কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৬ টি
হাদীস নং: ৩৮৫২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص منت پوری کرنے سے پہلے مسلمان ہوجائے تو کیا کرے؟
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) کے ذمہ مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر تھی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخمیس ١٩ (٣١٤٤) ، المغازي ٥٤ (٤٣٢٠) ، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٥٢١) ، مسند احمد (٢/١٠، ٣٥، ١٥٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3821
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَلَى عُمَرَ نَذْرٌ فِي اعْتِكَافِ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص منت پوری کرنے سے پہلے مسلمان ہوجائے تو کیا کرے؟
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے جاہلیت میں (مسجد الحرام میں) ایک دن کا اعتکاف اپنے اوپر واجب کرلیا تھا، انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں اس میں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٩١٦) ، مسند احمد (٢/٨٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3822
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص منت پوری کرنے سے پہلے مسلمان ہوجائے تو کیا کرے؟
کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہوجاتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ہوسکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان (کعب رضی اللہ عنہ) سے روایت کی ہو ٢ ؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب (رض) کی توبہ کا بھی ذکر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأیمان ٢٩ (٣٣١٧، ٣٣١٨) ، (تحفة الأشراف : ١١١٣٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، نساخ کی غلطی سے یہاں درج ہوگئی ہے، واللہ اعلم۔ ٢ ؎: زہری نے یہ حدیث : عبداللہ بن کعب، عبدالرحمٰن بن کعب، نیز عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب (عن أبیہ عبداللہ بن کعب) تینوں سے سنی ہے، دیکھئیے احادیث رقم : ٣٤٥١-٣٤٥٦ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3823
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَمِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ تَوْبَةُ كَعْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
کعب بن مالک (رض) اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں : جب میں آپ ﷺ کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہوجاؤں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ، میں نے عرض کیا : اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٤٥٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3824
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ: فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ. فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ مُخْتَصَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
کعب بن مالک (رض) اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ (کہتے ہیں :) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہوجاؤں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اپنا (کچھ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ، میں نے عرض کیا : تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٥٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3825
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ مَالَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ. قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ عَلَيَّ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی اپنے مال ودولت کو نذر کے طور پر ہدیہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
کعب بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہوجاؤں۔ آپ نے فرمایا : اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ، میں نے عرض کیا : تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١١٦٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. فَقَالَ: أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ. قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مال نذر کرتے وقت اس میں زمین بھی داخل ہے یا نہیں؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ خیبر کے سال ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہمیں مال ١ ؎، سامان اور کپڑوں کے علاوہ کوئی غنیمت نہ ملی تو بنو ضبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو مدعم نامی ایک کالا غلام ہدیہ کیا، رسول اللہ ﷺ نے وادی قریٰ کا رخ کیا، یہاں تک کہ جب ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ ﷺ کا کجاوا اتار رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ایک تیر آ کر اسے لگا اور اسے قتل کر ڈالا، لوگوں نے کہا کہ تمہیں جنت مبارک ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ کملی جو اس نے غنیمت کے مال سے خیبر کے روز لے لی تھی (اور مال تقسیم نہ ہوا تھا) اس کے سر پر آگ بن کر دہک رہی ہے ۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چمڑے کا ایک یا دو تسمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا تو آپ نے فرمایا : یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢٣٤) ، الأیمان ٣٣ (٦٧٠٧) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٨ (١١٥) ، سنن ابی داود/الجہاد ١٤٣ (٢٧١١) ، موطا امام مالک/الجہاد ١٣ (٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٩١٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اسی لفظ میں باب سے مطابقت ہے، کیونکہ ابوہریرہ (رض) نے اموال کے لفظ سے زمینیں (آراضی) مراد لی ہیں (خیبر میں زیادہ زمینیں مال غنیمت میں ہاتھ آئی تھیں) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی صرف مال کی نذر مانے تو اس مال میں زمین بھی داخل گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3827
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، فَلَمْ نَغْنَمْ إِلَّا الْأَمْوَالَ، وَالْمَتَاعَ، وَالثِّيَابَ، فَأَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ يُقَالُ لَهُ: رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ فَوُجِّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى بَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ سَهْمٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، مِنَ الْمَغَانِمِ، لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا. فَلَمَّا سَمِعَ النَّاسُ بِذَلِكَ، جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ، أَوْ بِشِرَاكَيْنِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ انشاء اللہ کہنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا تو اس نے استثناء کرلیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٢٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اگر اس نے قسم پوری نہیں کی تو بھی کوئی حرج نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3828
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ كَثِيرَ بْنَ فَرْقَدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّنَافِعًا حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ انشاء اللہ کہنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا تو اس نے استثناء کرلیا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٢٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3829
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ انشاء اللہ کہنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی بات پر قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا تو اب اسے اختیار ہے چاہے تو قسم پوری کرے اور چاہے تو نہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٢٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3830
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ أَمْضَى، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص قسم کھائے اور دوسرا شخص اس کے واسطے انشاء اللہ کہے تو دوسرے شخص کا انشاء اللہ کہنا اس کے واسطے کیسا ہے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سلیمان بن داود (علیہ السلام) نے (قسم کھا کر) کہا : آج رات میں نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر کوئی ایک سوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا : ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) مگر خود انہوں نے نہیں کہا، پھر وہ ان تمام عورتوں کے پاس گئے لیکن ان میں سوائے ایک عورت کے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ایک ادھورے بچے کو جنم دیا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر انہوں نے ان شاء اللہ کہا ہوتا تو وہ تمام بیٹے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأیمان ٣ (٦٦٣٩) ، تحفة الأشراف : ١٣٧٣١) ، صحیح مسلم/الأیمان ٥ (١٦٥٤) ، سنن الترمذی/الأیمان ٧ (١٥٣٢- تعلیقاً ) ، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٧٥، ٥٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ قسم کھانے والے نے اگر بذات خود ان شاء اللہ نہیں کہا ہے بلکہ کسی اور نے کہا ہے تو یہ استثناء قسم کھانے والے کے حق میں مفید نہ ہوگا (یعنی : اگر قسم توڑی تو حانث ہوجائے گا) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3831
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً، كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمْ يَقُلْ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَأَيْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٩٣٦) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/ال نذر ٥ (١٦٤٥) ، سنن ابی داود/ال نذر ٣١ (٣٣٢٣) ، سنن الترمذی/النذور ٤ (١٥٢٤) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٧ (٢١٢٦) ، مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٦، ١٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: قسم کے کفارے کا ذکر سورة مائدہ کی اس آیت میں ہے لا يؤاخذکم الله باللغو في أيمانکم ولکن يؤاخذکم بما عقدتم الأيمان فکفارته إطعام عشرة مساکين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو کسوتهم أو تحرير رقبة فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام ذلک کفارة أيمانکم إذا حلفتم واحفظوا أيمانکم کذلك يبين الله لکم آياته لعلکم تشکرون اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا، لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کر دو ۔ اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھالو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو ! اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو (سورة المائدة : 89) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3832
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت (گناہ کے کاموں) میں نذر نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٥٦٧) (صحیح) (سند میں زہری اور قاسم کے درمیان انقطاع ہے، مگر سند متصل ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3833
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩١) ، سنن الترمذی/الأیمان ١(١٥٢٤) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦(٢١٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٧٠) ، مسند احمد (٦/٢٤٧) ، ویأتی فیما یلي : ٣٨٦٦-٣٨٦٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اگر کسی نے معصیت کی نذر مانی ہے تو وہ اسے پوری نہیں کرے گا البتہ اس کا کفارہ ضرور ادا کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3834
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3835
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٦٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3836
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : کہا گیا ہے کہ زہری نے اسے ابوسلمہ سے نہیں سنا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٦٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: لیکن اگلی روایت میں زہری کے ابوسلمہ سے سننے کی صراحت موجود ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3837
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ قِيلَ: أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٦٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3838
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت (گناہوں کے کاموں) میں نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : سلیمان بن ارقم متروک الحدیث راوی ہے، واللہ اعلم، اس حدیث کے سلسلے میں یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے کئی ایک نے سلیمان بن ارقم کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩٢) ، سنن الترمذی/الأیمان ١ (١٥٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٨٢) (صحیح) (اس کے راوی ” سلیمان بن ارقم “ ضعیف ہیں، لیکن اس کی پچھلی سندیں صحیح ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یحییٰ بن ابی کثیر کے تلامذہ میں سے سلیمان بن ارقم جو متروک الحدیث ہیں نے یحییٰ سے حدیث کی روایت میں ثقافت کی مخالفت کی ہے، لیکن اصل حدیث دوسرے رواۃ سے ثابت ہے، اور یہ مخالفت بعد کی سندوں میں ظاہر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3839
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّيَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ الْيَمَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ يَمِينٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، خَالَفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر کے کفارہ سے متعلق
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : معصیت (گناہ کے کاموں) کی نذر نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٨٢٢) ، مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٣٩، ٤٤٠، ٤٤٣) ، ویأتي بأرقام : ٣٨٧٢-٣٨٧٥) (صحیح) (اس کے راوی ” محمد بن زبیر “ ضعیف الحدیث ہیں، لیکن عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3840
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَهُوَ عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ.
তাহকীক: