কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৬ টি
হাদীস নং: ৩৮৩২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر اور منت ماننے کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر (ماننے) سے منع کیا اور فرمایا : اس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/القدر ٦ (٦٦٠٨) ، الأیمان ٢٦ (٦٦٩٣) ، صحیح مسلم/ال نذر ٢ (١٦٣٩) ، سنن ابی داود/الأیمان ٢١ (٣٢٨٧) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٨٧) ، مسند احمد (٢/٦١، ٨٦، ١١٨) ، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٥ (٢٣٨٥) ، ویأتي فیما یلي : ٣٨٣٣، ٣٨٣٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ ہوچکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آسکتی، اس لیے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3801
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ، إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر اور منت ماننے کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا : اس سے کوئی چیز رد نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3802
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ منت آنے والی چیز کو پیچھے اور پیچھے کی چیز کو آگے نہیں کرتی اس سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نذر نہ کسی (مقدر) چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3803
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ منت آنے والی چیز کو پیچھے اور پیچھے کی چیز کو آگے نہیں کرتی اس سے متعلق احادیث
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاسکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٣٧٢٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢) ، صحیح مسلم/ال نذر (١٦٤٠) ، سنن ابی داود/الأیمان ٢١ (٣٢٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥(٢١٢٣) ، مسند احمد ٢/٢٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم ﷺ نے صراحۃً اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا ہے، لیکن سیاق سے بالکل واضح ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3804
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ اسْتُخْرِجَ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ نذر اس واسطے ہے کہ اس سے کنجوس شخص کا مال خرچ کرائے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر (کے لکھے) میں کچھ کام نہیں آتی، اس سے تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأیمان ٢٦ (١٦٤٠) ، سنن الترمذی/الأیمان ١٠ (١٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٠٥٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3805
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ کسی عبادت کے واسطے منت ماننا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأیمان ٢٨ (٦٦٩٦) ، ٣١ (٦٧٠٠) ، سنن ابی داود/الأیمان ٢٢ (٣٢٨٩) ، سنن الترمذی/الأیمان ٢ (١٥٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٥٨) ، موطا امام مالک/النذور ٤ (٨) ، مسند احمد ٦/٣٦، ٤١، ٢٢٤) ، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٣ (٢٣٨٣) ، ویأتي فیمایلي : ٣٨٣٨، ٣٨٣٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نذر کا تعلق اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے ہے تو اسے پوری کرے اور اگر اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ہے تو اسے پوری نہ کرے اور اس کا کفارہ دیدے، رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور نافرمانی کا بھی یہی حکم ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3806
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ گناہ کے کام میں منت سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3807
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ گناہ کے کام میں منت سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو نذر مانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کرے گا تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٣٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ منت پوری کرنا
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے زیادہ اچھے اور بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ آپ ﷺ نے ثم الذين يلونهم کا ذکر دو بار کیا یا تین بار، پھر آپ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو خیانت کریں گے اور انہیں امین (امانت دار) نہیں سمجھا جائے گا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی اور نذر مانیں گے اور اسے پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہوگا ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ ابوجمرہ نصر بن عمران ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ٩ (٢٦٥١) ، و فضائل الصحابة ١ (٣٦٥٠) ، الرقاق ٧ (٦٤٢٨) ، الأیمان ٧ (٦٦٩٥) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٢ (٢٥٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٢٧) ، سنن ابی داود/السنة ١٠ (٤٦٥٧) ، سنن الترمذی/الفتن ٤٥ (٢٢٢٣) ، والشہادات ٤ (٢٣٠٢) ، مسند احمد (٤/٤٢٦، ٤٢٧، ٤٣٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ جواب دہی کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، عیش و آرام کے عادی ہوجائیں گے اور دین و ایمان کی فکر جاتی رہے گی جو ان کے مٹاپے کا سبب ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3809
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يَذْكُرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ مَرَّتَيْنِ بَعْدَهُ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ: قَوْمًا يَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيُنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو جَمْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس نذر سے متعلق کہ جس میں رضاء الہی کا قصد نہ کیا جائے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا : یہ نذر ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٢٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نذر اس طرح سے بھی ادا ہوجائے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح خ دون قوله إنه نذر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3810
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلًا فِي قَرَنٍ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَعَهُ، قَالَ: إِنَّهُ نَذْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس نذر سے متعلق کہ جس میں رضاء الہی کا قصد نہ کیا جائے
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ ﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کرلے جائے۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس (آدمی) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا ہاتھ ایک دوسرے آدمی سے تسمے سے یا دھاگے سے یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا : اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کرلے جاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٩٢٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3811
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، وَإِنْسَانٌ قَدْ رَبَطَ يَدَهُ بِإِنْسَانٍ آخَرَ بِسَيْرٍ أَوْ خَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: قُدْهُ بِيَدِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس شے کی نذر ماننا جو کہ ملکیت میں نہ ہو
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اور نہ ہی کسی ایسی چیز میں ہے جس کا ابن آدم مالک نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ال نذر ٣ (١٦٤١) ، سنن ابی داود/ال نذر ٢٨ (٣٣١٦) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦(٢١٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٤، ١٠٨٨٨) ، مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣٠، ٤٣٢، ٤٣٣، ٤٣٤) ، سنن الدارمی/النذور ٣ (٢٣٨٢) ، وأعادہ المؤلف برقم : ٣٨٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3812
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس شے کی نذر ماننا جو کہ ملکیت میں نہ ہو
ثابت بن ضحاک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی دین اسلام کے سوا کسی دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اسی طرح ہوگا جیسے اس نے کہا، اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٨٠١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3813
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جو شخص خانہ کعبہ کے لئے پیدل جانے سے متعلق نذر کرے
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ پیدل جائے گی، اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھوں، میں نے اس کے لیے نبی اکرم ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا : وہ پیدل جائے اور سوار ہو کر (بھی) جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٧ (١٨٦٦) ، صحیح مسلم/ال نذر ٤ (١٦٤٤) ، سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٥٧) ، مسند احمد (٤/١٤٧، ١٥٢، ٢٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3814
أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِتَمْشِ، وَلْتَرْكَبْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت ننگے پاؤں ننگے سر چل کر حج پر جانے کی قسم کھائے
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ دوپٹہ اوڑھے بغیر پیدل (حج کرنے) جائے گی۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اسے حکم دو کہ وہ اوڑھنی اوڑھ کر اور سوار ہو کر جائے اور تین دن کے روزے رکھ لے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأیمان ٢٣ (٣٢٩٣) ، سنن الترمذی/الأیمان ١٦ (١٥٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢٠ (٢١٣٤) ، مسند احمد ٣/١٤٣، ٤/ ١٤٥، ١٤٧، ١٤٩، ١٥١) ، سنن الدارمی/النذور والأیمان ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبید اللہ بن زحر “ سخت ضعیف ہیں، لیکن اس میں ” صرف روزہ والی بات “ ضعیف ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3815
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، وَقَالَ عَمْرٌو: إِنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زَحْرٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُرْهَا فَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس شخص سے متعلق کہ جس نے روزے رکھنے کی نذر مان لی پھر وہ شخص فوت ہوگیا اور روزے نے رکھ سکا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا اور نذر مانی کہ وہ ایک مہینہ روزے رکھے گی پھر وہ روزے رکھنے سے پہلے ہی مرگئی تو اس کی بہن نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے روزے رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٦٢٠) ، مسند احمد (١/٣٣٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3816
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَكِبَتِ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ، فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ،فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس شخص سے متعلق کہ جس کی وفات ہوجائے اور اس کے ذمہ نذر ہو
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوچکا تھا تو آپ نے فرمایا : ان کی طرف سے تم اسے پوری کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٦٨٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3817
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ: اقْضِهِ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس شخص سے متعلق کہ جس کی وفات ہوجائے اور اس کے ذمہ نذر ہو
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمے تھی اور وہ اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کرگئی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے ان کی طرف سے تم پوری کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٦٨٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3818
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِهِ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اس شخص سے متعلق کہ جس کی وفات ہوجائے اور اس کے ذمہ نذر ہو
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میری ماں مرگئیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسے ان کی جانب سے تم پوری کر دو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٦٨٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3819
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ وَهُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَلَمْ تَقْضِهِ، قَالَ: اقْضِهِ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص منت پوری کرنے سے پہلے مسلمان ہوجائے تو کیا کرے؟
عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاعتکاف ٥ (٢٠٣٢) ، ١٥ (٢٠٤٢) ، ١٦(٢٠٤٣) ، الأیمان ٢٩ (٦٦٩٧) ، صحیح مسلم/الأیمان ٦ (١٦٥٦) ، سنن ابی داود/الصوم ٨٠ (٢٤٧٤) ، الأیمان ٣٢(٣٣٢٥) ، سنن الترمذی/الأیمان ١١ (١٥٣٩) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦٠ (١٧٧٢) ، الکفارات ١٨ (٢١٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥٥٠) ، مسند احمد (١/٦٨٧) ، مسند احمد (١/٣٧ و ٢/٢٠، ٨٢، ١٥٣) ، سنن الدارمی/النذور والأیمان ١ (٢٣٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: چونکہ یہ نذر ایک جائز چیز میں تھی اس لیے آپ نے اسے پوری کرنے کا حکم دیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3820
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهِ لَيْلَةٌ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَعْتَكِفُهَا، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.
তাহকীক: