কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
طلاق سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৫ টি
হাদীস নং: ৩৪৩৮
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ طلاق قطعی سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، وہاں ابوبکر (رض) بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی ہے تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی، اور اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ان کے پاس تو اس جھالر جیسی چیز کے سوا کچھ نہیں ہے ١ ؎ انہوں نے اپنی چادر کا پلو پکڑ کر یہ بات کہی۔ اس وقت خالد بن سعید (رض) دروازے پر کھڑے تھے، آپ ﷺ نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی، انہوں نے (ابوبکر (رض) کو مخاطب کر کے) کہا : ابوبکر ! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ ﷺ سے کہہ رہی ہے، آپ ﷺ نے (ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس عورت سے) کہا : تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کے شہد کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٦٨ (٦٠٨٤) ، صحیح مسلم/النکاح ١٧ (١٤٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٦٣١) ، مسند احمد (٦/٣٤، ٢٢٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی وہ تو عورت کے قابل ہی نہیں ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3409
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ، فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ بِالْبَاب، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ تَجْهَرُ بِمَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৩৯
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ لفظ امرک بیدک کی تحقیق
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے کہا : کیا آپ حسن کے سوا کسی کو جانتے ہیں ؟ جو أمرک بیدک کہنے سے تین طلاقیں لاگو کرتا ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں (میں کسی کو بھی نہیں جانتا) پھر انہوں نے کہا : اللہ انہیں بخش دے اب رہی قتادہ کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے کثیر مولی ابن سمرۃ سے روایت کی ہے اور کثیر نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا : وہ تین طلاقیں ہوتی ہیں تو (اس کا حال یہ ہے کہ) میری ملاقات کثیر سے ہوئی میں نے ان سے (اس حدیث کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے اسے پہچانا ہی نہیں (کہ میں نے ایسی کوئی روایت کی ہے) میں لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی (کہ وہ ایسا کہتے ہیں) تو قتادہ نے کہا کہ وہ بھول گئے (انہوں نے ایسی بات کہی ہے) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطلاق ١٣ (٢٢٠٤، ٢٢٠٥) مختصرا، سنن الترمذی/الطلاق ٣ (١١٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٩٢) (مرفوعا ضعیف، موقوفا صحیح) (مرفوع کی سند میں ” کثیر “ لین الحدیث ہیں، اور قتادہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس لیے مرفوع حدیث ضعیف ہے، اور مؤلف نے بھی حدیث کو منکر کہا ہے، لیکن حسن کے قول کی سند صحیح ہے، اس لیے اثر موقوفا صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3410
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا، قَالَ فِي أَمْرِكِ بِيَدِكِ، أَنَّهَا ثَلَاثٌ غَيْرَ الْحَسَنِ ؟ فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ غَفْرًا، إِلَّا مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثٌ، فَلَقِيتُ كَثِيرًا، فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: نَسِيَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪০
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور (آپ سے) کہا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور طلاق بھی بتہ دی (کہ وہ رجوع نہیں کرسکتے) تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی، لیکن ان کے پاس تو اس کپڑے کے جھالر جیسے کے سوا کچھ نہیں ہے آپ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا : لگتا ہے رفاعہ سے تم دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہو ؟ (سن لو) تو رفاعہ کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ (یعنی دوسرا شوہر) تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے اور تم اس کے شہد کا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٢٨٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3411
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي، فَأَبَتَّ طَلَاقِي، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ، وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪১
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس عورت نے دوسرے شخص سے شادی کرلی۔ اس (دوسرے شخص) نے اس سے جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، تو رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کیا (ایسی صورت میں) وہ عورت پہلے والے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، جب تک کہ وہ (دوسرا) اس کے شہد کا مزہ نہ لے لو جس طرح اس کے پہلے شوہر نے مزہ چکھ لیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٤ (٥٢٦١) ، صحیح مسلم/النکاح ١٧ (١٤٣٣) ، تحفة الأشراف : ١٧٥٣٦) ، مسند احمد (٦/١٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جب دوسرا شوہر اس سے مکمل صحبت کرلے گا اور طلاق دیدے گا یا انتقال کر جائے گا تو وہ عدت گزار کر پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی بشرطیکہ وہ اس سے دوبارہ نکاح کرے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3412
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَهَا، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ ؟ فَقَالَ: لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا، كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪২
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث
عبیداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نامی عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی کہ وہ اس کے پاس نہیں آتا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کا شوہر بھی آگیا، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ جھوٹی عورت ہے، وہ اس کے پاس جاتا ہے، لیکن یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہے (اس لیے ایسا کہہ رہی ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کا شہد چکھ نہ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٦٧٠ ألف) مسند احمد (١/٢١٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3413
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْغُمَيْصَاءَ أَوْ الرُّمَيْصَاءَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا، أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ كَاذِبَةٌ وَهُوَ يَصِلُ إِلَيْهَا، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ ذَلِكَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪৩
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کرلیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے ؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ عورت ایسا نہیں کرسکتی جب تک کہ اس (دوسرے شوہر) کے شہد کو نہ چکھ لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٢ (١٩٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٨٣) مسند احمد (٢/٨٥) (صحیح بما قبلہ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس سے جماع نہ کرلے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3414
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ يُطَلِّقُهَا، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ آخَرُ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَتَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، قَالَ: لَا، حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪৪
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ تین طلاق دی گئی عورت کے حلال ہونے اور حلالہ کے لئے نکاح سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں (مغلظہ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کرلیتا ہے اور (اسے لے کر) دروازہ بند کرلیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، (کہ کوئی اندر نہ آسکے) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک اس کا دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کرلے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ حدیث صواب سے قریب تر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٧١٥) ، مسند احمد (٢/٢٥، ٦٢، ٨٥) (صحیح) (اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3415
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَيَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُغْلِقُ الْبَاب: وَيُرْخِي السِّتْرَ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ؟ قَالَ: لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ، حَتَّى يُجَامِعَهَا الْآخَرُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪৫
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ طلاق مغلظہ دی گئی خاتون سے حلالہ اور تین طلاق دینے والے پر وعید
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو (بڑا کرنے کے لیے) جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/النکاح ٢٨ (١١٢٠) مختصراً ، (تحفة الأشراف : ٩٥٩٥) ، مسند احمد (١/٤٤٨، ٤٦٢، سنن الدارمی/النکاح ٥٣ (٢٣٠٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3416
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪৬
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر مرد عورت کا چہرہ دیکھتے ہی (یعنی خلوت کے بغیر ہی) طلاق دے دے
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ ﷺ سے (بچنے کے لیے، اللہ کی) پناہ مانگی تھی تو انہوں نے کہا : عروہ نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بیان کی ہے کہ کلابیہ (فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان) جب (منکوحہ کی حیثیت سے) نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئی اور (اپنی سادہ لوحی سے دوسری ازواج کے سکھا پڑھا دینے کے باعث آپ ﷺ کو دیکھتے ہی) کہہ بیٹھی أعوذباللہ منک میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے (فوراً ) کہا تم نے تو بہت بڑی ذات گرامی کی پناہ مانگ لی ہے، جاؤ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ (یہ کہہ کر گویا آپ ﷺ نے اسے طلاق دے دی) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٣ (٥٢٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٨ (٢٠٥٠) ، تحفة الأشراف : ١٦٥١٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3417
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الَّتِي اسْتَعَاذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ الْكِلَابِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪৭
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی زبانی بیوی کو طلاق کہلوانے سے متعلق
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق کہلا بھیجی تو میں اپنے کپڑے اپنے آپ پر لپیٹ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس (نفقہ و سکنی کا مطالبہ لے کر) پہنچی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں ؟ میں نے کہا : تین، آپ نے فرمایا : پھر تو تمہیں نفقہ نہیں ملے گا تم اپنی عدت کے دن اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے گھر میں پورے کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں، تم ان کے پاس رہ کر بھی اپنے کپڑے اتار سکتی ہو پھر جب تمہاری عدت کے دن پورے ہوجائیں تو مجھے خبر دو ، یہ حدیث طویل ہے، یہاں مختصر بیان ہوئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨٠) ، سنن الترمذی/النکاح ٣٨ (١١٣٥) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٠ (٢٠٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٣٧) ، مسند احمد (٦/٤١٢٤١١، ٤١٣، ویأتي برقم : ٣٥٨١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3418
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: سَمِعْتُفَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي بِطَلَاقِي، فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَمْ طَلَّقَكِ ؟فَقُلْتُ: ثَلَاثًا، قَالَ: لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ، ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ، فَآذِنِينِي، مُخْتَصَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪৮
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی زبانی بیوی کو طلاق کہلوانے سے متعلق
مجاہد فاطمہ (فاطمہ بنت قیس) کے غلام تمیم سے اور وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے طرح جیسی کہ اوپر روایت گزری ہے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٠٢٠) ، مسند احمد (٦/٤١١) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3419
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ تَمِيمٍ مَوْلَى فَاطِمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৪৯
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اس بات کا بیان کہ اس آیت کریمہ کا کیا مفہوم ہے اور اس کے فرمانے سے کیا مقصد تھا؟
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا : میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے، تو انہوں نے اس سے کہا : تم غلط کہتے ہو وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك (اور کہا) تم پر سخت ترین کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٥١١) (ضعیف الإسناد و ہو فی المتفق علیہ مختصردون قولہ : ” وعلیک أغلظ…“ (أی بلفظ ” إذاحرم الرجل امرأتہ فہی یمین یکفرہا “ انظرخ الطلاق، وم فیہ ٣ ) وضاحت : ١ ؎: سخت ترین کفارہ کا ذکر اس لیے کیا تاکہ لوگ ایسے عمل سے باز رہیں ورنہ ظاہر قرآن سے کفارہ یمین کا ثبوت ملتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد وهو في ق مختصر دون قوله عليك أغلط صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3420
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا، قَالَ: كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1، عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَةِ، عِتْقُ رَقَبَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫০
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مذکورہ بالا آیت کریمہ کی دوسری تاویل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم ﷺ آئیں وہ کہے کہ (کیا بات ہے) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ١ ؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ ﷺ سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا : میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے (اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے) تو آئندہ نہ پیوں گا ۔ چناچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت : يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کردیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں (التحریم : ١) اور إن تتوبا إلى اللہ (اے نبی کی دونوں بیویو ! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہت بہتر ہے) ۔ (التحریم : ٤) نازل ہوئی اور آپ ﷺ کے اس قول : میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت : وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی (التحریم : ٣) نازل ہوئی ہے، اور یہ ساری تفصیل عطا کی حدیث میں موجود ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٤١٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مغفر ایک قسم کی گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتی ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3421
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا، مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَيْهِمَا، فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ، وَقَالَ: لَنْ أَعُودَ لَهُ، فَنَزَلَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1، إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 4، لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3، لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا، كُلُّهُ فِي حَدِيثِ عَطَاءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫১
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک (رض) کو اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اسی بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا : رسول اللہ ﷺ کا قاصد میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے : رسول اللہ ﷺ نے (یہ فرمایا :)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيِّ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ فِيهِ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫২
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے
عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک (رض) کو اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک کے لیے نکلنے میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ مذکورہ قصہ بیان کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کا قاصد آ کر کہتا ہے : رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے الگ تھلگ رہیں، میں نے کہا : کیا میں اسے طلاق دے دوں ؟ یا اس کا کچھ اور مطلب ہے، اس (قاصد) نے کہا، طلاق نہیں، بس تم اس کے قریب نہ جاؤ (اس سے جدا رہو) ، میں نے اپنی بیوی سے کہا : تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ١ ؎ اور جب تک اس معاملہ میں اللہ کا کوئی فیصلہ نہ آجائے وہیں رہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١١٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: گویا الحقی بأھلک سے طلاق اس وقت واقع ہوگی جب اسے طلاق کی نیت سے کہا جائے۔ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3422
ح وأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَسَاقَ قِصَّتَهُ، وَقَالَ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا ؟ قَالَ: لَا، بَلِ اعْتَزِلْهَا، فَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الْأَمْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৩
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب بن مالک (رض) کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے (اور وہ ان تینوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی ہے ١ ؎، کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں ٢ ؎ کے پاس (ایک شخص کو) بھیجا (اس نے کہا) کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیویوں سے الگ رہو، میں نے قاصد سے کہا : میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا : نہیں، طلاق نہ دو بلکہ اس سے الگ تھلگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا : تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور انہیں کے ساتھ رہو، تو وہ ان کے پاس جا کر رہنے لگی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ١٦ (٢٧٥٧) ، الجہاد ١٠٣ (٢٩٥٧) ، ١٩٨ (٣٠٨٨) ، المناقب ٢٣ (٣٥٥٦) ، المغازي ٣ (٣٩٥١) ، تفسیر سورة البراء ة ١٤ (٤٦٧٣) ، ١٧ (٤٦٧٧) ، ١٨ (٤٦٧٦) ، ١٩ (٤٦٧٨) ، الاستئذان ٢١ (٦٢٥٥) ، الأیمان والنذور ٢٤ (٦٦٩٠) ، الأحکام ٥٣ (٢٧٢٥) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٢ (٢٧٦٩) ، سنن ابی داود/الطلاق ١١ (٢٢٠٢) ، الجہاد ١٧٣ (٢٧٧٣) ، ١٧٨ (٢٧٨١) ، الأیمان والنذور ٢٩ (٣٣١٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/تفسیر التوبة (٣١٠١) ، (تحفة الأشراف : ١١١٣١) ، مسند احمد (٣/٤٥٦، ٤٥٧، ٤٥٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٤ (١٥٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ہے۔ ٢ ؎: مرارہ بن ربیع العمری، ھلال بن امیہ الواقفی رضی الله عنہما۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3423
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْإِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَى صَاحِبَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ، فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: أُطَلِّقُ امْرَأَتِي أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ ؟ قَالَ: لَا، بَلْ تَعْتَزِلُهَا، فَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي فِيهِمْ فَلَحِقَتْ بِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৪
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب (رض) کو اپنا اس وقت کا قصہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک میں جاتے وقت رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے اور شریک نہ ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے ذکر کرنے کے دوران انہوں نے بتایا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کا قاصد میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی کو چھوڑ دو ، میں نے (اس سے) کہا : میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا : (طلاق نہ دو ) بلکہ اس سے الگ رہو اس کے قریب نہ جاؤ۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی (رسول اللہ ﷺ نے) ایسا ہی پیغام دے کر بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا : تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ رہو اور اس وقت تک رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں اپنا فیصلہ نہ سنا دے۔ معقل بن عبیداللہ نے ان سب کے خلاف ذکر کیا ہے (تفصیل آگے حدیث میں آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٢٥٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3424
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبًا يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ فِيهِ: إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا، أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ ؟ قَالَ: بَلِ اعْتَزِلْهَا، وَلَا تَقْرَبْهَا، وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، وَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذَا الْأَمْرِ، خَالَفَهُمْ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے
عبیداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب (رض) کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے اور میرے دونوں (پیچھے رہ جانے والے) ساتھیوں کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ تم لوگوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہوجاؤ، میں نے پیغام لانے والے سے کہا : میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا : نہیں، طلاق نہ دو ، بلکہ اس سے الگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ، (یہ سن کر) میں نے اپنی بیوی سے کہا : تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور جب تک اللہ عزوجل فیصلہ نہ کر دے انہیں لوگوں میں رہو، تو بیوی انہیں لوگوں کے پاس جا کر رہنے لگی۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) معمر نے معقل کے خلاف ذکر کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٤٥٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اشارہ اس میں اس بات کی طرف ہے کہ معقل اور معمر دونوں امام زہری کے شاگرد ہیں۔ معقل نے اس روایت میں لاتقربھا کے بعد فقلت لامرأتی الحقی باھلک …… ذکر کیا ہے۔ لیکن معمر نے اپنی روایت میں جو اب آرہی ہے اور ان کے استاد زہری ہی کے واسطہ سے آرہی ہے لاتقربھا کے بعد فقلت لامرأتی الحقی باھلک … کا ذکر نہیں کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3425
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبًا يُحَدِّثُ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى صَاحِبَيَّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوا نِسَاءَكُمْ، فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ: أُطَلِّقُ امْرَأَتِي، أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ ؟ قَالَ: لَا، بَلْ تَعْتَزِلُهَا، وَلَا تَقْرَبْهَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي فِيهِمْ، حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَحِقَتْ بِهِمْ، خَالَفَهُ مَعْمَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص بیوی سے اس طریقہ سے کہے کہ جا تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر رہ لے
عبدالرحمٰن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے واقعے کے ذکر میں بتایا : اچانک رسول اللہ ﷺ کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا تم اپنی بیوی سے جدا ہوجاؤ، میں نے اس سے کہا : میں اسے طلاق دے دوں، اس نے کہا نہیں، طلاق نہ دو ، لیکن اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس حدیث میں انہوں نے الحقی باھلک کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١١٥٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3426
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ فِي حَدِيثِهِ: إِذَا رَسُولٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانِي، فَقَالَ: اعْتَزِلِ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَا تَقْرَبْهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৭
طلاق سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ غلام کے طلاق دینے سے متعلق
ابوالحسن مولیٰ بنی نوفل کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے، میں نے اسے دو طلاقیں دے دی، پھر ہم دونوں اکٹھے ہی آزاد کردیے گئے۔ میں نے ابن عباس سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا : اگر تم اس سے رجوع کرلو تو وہ تمہارے پاس رہے گی اور تمہیں ایک طلاق کا حق حاصل رہے گا، یہی فیصلہ رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔ معمر نے اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطلاق ٦ (٢١٨٧) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٢ (٢٠٨٢) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٦١) ، مسند احمد (١/٢٢٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” عمر بن معتب “ ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3427
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَامْرَأَتِي مَمْلُوكَيْنِ، فَطَلَّقْتُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ أُعْتِقْنَا جَمِيعًا، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنْ رَاجَعْتَهَا كَانَتْ عِنْدَكَ عَلَى وَاحِدَةٍ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَالَفَهُ مَعْمَرٌ.
তাহকীক: