কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جہاد سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১২ টি
হাদীস নং: ৩১৮৮
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ راہ اللہ میں خرچ کرنے کی فضیلت سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کے راستے میں جوڑا جوڑا صدقہ دیا اسے جنت کے سبھی دروازوں کے دربان بلائیں گے : اے فلاں ادھر آؤ (ادھر سے) جنت میں داخل ہو ، ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! اس میں آپ اس شخص کا کوئی نقصان تو نہیں سمجھتے ١ ؎ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نہیں) میں تو توقع رکھتا ہوں کہ تم ان ہی (خوش نصیب لوگوں) میں سے ہو گے (جنہیں جنت کے سبھی دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کے لیے بلایا جائے گا) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٩٩٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض ہے لیکن یہ تعارض اس طرح ختم ہوجاتا ہے کہ یہاں اس بات کا احتمال ہے کہ ایک ہی مجلس میں یہ دونوں واقعے پیش آئے ہوں، چناچہ آپ ﷺ نے جنت میں داخل ہونے کے لیے حسب وحی الٰہی پہلے ہر عابد کو اس کے مخصوص دروازے سے پکارے جانے کی خبر دی پھر جب ابوبکر رضی الله عنہ نے سوال کیا تو آپ نے ایک ہی عابد کو تمام دروازوں سے پکارے جانے کی خبر دی، اور ساتھ ہی ابوبکر رضی الله عنہ کو اس کی بشارت بھی دی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3184
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَاأَبُو سَلمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا فُلَانُ هَلُمَّ فَادْخُلْ، فَقَالَ أبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَاكَ الَّذِي لَا تَوَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৯
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ راہ اللہ میں خرچ کرنے کی فضیلت سے متعلق
صعصہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابوذر (رض) سے ہوئی، تو میں نے ان سے کہا : مجھ سے آپ کوئی حدیث بیان کیجئے، تو انہوں نے کہا : اچھا (پھر کہا :) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں اپنا ہر مال جوڑا جوڑا کر کے خرچ کرتا ہے تو جنت کے سبھی دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر ایک کے پاس جو کچھ ہوگا انہیں دینے کے لیے اسے بلائیں گے ، (صعصعہ کہتے ہیں) میں نے کہا : یہ کیسے ہوگا ؟ تو انہوں نے کہا : اگر اونٹ رکھتا ہو تو دو اونٹ دیئے ہوں، اور گائیں رکھتا ہو تو دو گائیں دی ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٩٢٤) ، مسند احمد (٥/١٥١، ١٥٩١٥٣، ١٦٤) ، سنن الدارمی/الجہاد ١٣ (٢٤٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اس کی کچھ وضاحت فرمائیے کہ ہر قسم کے مال سے جوڑا دینے کا کیا مطلب ہے ؟ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3185
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ حَدِّثْنِي، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ، قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯০
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ راہ اللہ میں خرچ کرنے کی فضیلت سے متعلق
خریم بن فاتک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں سات سو گنا بڑھا کر لکھا گیا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٤ (١٦٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٢٦) ، مسند احمد (٤/٣٢٢، ٣٤٥، ٣٤٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3186
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْالرُّكَيْنِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُسَيْرِ ابْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُتِبَتْ لَهُ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯১
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں صدقہ دینے کی فضیلت
ابومسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ کے راستے میں صدقہ میں دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن (اس ایک اونٹنی کے بدلہ میں) سات سو مہار والی اونٹنیوں کے (ثواب) کے ساتھ آئے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٣٧ (١٨٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٨٧) ، مسند احمد (٤/٢٢١ و ٥/٢٧٤) (حسن ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3187
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِ مِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯২
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں صدقہ دینے کی فضیلت
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاد دو طرح کے ہیں : ایک جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو، امام (سردار) کی اطاعت کرے، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اپنے شریک کو سہولت پہنچائے، اور فساد سے بچے تو اس کا سونا، و جاگنا سب کچھ باعث اجر ہوگا۔ دوسرا جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا ریاکاری اور شہرت کے لیے جہاد کرے، امیر (سردار و سپہ سالار) کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے تو وہ برابر سرابر نہیں لوٹے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجہاد ٢٥ (٢٥١٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٢٩) ، موطا امام مالک/الحج ١٨ (٤٣) (موقوفا) مسند احمد (٥/٢٣٤) ، سنن الدارمی/الجہاد ٢٥ (٢٤٦١) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٢٠٠ (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اسے کچھ ثواب نہیں ملے گا، بلکہ ہوسکتا ہے الٹا اسے عذاب ہو۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3188
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، كَانَ نَوْمُهُ وَنُبْهُهُ أَجْرًا كُلُّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৩
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کی عورتوں کی حرمت
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاد میں جانے والوں کی بیویوں کی عزت و حرمت جہاد میں نہ جانے والوں کے لیے ان کی ماؤں کی عزت و حرمت جیسی ہے ١ ؎ جو شخص مجاہدین کی بیویوں کی حفاظت و نگہداشت کے لیے گھر پر رہا اور اس نے کسی مجاہد کی بیوی کے ساتھ خیانت کی تو اسے قیامت کے دن روک رکھا جائے گا، (یعنی اس کا حساب و کتاب اس وقت تک چکتا نہیں کیا جائے گا جب تک کہ) وہ مجاہد اس خائن کے اعمال کا ثواب جس قدر چاہے گا لے (نہ) لے گا۔ تو تمہارا کیا خیال ہے ؟ ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٣٩ (١٨٩٧) ، سنن ابی داود/الجہاد ١٢ (٢٤٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٩٣٣) ، مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی مجاہدین کی بیویوں کی عزت و توقیر جہاد پر نہ جانے والوں پر واجب ہے۔ ٢ ؎: کیا وہ اس کے لیے کچھ چھوڑے گا ؟ وہ تو اس کی ساری نیکیاں لے لے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3189
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَاللَّفْظُ لِحُسَيْنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَخْلُفُ فِي امْرَأَةِ رَجُلٍ مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فَيَخُونُهُ فِيهَا، إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَخَذَ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ فَمَا ظَنُّكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৪
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مجاہد کے گھر والوں کے ساتھ خیانت کرے
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجاہدین کی بیویاں گھروں پر بیٹھ رہنے والوں کے لیے ویسی ہی حرام ہیں جیسی ان کی مائیں ان کے حق میں حرام ہیں۔ اگر وہ (مجاہد) کسی کو گھر پر (دیکھ بھال کے لیے) چھوڑ گیا اور اس نے اس کی (امانت میں) خیانت کی۔ تو قیامت کے دن اس (مجاہد) سے کہا جائے گا (یہ ہے تیرا مجرم) یہ ہے جس نے تیری بیوی کے تعلق سے تیرے ساتھ خیانت کی ہے۔ تو تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے۔ (آپ ﷺ نے فرمایا :) تمہارا کیا گمان ہے (کیا وہ کچھ باقی چھوڑے گا ؟ ) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣١٩١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3190
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَإِذَا خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ فَخَانَهُ قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَا خَانَكَ فِي أَهْلِكَ، فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ فَمَا ظَنُّكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৫
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مجاہد کے گھر والوں کے ساتھ خیانت کرے
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجاہدین کی بیویوں کی حرمت گھر پر بیٹھ رہنے والوں پر ویسی ہی ہے جیسی ان کی ماؤں کی حرمت ان پر ہے، اگر گھر پر بیٹھ رہنے والے کسی شخص کو کسی مجاہد نے اپنی غیر موجودگی میں اپنی بیوی بچوں کی دیکھ بھال سونپ دی، (اور اس نے اس کے ساتھ خیانت کی) تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور پکار کر کہا جائے گا : اے فلاں ! یہ فلاں ہے (تمہارا مجرم آؤ اور) اس کی نیکیوں میں سے جتنا چاہو لے لو ، پھر نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ باقی چھوڑے گا ؟ ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣١٩١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3191
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَعْنَبٌ كُوفِيٌّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ فِي الْحُرْمَةِ كَأُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ إِلَّا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: يَا فُلَانُ هَذَا فُلَانٌ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ، ثُمَّ الْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: مَا ظَنُّكُمْ تُرَوْنَ يَدَعُ لَهُ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৬
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مجاہد کے گھر والوں کے ساتھ خیانت کرے
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاد کرو اپنے ہاتھوں سے، اپنی زبانوں سے، اور اپنے مالوں کے ذریعہ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٠٩٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اسلام کی ترویج و اشاعت، حفاظت و دفاع کے لیے طاقت و تلوار اور زبان و قلم کے استعمال میں اور مال و دولت کے خرچ میں دریغ نہ کرو، مال اور ہاتھ سے جہاد کا مطلب بالکل واضح ہے، زبان سے جہاد کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے جہاد کے فضائل بیان کئے جائیں اور لوگوں کو اس پر ابھارنے کے ساتھ انہیں اس کی رغبت دلائی جائے۔ قلم اور خطابت کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ کا جواب دیا جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3192
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاهِدُوا بِأَيْدِيكُمْ، وَأَلْسِنَتِكُمْ، وَأَمْوَالِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৭
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مجاہد کے گھر والوں کے ساتھ خیانت کرے
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سانپوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا : جو ان کے بدلے (اور انتقام و قصاص) سے ڈرے (اور ان کو نہ مارے) وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأدب ١٧٤ (٥٢٤٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3193
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الشَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ الْأَصْبَغِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ، وَقَالَ: مَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنَّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৮
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مجاہد کے گھر والوں کے ساتھ خیانت کرے
عبداللہ بن جبر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جبر (رض) کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے، جب گھر میں (اندر) پہنچے تو آپ نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہی تھیں : ہم جہاد میں آپ کی شہادت کی تمنا کر رہے تھے (لیکن وہ آپ کو نصیب نہ ہوئی) ۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم شہید صرف اسی کو سمجھتے ہو جو جہاد میں قتل کردیا جائے ؟ اگر ایسی بات ہو تو پھر تو تمہارے شہداء کی تعداد بہت تھوڑی ہوگی۔ (سنو) اللہ کے راستے میں مارا جانا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنا شہادت ہے، جل کر مرنا شہادت ہے، ڈوب کر مرنا شہادت ہے، (دیوار وغیرہ کے نیچے) دب کر مرنا شہادت ہے، ذات الجنب یعنی نمونیہ میں مبتلا ہو کر مرنا شہادت ہے، حالت حمل میں مرجانے والی عورت شہید ہے ، ایک شخص نے کہا : تم سب رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : چھوڑ دو انہیں کچھ نہ کہو۔ (انہیں رونے دو کیونکہ مرنے سے پہلے رونا منع نہیں ہے) البتہ جب انتقال ہوجائے تو کوئی رونے والی اس پر (زور زور سے) نہ روئے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٤٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کوئی نوحہ کرنے والی اس پر نوحہ نہ کرے، رہ گیا دھیرے دھیرے رونا اور آنسو بہانا تو یہ ایک فطری عمل ہے اسلام اس سے نہیں روکتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3194
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ جَبْرًا، فَلَمَّا دَخَلَ سَمِعَ النِّسَاءَ يَبْكِينَ، وَيَقُلْنَ كُنَّا نَحْسَبُ وَفَاتَكَ قَتْلًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ إِلَّا مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِنَّ شُهَدَاءَكُمْ إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ، وَالْحَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالْمَغْمُومُ يَعْنِي الْهَدِمَ شَهَادَةٌ، وَالْمَجْنُوب شَهَادَةٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ، قَالَ رَجُلٌ: أَتَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ ؟ قَالَ: دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ عَلَيْهِ بَاكِيَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৯
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص مجاہد کے گھر والوں کے ساتھ خیانت کرے
جبر بن عتیک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک میت کے یہاں پہنچے تو عورتیں رونے لگیں تو انہوں نے کہا : تم رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ ﷺ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : چھوڑو انہیں رونے دو جب تک کہ وہ ان میں موجود ہے۔ پھر جب وہ انتقال کر جائے تو کوئی عورت (چیخ چیخ کر) نہ روئے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٨٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3195
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الطَّائِيَّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَبْرٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيِّتٍ فَبَكَى النِّسَاءُ، فَقَالَ جَبْرٌ: أَتَبْكِينَ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ؟ قَالَ: دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ بَيْنَهُنَّ، فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ.
তাহকীক: