কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
طلاق سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৫ টি
হাদীস নং: ৩৪৯৮
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص مقررہ آدمی کا نام لے کر عورت پر تہمت لگائے ان کے درمیان لعان کی صورت
عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ ہشام سے ایک ایسے شخص سے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی پر زنا و بدکاری کا تہمت لگاتا ہے تو ہشام نے (اس کے جواب میں) محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے اس کے متعلق پوچھا اور یہ سمجھ کر پوچھا کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہوگا تو انہوں نے کہا : ہلال بن امیہ (رض) نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ٹھہرایا۔ بلال براء بن مالک کے ماں کے واسطہ سے بھائی تھے اور یہ پہلے شخص تھے جن ہوں نے لعان کیا ١ ؎، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا۔ پھر فرمایا : بچے پر نظر رکھو اگر وہ بچہ جنے گورا چٹا، لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا تو سمجھو کہ وہ ہلال بن امیہ کا بیٹا ہے اور اگر وہ سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی ٹانگوں والا بچہ جنے تو (سمجھو) وہ شریک بن سحماء کا ہے۔ وہ (یعنی انس رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں : مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ چنا ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦١) ، مسند احمد (٣/١٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ان سے پہلے کسی نے لعان نہیں کیا تھا ان کے لعان کرنے سے لعان کا طریقہ معلوم ہوا۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حالت حمل میں حاملہ عورت سے لعان کرنا منع نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3468
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: سُئِلَ هِشَامٌ عَنِ الرَّجُلِ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ، فَحَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ ذَلِكَ، وَأَنَا أَرَى أَنَّ عِنْدَهُ مِنْ ذَلِكَ عِلْمًا، فَقَالَ: إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، وَكَانَ أَخُو الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: ابْصُرُوهُ، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ، فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، قَالَ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا أَحْمَشَ السَّاقَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৯৯
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لعان کا طریقہ
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا لعان ہلال بن امیہ کا اس طرح ہوا کہ انہوں نے شریک بن سمحاء پر اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کو اس بات کی خبر دی، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : چار گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی (کوڑے پڑیں گے) آپ نے یہ بات بارہا کہی، ہلال نے آپ سے کہا : قسم اللہ کی، اللہ کے رسول ! اللہ عزوجل بخوبی جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور (مجھے یقین ہے) اللہ بزرگ و برتر آپ ﷺ پر کوئی ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو کوڑے کھانے سے بچا دے گا، ہم سب یہی باتیں آپس میں کر ہی رہے تھے کہ آپ پر لعان کی آیت : والذين يرمون أزواجهم۔ آخر تک نازل ہوئی ١ ؎ آیت نازل ہونے کے بعد آپ نے ہلال کو بلایا، انہوں نے اللہ کا نام لے کر (یعنی قسم کھا کر) چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہیں اور پانچویں بار انہوں نے کہا کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹے لوگوں میں سے ہوں، پھر عورت بلائی گئی اور اس نے بھی چار بار اللہ کا نام لے کر (قسم کھا کر) چار گواہیاں دیں کہ وہ (شوہر) جھوٹوں میں سے ہے (راوی کو شک ہوگیا) چوتھی بار یا پانچویں بار قسم کھانے کا جب موقع آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ذرا) اسے روکے رکھو (آخری قسم کھانے سے پہلے اسے خوب سوچ سمجھ لینے دو ہوسکتا ہے وہ سچائی کا اعتراف کرلے) کیونکہ یہ گواہی (اللہ کی لعنت و غضب کو) واجب و لازم کر دے گی ، وہ رکی اور ہچکائی تو ہم نے شک کیا (سمجھا) کہ (شاید) وہ اعتراف گناہ کرلے گی، مگر وہ بولی : میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے شرمندہ، رسوا و ذلیل نہیں کرسکتی، یہ کہہ کر (آخری) قسم بھی کھا گئی۔ (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے دیکھتے رہو اگر وہ سفید (گورا) لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا بچہ جنے تو (سمجھو کہ) وہ ہلال بن امیہ کا لڑکا ہے اور اگر وہ بچہ گندم گوں، پیچیدہ الجھے ہوئے بالوں والا، میانہ قد کا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو (سمجھو) وہ شریک بن سحماء کا ہے ۔ تو اس عورت نے گندمی رنگ کا گھونگھریالے بالوں والا، درمیانی سائز کا، پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا، (اس کے جننے کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اس معاملے میں اللہ کا فیصلہ نہ آچکا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ (یعنی میں اس پر حد قائم کر کے رہتا) ۔ واللہ اعلم تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي وانظر ماقبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کا کوئی گواہ بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں ( النور : ٦ ) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آیت لعان ہلال رضی الله عنہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے وقت نازل ہوئی جب کہ عاصم رضی الله عنہ کی حدیث رقم ( ٣٤٩٦ ) میں ہے کہ یہ آیت عویمر رضی الله عنہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے۔ تطبیق کی صورت یہ ہے کہ یہ واقعہ سب سے پہلے ہلال کے ساتھ پیش آیا پھر اس کے بعد عویمر بھی اس سے دو چار ہوئے پس یہ آیت ایک ساتھ دونوں سے متعلق نازل ہوئی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3469
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ لِعَانٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ: أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ شَرِيكَ بْنَ السَّحْمَاءِ بِامْرَأَتِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعَةَ شُهَدَاءَ، وَإِلَّا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ مِرَارًا، فَقَالَ لَهُ هِلَالٌ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَعْلَمُ أَنِّي صَادِقٌ، وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْجَلْدِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ آيَةُ اللِّعَانِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَدَعَا هِلَالًا، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ دُعِيَتِ الْمَرْأَةُ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقِّفُوهَا، فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ، فَتَلَكَّأَتْ حَتَّى مَا شَكَكْنَا أَنَّهَا سَتَعْتَرِفُ، ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَمَضَتْ عَلَى الْيَمِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، فَجَاءَتْ بِهِ آدَمَ جَعْدًا رَبْعًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا مَا سَبَقَ فِيهَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَالْقَضِيءُ: طَوِيلُ شَعْرِ الْعَيْنَيْنِ، لَيْسَ بِمَفْتُوحِ الْعَيْنِ، وَلَا جَاحِظِهِمَا، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০০
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام کا دعا کرنا کہ اللہ تو میری رہبری فرما
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے لعان کا ذکر آیا، عاصم بن عدی (رض) نے اس سلسلے میں کوئی بات کہی پھر وہ چلے گئے تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص شکایت لے کر آیا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے، یہ بات سن کر عاصم (رض) کہنے لگے : میں اپنی بات کی وجہ سے اس آزمائش میں ڈال دیا گیا ١ ؎ تو وہ اس آدمی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور اس نے آپ کو اس آدمی کے متعلق خبر دی جس کے ساتھ اپنی بیوی کو ملوث پایا تھا۔ یہ آدمی (یعنی شوہر) زردی مائل، کم گوشت والا (چھریرا بدن) سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کو اپنی بیوی کے پاس پانے کا مجرم قرار دیا تھا وہ شخص گندمی رنگ، بھری پنڈلیوں والا، زیادہ گوشت والا (موٹا بدن) تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہم بین اے اللہ معاملہ کو واضح کر دے ، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہہ بچہ جنا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کرنے کا حکم دیا۔ اس مجلس کے ایک آدمی نے جس میں ابن عباس (رض) نے یہ حدیث بیان کی کہا : (ابن عباس ! ) کیا یہ عورت وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کردیتا، ابن عباس (رض) نے فرمایا : نہیں، یہ عورت وہ عورت نہیں ہے۔ وہ عورت وہ تھی جو اسلام میں شر پھیلاتی تھی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٣١ (٥٣١٠) ، ٣٦ (٥٣١٦) ، الحدود ٤٣ (٦٨٥٦) ، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٢٩٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نہ میں کہتا اور نہ یہ شخص میرے پاس یہ مقدمہ و قضیہ لے کر آتا۔ ٢ ؎: یعنی فاحشہ تھی، بدکاری کرتی تھی لیکن اس کے خلاف ثبوت نہیں تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3470
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ: أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، قَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا بِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعْرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ، أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ: أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ الشَّرَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০১
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام کا دعا کرنا کہ اللہ تو میری رہبری فرما
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کی بات آئی تو عاصم بن عدی (رض) نے اس معاملے میں کوئی بات کہی پھر واپس چلے گئے، ان کی قوم کا ایک آدمی ان کے پاس پہنچا اور اس نے انہیں بتایا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ (زنا کرتا ہوا) پایا ہے تو وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر گئے، اس نے آپ کو اس شخص سے باخبر کیا جس کے ساتھ اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ آدمی (یعنی شوہر) زردی مائل، دبلا، سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ وہ اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے گندمی رنگ، بھری ہوئی پنڈلیوں والا، فربہ، گھونگھریالے چھوٹے بالوں والا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اللھم بیّن اے اللہ تو اسے واضح کر دے پھر اس نے بچہ جنا، وہ بچہ بالکل اسی طرح تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا، ایک آدمی نے جو (اس وقت) مجلس میں موجود تھا ابن عباس (رض) سے پوچھا : کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا کہ اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو کردیتا۔ ابن عباس (رض) نے کہا : نہیں، یہ عورت تو اسلام میں رہتے ہوئے شر پھیلاتی تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٥٠٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی بدکاری کراتی تھی، لیکن اقرار اور ثبوت نہ ہونے کے باعث قانون کی گرفت سے بچی ہوئی تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3471
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَذَكَرَ: أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ: مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعْرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ: أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ، جَعْدًا قَطَطًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَيِّنْ، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ، أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ الشَّرَّ فِي الْإِسْلَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০২
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ پانچویں مرتبہ قسم کھانے کے وقت لعان کرنے والوں کے چہرہ پر ہاتھ رکھنے کا حکم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب دو لعان کرنے والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کو (یہ بھی) حکم دیا کہ جب پانچویں قسم کھانے کا وقت آئے تو لعان کرنے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ قسم اللہ کی لعنت و غضب کو لازم کر دے گی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطلاق ٢٧ (٢٢٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تاکہ وہ ایک بار پھر سوچ لے کہ وہ کتنی بڑی اور بھیانک قسم کھانے جا رہا ہے۔ ٢ ؎: یعنی جھوٹے ہوں گے تو اللہ کی لعنت و غضب کے سزاوار ہونے سے بچ نہ سکیں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3472
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ رَجُلًا حِينَ أَمَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَتَلَاعَنَا: أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ عَلَى فِيهِ، وَقَالَ: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৩
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ امام کا لعان کے وقت مرو و عورت کو نصیحت کرنا
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر (رض) کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا (کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق (جدائی) کردی جائے گی ؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر (رض) کے گھر چلا گیا، میں نے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی ؟ انہوں نے کہا : ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا (ابن عمر (رض) نے ان کا نام نہیں لیا) اس آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : اللہ کے رسول ! (ارأیت عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی روایت میں ارأیت کا لفظ نہیں استعمال کیا ہے) ، آپ بتائیے ہم میں سے کوئی شخص کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھے (تو کیا کرے ؟ ) اگر وہ زبان کھولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے ١ ؎ اور اگر وہ چپ رہتا ہے تو بھی وہ ایسی بڑی اور بری بات پر چپ رہتا ہے (جو ناقابل برداشت ہے) ، آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا (اس روایت میں ـ فأمر عظیم کے الفاظ آئے ہیں، یہ اس روایت کے ایک راوی محمد بن مثنیٰ کے الفاظ ہیں، اس روایت کے دوسرے راوی عمرو بن علی نے اس کے بجائے اتی امراً عظیماً کے الفاظ استعمال کیے ہیں) ۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش آگیا تو وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : جس بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تھا میں خود ہی اس سے دوچار ہوگیا، (اس وقت) اللہ تعالیٰ نے سورة النور کی یہ آیت : والذين يرمون أزواجهم سے لے کر والخامسة أن غضب اللہ عليها إن کان من الصادقين تک نازل فرمائیں، (اس کارروائی کا) آغاز آپ نے مرد کو وعظ و نصیحت سے کیا، آپ نے اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا، آسان اور کم تر ہے۔ اس شخص نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے عورت کو بھی خطاب کیا، آپ نے اسے بھی وعظ و نصیحت کی، ڈرایا اور آخرت کے سخت عذاب کا خوف دلایا۔ اس نے بھی کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ شخص جھوٹا ہے۔ (اس وعظ و نصیحت کے بعد لعان کی کارروائی روبہ عمل آئی) تو آپ نے (یہ کارروائی) مرد سے شروع کی۔ اس نے اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہے اور پانچویں بار اس نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے عورت سے گواہی لینی شروع کی، اس نے بھی اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ (شوہر) جھوٹوں میں سے ہے اور اس نے پانچویں بار کہا : اس پر (یعنی مجھ پر) اللہ کا غضب نازل ہو اگر وہ (شوہر) سچوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣) ، سنن الترمذی/الطلاق ٢٢ (١١٠٢) ، صحیح البخاری/الطلاق ٣٢ (٥٣١١) ، ٣٥ (٥٣١٥) ، ٥٣ (٥٣٥٠) ، الفرائض ١٧ (٦٧٤٨) ، سنن ابی داود/الطلاق ٢٧ (٢٢٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٥٨) ، مسند احمد (٢/١٢) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٩ (٢٢٧٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس سے کہا جائے گا کہ چار گواہ لاؤ، چار گواہ نہ پیش کرسکو تو کوڑے کھاؤ۔ ٢ ؎: لعان کرنے والوں کے مابین جدائی کے سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ لعان کے بعد دونوں کے مابین جدائی ہوجائے گی، حاکم کے فیصلہ کی ضرورت نہیں، تفصیل کے لیے دیکھئیے زادالمعاد ( ٥/٣٨٨ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3473
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ: أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَقُمْتُ مِنْ مَقَامِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلَاعِنَيْنِ: أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ ؟ وَلَمْ يَقُلْ عَمْرٌو: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ مِنَّا يَرَى عَلَى امْرَأَتِهِ فَاحِشَةً، إِنْ تَكَلَّمَ فَأَمْرٌ عَظِيمٌ ؟ وَقَالَ عَمْرٌو: أَتَى أَمْرًا عَظِيمًا، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّالْأَمْرَ الَّذِي سَأَلْتُكَ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 حَتَّى بَلَغَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَوَعَظَهُ، وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَوَعَظَهَا، وَذَكَّرَهَا، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৪
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کی (لعان کے بعد انہیں ایک ساتھ رہنے دیا) ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے بنی عجلان کے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے مابین تفریق کردی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٦١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3474
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْعَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: لَمْ يُفَرِّقْ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৫
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والے لوگوں سے لعان کے بعد توبہ سے متعلق
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے کہا : کسی نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا (تو کیا کرے) ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے بنو عجلان کے ایک مرد اور عورت کے مابین تفریق کردی تھی۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کا ارادہ رکھتا ہے ، آپ نے یہ بات ان دونوں سے تین بار کہی پھر بھی ان دونوں نے (توبہ کرنے سے) انکار کیا تو آپ نے ان دونوں کے مابین جدائی کردی۔ (ایوب کہتے ہیں : عمرو بن دینار نے کہا : اس حدیث میں ایک ایسی بات ہے، میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے بیان کرو گے ؟ کہتے ہیں : اس شخص نے کہا : میرے مال کا کیا ہوگا (ملے گا یا نہیں) ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ تو اپنی بات میں سچا ہو پھر بھی تیرا مال تجھے واپس نہیں ملے گا کیونکہ تو اس کے ساتھ دخول کرچکا ہے اور اگر اپنی بات میں تو جھوٹا ہے تو تیری جانب مال کا واپس ہونا بعید ترشئی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٣٢ (٥٣١١) ، ٣٣ (٥٣١٢) ، ٥٣ (٥٣٤٩) ، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣) مختصراً ، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧ (٢٢٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٥٠) ، مسند احمد (١/٧٥، ٢/٤، ٣٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ اس عورت سے فائدہ اٹھایا، اس پر تہمت لگائی اور پھر مال کی حرص بھی رکھتا ہے، اس لیے تیرا مال تجھے واپس نہیں ملے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3475
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ: اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ قَالَ لَهُمَا ثَلَاثًا: فَأَبَيَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: إِنَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ شَيْئًا لَا أَرَاكَ تُحَدِّثُ بِهِ، قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: مَالِي، قَالَ: لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهِيَ أَبْعَدُ مِنْكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৬
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لعان کرنے والے افراد کا اجتماع
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے لعان کرنے والوں سے کہا : تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے، (مرد سے کہا :) تمہارا اب اس (عورت) پر کچھ حق و اختیار نہیں ہے ١ ؎، مرد نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے مال کا کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : تمہارا کوئی مال نہیں ہے۔ اگر تم نے اس پر صحیح تہمت لگائی ہے تو تم نے اب تک اس کی شرمگاہ سے حلت کا جو فائدہ حاصل کیا ہے وہ مال اس کا بدل ہوگیا اور اگر تم نے اس عورت پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو یہ تو تمہارے لیے اور بھی غیر مناسب ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٣٣ (٥٣١٢) ، ٥٣ (٥٣٥٠) ، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣) ، سنن ابی داود/الطلاق ٢٧ (٢٢٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٥١) ، مسند احمد ٢/١١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ لعان کے بعد دونوں میں جدائی ہمیشہ ہمیش کے لیے ہوجائے گی، حدیث رسول اور اقوال صحابہ سے یہی ثابت ہے۔ ٢ ؎: یعنی تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال بھی کیا، اس پر جھوٹا الزام بھی لگایا اور اس سے اپنا مال بھی لینے وپانے کا متمنی ہے یہ تو اور بھی غیر ممکن ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3476
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَعَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، وَلَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي، قَالَ: لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৭
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لعان کی وجہ سے لڑکے کا نکار کرنا اور اس کو اس کی والدہ کے سپرد کرنے سے متعلق حدیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کا حکم دیا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کردی اور بچے کو ماں کی سپردگی میں دے دیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٣٥ (٥٣١٥) ، الفرائض ١٧ (٦٧٤٨) ، صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٤) ، سنن ابی داود/الطلاق ٢٧ (٢٢٥٩) ، سنن الترمذی/الطلاق ٢٢ (١٢٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٢٢) ، موطا امام مالک/الطلاق ١٣ (٣٥) ، مسند احمد (٢/٧، ٣٨، ٦٤، ٧١) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٩ (٢٢٧٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3477
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْأُمِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৮
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی اپنی اہلیہ کی جانب اشارہ کرے (بدکاری کا) اور بچے کے متعلق خاموش رہے لیکن اس کا ارادہ اس کا انکار کرنے کا ہی ہو؟
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ١ ؎، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : کس رنگ کے ہیں ؟ ، اس نے کہا لال رنگ (کے ہیں) ، آپ نے فرمایا : کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے ؟ اس نے کہا : (جی ہاں) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا : تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا ہوسکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو۔ آپ نے فرمایا : (یہی بات یہاں بھی سمجھو) ہوسکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللعان ١ (١٥٠٠) ، سنن ابی داود/الطلاق ٢٨ (٢٢٦٠) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٨ (٢٢٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٢٩) ، صحیح البخاری/الطلاق ٢٦ (٥٣٠٥) ، والحدود ٤١ (٦٨٤٧) ، والاعتصام ١٢ (٧٣١٤) ، سنن الترمذی/الولاء ٤ (٢١٢٩) ، مسند احمد (٢/٣٣٤، ٢٣٩، ٤٠٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: گویا اس شخص کو اپنی بیوی پر شک ہوا کہ بیٹے کا کالا رنگ کہیں اس کی بدکاری کا نتیجہ تو نہیں ہے ؟ ٢ ؎: یعنی تم گرچہ گورے سہی تمہارے آباء و اجداد میں کوئی کالے رنگ کا رہا ہوگا اور اس کا اثر تمہارے بیٹے میں آگیا ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3478
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى تَرَى، أَتَى ذَلِكَ ؟ قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০৯
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی اپنی اہلیہ کی جانب اشارہ کرے (بدکاری کا) اور بچے کے متعلق خاموش رہے لیکن اس کا ارادہ اس کا انکار کرنے کا ہی ہو؟
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا : میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ ، اس نے کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا : ان کے رنگ کیسے ہیں ؟ اس نے کہا : سرخ، آپ نے فرمایا : کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے ؟ اس نے کہا (جی ہاں) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا : کسی رگ نے اسے کھینچا ہوگا۔ آپ نے فرمایا : (یہ بھی ایسا ہی سمجھ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہوگا ، آپ ﷺ نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللعان ١ (١٥٠٠) ، سنن ابی داود/الطلاق ٢٨ (٢٢٦١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٧٣) ، مسند احمد (٢/٢٣٣، ٢٧٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3479
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَهُوَ يُرِيدُ الِانْتِفَاءَ مِنْهُ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ قَالَ: فِيهَا ذَوْدُ وُرْقٍ، قَالَ: فَمَا ذَاكَ تُرَى ؟ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ، قَالَ: فَلَعَلَّ هَذَا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১০
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی اپنی اہلیہ کی جانب اشارہ کرے (بدکاری کا) اور بچے کے متعلق خاموش رہے لیکن اس کا ارادہ اس کا انکار کرنے کا ہی ہو؟
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا : اللہ کے رسول ! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ ؟ ، اس نے کہا : مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ ، اس نے کہا : جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا : ان کے رنگ کیا ہیں ؟ ، اس نے کہا : سرخ ہیں، آپ نے فرمایا : کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے ؟ ، اس نے کہا : ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔ آپ نے فرمایا : یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا ؟ ، اس نے کہا : میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول ! ہوسکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو (یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو) ، آپ ﷺ نے فرمایا : اور یہ بھی ہوسکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو ۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٣١٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3480
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ حِمْصِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وُلِدَ لِي غُلَامٌ أَسْوَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي ؟ قَالَ: فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا جَمَلٌ أَوْرَقُ ؟ قَالَ: فِيهَا إِبِلٌ وُرْقٌ، قَالَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَمِنْ أَجْلِهِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لَا يَجُوزُ لِرَجُلٍ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْ وَلَدٍ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، إِلَّا أَنْ يَزْعُمَ أَنَّهُ رَأَى فَاحِشَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১১
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بچے کا انکار کرنے پر وعید شدید کا بیان
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو عورت کسی قوم (خاندان و قبیلے) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم (خاندان و قبیلے) کا نہ ہو (یعنی زنا و بدکاری کرے) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور (ایسے ہی) جو شخص اپنے بیٹے کا (کسی بھی سبب سے) انکار کر دے اور دیکھ رہا (اور سمجھ بوجھ رہا) ہو (کہ وہ بیٹا اسی کا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرلے گا ١ ؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطلاق ٢٩ (٢٢٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٩٧٢) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٢ (٢٢٨٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبداللہ بن یونس “ مجہول ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یعنی قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم رہے گا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3481
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلًا لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَا يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১২
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بچہ فراش والے کا ہے (یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفرائض ١٧ (٦٧٥٠) ، والحدود ٢٣ (٦٨١٨) ، صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٨) ، سنن الترمذی/الرضاع ٨ (١١٥٧) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٩ (٢٠٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣١٣٤) ، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٠٨) ، سنن الدارمی/النکاح ٤١ (٢٢٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی زنا کار اگر کہتا ہے کہ یہ بچہ ہمارے نطفہ کا ہے تو وہ پتھر کا مستحق ہے۔ اور اگر زنا کار شادی شدہ ہے تو ضابطے و قانون شریعت کے مطابق اسے پتھروں سے رجم کردیا جائے گا، یعنی اس کے لیے بالکل یہ محرومی ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3482
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৩
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لڑکا فراش والے (یعنی شوہر) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر ہے (یعنی اسے مار لگے گی یا پتھروں سے رجم کردیا جائے گا) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٨٢) ، مسند احمد (٢/٢٨٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3483
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৪
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ (رض) کا ایک بچے کے سلسلہ میں ٹکراؤ اور جھگڑا ہوگیا۔ سعد (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ بچہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ہے، انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ ان کا بیٹا ہے (میں اسے حاصل کرلوں) ، آپ اس کی ان سے مشابہت دیکھئیے (کتنی زیادہ ہے) ، عبد بن زمعہ (رض) نے کہا : وہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی مشابہت پر نظر ڈالی تو اسے صاف اور واضح طور پر عتبہ کے مشابہ پایا (لیکن) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے عبد (عبد بن زمعہ) وہ بچہ تمہارے لیے ہے (قانونی طور پر تم اس کے بھائی و سرپرست ہو) ، بچہ اس کا ہوتا ہے جس کے تحت بچے کی ماں ہوتی ہے، اور زنا کار کی قسمت و حصے میں پتھر ہے۔ اے سودہ بنت زمعہ ! تم اس سے پردہ کرو ١ ؎، تو اس نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہیں دیکھا (وہ خود ان کے سامنے کبھی نہیں آیا) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٣ (٢٠٥٣) ، ١٠٠ (٢٢١٨) ، الخصومات ٦ (٢٤٢١) ، العتق ٨ (٢٥٣٣) ، الوصایا ٤ (٢٧٤٥) المغازي ٥٣ (٤٣٠٣) ، الفرائض ١٨ (٤٣٤٩) ، ٢٨ (٦٧٦٥) ، الحدود ٢٣ (٦٨١٧) ، الأحکام ٢٩ (٧١٨٢) ، صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٨٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطلاق ٣٤ (٢٢٧٣) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٩ (٢٠٠٤) ، موطا امام مالک/الأقضیة ٢١ (٢٢٨١) ، مسند احمد (٦/١٢٩، ٢٠٠، ٢٧٣، ٢٤٧) ، سنن الدارمی/النکاح ٤١ (٢٢٨٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مشابہت کے پیش نظر آپ نے یہ بات کہی، گویا آپ ﷺ نے اس جانب رہنمائی کردی کہ بچہ اگرچہ صاحب فراش کا ہے لیکن احکام شریعت کے سلسلہ میں احوط اور مناسب طریقہ اپنایا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3484
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৫
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ صحبت کرتا تھا اور اس کا یہ بھی خیال تھا کہ کوئی اور بھی ہے جو اس سے بدکاری کیا کرتا ہے۔ چناچہ اس لونڈی سے ایک بچہ پیدا ہوا اور وہ بچہ اس شخص کی صورت کے مشابہ تھا جس کے بارے میں زمعہ کا گمان تھا کہ وہ اس کی لونڈی سے بدکاری کرتا ہے، وہ لونڈی حاملہ تھی جب ہی زمعہ کا انتقال ہوگیا، اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے ام المؤمنین سودہ (سودہ بنت زمعہ) رضی اللہ عنہا نے کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بچہ فراش والے کا ہے ١ ؎ اور سودہ ! تم اس سے پردہ کرو کیونکہ (فی الواقع) وہ تمہارا بھائی نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٢٩٣) ، مسند احمد (٤/٥) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی بیوی یا لونڈی جس کی ہوگی بچہ اس کا مانا جائے گا جب تک کہ وہ خود ہی اس کا انکار نہ کرے اور یہ نہ کہے کہ یہ بچہ میرے نطفے کا نہیں ہے، اگرچہ خارجی اسباب سے معلوم بھی ہوتا ہو کہ یہ اس کے نطفہ کا نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3485
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَتْ لِزَمْعَةَ جَارِيَةٌ يَطَؤُهَا هُوَ، وَكَانَ يَظُنُّ بِآخَرَ يَقَعُ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ شِبْهِ الَّذِي كَانَ يَظُنُّ بِهِ، فَمَاتَ زَمْعَةُ وَهِيَ حُبْلَى، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سَوْدَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ، فَلَيْسَ لَكِ بِأَخٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৬
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جبکہ کسی عورت کا شوہر بچے کا منکر ہو تو بچہ اسی کو دے دینا چاہیے
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لڑکا فراش والے کا ہے ١ ؎ اور زنا کرنے والے کو پتھر ملیں گے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٢٩٤) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: بیوی اور لونڈی جس سے مرد کی صحبت جائز ہے اسے فراش ( بچھونا ) کہا گیا ہے، تو بچھونا جس کا ہوگا یعنی عورت یا لونڈی جس کی ہوگی لڑکا بھی اس کا کہا یا مانا جائے گا۔ ٢ ؎: یعنی غیر شادی شدہ ہوگا تو کوڑے لگیں گے جو پتھر کی مار کی طرح تکلیف دہ ہیں اور شادی شدہ ہوگا تو ( فی الواقع ) پتھروں سے مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3486
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَلَا أَحْسَبُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১৭
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ باندی کے ہمبستر ہونے (یعنی باندی سے صحبت) سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ (رض) کا زمعہ کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا ہوگیا (کہ وہ کس کا ہے اور کون اس کا حقدار ہے) سعد (رض) نے کہا : میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب تم مکہ جاؤ تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھو (اور اسے حاصل کرلو) وہ میرا بیٹا ہے۔ چناچہ عبد بن زمعہ (رض) نے کہا : وہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو میرے باپ کے بستر پر (یعنی اس کی ملکیت میں) پیدا ہوا ہے (اس لیے وہ میرا بھائی ہے) ، رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا کہ صورت میں بالکل عتبہ کے مشابہ تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (اگرچہ وہ عتبہ کے مشابہ ہے لیکن شریعت کا اصول و ضابطہ یہ ہے کہ) بچہ اس کا مانا اور سمجھا جاتا ہے جس کا بستر ہو (اس لیے اس کا حقدار عبد بن زمعہ ہے) اور اے سودہ (اس اعتبار سے گرچہ وہ تمہارا بھی بھائی لگے لیکن) تم اس سے پردہ کرو (کیونکہ فی الواقع وہ تیرا بھائی نہیں ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخصومات ٦ (٢٤٢١) ، صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٧) ، سنن ابی داود/الطلاق ٣٤ (٢٢٧٣) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٩ (٢٠٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٣٥) ، مسند احمد (٦/٣٧، ١٢٩، ٢٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3487
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ زَمْعَةَ، قَالَ سَعْدٌ: أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ، فَانْظُرِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَهُوَ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هُوَ ابْنُ أَمَةِ، أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ.
তাহকীক: