কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جہاد سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১২ টি
হাদীস নং: ৩১০৮
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس کی صرف والدہ زندہ ہو اس کے لئے اجازت
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ ﷺ نے (ان سے) پوچھا : کیا تمہاری ماں موجود ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا : انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٢ (٢٧٨١) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٧٥) ، مسند احمد (٣/٤٢٩) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جنت کی حصول یابی ماں کی رضا مندی اور خوشنودی کے بغیر ممکن نہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3104
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১০৯
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جان و مال سے جہاد کرنے والے کے بارے میں احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور کہا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں افضل کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : افضل وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جان و مال سے جہاد کرے ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : پھر وہ مومن جو پہاڑوں کی کسی گھاٹی میں رہتا ہو، اللہ سے ڈرتا ہو، اور لوگوں کو (ان سے دور رہ کر) اپنے شر سے بچاتا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٢٤ (٢٧٨٦) ، الرقاق ٣٤ (٦٤٩٤) ، صحیح مسلم/الإمارة ٣٤ (١٨٨٨) ، سنن ابی داود/الجہاد ٥ (٢٤٨٥) ، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٤ (١٦٦٠) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٤١٥١) ، مسند احمد (٣/١٦، ٣٧، ٥٦، ٨٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3105
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: مَنْ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِقَالَ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১০
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ ﷺ اپنی سواری سے پیٹھ لگائے خطبہ دے رہے تھے، آپ نے کہا : کیا میں تمہیں اچھے آدمی اور برے آدمی کی پہچان نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی وہ ہے جو پوری زندگی اللہ کے راستے میں گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو کر یا اپنے قدموں سے چل کر کام کرے۔ اور لوگوں میں برا وہ فاجر شخص ہے جو کتاب اللہ (قرآن) تو پڑھتا ہے لیکن کتاب اللہ (قرآن) کی کسی چیز کا خیال نہیں کرتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٤٤١٢) ، مسند احمد (٣/٣٧، ٤١، ٥٧) (ضعیف الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: نہ اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، اور نہ ہی منہیات سے باز رہتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3106
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمِهِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ، رَجُلًا فَاجِرًا، يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১১
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ (تھن سے نکلا ہوا) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ١ ؎، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہوسکتے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٨ (١٦٣٣) ، والزہد ٨ (٢٣١١) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٨٥) ، مسند احمد (٢/٢٩٨، ٤٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نہ کبھی دودھ تھن میں پہنچایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا کبھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ٢ ؎: یعنی مجاہد فی سبیل اللہ جنت ہی میں جائے گا جہنم میں نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3107
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَا يَبْكِي أَحَدٌ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، فَتَطْعَمَهُ النَّارُ حَتَّى يُرَدَّ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১২
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کے خوف سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جاسکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے ١ ؎، اور اللہ کے راستے کا گرد و غبار اور جہنم کی آگ کا دھواں اکٹھا نہیں ہوسکتے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی نہ کبھی دودھ تھن میں واپس ہوگا اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا کبھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ٢ ؎: یعنی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے والا جہنم میں نہ جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3108
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ تَعَالَى، حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ نَارِ جَهَنَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৩
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کردیا، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں (یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول) جہنم میں اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے ١ ؎، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوسکتے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢٧٤٩) ، مسند احمد (٢/٣٤٠، ٣٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جہنم کی آگ کی لپٹ مجاہد کو نہیں چھو سکتی کیونکہ اس کا مقام جنت ہے۔ ٢ ؎: یعنی مومن کامل حاسد نہیں ہوسکتا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3109
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا، ثُمَّ سَدَّدَ وَقَارَبَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৪
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے اور بخل اور ایمان یہ دونوں بھی کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢٢٦٢) ، مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٤٢، ٤٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی پکا مومن ہوگا تو وہ تنگ دل و بخیل نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3110
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی آدمی کے چہرے پر اللہ کے راستے (یعنی جہاد) میں نکلنے کی گرد اور جہنم کی آگ دونوں اکٹھا نہیں ہوسکتے، اور بخل اور ایمان کبھی کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جو شخص صحیح معنی میں مومن ہوگا وہ بخیل نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3111
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي وَجْهِ رَجُلٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৬
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاد کی گرد اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں جمع نہیں ہوسکتے، اور نہ ہی کسی بندے کے سینے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہوسکتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣١١٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3112
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৭
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مومن کے نتھنے میں اللہ کے راستے کا غبار، اور جہنم کا دھواں کبھی بھی جمع نہیں ہوسکتے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣١١٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3113
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৮
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں مومن کے نتھنے میں جمع نہیں ہوسکتے، اور نہ ہی کسی مسلمان کے نتھنے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہوسکتے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣١١٢ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نہ بخیل کامل مومن ہوسکتا ہے، اور نہ ہی کامل مومن بخیل ہوسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3114
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْحُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৯
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی راہ میں پیدل چلنے والوں کی فضیلت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اللہ عزوجل اکٹھا نہ کرے گا، اور نہ ہی کسی مسلمان کے دل میں اللہ پر ایمان اور بخالت (کنجوسی) کو اللہ تعالیٰ ایک ساتھ جمع کرے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣١١٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانَ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالشُّحَّ جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২০
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس آدمی کے پاؤں پر راہ اللہ میں جہاد کا غبار پڑا ہو
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا کہ (راستے میں) مجھے عبایہ بن رافع ملے، کہا : خوش ہوجاؤ! آپ کے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں (کیونکہ) میں نے ابوعبس بن جبر انصاری (رض) کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہوجائیں تو وہ آگ یعنی جہنم کے لیے حرام ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ١٨ (٩٠٧) ، الجہاد ١٦ (٢٨١١) ، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٧ (١٦٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٩٢) ، مسند احمد (٣/٤٧٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا، اللہ کرے ایسا ہی ہو، انہوں نے جمعہ کے لیے نکلنے کو بھی فی سبیل اللہ میں شامل فرمایا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3116
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعٍ وَأَنَا مَاشٍ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২১
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں رات میں جاگنے والی آنکھ کا اجر و ثواب
ابوریحانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جو آنکھ اللہ کے راستے میں جاگی ہو وہ آنکھ جہنم پر حرام ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٢٠٤٠) ، مسند احمد (٤/١٣٤) ، سنن الدارمی/الجہاد ١١ (٢٤٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ایسی آنکھ والا جہنم میں نہ جائے گا بلکہ جنت اس کا ٹھکانہ ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3117
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَاب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ شُمَيْرٍ الرُّعَيْنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ التُّجِيبِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حُرِّمَتْ عَيْنٌ عَلَى النَّارِ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২২
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے واسطے صبح کے وقت کی فضیلت سے متعلق
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے راستے یعنی جہاد میں صبح یا شام (کسی وقت بھی نکلنا) دنیا وما فیہا سے افضل و بہتر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٤) ، ٧٣ (٢٨٩٢) ، والرقاق ٢ (٦٤١٥) ، صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٨٨١) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٨٢) ، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٧ (١٦٤٨) ، ٢٦ (١٦٦٤) ، مسند احمد (٣/٤٣٣ و ٥/٣٣٥، ٣٣٧، ٣٣٩) ، سنن الدارمی/الجہاد ٩ (٢٤٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3118
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْغَدْوَةُ وَالرَّوْحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَفْضَلُ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৩
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت شام جہاد کرنے کے واسطے فضیلت سے متعلق
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاد میں صبح کو نکلنا ہو، یا شام کے وقت یہ کائنات کی ان تمام چیزوں سے افضل و برتر ہے جن پر سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٨٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٦٦) ، مسند احمد (٥/٤٢٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3119
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৪
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بوقت شام جہاد کرنے کے واسطے فضیلت سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے، (ایک) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا (دوسرا) ایسا نکاح کرنے والا، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو (تیسرا) وہ مکاتب ١ ؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہوجانے کی کوشش کر رہا ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٠ (١٦٥٥) ، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٣٩) ، ویأتی عند المؤلف فی النکاح ٥ (برقم ٣٢٢٠) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: مکاتب ایسا غلام ہے جو اپنی ذات کی آزادی کی خاطر مالک کیلئے کچھ قیمت متعین کر دے، قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ آزاد ہوجائے گا۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৫
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین اللہ تعالیٰ کے پاس جانے والے وفد ہیں
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے وفد میں تین (طرح کے لوگ شامل) ہیں (ایک) مجاہد (دوسرا) حاجی، (تیسرا) عمرہ کرنے والا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : وانظر حدیث رقم : ٢٦٢٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی یہ تینوں اللہ کے مقرب ہیں اور اس کے ایلچی کا درجہ رکھتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3121
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَفْدُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ: الْغَازِي، وَالْحَاجُّ، وَالْمُعْتَمِرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৬
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خداوند قدوس مجاہد کی جن چیزوں کی کفالت کرتا ہے اس سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اپنی راہ کے مجاہد کا کفیل و ضامن ہے جو خالص جہاد ہی کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے، اور اس ایمان و یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے (شہید کا درجہ دے کر) جنت میں داخل فرمائے گا یا پھر اسے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کے اس ٹھکانے پر واپس لائے گا، جہاں سے نکل کر وہ جہاد میں شریک ہوا تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٢٦ (٣٦) ، الجہاد ٢ (٢٧٨٧) ، فرض الخمس ٨ (٣١٢٣) ، التوحید ٢٨ (٦٤٥٧) ، ٣٠ (٧٤٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٣٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١ (٢٧٥٣) ، موطا امام مالک/الجہاد ١ (٢) ، مسند احمد (٢/٢٣١، ٣٨٤، ٣٩٩، ٤٩٤) ، سنن الدارمی/الجہاد ٢ (٢٤٣٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3122
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ، بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭
جہاد سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ خداوند قدوس مجاہد کی جن چیزوں کی کفالت کرتا ہے اس سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کے راستے میں نکلتا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کا یہ نکلنا محض اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے، اور اس کے راستے میں جہاد کے جذبے سے ہے (تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو) اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو، یا اپنی فطری موت پائی ہو، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو، اور جو بھی ملا ہو، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٤٢١١) ، مسند احمد (٢/٤٩٤، ویأتي عند المؤلف ٥٠٢٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3123
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَاب، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي، أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ، أَوْ وَفَاةٍ، أَوْ أَرُدَّهُ، إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ.
তাহকীক: