কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
طلاق سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৫ টি
হাদীস নং: ৩৪৫৮
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ غلام کے طلاق دینے سے متعلق
بنی نوفل کے غلام حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) سے ایک غلام کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں پھر وہ دونوں آزاد کردیے گئے، پوچھا گیا : کیا وہ اس سے شادی کرسکتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، (کر سکتا ہے) کسی نے کہا کس سے سن کر یہ بات کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلہ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے کہا : یہ حسن کون ہیں ؟ انہوں نے تو اپنے سر پر ایک بڑی چٹان لاد لی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎: غلام دو طلاق دیدے تو عورت بائنہ ہوجاتی ہے، بائنہ ہوجانے کے بعد عورت جب تک کسی اور سے شادی نہ کرلے اور طلاق یا موت کسی بھی وجہ سے اس کی علیحدگی نہ ہوجائے تو وہ عورت پہلے شوہر سے دوبارہ شادی نہیں کرسکتی ہے۔ لیکن یہاں دونوں کو آزاد ہوجانے کے بعد بغیر حلالہ کے شادی کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اب یہ روایت - اللہ نہ کرے - غلط ہوئی تو اس طرح کی سبھی شادیوں کا وبال اس راوی حسن کے ذمہ آئے گا اور وہ گویا ایک بڑی چٹان کے نیچے دب کر رہ جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3428
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، عَنْ الْحَسَنِ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْعَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ عُتِقَا، أَيَتَزَوَّجُهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: عَمَّنْ ؟ قَالَ: أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ: الْحَسَنُ هَذَا مَنْ هُوَ لَقَدْ حَمَلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৯
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لڑکے کا کس عمر میں طلاق دینا معتبر ہے؟
قریظہ رضی الله عنہ کے دونوں بیٹے روایت کرتے ہیں کہ وہ سب (یعنی بنو قریظہ کے نوجوان) قریظہ کے (فیصلے کے) دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیے گئے، تو جسے احتلام ہونے لگا تھا، یا جس کی ناف کے نیچے کے بال اگ آئے تھے اسے (جوان قرار دے کر) قتل کردیا گیا۔ اور جسے ابھی احتلام ہونا شروع نہیں ہوا تھا یا جس کی ناف کے نیچے کے بال نہیں آئے تھے اسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا گیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٦٦١) ، مسند احمد (٤/٣٤، ٥/٣٧٢) (صحیح) (آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جب تک لڑکا بالغ نہ ہوجائے اور اچھا برا سمجھنے نہ لگے اسے طلاق دینے کا اختیار نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3429
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْعُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنَا قُرَيْظَةَ، أَنَّهُمْعُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَمَنْ كَانَ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مُحْتَلِمًا أَوْ لَمْ تَنْبُتْ عَانَتُهُ تُرِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬০
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لڑکے کا کس عمر میں طلاق دینا معتبر ہے؟
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ جب سعد (رض) نے بنو قریظہ کے مردوں کے قتل کا فیصلہ دیا تو اس وقت میں بچہ تھا، لوگوں کو میرے متعلق شبہ ہوا (کہ میں فی الواقع بچہ ہوں یا جوان ؟ جب انہوں نے تحقیق کی) تو مجھے زیر ناف کے بالوں والا نہیں پایا اور میں بچ رہا۔ چناچہ میں آج تمہارے درمیان موجود ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٧ (٤٤٠٤) ، سنن الترمذی/السیر ٢٩ (١٥٨٤) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٤ (٢٥٤١) ، مسند احمد (٤/٣١٠، ٣٨٣، و ٥/٣١١، ٣١٢، سنن الدارمی/السیر ٢٦ (٢٥٠٧) ، ویأتي عند المؤلف في القطع ١٧ برقم : ٤٩٨٤، ٤٤٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3430
أخبرنا محمد بن منصور قال حدثنا سفيان عن عبد الملك بن عمير عن عطية القرظي قال: كنت يوم حكم سعد في بني قريظة غلاما فشكوا في فلم يجدوني أنبت فاستبقيت فها أنا ذا بين أظهركم .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬১
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لڑکے کا کس عمر میں طلاق دینا معتبر ہے؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو جنگ احد کے موقع پر (جنگ میں شریک ہونے کے لیے) ١٤ سال کی عمر میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے انہیں (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔ اور غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ وہ پندرہ سال کے ہوچکے تھے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ نے اجازت دے دی (اور مجاہدین میں شامل کرلیا) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشہادات ١٨ (٢٦٦٤) ، المغازي ٢٩ (٤٠٩٧) ، سنن ابی داود/الخراج ١٦ (٢٩٥٧) ، الحدود ١٧ (٤٤٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٨١٥٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الإمارة ٢٣ (١٨٦٨) ، سنن الترمذی/الأحکام ٢٤ (١٣١٦) ، الجہاد ٣١ (١٧١١) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٤ (٥٢٤٣) ، مسند احمد (٢/١٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ پندرہ سال کا لڑکا جوان ہوجاتا ہے اور جب تک جوان نہیں ہوجاتا جس طرح جنگ میں شریک نہیں ہوسکتا اسی طرح طلاق بھی نہیں دے سکتا، ابن عمر رضی الله عنہما نے جو یہ کہا کہ جنگ احد کے موقع پر چودہ سال کی عمر میں اور غزوہ خندق کے موقع پر پندرہ سال کی عمر میں پیش ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چودہ سال کی عمر میں داخل ہوچکے تھے اور پندرہ سال کا مطلب ہے اس سے تجاوز کرچکے تھے، اس توجیہ سے غزوہ خندق کے وقوع سے متعلق جو اختلاف ہے اور اس اختلاف سے ابن عمر رضی الله عنہما کی عمر سے متعلق جو اشکال پیدا ہوتا ہے وہ رفع ہوجاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3431
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْهُ، وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬২
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بعض لوگ جن کا طلاق دینا معتبر نہیں ہے
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ١ ؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ٢ ؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٦ (٤٣٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٥ (٢٠٤١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٣٥) ، مسند احمد (٦/١٠٠، ١٠١، ١٤٤) ، سنن الدارمی/الحدود ١ (٢٣٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان حالات میں ان پر گناہ کا حکم نہیں لگتا۔ ٢ ؎: یعنی سونے کی حالت میں جو کچھ کہہ دے اس کا اعتبار نہ ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3432
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يُفِيقَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৩
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے دل میں طلاق دے اس کے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، (عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کردیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں اور اس پہ عمل نہ کریں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٤١٩٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3433
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْعَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي كُلَّ شَيْءٍ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৪
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے دل میں طلاق دے اس کے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ عزوجل نے ہماری امت کے وسوسوں اور جی میں گزرنے والے خیالات سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العتق ٦ (٢٥٢٨) ، الطلاق ١١ (٥٢٦٩) ، الأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٥٨ (١٢٧) ، سنن ابی داود/الطلاق ١٥ (٢٢٠٩) ، سنن الترمذی/الطلاق ٨ (١١٨٣) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٦ (٢٠٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨٩٦) ، مسند احمد ٢/ ٢٥٥، ٣٩٣، ٣٩٨، ٤٧٤، ٤٨١، ٤٩١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3434
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي، مَا وَسْوَسَتْ بِهِ وَحَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৫
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے دل میں طلاق دے اس کے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری امت کے لوگوں کے دل میں جو بات کھٹکتی اور گزرتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٤٦٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3435
أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَكَلَّمْ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৬
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایسے اشا رہ سے طلاق دینا جو سمجھ میں آتا ہو
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک فارسی پڑوسی تھا جو اچھا شوربہ بناتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ کے پاس عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، اس نے آپ کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بلایا، آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے پوچھا : کیا انہیں بھی لے کر آؤں ، اس نے ہاتھ سے اشارہ سے منع کیا دو یا تین بار کہ نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ١٩ (٢٠٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٥) ، مسند احمد (٣/١٢٣، ٢٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ کوئی اشارۃً طلاق دے اور معلوم ہوجائے کہ طلاق دے رہا ہے تو طلاق پڑجائے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح م نحوه وزاد قال رسول الله لا ثم عاد يدعوه فقال رسول الله وهذه قال نعم في الثالثة فقاما يتدافعان حتى أتيا منزله صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3436
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارٌ فَارِسِيٌّ طَيِّبُ الْمَرَقَةِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ، وَأَوْمَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ أَيْ وَهَذِهِ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ الْآخَرُ هَكَذَا بِيَدِهِ أَنْ لَا، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৭
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ایسے کلام کے بارے میں جس کے متعدد معنی ہوں اگر کسی ایک معنی کا ارادہ ہو تو وہ درست ہوگا
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ آدمی جیسی نیت کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا، جو اللہ و رسول کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی (اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کا ثواب ملے گا) اور جو کوئی دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے دنیا ملے گی، یا عورت حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے عورت ملے گی۔ ہجرت جس قصد و ارادے سے ہوگی اس کا حاصل اس کے اعتبار سے ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3437
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৮
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی ایک لفظ صاف بولا جائے اور اس سے وہ مفہوم مراد لیا جائے جو کہ اس سے نہیں نکلتا تو وہ بیکار ہوگا
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ذرا دیکھو تو (غور کرو) اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور لعنتوں سے مجھے کس طرح بچا لیتا ہے، وہ لوگ مجھے مذمم کہہ کر گالیاں دیتے اور مذمم کہہ کر مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں اور میں محمد ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٣٧٨٢) ، مسند احمد (٢/٢٤٤، ٣٤٠، ٣٦٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نام اور وصف دونوں اعتبار سے میں محمد ہوں، لہٰذا مجھ پر مذمم کا اطلاق کسی بھی صورت میں ممکن ہی نہیں، کیونکہ محمد کا مطلب ہے جس کی تعریف کی گئی ہو تو مجھ پر ان کی گالیوں اور لعنتوں کا اثر کیونکر پڑ سکتا ہے۔ گویا ایسا لفظ جو طلاق کے معنی و مفہوم کے منافی ہے اس کا اطلاق طلاق پر اسی طرح نہیں ہوسکتا جس طرح مذمم کا اطلاق محمد پر نہیں ہوسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3438
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ: انْظُرُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ، وَلَعْنَهُمْ، إِنَّهُمْ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৬৯
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اختیار کی مدت مقرر کرنے کے بارے میں
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا ١ ؎ تو رسول اللہ ﷺ نے اس (اختیار دہی) کی ابتداء مجھ سے کی، آپ ﷺ نے فرمایا : میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں تو ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر فیصلہ لینے میں جلدی نہ کرنا ٢ ؎، آپ ﷺ بخوبی سمجھتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے، پھر آپ ﷺ نے آیت : يا أيها النبي قل لأزواجک إن کنتن تردن الحياة الدنيا اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں ۔ (الاحزاب : ٢٨) تک پڑھی (یہ آیت سن کر) میں نے کہا : میں اس بات کے لیے اپنے ماں باپ سے صلاح و مشورہ لوں ؟ (مجھے کسی سے مشورہ نہیں لینا ہے) میں اللہ عزوجل، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں (یہی میرا فیصلہ ہے) آپ ﷺ کی دوسری بیویوں نے بھی ویسا ہی کیا (اور کہا) جیسا میں نے کیا (اور کہا) تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے ان سے کہنے اور ان کے رسول اللہ ﷺ کو منتخب کرلینے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ٤ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٢٠٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی دنیا اور اس کی زینت اور نبی کی مصاحبت میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرلیں۔ ٢ ؎: معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے عائشہ رضی الله عنہا کے خیار کی مدت ماں باپ سے مشورہ لینے تک متعین کی۔ ٤ ؎: اس لیے کہ وہ بیویاں تو پہلے ہی سے تھیں، اگر وہ آپ کو منتخب نہ کرتیں تب طلاق ہوجاتی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3439
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَمُوسَى بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فَقَالَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تُعَجِّلِي، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَايَ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِّي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا إِلَى قَوْلِهِ: جَمِيلا سورة الأحزاب آية 28، فَقُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَسُولَهُ، وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ حِينَ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاخْتَرْنَهُ طَلَاقًا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُنَّ اخْتَرْنَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭০
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اختیار کی مدت مقرر کرنے کے بارے میں
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت : إن کنتن تردن اللہ ورسوله اتری تو نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات چیت کی، آپ نے فرمایا : عائشہ ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تو تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔ آپ بخوبی جانتے تھے کہ قسم اللہ کی میرے ماں باپ مجھے آپ سے جدائی اختیار کرلینے کا مشورہ و حکم دینے والے ہرگز نہیں ہیں، پھر آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی : يا أيها النبي قل لأزواجک إن کنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها میں نے (یہ آیت سن کر) آپ سے عرض کیا : کیا آپ مجھے اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کرلینے کے لیے کہہ رہے ہیں، میں تو اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں (اس بارے میں مشورہ کیا کرنا ؟ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ (یعنی حدیث معمر عن الزہری عن عائشہ غلط ہے اور اول (یعنی حدیث یونس و موسیٰ عن ابن شہاب، عن أبی سلمہ عن عائشہ زیادہ قریب صواب ہے۔ واللہ أعلم۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب ١٥ (٤٧٨٦ م) تعلیقًا، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٠ (٢٠٩) ، تحفة الأشراف : ١٦٦٣٢) ، مسند احمد (٦/٣٣، ١٦٣، ١٨٥، ٢٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3440
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة الأحزاب آية 29، دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تُعَجِّلِي، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ، أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِّي بِفِرَاقِهِ، فَقَرَأَ عَلَيَّ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28، فَقُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ، وَرَسُولَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ، وَالْأَوَّلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ان خواتین سے متعلق کہ جن کو اختیار دے دیا گیا اور انہوں نے اپنے شوہر کو اختیار کیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم (ازواج مطہرات) کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ﷺ ہی کو چن لیا، تو کیا یہ طلاق ہوئی ؟ (نہیں، یہ طلاق نہیں ہوئی) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٢٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3441
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَاهُ، فَهَلْ كَانَ طَلَاقًا ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ان خواتین سے متعلق کہ جن کو اختیار دے دیا گیا اور انہوں نے اپنے شوہر کو اختیار کیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو یہ اختیار دینا طلاق نہیں ہوا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٢٠٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3442
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ الشَّعْبِيُّ: عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، فَلَمْ يَكُنْ طَلَاقًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৩
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ان خواتین سے متعلق کہ جن کو اختیار دے دیا گیا اور انہوں نے اپنے شوہر کو اختیار کیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو یہ اختیار طلاق نہیں تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٢٠٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3443
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدْ خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، فَلَمْ يَكُنْ طَلَاقًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৪
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ان خواتین سے متعلق کہ جن کو اختیار دے دیا گیا اور انہوں نے اپنے شوہر کو اختیار کیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو (انتخاب کا) اختیار دیا تو کیا یہ (اختیار) طلاق تھا ؟ (نہیں، یہ طلاق نہیں تھا) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٢٠٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3444
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدْ خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، أَفَكَانَ طَلَاقًا ؟.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৫
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ ان خواتین سے متعلق کہ جن کو اختیار دے دیا گیا اور انہوں نے اپنے شوہر کو اختیار کیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو ہم سب نے آپ کو منتخب اور قبول کرلیا، تو آپ ﷺ نے اسے ہم سے متعلق کچھ بھی شمار نہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٣٠٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3445
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَعُدَّهَا عَلَيْنَا شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৬
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس وقت شوہر اور بیوی دونوں ہی غلام اور باندی ہوں پھر وہ آزادی حاصل کرلیں تو اختیار ہوگا
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی تھی (یہ دونوں میاں بیوی تھے) میرا ارادہ ہوا کہ ان دونوں کو میں آزاد کر دوں۔ میں نے اس ارادہ کا اظہار رسول اللہ ﷺ سے کردیا تو آپ نے فرمایا : لونڈی سے پہلے غلام کو آزاد کرو (پھر لونڈی کو) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطلاق ٢٢ (٢٢٣٧) ، سنن ابن ماجہ/العتق ١٠ (٢٥٣٢) (تحفة الأشراف : ١٧٥٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن بن موہب ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: غالباً ایسا عورت کے مقابلے میں مرد کی بزرگی و بڑائی کے باعث کہا گیا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3446
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَلِعَائِشَةَ غُلَامٌ وَجَارِيَةٌ، قَالَتْ: فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْتِقَهُمَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْدَئِي بِالْغُلَامِ قَبْلَ الْجَارِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৭
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ باندی کو اختیار دینے سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے تین سنتیں تھیں ١ ؎، ایک یہ کہ وہ لونڈی تھیں آزاد کی گئیں، (آزادی کے باعث) انہیں ان کے شوہر کے سلسلہ میں اختیار دیا گیا (اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کرلینے کا) اور (دوسری سنت یہ کہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ولاء (میراث) آزاد کرنے والے کا حق ہے ، اور (تیسری سنت یہ کہ) رسول اللہ ﷺ (ان کے) گھر گئے (اس وقت ان کے یہاں) ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا، آپ کے سامنے روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں نے گوشت کی ہنڈیا نہیں دیکھی ہے ؟ (تو پھر گوشت کیوں نہیں لائے ؟ ) لوگوں نے عرض کیا : ہاں، اللہ کے رسول ! (آپ نے صحیح دیکھا ہے) لیکن یہ گوشت وہ ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھاتے (اس لیے آپ کے سامنے گوشت نہیں رکھا گیا ہے) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن (جب تم اسے مجھے پیش کرو گے تو) وہ میرے لیے ہدیہ ہوگا (اس لیے اسے پیش کرسکتے ہو) ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ النکاح ١٩ (٥٠٩٧) ، الطلاق ٢٤ (٥٢٧٩) ، العتق ١٠ (٢٥٣٦) ، الأطعمة ٣١ (٥٤٣٠) ، الفرائض ٢٠ (٦٧٥٤) ، ٢٢ (٦٧٥٧) ، ٢٣ (٦٧٥٩) ، م /الزکاة ٥٢ (١٠٧٥) ، العتق ٢ (١٥٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٤٩) وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الفرائض ١٢ (٢٩١٥) ، سنن الترمذی/البیوع ٣٣ (١٢٥٦) ، والولاء ١ (٢١٢٥) ، موطا امام مالک/الطلاق ١٠ (٢٥) ، مسند احمد (٦/١٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی بریرہ رضی الله عنہا کے سبب تین سنتیں وجود میں آئیں۔ ٢ ؎: ولاء اس میراث کو کہتے ہیں جو آزاد کردہ غلام یا عقد موالاۃ کی وجہ سے حاصل ہو۔ ٣ ؎: معلوم ہوا کہ کسی چیز کی ملکیت مختلف ہوجائے تو اس کا حکم بھی مختلف ہوجاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3447
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ إِحْدَى السُّنَنِ: أَنَّهَا أُعْتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ ؟فَقَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ.
তাহকীক: