ہونا چاہیئے، مگر یہ نص شریعت کے مقابلے میں قیاس ہے اور بس۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3785
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ دینا
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر بات پائے تو اپنی قسم کو ترک کر دے اور وہی کرے جو بہتر ہو، اور قسم کا کفارہ ادا کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأیمان ٣ (١٦٥١) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٧ (٢١٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٥١) ، مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٧، ٢٥٨، ٢٥٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3786
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَدَعْ يَمِينَهُ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ دینا
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی بات کی قسم کھائے، پھر اس سے بہتر بات پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3787
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ دینا
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے میرے چچا زاد بھائی کو دیکھا ؟ میں اس کے پاس اس سے کچھ مانگنے آتا ہوں تو وہ مجھے نہیں دیتا اور مجھ سے صلہ رحمی نہیں کرتا ہے ١ ؎، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس مجھ سے مانگنے آتا ہے، میں نے قسم کھالی ہے کہ میں نہ اسے دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا، تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں وہی کروں جو بہتر ہو اور میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الکفارات ٧ (٢١٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٠٤) ، مسند احمد (٤/١٣٦، ١٣٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نہ ہی وہ رشتہ داری نبھاتا ہے اور نہ ہی بھائیوں جیسا سلوک کرتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3788
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ ابْنَ عَمٍّ لِي، أَتَيْتُهُ أَسْأَلُهُ، فَلَا يُعْطِينِي، وَلَا يَصِلُنِي ثُمَّ يَحْتَاجُ إِلَيَّ فَيَأْتِينِي، فَيَسْأَلُنِي وَقَدْ حَلَفْتُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ، وَلَا أَصِلَهُ.فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَأُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ دینا
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی چیز کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3789
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، وَيُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ دینا
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3790
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ دینا
عبدالرحمٰن بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3791
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ انسان جس شے کا مالک نہیں تو اس کی قسم کھانا
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأیمان ١٥ (٣٢٧٤ مطولا) ، مسند احمد (٢/١١٢) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک نہیں اس میں نذر اور قسم نہیں، لیکن دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر اور قسم تو ہوجاتی ہے لیکن ان کو پورا نہیں کیا جائے گا اور (قسم کا) کفارہ ادا کیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3792
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ، وَلَا فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم کے بعد انشاء اللہ کہنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو قسم کھائے اور ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہوگا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأیمان ١١ (٣٢٦١، ٣٢٦٢) ، سنن الترمذی/الأیمان ٧ (١٥٣١) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٦ (٢١٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٧٥١٧) ، مسند احمد (٢/٦، ١٠، ٤٨، ٤٩، ١٢٦، ١٢٧، ١٥٣، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٧ (٢٣٨٧، ٢٣٨٨) ، ویأتي عند المؤلف فی باب ٣٩ بأرقام : ٣٨٦٠، ٣٨٦١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ وہ اپنی قسم میں جھوٹا نہیں ہوگا اس لیے کہ اس کی قسم اللہ کی مرضی (مشیت) پر معلق و منحصر ہوگئی، اسی لیے وہ قسم توڑنے والا نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3793
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى، فَإِنْ شَاءَ مَضَى، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ قسم میں نیت کا اعتبار ہے
عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو اسی کا ثواب ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو، تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چونکہ قسم بھی ایک عمل ہے، اس لیے حدیث إنما الأعمال بالنية کے مطابق قسم میں بھی نیت معتبر ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3794
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ حلال شے کو اپنے لئے حرام کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم ﷺ آئیں تو وہ کہے : مجھے آپ (کے منہ) سے مغافیر ١ ؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا ۔ تو آیت کریمہ يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك سے (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کردیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں (التحریم : ١) إن تتوبا إلى اللہ (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) (اے نبی کی بیویو ! ) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہتر ہے) (التحریم : ٤) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ (رض) مراد ہیں اور آپ ﷺ کے قول : میں نے تو شہد پیا ہے (مگر اب نہیں پیوں گا) کی وجہ سے آیت کریمہ وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی (التحریم : ٣) نازل ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٤١٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ایک قسم کا گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3795
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: لَا، بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 1 - 4 عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3، لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی نے قسم کھائی کہ میں سالن نہیں کھاؤں گا اور سرکہ کے ساتھ روٹی کھالی تو اس کے حکم کے بیان میں
جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة ٣٠ (٢٠٥٢) ، سنن ابی داود/الأطعمة ٤٠ (٣٨٢١) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٣٨) ، مسند احمد (٣/٣٠١، ٤٠٠) سنن الدارمی/الأطعمة ١٨ (٢٠٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس لیے سالن نہ کھانے کی قسم کھانے والا اگر سرکہ کھالے تو وہ قسم توڑنے والا مانا جائے گا، اور اسے قسم کا کفارہ دینا ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3796
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَهُ، فَإِذَا فِلَقٌ وَخَلٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلْ فَنِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دل سے قسم نہ کھائے بلکہ زبان سے کہے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟
قیس بن ابی غرزہ غفاری (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں سماسر (دلال) کہا جاتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے اور ہم خریدو فروخت کر رہے تھے تو آپ نے ہمیں ہمارے نام سے بہتر ایک نام دیا، آپ نے فرمایا : اے تاجروں کی جماعت ! خریدو فروخت میں قسم اور جھوٹ ١ ؎ بھی شامل ہوجاتی ہیں تو تم اپنی خریدو فروخت میں صدقہ ملا لیا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ١ (٣٣٢٧) ، سنن الترمذی/البیوع ٤ (١٢٠٨) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣ (٢١٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١١١٠٣) ، مسند احمد (٤/٦، ٢٨٠) ، ویأتي فیما یلي : ٣٨٢٩، ٣٨٣١، وفي البیوع ٧ برقم : ٤٤٦٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎؎: یعنی خریدو فروخت میں بعض دفعہ بغیر ارادے اور قصد کے بعض ایسی باتیں زبان پر آجاتی ہیں جو خلاف واقع ہوتی ہیں تو کچھ صدقہ و خیرات کرلیا کرو تاکہ وہ ایسی چیزوں کا کفارہ بن جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3797
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ اسْمِنَا، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ، وَالْكَذِبُ، فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِالصَّدَقَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو شخص دل سے قسم نہ کھائے بلکہ زبان سے کہے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟
قیس بن ابی غرزہ غفاری (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع میں خریدو فروخت کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم لوگوں کو سماسرہ (دلال) کہا جاتا تھا، تو آپ نے فرمایا : اے تاجروں کی جماعت ! آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا، پھر فرمایا : خریدو فروخت میں (بغیر قصد و ارادے کے) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہوجاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3798
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَعَاصِمٌ، وَجَامِعٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ، وَالْكَذِبُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر خرید و فروخت کے وقت جھوٹی بات یا لغو کلام زبان سے نکل جائے
قیس بن ابی غرزہ غفاری (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ بازار میں تھے کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ آئے اور فرمایا : ان بازاروں میں (بغیر قصد و ارادے کے) غلط اور جھوٹی باتیں آ ہی جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٢٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی صدقہ کیا کرو تو یہ ان کا کفارہ بن جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3799
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ، فَشُوبُوهَا بِالصَّدَقَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر خرید و فروخت کے وقت جھوٹی بات یا لغو کلام زبان سے نکل جائے
قیس بن ابی غرزہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو سماسرہ (دلال) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا : اے تاجروں کی جماعت ! تمہاری خریدو فروخت میں (بلا قصد و ارادے کے) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آجاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٢٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3800
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا، وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ، وَيُسَمِّينَا النَّاسُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا أَنْفُسَنَا، وَسَمَّانَا النَّاسُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ.
তাহকীক: